گھوڑاحلال ہے!

 از    December 24, 2015

گھوڑا حلال ہے،کیونکہ:

(۱) سیدہ اسماء بنتِ ابی بکر رضی اللہُ عنہا بیان کرتی ہیں:

 نحرنافرساعلی وعھدرسول اللہ صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم فأکلناہ۔

    “ہم نے رسول اللہ رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم کے عہدِمبارک میں گھوڑا ذبح کیا،پھراس کوکھالیا۔”

  (صحیح البخاری:۸۲۹/۲،ح:۵۵۱۹،صحیح مسلم ۱۵۰/۲،ح:۱۹۴۲)

سنن النسائی (۴۴۲۶،وسندہٗ صحیح) کی روایت میں ہے:

   ونحن بالمدینۃ، فأکلناہ .       

  “ہم اس وقت مدینہ میں تھے،پھر ہم نے اسے کھایا۔”

حافظ ابنِ کثیررَحمہُ اللہ(۷۰۱۔۴۷۷ھ) یہ روایت ذکرکرنے کے بعد فرماتے ہیں:

فہذہ ادلٌ    وأقوی و أثبت ، و إلی ذلک صار جمہور العلماء ، مالک ، والشافعیٌ ، و أحمد ، و اصحابہم ، و اکثر السلف والخلف۔

“یہ حدیث زیادہ بہتردلیل،زیادہ قوی اورزیادہ ثابت ہے،جمہورعلمائے کرام،جیسے امام مالک ،امام شافعی،امام احمد اوران کے اصحاب رحمۃاللہ عَلیہم اسی طرف گئے ہیں اوراکثرسلف وخلف کایہی مذہب ہے۔”

(تفسیرابن کثیر:۳۴/۴،بتحقیق عبدالرزاق المہدی)

    (۲) سیدناجابربن عبداللہ رضی اللہُ عنہُ سے روایت ہے:

إنّ   رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم نہی یوم خیبرعن لحوم الحمرالأھلیّۃ،وأذن فی لحوم الخیل .  

 “بے شک رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم نے خیبرکے دن گھریلوگدھوں کے گوشت سے منع فرمادیااور گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت فرمائی ۔”

   (صحیح البخاری :۸۲۹/۲،ح:۵۵۲۰،صحیح مسلم: ۱۵۰/۲،ح:۱۹۴۱)

علامہ سندھی حنفی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

            “یہ حدیث گھوڑے کے گوشت کے حلال ہونے پردلالت کرتی ہے،جمہورکا یہی مذہب ہے۔”

(حاشیۃ السندی علی سنن النسائی:۲۰۱/۷)

(۳) امام عطاءبن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

رایت أصحاب المسجد ،أصحاب ابن الزبیر یاکلون الفرس والبرذون  قال: و أخبرنی أبو الزبیر أنٌہ سمع جابر بن عبداللہ یقول: أکلنا زمن خیبر الخیل و حمیر الوحش ، و نہانا النبی صلٌی اللہ علیہ و سلٌم عن أکل الحمار۔

“میں نے اس مسجد والوں،یعنی (صحابئ رسول)سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہُ عنہُ کے اصحاب کودیکھا ہے کہ وہ عربی اورعجمی گھوڑاکھاتے تھے،نیز مجھے ابوالزبیرنے بتایا کہ انہوں نے سیدنا جابرابن عبداللہ رضی اللہُ عنہُما کو یہ بیان کرتے ہوئے سناکہ ہم خیبرکےزمانے میں گھوڑےاوروحشی(جنگلی)گدھے کھاتے تھے، نبئ اکرم صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم نے ہمیں گھریلوگدھوں کوکھانے سے منع فرمایا تھا۔ “

  (مصنف عبدالرزاق:۸۸۳۷،وسندہٗ صحیح ،صحیح مسلم:۱۵۰/۲،ح:۱۹۴۱)

(۴)       سیدنا ابنِ عباس رضی اللہُ عنہُ بیان کرتے ہیں:

            “رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم نے گھریلوگدھوں کے گوشت کھانے سے منع فرمایااور گھوڑے کے گوشت کوکھانے کافرمایا۔

