گیارہویں ہندوستانی بدعت ہے!

 از    December 5, 2015

تحریر: غلام مصطفے ظہیر امن پوری

اللہ تعالی کا ہم پر بہت بڑا انعام ہے کہ اس نے ہمیں کامل شریعت عطا کی۔ اس نعمت عظمٰی پر اس کا شکر بجا لانا چاہیے۔ اس کے باوجود بہت سارے لوگ نبی اکرمﷺکی لائی ہدایت کو کافی نہیں سمجھتے۔ آئے دن دین اسلام میں رخنہ اندازی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دین کے نام ہر نئے شکم پروری کے اسباب و ذرائع متعارف کراتے رہتے ہیں۔

سادہ لوح مسلمان ان کی فریب کاریوں میں آجاتے ہیں، کیونکہ یہ ٹھگ میٹھا زہر کھلاتے ہیں۔ ان کی وحشیانہ نہ لوٹ مار کے بہت سے طریقے ہیں۔ جہاں یہ تیجا، جمعرات، ساتواں، دسواں، چالیسواں اور برسی کے نام پر بیوگان اور یتیموں کا بے دریغ مال ہڑپ کر جاتے ہیں، وہاں اسلامی مہینے کی گیارہ تاریخ کو ‘‘ ریفریشمنٹ’’ (گیارہویں) کا اہتمام کرتے ہیں۔ ان کے ‘‘ علماء’’ کا کہنا ہے کہ یہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے ایصال ثواب کے لیے صدقہ ہے، جبکہ ان کے عوام تو اس کو کچھ اور ہی سمجھتے ہیں۔ وہ تو اسے شیخ عبد القادر جیلانیؒ کے نام کی نیاز و نذر سمجھتے ہیں۔ ان کا یہ اعتقاد بد ہے کہ اگر انہوں نے گیارہویں کا دودھ نہ دیا تو اس کی وجہ سے ان کی بھینس یا گائے مرجائے گی یا بیمار ہو جائے گی یا رزق ختم ہو جائے گا اور اولاد کی موت واقع ہو جائے گی یا گھر میں نقصان ہو سکتا ہےوغیرہ وغیرہ۔

یہ عقیدہ شرعاً حرام و نا جائز اور صریح شرک ہے۔ رہا ایصال ثواب کے لیے صدقہ کی بات کرنا تو سوال یہ ہے کہ آخر شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی اس قدر تعظیم کیوں؟ گیارہویں صرف انہیں کے نام پر کیوں، حالانکہ یہ لوگ عقیدہ میں شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے سخت خلاف ہیں۔ شیخؒ صحیح العقیدہ اور متبع سنت مسلمان تھے، جبکہ یہ بدعقیدہ اور بدعتوں کے دلدادہ ہیں۔

گیارہویں ہندوستانی بدعت ہے، جو شیعہ کی تقلید میں اپنائی گئی ہے، کیونکہ وہ بھی اپنے ائمہ کے لیے نیاز برائے ایصال ثواب دیتے ہیں۔ خوب یاد رہے کہ سلف صالحین اور ائمہ اہل سنت سے یہ طریقہ ایصال ثواب ہرگز ہرگز ثابت نہیں۔ اگر اس کی کوئی شرعی حیثیت ہوتی اور یہ اللہ تعالی کی رضا و خوشنودی کا باعث ہوتا تو وہ اس کا اہتمام کرتے۔

علامہ ابن رجبؒ (۷۹۵-۷۳۶ھ) نے کیا خوب لکھا ہے:

فامّا ما اتّفق السلف علی ترکہ، فلا یجوز العمل بہ، لأنّھم ما ترکوہ إلّا علی علم أنّہ لا تعمل بہ۔

‘‘ جس کام کو چھوڑنے پر سلف کا اتفاق ہوا، اسے کرنا جائز نہیں، کیونکہ انہوں نے یہ جان کر اسے چھوڑا تھا کہ اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔’’

(فضل علم السف علی علم الخلف لابن رجب: ص۳۱)

جس کام کے چھوڑنے پر سلف صالحین متفق ہوں، اس کام کا کرنا جائز نہیں۔ گیارہویں سلف صالحین اور ائمہ اہل سنت سے ثابت نہیں، لہذا یہ بدعت سئیہ اور شنیعہ ہے۔

گیارہویں باطل ہے

۱۔ علامہ شاطبیؒ (م ۷۹۰ھ) بدعات کا ردّ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

