کیا ترک رفع یدین قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟

 از    July 3, 2014

سوال : کیا ترک رفع یدین قرآن و حدیث سے ثابت ہے یا نہیں ؟
الجواب ٘٘ باسم ملھم الصواب :
ترک رفع یدین قرآن وحدیث سے ثابت ہے ۔ رفع یدین پر ناراضگی اور  ترک کا حکم۔ (۱)

نوٹ: سیاہ رنگ میں دکھایا گیا یہ فتویٰ  مقلدین کی جانب سے حال ہی میں شائع کیا گیا ہے جس کا جواب صریح دلائل کی روشنی میں پیش خدمت ہے۔

( ؕ) بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، جواب الجواب ، امابعد:
رفع یدین کی بہت سی قسمیں ہیں، مثلاً
۱:  تکبیرِ تحریمہ والا رفع یدین۔               ۲: رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین۔
۳: سجدوں والا رفع یدین۔                  ۴: تشہد والا رفع یدین، جیسا کہ شیعہ حضرات کرتے ہیں۔
۵: دعا میں رفع یدین۔                     ۶: سر اور داڑھی کھجانے کے لئے رفع یدین (!) وغیرہ وغیرہ
“غیر اہل حدیث” صاحب نے اپنے دعوی “ترک رفع یدین قرآن و حدیث سے ثابت ہے ” میں یہ وضاحت نہیں کی کہ “ترک رفع یدین” سے ان کی کیا مراد ہے؟ ظاہر ہے کہ علمی میدان میں مبہم اور غیر واضح دعوی کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، ان غیر اہل حدیث صاحب کے مقابلے میں اہل حدیث کا دعوی صاف اورواضح ہے کہ :

رسول اللہ ﷺ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ اس دعویٰ کی دلیل کے لئے دیکھئے صحیح بخاری (۷۳۸) و صحیح مسلم (۳۹۰/۲۲)رسول اللہ ﷺ (کی وفات) کےبعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم یہ رفع یدین کرتے تھے مثلاً عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیکھئے  صحیح البخاری (۷۳۹)تابعین عظام رحمہم اللہ بھی یہی رفع یدین کرتے تھے، مثلاً محمد بن سیرین (مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۳۵/۱ و سندہ صحیح )ابو قلابہ (ایضاً و سندہ صحیح ) وہب بن منبہ (مصنف عبدالرزاق :۶۹/۲ و سندہ صحیح) سالم بن عبداللہ بن عمر (جزء رفع یدین للبخاری :۶۲ وسندہ حسن) قاسم بن محمد (ایضاً : ۶۲) مکحول(ایضاً : ۶۲) وغیرھم  رحمھم اللہ اجمعین

جو عمل نبی کریم ﷺ ،صحابہؓ ، تابعینؒ نے خیر القرون میں بلا انکار و نکیر کیا ہے جس کا ترک یا نسخ کسی دلیل سے ثابت نہیں ہے لہذا اسے متروک و منسوخ قرار دینا اور “ناراضگی ” کا دعویٰ کرنا علمی عدالتِ انصاف میں چنداں وزن نہیں رکھتا ۔
رکوع کرنے سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کے غیر متروک و غیر منسوخ ہونے کے بہت سے دلائل ہیں دیکھئےکتاب
“نور العینین فی اثباترفع یدین” اور امیر المؤمنین فی الحدیث امام بخاریؒ کا ثابت شدہ رسالہ “جزء رفع یدین”۔
…………………………………………………………………………………………………………….
حدیث نمبر ۱: عن جابر بن سمرۃ: قال خرج علینا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم فقال مالی اراکم رافعی ایدیکم کانھا اذناب خیلٍ شمسٍ اسکنوا في الصلوۃ۔ (صحیح ج ۱ ص ۱۸۱، ابوداود: ج ۱ ص ۱۵۰، نسائی ج ۱ ص ۱۷۶، طحاوی شریف ج ۱ ص ۱۵۸، مسند احمد ج ۵ ص ۹۳ و سندہ صحیح)
ترجمہ : حضرت جابرؓ بن سمرہ سے روایت ہے کہ آپﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں تم کو نماز میں شریر گھوڑوں کی دم کی طرح رفع یدین کرتے کیوں دیکھتا ہوں نماز میں ساکن اور مطمئن رہو۔ (۲)
……………………………………………………………………..
فی الحال دو اہم دلیلیں پیشِ خدمت ہیں، جن میں رفع یدین کا دوام ثابت ہوتا ہے ۔