“(المعجم الکبیرللطبرانی:۱۲۸۲ ،سنن الدارقطنی:۲۹۰/۱، ۱۹۴۱،وسندہٗ حسن)

     حافظ ابنِ حجر رحمہُ اللہ نے اس کی سندکو”قوی”کہا ہے۔ (فتح الباری لابن حجر:۶۵۰/۹)

حافظ ہیشمی رَحمُہ اللہ لکھتے ہیں:

      “اس کے ساری راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں،سوائے محمدبن عبید المحاربی کے اوروہ ثقہ ہے۔”

(مجمع الزاوائد:۴۷/۵)

(۵)     اسماءبنتِ ابی بکر رضی اللہُ عنہُا کہتی ہیں:

کان لنا فرس علی عہد رسول اللہ صلٌی اللہ علیہ و سلٌم ، فأرارادت أن تموت،فذبحنہا ، فاکلناہا۔

“رسولِ کریم صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم کے عہد ِمبارک میں ہمارا ایک گھوڑاتھا، وہ مرنے لگاتوہم نے اسے ذبح کرلیا،پھراس کوکھالیا۔ “

(سنن الدارقطنی :۲۸۹/۴،ح:۳۷۳۹،وسندہٗ حسن)

(۶)              اسماء بنت ابی بکر رضی اللہُ عنہُا بیان کرتی ہیں:

ذبحنا فرسا علی عہد رسول اللہ  صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم فأکلنا نحن و أہل بیتہ۔

“ہم  نے رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم کے زمانہ مبارک میں گھوڑا ذبح کیا ، پھرہم نے بھی اسے کھایا اور آپ صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم کے اہل بیت نے بھی۔”

(سنن الدار  قطنی:۲۸۹/۴،ح:۳۷۴۱،حسن)

(۷)         امام ابراہیم بن یزید النخعی  رَحمُہ اللہ بیان کرتے ہیں:

نحر أصحاب عبداللہ فرسا،فقسموہ بینہم ۔

 “سیدناعبداللہ (بن مسعود رضی اللہُ عنہُ)کے شاگردوں نے گھوڑا ذبح کیا ،پھر اسےآپس میں تقسیم کرلیا۔”

(مصنف ابن ابی شیبۃ:۲۵۶/۸،وسندہٗ صحیح)

(۸)   نیزفرماتے ہیں:

 إنٌ الأسود کل لحم الفرس

  “امام اسودبن یزیدتابعی رَحمُہ اللہ نے گھوڑے کا گوشت کھایا۔” 

   (مصنف ابن ابی شیبۃ:۲۵۶/۸،وسندہٗ صحیحٌ)

(۹)      امام حکم بن عتیبہ بیان کرتے ہیں :

إنٌ شریحا أکل لحم فرس

 “امام شریح رَحمُہ اللہ نے گھوڑے کا گوشت کھایا۔”

(مصنف ابن ابی شیبۃ:۲۵۶/۸،وسندہٗ صحیح)

(۱۰)    عبداللہ بن عون کہتے ہیں:

سالت محمٌد عن لحوم الخیل، فلم یربہا بأسا۔

“میں نے امام محمد بن سیرین تابعی رَحمُہ اللہ سے گھوڑوں کے گوشت کے بارے میں سوال کیا توانہوں نے اس میں کوئی حرج خیال نہیں کیا۔”

(مصنف ابن ابی شیبۃ:۲۵۷/۸،وسندہٗ صحیحٌ)

(۱۱)        امام حسن بصری رَحمُہ اللہ فرماتے ہیں:

   “گھوڑے کے گوشت کو کھانے میں کوئی حرج نہیں۔”

(مصنف ابن ابی شیبۃ:۲۵۷/۸،وسندہٗ صحیح)

ان صحیح احادیث وآثار سے ثابت ہواکہ گھوڑا حلال ہے ۔ان احادیث کے بارے میں امام طحاوی حنفی رَحمُہ اللہ (۲۳۸۔۳۲۱ھ)کا ارشاد بھی سن لیں:

