قبر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات کا مسئلہ

 از    July 19, 2014

سوال:اس میں کوئی شک نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ  وسلم اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اخروی و برزخی زندگی ہے یا دنیاوی زندگی ہے؟ ادلئہ اربعہ سے جواب دیں، جزاکم اللہ خیراً (ایک سائل ۲۶ربیع الثانی ۱۴۲۶ھ)

جواب از شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ مرحوم :
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الأمین، أما بعد:
 
اول:        اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ دنیا کی زندگی گزار کر فوت ہو گئے ہیں۔

ارشاد باری تعالی ہے کہ: اِنَّکَ مَیِّت‘’ وَ اِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَبے شک تم وفات پانے والے ہو اور یہ لوگ بھی مرنے والے ہیں۔(الزمر:۳۰)

سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:‘‘ ألامن کان یعبد محمدا فإن محمدا ﷺ قدمات’ الخ سن لو! جو شخص (سیدنا) محمد  (ﷺ) کی عبادت کرتا تھا تو بے شک محمد ﷺ فوت ہو گئے ہیں۔ (صحیح البخاری: ۳۶۶۸)

اس موقع پر سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے ‘وما محمد إلا رسول قد خلت من قبلہ الرسل’’ الخ[آل عمران: ۱۴۴] والی آیت تلاوت فرمائی تھی۔ ان سے یہ آیت سن کر (تمام) صحابہ کرام نے یہ آیت پڑھنی شروع کر دی۔ (البخاری: ۱۲۴۱ ، ۱۲۴۲)سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے تسلیم کر لیا۔ دیکھئے صحیح البخاری (۴۴۵۴)

معلوم ہوا کہ اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا اجماع ہے کہ نبی ﷺ فوت ہو گئے ہیں۔

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:

‘‘مات النبیﷺ’’الخ                    نبی ﷺ فوت ہو گئے(صحیح البخاری: ۴۴۴۶)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ نے فرمایا:    ‘ما من نبی یمرض  إلا خیر بین الدنیا والآخرۃ’’ جو نبی بھی بیمار ہوتا ہے تو اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے۔ (صحیح البخاری ۴۵۸۶، صحیح مسلم: ۲۴۴۴)

آپ ﷺ نے دنیا کے بدلے آخرت کو اختیار کر لیا۔ یعنی آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی زندگی اُخروی زندگی ہے جسے بعض علماء برزخی زندگی بھی کہتے ہیں۔

ایک روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:‘‘کنت أسمع أنہ لایموت نبی حتی یخیر بین الدنیا والآخرۃ’’میں (آپ ﷺ سے) سنتی تھی کہ کوئی نبی بھی وفات نہیں پاتا یہاں تک کہ اسے دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دے دیا جاتا ہے ۔(البخاری:۴۴۳۵و مسلم:۲۴۴۴)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی فرماتی ہیں کہ:‘‘فجمع اللہ بین ریقی و ریقہ فی آخر یوم من الدنیا و أول یوم من الآخرۃ’’پس اللہ تعالیٰ نے آپ (ﷺ) کے دنیا کے آخری دن اور آخرت کے پہلے دن میرے اور آپ کے لعاب دہن کو (مسواک کے ذریعے) جمع(اکٹھا) کر دیا۔(صحیح البخاری:۴۴۵۱)

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری روایت میں ہے کہ: ‘‘لقد مات رسول اللہ ﷺ’’ الخ یقیناً رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے۔ (صحیح مسلم:۲۹؍۲۹۷۴و ترقیم دارالسلام:۷۴۵۳)

