ہدایت کا راستہ

 از    September 27, 2014

تحریر: حافظ زبیر علی زئی
] الشیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کی کتاب “شرح حدیث جبریل” سے انتخاب[
          ہدایت کا راستہ ، نبی کریم ﷺ کی اتباع پر ہی منحصر ہے۔ اللہ کی عبادت صرف اسی طریقے پر ہوگی جو رسول کریم ﷺ لے آئے ہیں ۔ آپ ﷺ جو دین لے کر آئے ہیں، اس کی اتباع کے بغیر کوئی ایسا رستہ نہیں ہے جو (بندوں کو) اللہ کے ساتھ ملا دے۔ (یعنی جو جنت میں داخلے کا صرف ایک ہی راستہ ہے جو کہ آپﷺ کی اتباع و اطاعت ہے۔)
          کھانے پینے کی ضرورتوں سے زیادہ، مسلمان کی یہ ضرورت ہے کہ صراطِ مستقیم کی طرف اس کی راہنمائی ہوجائے۔ کھانا پینا تو دنیا کی زندگی کی ضرورت و زادِراہ ہے اور صراطِ مستقیم آخرت کی ضرورت و زادِراہ ہے ۔

          اس لئے صراطِ مستقیم پر چلنے کی دعا کا ذکر آیا ہے۔ نماز کی رکعتیں ، فرض ہوں یا نفل، ہر رکعت میں سورہ فاتحہ واجب (یعنی فرض ) ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ لاغَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷ ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا، ان لوگوں کا نہیں جن پر تیرا غضب ہوا اور نہ ان لوگوں کا جو گمراہ ہیں۔ (الفاتحہ : ۶،۷)

مسلمان مسلسل (اللہ سے) یہ دعا کرتا رہتا ہے تا کہ اسے نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کے راستے کی طرف راہنمائی کرے، جن پر انعام ہوا ہے اور ان لوگوں کے راستے سے بچائے جن پر غضب ہوا اور جو گمراہ ہیں۔ یہودیوں ، عیسائیوں اور دوسرے دشمنانِ دین کے راستے سے بچائے ۔
]آیت کریمہ ﴿اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ سے اجماع کا حجت ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اجماع کی حجیت کے دیگر دلائل کے لئے دیکھئے امام شافعیؒ کی کتاب الرسالہ اور المستدرک للحاکم النیسابوریؒ (۱۱۶/۱) والحمدللہ / مترجم[

          نبی کریم ﷺ کا جنوں اور انسانوں کو صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت (و راہنمائی) کرنا وہ نُور ہے جسکا ذکر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کیا ہے ﴿یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ﴿ۙ۴۵﴾ وَّ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ بِاِذۡنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا ﴿۴۶ بے شک ہم نے آپ کو شاہد (گواہ) مبشر (خوشخبری دینے والا) اور نذیر (ڈرانے والا) بنا کر بھیجا ، اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف دعوت دینے والا اور سراج منیر (روشن چراغ) بنا کر بھیجا ]الاحزاب ۴۵،۴۶]

          اس آیت میں اللہﷻ نے آپ ﷺ کو سراج منیر (روشن چراغ) قرار دیا ہے ۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ (اپنے) بندوں کے لئے روشنی کرتا ہے (تاکہ وہ صراطِ مستقیم پر گامزن رہیں) یہی معنی “النور” کا ہے جس کا ذکر قرآنِ کریم میں آیا ہے کہ ﴿فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ النُّوۡرِ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلۡنَا ؕپس: اللہ ، اس کے رسول اور جو نور ہم نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لے آؤ۔ ]التغابن۸] 

 یعنی نورِ قرآن اس ہدایت پر مشتمل ہے ، جو صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی کرتی ہے ۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.