فذہب قوم إلی ہذہ الآثار ، فأجازوا أکل لحوم الخیل، و ممٌن ذہب إلی ذٰلک أبو یوسف و محمٌد رحمہما اللہ، و احتحبٌو بذلک بتواتر الآثار فی ذلک و تظاہرہا ، ولو کان ذلک مأخوذا من طریق النظر لما کان بین الخیل الأہلیۃ فرق ، و لکن الآثار عن رسول اللہ  صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم إذا صحتٌ و تواترت أولی أن یقال بہا من النظر، ولا سیٌما إذ قد أخبر جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فی حدیث أنٌ رسول اللہ  صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم اباح لہم لحوم الخیل فی وقت منعہ الایٌا ہم من لحوم الحمر الأہلیٌۃ ، فدلٌ ذلک علی اختلاف حکم لحومہما۔

           “ایک  گروہ کا مذہب  ان آثار کے مطابق ہے،لٰہذا انہوں نے گھوڑوں کے گوشت کو حلال قرار دیا ہے،ان لوگوں میں سے ابویوسف اور محمد بن  الشیبانی رَحمُہ اللہ علیہما بھی ہیں، ان لوگوں نے ان آثار کے متواترومتظاہر ہونے کی وجہ سے استدلال کیا ہے،اگر یہ معاملہ عقل وقیاس سے طے کیا گیا ہوتا توگھریلو گھوڑوں اور گھریلوگدھوں میں کوئی فرق نہ ہوتا۔لیکن رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم کی احادیث جب صحیح ثابت ہو جائیں اور تواتر کو پہنچ جائیں تو قیاس کرنے سے ان پر عمل کرنا اولٰی ہے، خصوصاً جب سیدناجابربن عبداللہ رضی اللہُ عنہُ نے ایک حدیث میں بتایا ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم نے ان کے لیے گھوڑے کے گوشت کو اسی وقت حلال قراردیا تھا،جب آپ صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم نے گھریلوگدھے کے گوشت سے منع کیا تھا،اس سے معلوم ہوا کہ ان دونوں کے گوشت میں فرق ہے۔ “(شرح معانی الاثار للطحاوی ۲۱۰/۴)

جولوگ  گھوڑے  کو حرام یا مکروہ کہتے ہیں ، ان کے دلائل کا مختصر تحقیقی جائزہ پیشِ خدمت ہے :

دلیل نمبر (۱) :

(۱)     سیدنا ابنِ عباس  رضی اللہُ عنہُ فرمانِ باری تعالٰی

وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (النحل :۸)

کے بارے میں فرماتے ہیں:”یہ سواری کےلیے ہیں۔”

  اورفرمانِ باری تعالٰی

وَالأَنْعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأْكُلُونَ (النحل:۵)

کے بارے میں فرمایا:

ہذا للاکل ۔

 “یہ کھانے کےلیے ہیں۔”         (تفسیر الطبری :۱۷۳/۱۷)

تبصرہ:    

           یہ قول سخت ترین  “ضعیف”ہے ، کیونکہ:

(۱)             محمد بن حمید الرازی “ضعیف”راوی ہے (تقریب التھذیب:۵۸۳۴)

(۲)             ابواسحاق راوی مدلس اور مختلط ہے۔

(۳)              اس میں “رجل مبہم”بھی موجود ہے۔

(ب)    تفسیرالطبری (۱۷۳/۱۷)

تبصرہ:              

اس کی سند بھی “ضعیف” ہے،کیونکہ اس میں یحیٰی بن ابی  کثیرراوی  مدلس ہے۔

(ج)                    تفسیر الطبری (۱۷۳/۱۷)

تبصرہ :         اس کی  سند بھی “ضعیف”ہے،کیونکہ

(۱)             سفیان بن وکیع راوی جمہور کے نزدیک “ضعیف”ہے۔

(۲)                ابنِ ابی لیلیٰ راوی جمہورکے نزدیک “ضعیف”اور”سی ءالحفظ”ہے

(‍‍و)             تفسیر الطبری (۱۷۳/۱۷)

تبصرہ:    

 اس قول کی سند بھی “ضعیف”ہے، کیونکہ:

