کیا خضر علیہ السلام اب تک زندہ ہیں؟

 از    November 15, 2014

سوال:    شیخ عبدالقادر جیلانی لکھتے ہیں کہ ابن عباسؓ نے روایت کی:

“رسول اللہ نے فرمایا: ہر سال خشکی اور تری والے (اشخاص) مکہ میں آکر جمع ہوتے ہیں۔ تری اور خشکی والوں سے مراد حضرت الیاس  اور حضرت خضر ہیں۔ یہ دونوں  ایک دوسرے کا سر مونڈتے ہیں۔ ” (غنیۃ الطالبین ص ۴۰۶)

محترم شیخ زبیر علی زئی صاحب کیا یہ روایت صحیح ہے ؟(محمدآصف پٹیالوی، پٹیالہ ڈاکخانہ بولار، ضلع نارووال)

الجواب:   الحمد للہ رب العالمین و الصلوٰۃ و السلام علیٰ رسولہ الأمین، أما بعد:
اس روایت کی سند درج ذیل ہے:

أخبرنا ھبۃ اللہ ابن المبارک، قال: انبأتا الحسن بن أحمد بن عبداللہ المقرئ، قال: أخبرنا الحسین بن عمران المؤذن، قال: حدثنا أبو القاسم الفامي، قال: حدثنا أبو علي الحسن بن علي، قال: حدثنا أحمد بن عمار: أنبانا محمد بن مھدي، قال: حدثني ابن جریج عن عطاء عن ابن عباس رضي اللہ عنھما” إلخ
                              (الغنیۃ لطالبی طریق الحق، عربی ج ۲ص ۳۹، غنیۃ الطالبین عربی اردو ج ۲ص ۴۴۶،۴۴۷)

یہ روایت موضوع ہے ۔ اس کا پہلا راوی ھبۃ اللہ بن المبارک السقطی ہے ، اس کے بارے میں محدث محمد بن ناصرؒ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ثقہ ہے؟ انھوں نے جواب دیا :لا واللہ، حدّث بواسط عن شیوخ لم یرھم فظھر کذبہ عندھم نہیں ! اللہ کی قسم (وہ ثقہ نہیں ہے ) اس نے واسط میں ایسے شیوخ سے حدیثیں بیان کیں جنھیں اس نے نہیں دیکھا تھا تو اس کا جھوٹ وہاں کے لوگوں پر ظاہر ہوگیا ۔ (المنتظم لابن الجوزی ۱۴۴/۱۷)

اس کے بارے میں محدث السمعانی نے فرمایا: ولم یکن موثوقاً بہ فیما ینقلہ اور وہ اپنی (بیان کردہ) نقل میں ثقہ نہیں تھا۔   (الانساب ج ۳ ص ۲۶۴)

           اسے شجاع الذہلی نے سخت ضعیف اور ابن النجار نے اسےمتھافت…ضعیف یعنی ٹوٹا گرا ہوا (اور) ضعیف قرار دیا ۔ (المستفاد من ذیل تاریخ بغداد ۲۵۰/۱۹)

محمد بن ناصر سے اس کے نسب “سقطی” کی طرح ساقط سمجھتے تھے اور فرماتے:

السقطي لا شئ، ھو مثل نسبہ من سقط المتاعسقطی کچھ چیز نہیں ہے ۔ وہ اپنے نسب کی طرح گمشدہ سامان ہے ۔ (المستفاد ص ۲۵۰)

السقطی کے استاد الحسن بن احمد بن عبداللہ المقری ، ابو القاسم الفامی، ابو علی الحسن بن علی اور احمد بن عمار کا تعین مطلوب ہے ۔ حسین بن عمران المؤذن اور محمد بن مہدی کے حالات نہیں ملے لہذا یہ سند مجہول راویوں کا مجموعہ ہے۔

حافظ ابن حجر کے خیال میں اس روایت کی سند میں محمد بن مہدی اور  ابن جریج کے درمیان مہدی بن ہلال کا واسطہ ہے ۔ (دیکھئے الاصابہ ۴۳۸/۱ ترجمۃ الخضر، اللآلی المصنوعہ ۱۶۷/۱)