اول:  عقبہ بن عامر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نماز میں جو شخص (مسنون) اشارہ کرتا ہے تو ہر اشارے کے بدلے ہر انگلی پر ایک نیکی یا درجہ ملتا ہے ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی ج ۱۷ ص ۲۹۷ ح ۸۱۹ وسندہ حسن)اسے حافظ الہیثمی نے “اسنادہ حصن ” قرار دیا ہے ۔ (مجمع الزوائد:۱۰۳/۲) یہ روایت مرفوع حکماً ہے ، بلکہ مرفوعاً بھی نبی کریمﷺ سے مروی ہے ](السلسلۃ الصحیحۃ للشیخ الالبانی رحمہ اللہ ۸۴۸/۳ ح ۳۲۸۶ بحوالہ الفوائد لابی عثمان البحیری والدیلمی (۳۴۴/۴)[

اس سے معلوم ہوا کہ رفع یدین ثواب کا کام ہے اور ہر (مسنون) رفع یدین پر دس نیکیاں ملتی ہیں اور یہ بات عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ ثواب اور نیکیوں والی روایتیں منسوخ نہیں ہوئی ہیں۔ اللہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے خوب نیکیاں کمائیں ۔

دوم:  ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کسی (غیرصحابی) شخص کودیکھتے کہ رکوع سے پہلے اور بعد رفع یدین نہیں کرتا تو اسے کنکریوں سے مارتے تھے۔ (جزء رفع یدین :۱۵، وسندہ صحیح )

ظاہر ہے کہ وفاتِ نبویﷺ کے بعد زمانہ تابعین کے بعض لوگوں کو مار مار کر رفع یدین کرانا اس بات کی دلیل ہے کہ رفع یدین متروک  و منسوخ بالکل نہیں ہوا۔

(۲) جابر ؓ بن سمرہ والی روایت میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کی صراحت نہیں ہے بلکہ بہت سے دلائل سے صاف ثابت ہے کہ یہ روایت رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ، بعض دلائل درج ذیل ہیں:

۱: حدیث میں خود صراحت ہے کہ یہ رفع یدین تشہد میں سلام کے وقت والا تھا جیسا کہ اب بھی شیعہ حضرات کرتے ہیں ۔ دیکھئے  (صحیح مسلم ح ۴۳۱/۱۲۱،۱۲۰)

یعنی یہ حدیث شیعوں کی رد میں ہے ، جسے عام دیوبندی و بریلوی اور بعض معتصب حنفی حضرات، اہل حدیث کے خلاف پیش کرنے لگے ہیں۔ شیعوں پر رد والی حدیث کو اہل حدیث کے خلاف فٹ کرنا انتہائی مذموم حرکت ہے ۔

۲: مسند احمد میں اسی روایت میں آیا ہے کہ “وھم قعوداور وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ (۹۳/۵ مختصر)

۳: اس پر اجماع ہے کہ یہ روایت تشہد کے بارے میں ہے۔ (جزء رفع یدین :۳۷ ، التلخیص الحبیر ۲۲۱/۱ ح ۳۲۸) اور یہ بات عندالفریقین مسلم ہے کہ اجماع حجت ہے ۔