(۱)              قیس بن ربیع راوی جمہور کے نزدیک”ضعیف”ہے۔

(۲)               ابنِ ابی لیلیٰ “ضعیف”اور “سی ءالحفظ”ہے۔

معلوم ہوا کہ سید نا ابنِ عباس رضی اللہُ عنہُ سے یہ قول جمیع سندوں سے “ضعیف”ہے۔

فائدہ نمبر (۱): 

 امام حکم بن عتیبہ تابعی کہتے ہیں کہ گھوڑے کی حرمت کتاب اللہ سے ثابت ہے،اس پر یہ آیتِ کریمہ پیش کی۔

(تفسیر الطبری:۱۷۳/۱۷،وسندہٗ صحیحٌ)

فائدہ نمبر (۲):

امام مجاہد تابعی رحمہ اللہ سے گھوڑے کے گوشت کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے یہ آیتِ کریمہ تلاوت کی، گویا آپ نے اس کے گوشت کومکروہ خیال کیا۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ :۲۵۹/۸،وسندہٗ صحیح)

فائدہ  نمبر (۳):

 اما م مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

احسن ما سمعت فی الخیل والبغال والحمیر أنٌہا لا تؤکل

“سب سے بہترین بات جو میں نے گھوڑوں اور خچروں کے بارے میں سنی ہے کہ ان کو کھایا نہیں جائے گا۔”     پھرآپ رحمہ اللہ نے یہ آیت پڑھی۔

          (مشکل الآثار للطحاوی :۸/۷۳۔۵۷،وسندہٗ صحیح)

لیکن اس آیت سے گھوڑے کے گوشت کا حرام ہونا یا مکروہ ہونا محل نظر ہے،جیسا کہ امام  طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

والصواب من اقول فی ذلک عندنا ما قالہ اہل القول الثانی۔۔۔۔ و فی إجماع الجمیع علی أنٌ رکوب ما قال تعالٰی ذکرہ: (وَ مِنہَا تَاکلُون ) جائز حلال غیر حرام ، دلیل واضح علی أنٌ أکل ما قال:(لِتَر کَبُوہَا) جائز حلال غیر حرام الٌا بما نصٌ علی تحریمہ أو وضع علی تحریمہ دلالۃ من کتاب أو وحی إ لی رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم فأمٌا بہذہ الآیۃ فلا یحرٌم أکل شیء ،وقد وضع الدلالۃ علی تحریم لحوم الحمر الأ ہلیۃ بوحیہ إ لی رسول اللہ صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم و علی البغال بما قد بیٌنا فی کتابنا ، کتاب الأطعمۃ  بما أغنی عن اعادتہ فی ہذا الموضع من مواضع البیان عن تحریم ذلک ، و إ نٌما ذکرنا لیدلٌ علی أنٌہ لا وجہ لقول من استدلٌ بہذہ الآ یۃ علی انٌہ لا وجہ لقول من استدلٌ بہذہ الآیۃ علی تحریم لحم الفرس ۔۔۔۔

“اس بارے میں ہمارے نزدیک دوسرے قول والوں کی بات درست ہے(یعنی گھوڑا حلال ہے)۔۔۔اس لیے کہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے،ان پر سواری کرنا جائزہے،حرام نہیں،یہ واضح دلیل ہے کہ جن جانوروں کوسواری کےلیے پیدا کیا گیا ہے،ان کو کھانا بھی حلال وجائزہے،سوائے ان چیزوں کے،جن کی حرمت پرکتاب وسنت میں نص قائم کردی گئی ہو۔ رہی یہ آیتِ کریمہ تو اس سے کسی چیز کی حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ گھریلوگدھوں اور خچروں کی حرمت پر دلالت وحئ رسول صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم کے ذریعے کردی گئی ہے،جس کی وضاحت ہم اپنی کتاب، الاطعمہ میں کرچکے ہیں،جس کا اعادہ کرنے کی ہمیں ضرورت نہیں،کیونکہ یہ مقام اس کی حرمت بیان کرنے کانہیں۔ یہ باتیں جو ہم نے کی ہیں،وہ صرف یہ بتانے کے لیے کی ہیں کہ گھوڑے کی حرمت پر اس آیتِ کریمہ سے استدلال کرنے کی کوئی تُک نہیں۔۔۔”