لو کان دلیلا علیہ لم یعزب عن فھم الصحابۃ والتابعین، ثمّ یفھمہ ھؤلاء، فعمل الأولین کیف کان مصادم لمقتضی ھذا المفھورم و معارض لہ، ولو کان ترک العمل فما عمل بہ المتأخرون من ھذا القسم مخالف لإجماع الأوّلین، وکلّ من خالف الإجماع فھو مخطیء، و أمّۃ محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم لا تجتمع علی ضلالۃ، فما کانوا علیہ من فعل أو ترک فھو السنّۃ و الأمر المعتبر، وھو الھدی، ولیس ثم إلّا صواب أو خطأ، فکلّ من خالف السلف الأوّلین فھو علی خطأ، و ھذا کاف ۔۔۔۔۔

‘‘ اگر اس پر کوئی دلیل ہوتی تو فہم صحابہ و تابعین سے غائب نہ رہتی کہ بعد میں لوگ اسے سمجھ لیتے!سلف کا عمل اس مفہوم کے خلاف و معارض کیسے تھا؟ اگرچہ ان کا عمل یہاں ترک عمل ہی ہے۔ اس طرح کی چیزوں میں متاخرین نے جو عمل کیا ہے، وہ سلف کےاجماع کے خلاف ہے اور ہروہ شخص جو اجماع کی مخالفت کرتا ہے، وہ خطا کار ہے، کیونکہ امت محمدﷺ کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو سکتی، لہذا سلف جس کام کو کرنے یا چھوڑنے پر متفق ہوں، وہی سنت اور معتبر امر ہے اور وہی ہدایت ہے۔ کسی کام میں دو ہی احتمال ہوتے ہیں، درستی یا غلطی، جو شخص سلف کی مخالفت کرے گا، وہ خطا پر ہو گا اور یہی اس کے خطا کار ہونے کے لیے کافی ہے۔۔۔’’

(الموافقات للشاطبی: ۷۲/۳)

نیز لکھتے ہیں:

فلھذا کلّہ یجب علی کلّ ناظر فی الدلیل الشرعیّ مراعاۃ ما فھم الأولون، وما کانوا علیہ فی العمل بہ، فھو أحری بالصواب، وأقوم فی والعمل۔۔۔۔۔

‘‘ ان ساری باتوں کے پیش نظر شرعی دلیل میں غور کرنے والے ہر شخص کےلیے سلف کے فہم و عمل کا لحاظ رکھنا فرض ہے، کیونکہ وہی درستی کے زیادہ قریب اور علم وعمل میں زیادہ پختہ ہے۔’’

(الموافقات للشاطبی:۷۷/۳)

۲۔ حافظ ابن عبدالہادیؒ (۷۴۴-۷۰۴ھ) لکھتے ہیں:

ولا یجوز إحداث تأویل فی آیۃ أو سنّۃ لم یکن علی عھد السلف، ولا عرفوہ و لا بیّنوہ للأمّۃ، فإنّ ھذا یتصمّن أنھم جھلوا الحقّ فی ھذا، وضلّوا عنہ، واھتدی إلیہ ھذا المعترض المتأخّر۔

‘‘ کسی آیت یا حدیث کا ایسا مفہوم و مطلب نکالنا جائز نہیں، جو سلف کے زمانہ میں نہ تھا، نہ انہوں نے اسے پہچانا اور نہ امت کے لیے بیان کیا۔ اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ وہ اس بارے میں حق سے جاہل رہے ہیں اور اس سے گمراہ رہے ہیں اور یہ اعتراض کرنے والا، بعد والا شخص اس کی طرف راہ پا گیا ہے۔’’

(الصارم المنکی فی الرد علی السبکی لابن عبدالھادی: ص ۳۱۸)

۳۔ سنی امام، ابوبکر محمد بن القاسم بن بشار، المعروف بابن الانباریؒ (۳۲۸-۲۷۲ھ) فرماتے ہیں:

من قال فی القرآن قولا یوافق ھواہ، لم یأخذ عن أئمّۃ السلف، فأصاب، فقد أخطأ، لحکمہ علی القرآن بما لا یعرف أصلہ، ولا یقف علی مذھب أھل الأثر والنقل فیہ۔

‘‘ جس شخص نے قرآن کریم کی تفسیر میں اپنی خواہش کے موافق ایسا قول کہا، جسے اس نے ائمہ سلف سے اخذ نہیں کیا، اگر وہ درست ہے تو بھی غلط ہے، کیونکہ اس نے قرآن کریم پر ایسا حکم لگایا ہے، جس کی وہ دلیل نہیں جانتا تھا اور نہ ہی وہ اس بارے میں اہل اثرونقل (سلف صالحین) کے مذہب پر واقف ہوا ہے ۔’’