ان کے علاوہ اور بھی بہت سے دلائل ہیں۔ ان صحیح و متواتر دلائل سے معلوم ہوا کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ ، فداہ ابی و امی و روحی، فوت ہو گئے ہیں۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی نمازکے بارے میں فرماتے تھے کہ :‘‘إن کانت ھذہ لصلاتہ حتی فارق الدنیا’ آپ (ﷺ) کی یہی نماز تھی حتی کہ آپ (ﷺ) دنیا سے چلے گئے۔(صحیح البخاری :۸۰۳)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کے بارے میں فرمایا: ‘‘حتی فارق الدنیا’’ حتی کہ آپ (ﷺ) دنیا سے  چلے گئے۔ (صحیح مسلم:۳۳؍۲۹۷۶و دارالسلام:۷۴۵۸)

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی فرماتے ہیں کہ :‘خرج رسول اللہ من الدنیا’’ الخ رسول اللہ ﷺ دنیا سے چلے گئے ۔ (صحیح البخاری:۵۴۱۴)

ان ادلہ قطعیہ کے مقابلے میں فرقہ دیوبندیہ کے بانی محمد قاسم نانوتوی(متوفی ۱۲۹۷ھ) لکھتے ہیں کہ:‘‘ارواح انبیاء کرام علیہم السلام کا اخراج نہیں ہوتا فقط مثل نور چراغ اطراف و جوانب سے قبض کر لیتے ہیں یعنی سمیٹ لیتے ہیں اور سوا اُن کے اوروں کی ارواح کو خارج کر دیتے ہیں۔۔۔’’ (جمال قاسمی ص ۱۵)

تنبیہ: میر محمد کتب خانہ باغ کراچی کے مطبوعہ رسالے‘‘جمال قاسمی’’ میں غلطی سے ‘‘ارواح’’ کی بجائے‘‘ازواج’’ چھپ گیاہے۔ اس غلطی کی اصلاح کے لئے دیکھئے سرفراز خان صفدر دیوبندی کی کتاب‘‘تسکین الصدور’’ (ص ۲۱۶)محمد حسین نیلوی مماتی دیوبندی کی کتاب‘‘ندائے حق’’ (ج ۱ص۵۷۲و ص ۶۳۵)

نانو توی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات دنیوی علی الاتصال ابتک برابر مستمر ہے اس میں انقطاع یا تبدل و تغیر جیسے حیات دنیوی کا حیات برزخی ہو جانا واقع نہیں ہوا’’ (آبِ حیات ص ۲۷)

‘‘انبیاء بدستور زندہ ہیں’’ (آب حیات ص ۳۶)

نانوتوی صاحب کے اس خود ساختہ نظرےے کے بارے میں نیلوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں کہ :‘‘لیکن حضرت نانوتوی کا یہ نظریہ صریح خلاف ہے اس حدیث کے جو امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں نقل فرمایا ہے۔۔’’ (ندائے حق جلد اول ص۶۳۶)

نیلوی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ :‘‘مگر انبیاء کرام علیہم السلام کے حق میں مولانا نانوتوی قرآن و حدیث کی نصوص و اشارات کے خلاف جمال قاسمی ص ۱۵میں فرماتے ہیں :ارواح انبیاء کرام علیہم السلام کا اخراج نہیں ہوتا’’ (ندائے حق جلد اول ص ۷۲۱)

لطیفہ: نانوتوی صاحب کی عبارات مذکورہ پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد عباس بریلوی لکھتا ہے کہ:‘‘ اور اس کے برعکس امام اہلِ سنت مجدد دین و ملت مولانا الشاہ احمد رضا خان صاحب وفات (آنی) ماننے کے باوجود قابلِ گردن زنی ہیں’’ (واللہ آپ زندی ہیں ص ۱۲۴)

یعنی بقولِ رضوی بریلوی ، احمد رضا خان بریلوی کا وفات النبی ﷺ کے بارے میں وہ عقیدہ نہیں جو محمد قاسم نانوتوی کا ہے۔