(تفسیرالطبری:۱۷۳/۱۷)

حافظ قرطبی رَحمُہ اللہ لکھتے ہیں:

الصحیح الٌذی یدل علیہ النظر والخبر جواز اکل الحوم الخیل ، و أنٌ الآیۃ والحدیث لا حجٌۃ فیہما لازمۃ ، أمٌا الآیۃ فلا دلیل فیہا علی تحریم الخیل إذ لو دلٌت علیہ لدلٌت علی تحریم لحوم الحمر ،والسورۃ مکیٌۃ ، و أیٌ حاجۃ کان إلی تجدید تحریم لحوم الحمر عام خیبر و قد ثبت فی الأخبار تحلیل الخیل علی ما یأتی ، و ایضا لمٌا ذکر تعالی الأ نعام ذکر الأغلب من منافعہا و أ ہمٌ ما فیہا ، و ہو حمل الأ ثقال والأکل ،ولم یذکر الرکوب ولا الحرث بہا قال اللہ تعالٰی: الذی جعل لکم الانعام لترکبوا منھا و منھا تاکلون۔  و قال فی الخیل: لترکبوھا وزینۃ۔   فذکر أیضا أغلب منافعہا والمقصود منہا، ولم یذکر حمل الأ ثقال علیہا،وقد تحمل کما ہو مشاہد فلذلک لم یذکر الأکل، و قد بیٌنہ علیہ السلام ، الذی جعل إ لیہ بیان ما أنزل علیہ ما یاتی،ولا یلزم من کونہا خلقت للرکوب والزینۃ الاتؤکل، فہذہ البقرۃ قد أ نطقہا خالقہا الٌذی أنطق کلٌ شیء ، فقالت إنٌما خلقت للحرث ، فیلزم من علل أنٌ الخیل لا تؤکل البقر لأنٌہا خلقت للحرث ، و قد أجمع المسلمون علی جواز أکلہا ،فکذلک الخیل بالسنٌۃ الثابتۃ فیہا ۔

      “صحیح بات جس پر عقل ونقل دلیل ہیں، وہ یہ ہے کہ گھوڑے کا گوشت حلال ہے نیز اس آیت اور حدیث میں ایسی کوئی دلیل نہیں۔ رہی بات آیت کی تو اس میں دلیل اس لیے نہیں کہ یہ آیت مکی ہے، اگر یہ آیت حرمت پر دلالت کرتی ہوتی تو خیبروالے سال دوبارہ حرمت بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ پھراحادیث میں گھوڑے کی حلت ذکر ہوگئی ہے، جیسا کہ ہم بیان کریں گے۔اسی طرح جب اللہ تعالٰی نے جانوروں کے فوائد بیان کیے ہیں تو اہم اور اغلب فوائد، یعنی کھانا اور بوجھ اٹھانا،بیان کیے ہیں، سواری اورہل چلانے وغیرہ والے فوائد صراحت سے بیان نہیں کیے،حالانکہ ان پرکبھی سواری اورہل چلانے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔فرمانِ باری تعالٰی ہے:

الذی جعل لکم الانعام لترکبوا منھا و منھا تاکلون(غافر:۷۹)

(اللہ وہ ذات ہے،جس نے تمہارے لیے چوپائے بنائے ہیں، تاکہ تم ان پر سواری کرواور کچھ کوتم کھاتے ہو )

گھوڑوں کے بارے میں فرمایا:

لترکبوھا وزینۃ (النحل:۸)