(الفقیہ والمتفقہ للخطیب البغدای: ۲۲۳/۱، وسندہٗ صحیحٌ)

۴۔ حافظ ابن القیمؒ(۷۵۱-۶۹۱ھ) لکھتے ہیں:

إنّ إحداث قول فی تفسیر کتاب اللہ الذی کان السلف والأئمّۃ علی خلافہ یستلزم أحد الأمرین، إمّا أن یکون خطأ فی نفسہ، أو تکون أقوال السلف المخالفۃ لہ خطأ، ولا یشکّ عاقل أنہ أولی بالغلط و الخطأ من قول السلف۔

‘‘ کتاب اللہ کی تفسیر میں کوئی ایسا قول نکالنا کہ سلف اور ائمہ دین اس کے خلاف تھے، اس کی دو صورتیں بن سکتی ہیں، یا تو وہ قول خود غلط ہوگا یا پھر اس کے خلاف سلف کے اقوال غلط ہوں گے۔  کوئی عاقل اس بات میں شک نہیں کر سکتا کہ سلف کے اقوال کی نسبت وہ قول خود غلطی اور خطا کے زیادہ لائق ہے۔’’

(مختصر الصواعق المرسلۃ لابن القیم: ۱۲۸/۲)

ثابت ہوا کہ اہل بدعت عقائد و اعمال میں جو سلف صالحین کی مخالفت کرتے ہیں، ان کی ضلالت و جہالت کے لیے اتنا ہی کافی ہے، لہذا مبتدعین اپنے شرکیہ عقائد و بدعیہ اعمال پر جو قرآن و حدیث کے دلائل سے سلف کے خلاف استدلال کرتے ہیں، اس سے ان کی ضلالت و جہالت پر مہر ثبت ہو جاتی ہے۔

یار رہے کہ سلف صالحین و ائمہ اہل سنت کے خلاف عقائد و اعمال رکھنے والے اہل سنت والجماعت کہلوانے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر گیارہویں کا کوئی شرعی ثبوت یا جواز ہوتا تو سلف صالحین اور ائمہ اہل سنت کرنے میں پہل کرتے۔ اگر انہوں نے ایسا کام نہیں کیا تو یہ باطل ہے۔

علامہ شاطبیؒ ( م ۷۹۰ھ) لکھتے ہیں:

فالحذر من مخالفۃ الأوّلین، فلو کان ثمّ کان ثّم فضل ما، لکان الأوّلون أحقّ بہ، واللہ المستعان!

(الموافقات للشاطبی: ۵۶/۳)

سلف کی مخالفت سے بہت زیادہ بچنا چاہیئے۔ اگر اس کام (جسے سلف نے نہیں کیا) میں کوئی فضیلت ہوتی تو پہلے لوگ اس کے بہت زیادہ مستحق تھے۔ واللہ المستعان۔

گیارہویں بدعت ہے!

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ (۷۲۸-۶۶۱ھ) لکھتے ہیں:

و من تعبّد لعبادۃ لیست واجبۃ و الا مستحبّۃ، وھو تعتقدھا واجبۃ أو مستحبّۃ، فھو ضالّ مبتدع بدعۃ سیّئۃ، لا بدعۃ حسنۃ، باتّفاق أئمۃ الدین، فإنّ اللہ لا یعبد إلّا بما ھو واجب أو مستحبّ۔

‘‘ جو شخص ایسی عبادت کرے جو شریعت میں واجب یا مستحب نہیں ہے اور وہ اس کو واجب یا مستحب سمجھتا ہے، وہ گمراہ بدعتی ہے، اس کی یہ بدعت سیئہ ہے، حسنہ نہیں ہے۔ اس پر ائمہ دین کا اتفاق ہے۔ اللہ تعالی کی عبادت صرف اسی طریقے سے کی جائے گی، جو شریعت میں واجب یا مستحب ہے۔’’

(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: ۱۶۰/۱)

علامہ شاطبیؒ (م ۷۹۰ھ) لکھتے ہیں:

فی کثیر من الأمور یستحسنون أشیاء، لم یأت فی کتاب و لا سنّۃ و لا عمل بأمثالھا السلف الصالح، فیعملون بمقتضاھا و یشابرون علیھا، و یحکّمونھا طریقا لھم مھیعا و سنّۃ لا تخلف، بل ربّما أوجبوھا فی بعض الأحوال۔