دوم:        اس میں کوئی شک نہیں کہ وفات کے بعد، نبی کریم ﷺ جنت میں زندہ ہیں۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ حدیث میں آیا ہے کہ فرشتوں (جبریل و میکائیل علیہما السلام) نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا:‘‘إنہ بقی لک عمر لم تستکملہ، فلو  استکملت أتیت منزلک’’بے شک آپ کی عمر باقی ہے جسے آپ نے (ابھی تک) پورا نہیں کیا۔ جب آپ یہ عمر پوری کر لیں گے تو اپنے (جنتی) محل میں آ جائیں گے۔ (صحیح البخاری۱؍۱۸۵ح۱۳۸۶)

معلوم ہوا کہ آپ ﷺ دنیا کی عمر گزار کر جنت میں اپنے محل میں پہنچ گئے ہیں۔ شہداء کرام کے بارے میں پیارے رسول  ﷺ فرماتے ہیں کہ:‘‘أرواحھم فی جوف طیر خضر، لھا قنادیل معلقہ بالعرش، تسرح من الجنۃ حیث شاءت، ثم تأوی إلی تلک القنادیل’’ان کی روحیں سبز  پرندوں کے پیٹ میں ہوتی ہیں، ان کے لئے عرش کے نیچے قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں۔ وہ (روحیں) جنت میں جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی ہیں پھر واپس ان قندیلوں میں پہنچ جاتی ہیں۔ (صحیح مسلم : ۱۲۱؍۱۸۸۷ودار السلام:۴۸۸۵)

جب شہداء کرام کی روحیں جنت میں ہیں تو انبیاء کرام ان سے بدرجہ ہا اعلیٰ جنت کے اعلیٰ و افضل ترین مقامات و محلاتمیں ہیںشہداء کی یہ حیات جنتی، اُخروی و برزخی ہے، اسی طرح انبیاء کرام کی یہ حیات جنتی، اُخروی و برزخی ہے۔

حافظ ذہبی(متوفی ۷۴۸ھ) لکھتے ہیں کہ:‘‘ وھو حی فی لحدہ حیاۃ مثلہ فی البرزخ’ اور آپ (ﷺ) اپنی قبر میں برزخی طور پر زندہ ہیں۔(سیر اعلام النبلاء۹/۱۶۱)

پھر آگے وہ یہ فلسفہ لکھتے ہیں کہ یہ زندگی نہ تو ہر لحاظ سے دنیاوی ہے اور نہ ہر لحاظ سے جنتی ہے بلکہ اصحاب کہف کی زندگی سے مشابہ ہے۔(ایضاً ص۱۶۱)
 
حالانکہ اصحابِ کہف دنیاوی زندہ تھے جبکہ نبی کریم ﷺ پر بہ اعتراف حافظ ذہبی وفات آچکی ہے لہذا صحیح یہی ہے کہ  آپ ﷺ کی زندگی ہر لحاظ سے جنتی زندگی ہے۔ یاد رہے کہ حافظ ذہبی بصراحت خود آپ ﷺ کے لئے دنیاوی زندگی کے  عقیدے کے مخالف ہیں۔

حافظ ابن حجر العسقلانی لکھتے ہیں:‘‘لأنہ بعد موتہ و إن کان حیا فھی حیاۃ اخرویۃ لا تشبہ الحیاۃ الدنیا، واللہ اعلم’’بے شک آپ ﷺ اپنی وفات کے بعد اگرچہ زندہ ہیں لیکن یہ اخروی زندگی ہے دنیاوی زندگی کے مشابہ نہیں ہے، واللہ اعلم(فتح الباری ج۷ص۳۴۹تحت ح۴۰۴۲)

معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ زندہ ہیں لیکن آپ کی زندگی اُخروی و برزخی ہے، دنیا وی نہیں ہے۔