مہدی بن ہلال کے بارے میں یحییٰ بن سعید القطان نے کہا :یکذب فی الحدیث” وہ حدیث میں جھوٹ بولتا تھا۔ (الجرح و التعدیل ۳۳۶/۸ و سندہ صحیح)

یحییٰ بن معین نے کہا :مھدي بن ھلال کذاب” مہدی بن ہلال کذاب (جھوٹا) ہے۔                                                            (تاریخ ابن معین، راویۃ الدوری: ۳۴۹۱)

اس روایت کے ایک راوی احمد بن عمار کے بارے میں ابن حجر نے کہا:قال ابن الجوزي: أحمد بن عمار متروک عندالدارقطني” احمد بن عمار، دارقطنی نے نزدیک متروک ہے۔                                                                                       (الاصابہ ۴۳۸/۱)

خلاصہ یہ ہے کہ یہ سند موضوع ہے ۔ اس کی دوسری موضوع و منکر سند کے لئے دیکھئے کتاب الموضوعات لابن الجوزی (۱۹۶،۱۹۵/۱) والکامل لا بن عدی (۷۴۰/۲ دوسرا نسخہ ۱۷۵/۳) واللآلی المصنوعہ (۱۶۷/۱)

سوال:    عبدالقادرجیلانی صاحب اپنی سند سے بیان کرتے ہیں کہ علیؓ نے فرمایا: عرفہ (عرفات) کے دن جبرائیل، میکائیل، اسرافیل اور حضر (علیہم السلام) عرفات میں جمع  ہوتے ہیں۔  (غنیۃ الطالبین ص ۴۰۶)کیا یہ روایت صحیح ہے ؟            (محمد آصف پٹیالوی ۲۰۰۶۔۵۔۴)

الجواب:   اس روایت کی سند درج ذیل ہے:

وأخبرنا ھبۃ اللہ بن المبارک قال: أنبانا الحسن بن أحمد الأزھري قال: أنبأنا أبو طالب ابن حمدان البکري قال: أنبأنا إسماعیل قال: حدثنا عباس الدوري قال: أنبأنا عبید اللہ بن إسحاق العطار قال: أنبأنا محمد بن المبشر القیسي عن عبداللہ بن الحسن عن أبیہ عن جدہ عن علي رضي اللہ عنہ قال: یجتمع…..” (غنیۃ الطالبین عربی ۴۰/۲ و مترجم ص ۴۴۷)

اس سند کے پہلے راوی ھبۃ اللہ بن المبارک کا ساقط و کذاب ہونا سابقہ سوال کے جواب میں ثابت کردیا گیا ہے ۔ الحسن بن احمد الازہری ، اسماعیل اور ابو طالب بن حمدان البکری کا تعین مطلوب ہے۔ عبید (صح) بن اسحاق العطار جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
امام بخاریؒ نے فرمایا:عندہ منا کیر اس کے پاس منکر روایتیں ہیں ۔ (کتاب الضعفاء بتحقیقی: ۲۲۳)
نیز فرمایا: منکر الحدیث وہ منکر حدیثیں بیان کرتا تھا ۔ (التاریخ الصغیر ۳۰۵/۲)
نسائی نے کہا: متروک الحدیث(کتاب الضعفاء و المتروکین : ۴۰۲)
حافظ ابن حجر نے یہ روایت ذکر کر کے کہا :وعبید بن إسحاق متروک الحدیث
اور عبید بن اسحاق متروک الحدیث ہے ۔ (الاصابہ ۴۳۹/۱) نیز دیکھئے اللآلی المصنوعہ (۱۶۸/۱)
محمد بن المبشر یا محمد بن میسر کا تعین مطلوب ہے ۔
معلوم ہواکہ یہ سند سخت مظلم (اندھیرےمیں) اور موضوع ہے۔

تنبیہ:    حضرت خضر        کا ابھی تک زندہ رہنا کسی حدیث یا اثرِ صحابیؓ سے قطعاً ثابت نہیں ہے ۔ بلکہ راجح اور حق یہی ہے کہ وہ  فوت ہوچکے ہیں۔    وما علینا إلاالبلاغ   (۱۶ ربیع الثانی ۱۴۲۷؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.