تاکہ تم ان پر سوار ہوجاؤ اور تاکہ وہ زینت کا سامان ہوں

یہاں بھی اللہ تعالٰی نے گھوڑوں کے اہم اوراغلب فوائد ذکرکیے ہیں،بوجھ اٹھانے کاذکرنہیں کیا گیا،حالانکہ ان پر کبھی بوجھ لادا جاتا ہے،جیسا کہ مشاہدہ میں آتارہتا ہے،بالکل اسی طرح اس کو کھانے کا بھی ذکرنہیں کیاگیا۔ نبئ اکرم صَلَّی اللہ علیہِ وسَلّم جن کے ذمہ قرآن کی وضاحت لگائی گئی ہے،انہوں نے اس کی وضاحت کی ہے،جیساکہ آئندہ بیان ہوگا ۔ گھوڑے کو سواری اور زینت کے لیے پیدا کیے جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کاگوشت نہ کھایا جائے،یہ گائے ہے،جس کو اس ذات نے گویا کیا تھا،جس نے ہر چیز کو قوتِ گویائی دی ہے اور اس نے بول کر کہاتھا (جیسا کہ حدیث میں بیان ہے)کہ وہ ہل چلانے کے لیے پیداکی گئی ہے۔ جن علتوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گھوڑے کونہیں کھایاجاۓ گا،ان ہی علتوں سے یہ ثابت ہوگا کہ گائے کو بھی نہیں کھایا جائے گا،کیونکہ وہ ہل چلانے کےلیے پیدا کی گئی ہے،حالانکہ مسلمانوں کااجماع ہے کہ اس کو کھاناجائزہے،اسی طرح گھوڑوں کے بارے میں بھی سنتِ ثابتہ ہے(کہ اسکوکھاناجائزہے)۔”

(تفسیرالقرطبی:۷۶/۱۰)

ایک شبہ اور اس کا ازالہ:

حافظ قرطبی رَحمُہ اللہ لکھتے ہیں:

فإن قیل : الروایۃ عن جابر بأنٌہم أکلوہا فی خیبر حکایۃ حال و قضیۃ فی عین ، فیحتمل أن یکونو ذبحو الضرورۃ ، ولا یحتجٌ بقضایا الأحوال ، قلنا : الروایۃ عن جابر و إخبارہ بأنٌہم کانو یأکلون لحوم الخیل علی عہد رسول اللہ صلٌی اللہ علیہ و سلٌم ، یزیل ذلک الحتمال ، ولئن سلٌمناہ فمعنا حدیث اسماء ،قالت ،نحرنا فرسا علی عہد رسول اللہ صلٌی اللہ علیہ و سلٌم :  و نحن بالمدینۃ ، فأکلناہ، رواہ مسلم ۔ و کل تأویل من غیر ترجیع فی مقابلۃ النٌص ،فإنٌما ہو دعوی، لا یلتفت إلیہ ،ولا یعرج علیہ ، وقد روی الدار قطنٌی زیادۃ حسنۃ ترفع کلٌ تاویل فی حدیث اسماء : کان لنا فرس علی عہد رسول اللہ صلٌی اللہ علیہ و سلٌم أرادت أن تموت ،فذبحناہا ،فاکلناہا،فذبحہا إنٌما کان لخوف الموت علیہا ،لا لغیر ذلک من الأحوال ۔

“اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ خیبر میں گھوڑے کو کھانے والی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث حکایت حال ہے اور ایک خاص واقعہ ہے۔ ممکن ہے صحابہ کرام  نے گھوڑے کو ضرورت کی بنا پر ذبح کیا ہو، لہذا مخصوص حالات میں پیش آنے والے واقعات سے دلیل نہیں لی جاتی ۔ ہماری طرف سے اس کا جواب یہ ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت اور یہ بیان کہ وہ رسول اللہ صلٌی اللہ علیہ و سلٌم  کے عہد مبارک میں گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے ، اس احتمال کودور کر دیتا ہے ۔اور اگر پھر بھی اس احتمال کو تسلیم کر لیا جائے تو ہمارے پاس سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث موجود ہے ،انہوں نے بیان کیا ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلٌی اللہ علیہ و سلٌم  کے زمانہ مبارک میں مدینہ میں ایک گھوڑا ذبح کیا، پھر اس کو کھایا ، یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے ۔