اس کے برعکس علمائے دیوبند کا یہ عقیدہ ہے کہ:‘‘وحیوتہ ﷺ دنیویۃ من غیر تکلیف وھی مختصۃ بہ ﷺ وبجمیع الأنبیاء صلو ات اللہ علیھم والشھداء لابرزخیۃ۔۔۔’’‘‘ہمارے  نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک حضرت ﷺ اپنی قبر مبارک میں زندہ ہیں اور آپ کی حیات دنیا کی سی ہے بلا مکلف ہونے کے اور یہ حیات مخصوص ہے آنحضرت اور تمام ا نبیاء علیہم السلام اور شہداء کے ساتھ برزخی نہیں ہے جو تمام مسلمانوں بلکہ سب آدمیوں کو ۔۔۔’’ (المہند علی المفند فی عقائد دیوبند ص ۲۲۱پانچواں سوال: جواب)

محمد قاسم نانوتوی صاحب لکھتے ہیں کہ:
‘‘رسول اللہ ﷺ کی حیات دنیوی علی الاتصال ابتک برابر مستمر ہے اس میں انقطاع یا تبدیل و تغیر جیسے حیات دنیوی کا حیات برزخی ہو جانا واقع نہیں ہوا’’ (آب حیات ص ۶۷، اور یہی مضمون)
دیوبندیوں کا یہ عقیدہ سابقہ نصوص کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

سعودی عرب کے جلیل القدر شیخ صالح الفوزان لکھتے ہیں کہ:‘‘ الَّذی یقول: إن حیاتہ فی البرزخ مثل حیاتہ فی الدنیا کاذب وھذہ مقالۃ الخرافیین’’جو شخص یہ کہتا ہے کہ آپ (ﷺ) کی برزخی  زندگی دنیا کی طرح ہے وہ شخص جھوٹا ہے۔ یہ من گھڑت باتیں کرنے والوں کا کلام ہے۔ (التعلیق المختصر علی القصید ۃ النونیہ، ج ۲ص۶۸۴)

حافظ ابن قیم نے بھی ایسے لوگوں کی تردید کی ہے جو برزخی حیات کے بجائے دنیاوی حیات کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ (النونیہ، فصل فی الکلام فی حیاۃ الأنبیاء فی قبور ھم۲؍۱۵۴ ، ۱۵۵)

امام بیہقی رحمہ اللہ (برزخی) ردِارواح کے ذکر کے بعد لکھتے ہیں کہ:فھم أحیاء عند ربھم کالشھداء’’ پس وہ (انبیاء علیہم السلام) اپنے رب کے پاس ، شہداء کی طرح زندہ ہیں۔(رسالہ: حیات الأنبیاء للبیہقی ص ۲۰)

یہ عام صحیح العقیدہ آدمی کو بھی معلوم ہے کہ شہداء کی زندگی اُخروی و برزخی ہے، دنیاوی نہیں ہے۔ عقیدہ حیات النبی ﷺ پر حیاتی و  مماتی دیوبندیوں کی طرف سے بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں مثلاً مقام حیات، آب حیات، حیات انبیاکرام، ندائے حق اور اقامۃ البرھان علی ابطال و ساوس ھدایۃ لحیران ، وغیرہ.اس سلسلے میں بہترین کتاب مشہور اہلحدیث عالم مولانا محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی‘‘ مسئلہ حیاۃ النبی ﷺ ’’ ہے جو یہاں یونیکوڈ  میں موجود ہے۔
 
سوئم:       بعض لوگ کہتے ہیں کہ  نبی کریم ﷺ، اپنی قبر مبارک پر لوگوں کا پڑھا ہوا درود بنفسِ نفیس سنتے ہیں اور بطور ِ دلیل‘‘ من صلی علی عند قبری سمعتہ’’ والی روایت پیش کرتے ہیں۔ عرض ہے کہ یہ روایت ضعیف و مردود ہے۔ اس کی دو سندیں بیان کی جاتی ہیں۔ 

اول:     محمد بن مروان السدی عن الأعمش عن أبی صالح عن أبی ھریرۃ۔۔۔إلخ (الضعفاء للعقیلی  ۴؍۱۳۶ ، ۱۳۷ وقال : لا اصل لہ من حدیث اعمش و لیس بمحفوظ الخ و تاریخ۳؍۲۹۲ت۳۷۷و کتاب الموضوعات لا بن الجوزی ۱؍۳۰۳ وقال : ھذا حدیث لا یصح الخ)