‘‘ بدعتی لوگ بہت سے امور میں ان کاموں کو مستحب قرار دے دیتے ہیں، جن پر کتاب سنت میں کوئی دلیل نہیں، نہ ہی سلف صالحین نے اس طرح کا کوئی کام کیا ہے۔ بدعتی لوگ اس طرح کے کام کرتے ہیں، ان پردوام کرتے ہیں اور اس بدعت کو اپنے لیے واضح راستہ اور غیرمعارض سنت سمجھتے ہیں، بلکہ بسا اوقات وہ اس کو بعض حالات میں واجب بھی قرار دیتے ہیں۔’’

(الاعتصام: ۲۱۲/۱)

امام ابن ابی لعزالحنفی (۷۳۱-۷۹۲ھ) لکھتے ہیں:

و صاروایبتدعون من الدلائل والمسائل ما لیس بمشروع، و یعرضون عن الأمر المشروع۔

‘‘ بدعتی لوگ ایسے دلائل ومسائل کے گھڑنے کے درپے ہیں، جن کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں اور وہ مشروع کام سے اعراض کرتے ہیں۔’’

(شرح العقیدۃ الطحاویۃ لابن ابی العزالحنفی: ۵۹۳)

گیارہویں قرب الہٰی کا ذریعہ نہیں!

گیارہویں اگر قرب الہٰی کا ذریعہ ہوتی تو ائمہ اہل سنت ضرور ایسا کرتے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ( ۷۲۸-۶۶۱ھ) لکھتے ہیں:

باب العبادات والدیانات والتقرّبات متلقّاۃ عن اللہ ورسولہ، فلیس لأحد أن یجعل شیئا عبادۃ أو قربۃ إلّا بدلیل شرعّی۔

‘‘ عبادات، دین کے مسائل اور قرب الہٰی کے کام اللہ و رسول سے ہی لیے جاتے ہیں۔ کسی اور کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دلیل شرعی کے بغیر کوئی عبادت یا قرب الہٰی کا کوئی طریقہ گھڑ لے۔’’

(مجموع الفتاوی لابن تیمیۃ: ۳۵/۳۱)

اگر گیارہویں کے ثبوت پر کوئی دلیل ہوتی تو سلف صالحین ضرور اس کا اہتمام کرتے، لہٰذا یہ بے ثبوت عمل ہے، جو قرب الہٰی کا ذریعہ نہیں۔

امام ابن قیمؒ (۷۵۱-۶۹۱ھ) لکھتے ہیں:

و لا دین إلّا ما شرعہ اللہ، فالأصل فی العبادات البطلان حتی یقوم دلیل علی الأمر۔

‘‘ دین صرف وہی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے مشروع قرار دیا ہے۔ عبادات میں قاعدہ یہ ہے کہ جب تک کسی دینی امر پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے، وہ باطل ہے۔’’

(اعلام الموقعین لابن القیم: ۳۴۴/۱)

حافظ ابن کثیرؒ (۷۷۴-۷۷۰ھ) عبادات کے متعلق لکھتے ہیں:

وباب القربات یقتصبر فیہ علی النصوص، ولا ینصرف فیہ بأنواع الأقیسۃ والآرء۔

‘‘ قرب الہٰی کے کام نصوص شرعیہ پر موقوف ہیں۔ ان میں کسی قسم کے قیاس و آراء کو کوئی دخل نہیں۔’’

( تفسیر ابن کثیر: ۴۰۱/۴)

علامہ شاطبیؒ (م ۷۹۰ھ) لکھتے ہیں:

لا تجد مبتدعا ممّن ینسب إلی الملّۃ ألّا و ھو یستشھد علی بدعتہ بدلیل شرعیّ، فینزلہ علی ما وافق عقلہ و شھونہ۔

‘‘ آپ اسلام کی طرف منسوب ہر بدعتی کو ایساہی پائیں گے کہ وہ اپنی بدعت پر دلیل شرعی سے استدلال کرتا ہے، پھر اس کو اپنی عقل و خواہش کے مطابق ڈھال لیتاہے۔’’

( الاعتصام للشاطبی: ۱۳۴/۱)