نص کے مقابلے میں بغیر کسی وجہ ترجیح کے کی گئی ہر تاویل محض دعوٰی ہوتا ہے۔ جس کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا اور اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔  امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس حدیث میں ایک خوبصورت زیادت بیان کی ہے، جو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہونے والی ہر تاویل کو ختم کر دیتی ہے، سیدہ اسماء نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلٌی اللہ علیہ و سلٌم کے عہد مبارک میں ہمارا ایک گھوڑا تھا ، وہ مرنے لگا تو ہم نے اسے ذبح کر لیا، پھر ہم نے اسے کھایا ،چنانچہ اس کو ذبح کرنا صرف اس کے مرنے کے ڈر سے تھا ، کسی اور وجہ سے نہ تھا ۔ ”    (تفسیر القرطبی : ۷۶/۱۰ )

دلیل نمبر ۲

سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :

أنٌ رسول اللہ صلٌی اللہ علیہ و سلٌم نہی عن أکل لحوم الخیل والبغال والحمیر ،و کلٌ ذی ناب من السباع ۔

“بلا شبہ رسول اللہ صلٌی اللہ علیہ و سلٌم نے گھوڑے ، خچر اور گھریلو گدھے کے گوشت اور ہر کچلی والے والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ۔”

((مسندالامام احمد:۸۹/۴،سنن ابی داؤد:۳۷۹،سنن ابن ماجہ:۳۱۹۸،شرح معانی الاثارللطحاوی: ۲۱۰/۴،المعجم الکبرانی:۳۸۲۲،سنن الدارقطنی:۲۸۷/۴،التمھیدلابن عبدالبر: ۱۰/۱۲۸)

تبصرہ:  یہ حدیث”ضعیف”ہے،علامہ سندھی حنفی بلاردّوتردید لکھتے ہیں:

اتّفق العلماء علی  أنّہ حدیث ضعیف،ذکرہ النوویّ ۔

       “علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ  یہ حدیث ضعیف ہے،اس بات کوحافظ نووی رحمہ اللہ نے ذکرکیاہے۔ “

 (حاشیۃ السندی علی النسائی :۲۰۲/۷)

اس حدیث کی سندکا دارومدارصالح بن یحییٰ بن المقدام راوی پرہے۔اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 فیہ نظر۔

   “اس راوی میں کلام ہے۔”

(التاریخ الکبیر للبخاری:۲۹۳/۴)

    حافظ موسیٰ بن ہارون الحمال رحمہ اللہ (۲۱۴۔۲۹۴ھ) فرماتے ہیں:

لایعرف صالح بن یحیی،ولاأبوہ إلابجدّہ،وھذا حدیث ضعیف۔

    “صالح بن یحیٰ اور اس کے باپ کی روایت صرف اس (صالح کے دادامقداربن معدیکرب رضی اللہ عنہ  )سے ہی معلوم ہوئی ہے ،اور یہ حدیث ضعیف ہے۔ “

 (سنن الدارقطنی:۲۷۸/۴،وسندہٗ صحیحٌ)

   علامہ ابنِ حزم رحمہ اللہ نے اسے”مجہول”کہا ہے۔

(المحلی لابن حزم:۱۰۰/۸)

حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے بھی  اسے”مجہول”کہاہے۔

(دیوان الضعفاءللذھبی)

حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ نے”لین”کہاہے ۔

(تقریب التھذیب لابن حجر:۲۸۹۴)

صرف امام ابنِ حبان رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب الشقات(۴۵۹/۶) میں ذکر کیاہے، نیز کہا ہے:

     یخطیء۔

    لٰہذایہ راوی “مجہول” ہے۔

اس حدیث کے بارے میں ائمہ محدثین کے مزیداقوال ملاحظہ فرمائیں:

حافظ بیہقی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

الحدیث غیرثابت،وإسنادہٗ مضطرب۔

“یہ حدیث ثابت نہیں اوراس کی سندمضطرب ہے۔”

   (السنن الصغرٰی للبیہقی :۴/۶۳-۶۴)

حافظ ابنِ عبدالبر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

 ھذا حدیث لاتقوم بہ حجّتہ لضعف إسناد۔

“اس حدیث سے دلیل نہیں بنتی،کیونکہ اس کی سند ضعیف ہے۔”