اس کا راوی محمد بن مروان السدی: متروک الحدیث(یعنی سخت مجروح) ہے۔ (کتاب الضعفاء للنسائی: ۵۳۸) اس پر شدید جروح کے لئے دیکھئے امام بخاری کی کتاب الضعفاء (۳۵۰) مع تحقیقی : تحفۃ الاقویاء (ص۱۰۲) و کتب اسماء الرجال۔حافظ ابن القیم نے اس روایت کی ایک اور سند بھی دریافت کر لی ہے۔ ‘‘عبدالرحمن بن احمد الاعرج: حد ثنا الحسن بن الصباح: حد ثنا ابو معاویۃ: حد ثنا الاعمش عن ابی صالح عن ابی ہریرہ’’ الخ(جلاء الافھام ص ۵۴بحوالہ کتاب الصلوۃ علی النبی ﷺ لابی الشیخ الاصبہانی)

اس کا راوی عبدالرحمن بن احمد الاعرج غیر موثق (یعنی مجہول الحال) ہے۔ سلیمان بن مہران الاعمش مدلس ہیں۔(طبقات المدلسین:۵۵؍۲والتلخیصالحبیر ۳؍۴۸ح۱۱۸۱و صحیح ابن حبان، الاحسان طبعہ جدیدہ ۱؍۱۶۱و عام کتب اسماء الرجال)

اگر کوئی کہے کہ حافظ ذہبی نے یہ لکھا ہے کہ اعمش کی ابو صالح سے معنعن روایت سماع پر محمول ہے۔(دیکھئے میزان الاعتدال ۲؍۲۲۴)تو عرض ہے کہ یہ قول صحیح نہیں ہے۔ امام احمد نے اعمش کی ابو صالح سے (معنعن) روایت پر جرح کی ہے۔ دیکھئے سنن الترمذی (۲۰۷بتحقیقی)

اس مسئلے میں ہمارے شیخ ابو القاسم محب اللہ شاہ الراشدی رحمہ اللہ کو بھی وہم ہوا تھا۔ صحیح یہی ہے کہ اعمش طبقہ ثالثہ کے مدلس ہیں اور غیر صحیحین میں اُن کی معنعن روایات ، عدمِ تصریح و عدمِ متابعت کی صورت میں ، ضعیف ہیں، لہذا ابو الشیخ والی یہ سند بھی ضعیف و مردود ہے۔
یہ روایت‘‘من صلی علی عند قبری سمعتہ’’ اس صحیح حدیث کے خلاف ہے جس میں آیا ہے کہ:
‘‘إن للہ فی الارض ملائکۃ سیاحین یبلغونی من أمتی السلام’’ بے شک زمین میں اللہ ے فرشتے سیر کرتے رہتے ہیں۔ وہ مجھے میری امت کی طرف سے سلام پہنچاتے ہیں۔(کتاب فضل الصلوۃ علی النبی ﷺ للإمام إسماعیل بن إسحاق القاضی: ۲۱ و سندہ صحیح ، والنسائی ۳؍۴۳ح ۱۲۸۳، الثوری صرح بالسماع)
 
اس حدیث کو ابن حبان(موارد:۲۳۹۲)و ابن القیم (جلاء الافہام ص ۶۰) و غیر ہما نےصحیح قرار دیا ہے۔
 
خلاصۃ التحقیق: اس ساری تحقیق کا یہ  خلاصہ ہے کہ نبی کریم ﷺ فوت ہو گئے  ہیں، وفات کے بعد آپ جنت میں زندہ ہیں۔ آپ کی یہ زندگی اُخروی ہے جسے برزخی زندگی بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ زندگی دنیاوی زندگی نہیں ہے۔
 
وما علینا إلا البلاغ (۲۱ربیع الثانی ۱۴۲۶ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.