گیارہویں کے بدعت ہونے پر ایک دوسری دلیل

یاد رہے کہ عبادات کے لیے وقت یا جگہ کا تعین کرنا شریعت کا حق ہے، بندوں کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ عبادات کے لیے جگہ یا وقت کا تقرر کرتے رہیں۔ سلف صالحین نے سختی سے اس کا ردّ کیا ہے، لہٰذا خاص شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے لیے صدقہ کرنا اور خاص گیارہویں کو، یہ اسے ناجائز اور غیرمشروع بنادیتاہے۔

علامہ شاطبیؒ(م ۷۹۰ھ) لکھتے ہیں:

و من ذلک تخصیص الأیّام الفاضلۃ بأنواع من العبادات التی لم تشرع بھا تخصیصا کتخصیص الیوم الفلانی بکذا و کذا من الرکعات أو بصدقۃ کذا و کذا، أو اللیلۃ بقیام کذا و کذا رکعۃ أو بختم القرآن فیھا أو ما أشبہ ذلک

‘‘ عام دنوں کو ان عبادات کے ساتھ خاص کرنا، جو ان دنوں میں مشروع نہیں ہیں، جیسا کہ کسی دن کو خاص عدد رکعات یا خاص صدقہ کے ساتھ خاص کرنا یا فلاں رات کو اتنی اتنی رکعات پڑھنا یا خاص رات میں قرآن کریم مکمل کرنا وغیرہ۔’’

( الاعتصام للشاطبی: ۱۲/۲)

علامہ ابوشامہ (۲۲۵-۵۹۹ھ) لکھتے ہیں:

و لا ینبغی تخصیص العبادات بأوقات لم یخصصھا بھا الشرع، بل یکون جمیع أفعال البرّ مرسلۃ فی جمیع الأزمان، لیس لبعضھا علی بعض فضل إلّا ما فضّلہ الشرع، و خصّۃ بنوع من العبادۃ، فإن کان ذلک اختصّ بتلک الفضیلۃ تلک العبادۃ دون غیرھا کصوم یوم عرفۃ و عاشوراء و الصلاۃ فی جوف اللیل والعمرۃ فی رمضان، و من الأزمان ما جعلہ الشرع مفضّلا فیہ جمیع أعمال البرّکعشر ذی الحجّۃ ولیلۃ القدر التی ھی خیر من ألف شھر، أی العمل فیھا أفضل من العمل فی ألف شھر، لیس فیھا لیلۃ القدر، فمثل ذلک یکون أیّ عمل من اعمال البرّحصل فیھا  کان لہ الفضل علی نظیرہ فی زمن آخر، فالحاصل أنّ المکلّف لیس لہ منصب التخصیص، بل ذلک إلی الشارع، وھذہ کانت صفۃ عبادۃ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم۔

‘‘ عبادات کو ان اوقات کے ساتھ خاص کرنا جائز نہیں، جن اوقات کے ساتھ ان کو شریعت نے خاص نہیں کیا، بلکہ تمام نیکی کے کام تمام زمانوں میں جائز ہیں۔ کسی کام کو تخصیص میں کسی پر فضلیت نہیں ہے، مگر اس کو جسے شریعت نے فضلیت دی ہے اور کسی قسم کی عبادت کے ساتھ خاص کیا ہے۔ اگر کسی فضلیت کو کسی کام کے ساتھ خاص کر دیا گیا تو وہ عبادت ہے، جیسا کہ یوم عرفہ و عاشوراء کا روزہ، آخری رات کی عبادت اور رمضان میں عمرہ، دوسرے کام عبادت نہیں بن سکتے۔ اور بعض اوقات وہ ہیں، جن میں انسانوں کے تمام اعمال کوفضلیت دے دی جاتی ہے، جیسا کہ ذی الحجہ کے دس دن اور وہ لیلۃ القدر، جو ہزار سال سے بہتر ہے، یعنی اس رات میں عمل کرنا ایسے ہزار سال میں عمل کرنے سے بہتر ہے، جن میں لیلۃ القدر نہ ہو۔ اس طرح ہر وہ نیکی کا کام ہے، جس میں خاص فضلیت مقرر کر دی گئی ہو، اس کو دوسرے وقت میں اپنے نیکی کے کام پر فضلیت ہو گی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ مکلّف (امتی) کے لیے تخصیص کا منصب نہیں ہے، بلکہ تخصیص کا معاملہ شارع کی طرف لوٹتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ کی عبادت کا انداز یہی تھا۔’’

(الباعث علی انکار البدع و الحوادث لابی شامۃ: ص ۱۶۵)

الحاصل:

گیارہویں بدعت ہے۔ سلف صالحین سے صدقہ کی یہ ہیئت و کیفیت ثابت نہیں۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.