امام عقیلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

  إسنادہما أصلح من ہذا الإسناد۔

“ان دونوں(سیدنا جابر رضی اللہ عنہ اور اسماء رضی اللہ عنہا کی گھوڑے کی حلت والی حدیثوں)کی سند اس حدیث کی سند سے اچھی ہے۔”(الضعفاء الکبیرللمقیلی:۲۰۶/۲)

       علامہ ابنِ حزم رحمہ اللہ نے تواسے”موضوغ”(من گھڑت)کہا ہے۔

(المحلی:۱۰۰/۸)

حافظ بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

     إسنادہ ضعیف ۔

 “اس کی سند ضعیف ہے۔”(شرح السنۃ للبغوی :۲۵۵/۱۱)

حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

 حدیث خالد لایصحّ،فقد قال أحمد:إنّہ حدیث منکر،وقال أبوداؤد:إنّہ منسوخ۔

“سیدناخالد رضی اللہ عنہ کی حدیث صحیح نہیں،امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایاہے کہ یہ حدیث منکرہےاور امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ منسوخ ہے۔”

(التلخیص الحبیرلابن حجر:۱۴۱/۴)

دلیل نمبر (۳):     

سیدناجابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

      فحرّم رسول اللہ صلٌی اللہ علیہ و سلٌم الحمرالإنسیّۃ ولحوم الخیل والبغال ۔

 “اللہ کے رسول صلٌی اللہ علیہ و سلٌم نے گھریلوگدھوں کواورگھوڑوں اورخچروں کے گوشت کوحرام قراردیا  ہے۔”

(مشکل الآثارللطحاوی:۳۰۶۴)

تبصرہ:      

  یہ حدیث”ضعیف”ہے،کیونکہ:

(۱)     عکرمہ بن عمار(ثقہ)کی روایت یحییٰ بن ابی کثیرسے مضطرب(ضعیف)ہوتی ہے،یہ روایت بھی اسی سے ہے،امام طحاوی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

 أھل الحدیث یضعّفون حدیث عکرمۃ عن یحیی،ولایجعلون فیہ حجّۃ۔

     “محدثین کرام نےعکرمہ کی یحییٰ سے حدیث کوضعیف قراردیاہے اور وہ اس سے دلیل نہیں لیتے۔”

(مشکل الآثارللطحاوی:۳۰۶۳)

     امام یحییٰ بن  سعیدالقطان (الجرح والتعدیل  لابن ابی حاتم:۱۰/۷،وسندہٗ صحیح)،امام احمد بن حنبل(ایضا:وسندہٗ صحیح)،امام ابو حاتم الرازی(ایضا)،امام بخاری (الکامل لابن عدی:۲۷۲/۵،وسندہٗ حسن) وغیرہ ہم رَحَمُہمُ اللہ عکرمہ کی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کو مضطرب اور”ضعیف”کہتے ہیں۔

(۲)        امام یحییٰ بن ابی کثیر “مدلس”ہیں اور وہ “عن”کے  ساتھ روایت کر رہے ہیں۔ سماع کی کوئی تصریح نہیں کی ،لٰہذایہ روایت”ضعیف”ہے۔

الحاصل:                  

 گھوڑا حلال ہے،کیونکہ اس  کے حرام ہونے پر قرآن وحدیث میں کوئی ثبوت نہیں،اس کے برعکس اس کی حلت پر قوی احادیث موجود ہیں۔

         جناب اشرف علی تھانوی دیوبندی صاحب لکھتے ہیں:          “گھوڑے کا کھانا جائز ہے،لیکن  بہتر نہیں۔”

(بھشتی زیوراز تھانوی :حصہ سوم، صفحہ نمبر۵۶،مسئلہ نمبر۲)

    جناب مفتی کفایت اللہ دہلوی دیوبندی صاحب ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

“سوال:      کن جانوروں کا جوٹھا پانی پاک ہے؟

جواب:        آدمی اور حلال جانوروں کا جو ٹھا پانی پاک ہے ،جیسے گائے،بکری،کبوتر،گھوڑا!”(تعلیم الاسلام از کفایت اللہ:۳۶ )

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.