۴: محدثین کرام مثلاً امام نسائی ، امام ابوداؤد وغیرھما نے اس پر سلام کے باب باندھے ہیں۔
۵: کسی محدث نے یہ روایت ترکِ رفع یدین کے باب میں  ذکر نہیں کی۔
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز تکبیر شروع ہوتی ہے اور سلام پر ختم ہوتی ہے۔ (۳) اسکے اندر کسی جگہ رفع یدین کرنا خواہ وہ دوسری، تیسری ،چوتھی رکعت کے شروع میں یا رکوع میں جاتے یا سر اُٹھاتے وقت ہو اس رفع یدین پر حضور اکرم ﷺ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے اس کو جانوروں کے فعل سے تشبیہ بھی دی اس رفع یدین کو خلافِ سکون بھی فرمایا اور پھر حکم دیا کہ نماز سکون سے یعنی بغیر رفع یدین کے پڑھا کرو، قرآن پاک میں نماز میں سکون کی تاکید ہے، اللہ پاک فرماتے ہیں :”قومواللہ قانتین” خدا کے سامنے نہایت سکون سے کھڑے ہو (۴)
………………………………………………………………………..
۶: جو کام ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے ثابت ہے اسے شریر گھوڑوں کی دموں سے تشبیہ دینا انتہائی غلط اور قابلِ مذمت ہے ۔
۷: علماءِ حق نے اس حدیث کو ترک یا نسخ کے استدلال کرنے والوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان کے عمل کو جہالت کی سب سے بری قسم قرار دیا ہے ۔ دیکھئے المجموع شرح المھذب (۴۰۳/۴)
۸: متعدد غیر اہلحدیث علماء کرام نے اس روایت کے ساتھ نسخ رفع الیدین پر استدلال کرنے والوں پر تنقید کی ہے ، مثلاً محمود الحسنؒ دیوبندی فرماتے ہیں : “باقی اذناب الخیل کی روایت سے جواب دینا بروئے انصاف درست نہیں کیونکہ وہ سلام کے بارے میں ہے “ (الوردالشذی علی جامع الترمذی ص ۶۳، تقاریر حضرت شیخ الھند ص ۶۵) مفتی محمد تقی عثمانی دیوبندی صاحب فرماتے ہیں کہ :”لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ اس حدیث سے حنفیہ کا استدلال مشتبہ اور کمزور ہے “۔(درس ترمذی:۳۶/۲)
۹: اگر اس حدیث سے مطلقاً ہر رفع یدین کا نسخ یا منع ثابت کیا جاتا تو پھر حنفی ، دیوبندی و بریلوی حضرات: تکبیرِ تحریمہ، وتر اور عیدین میں کیوں رفع یدین کرتے ہیں؟
۱۰: اس حدیث کے راویوں مثلاً امام احمد بن حنبل ؒ وغیرہ میں سے ایک محدث سے بھی اس حدیث کی بنیاد پر رفع یدین کا منسوخ یا متروک قرار دیا جانا ثابت نہیں ہے ۔
(۳) ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
مابال الذین یرمون بأیدیھم في الصلوۃ کأنھا أذناب الخیل الشمس” الخ (مسند احمد ۱۰۲/۵ ح ۲۱۲۸۱ وسندہ صحیح )
انہیں کیا ہوگیا ہے کہ نماز میں ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہیں گویا شریر گھوڑوں کی دمیں ہیں ۔۔۔ الخ
اس سے معلوم ہوا کہ سلام کے بعد ہی نماز ختم ہوتی ہے ۔

 سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ:مفتاح الصلوۃ الطھور و احرامھا التکبیر و انقضاء ھا التسلیم” وضو نماز کی کنجی ہے اور تکبیر اس کا احرام ہے، نماز سلام سے ختم ہوتی ہے۔(السنن الکبری للبیہقی ۶/۲ وسندہ صحیح ) معلوم ہواکہ سلام نماز میں داخل ہے ۔

قانتین” کا یہ مطلب کسی نے بھی بیان نہیں کیا کہ نماز میں مسنون رفع یدین نہیں کرنا چاہئے ، اس سلسلے میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے منسوب روایت باطل ہے ، اگر “قانتین” کا یہی مطلب ہوتا تو پھر حنفیہ و دیوبندیہ و بریلویہ ، تینوں گروہ عیدین ، وتر اور تکبیرِ تحریمہ میں کیوں رفع یدین کرتے ہیں؟
 ————————
دیکھو خدا اور رسول نے نماز میں سکون کا حکم فرمایا اور آنحضرت ﷺ نے نماز کے اندر رفع یدین کو سکون کے خلاف فرمایا ۔
حدیث نمبر ۲:  قال ابن عباس الذین لا یرفعون ایدیھم في صلوتھم
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یعنی جو نمازوں میں رفع یدین نہیں کرتے ۔ (مسند امام اعظم ص ۲۲۷) (۵)
حدیث نمبر ۳: حدثنا عبداللہ۔۔۔۔۔۔عن علقمۃ قال قال الا اصلی لکم صلوۃ رسول اللہ ﷺ قال فصلی فلم یرفع یدیہ الامرۃ۔ (مسند احمد ج ۱ ص ۴۴۲،۳۸۸)
ترجمہ : حضرت علقمہ ؓ فرماتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓنے فرمایا : کیا میں تمہیں رسول اللہ  ﷺ کی نماز پڑھ کر نہ دِکھاؤں چنانچہ آپ ؓ نے نماز پڑھی اور صرف ایک مرتبہ رفع یدین کیا۔ (۶)                      ابوسفیان الٰہی بخش تونسوری مدرس ادارہ حقانیہ مین روڈ فیض آباد
……………………………………………………………………..
تنبیہ بلیغ:  دیوبندی و بریلوی حضرات کا یہ دعوی ہے کہ امام ابوحنیفہؒ کے مقلد ہیں لہذا ان لوگوں پر  یہ لازم ہے کہ خود مجتہد نہ بنیں بلکہ باسند صحیح اپنے مزعوم امام سے ثابت کریں کہ انہوں نے “قومواللہ قانتین” اور حدیثِ جابر ؓ سے ترکِ رفع یدین یا منسوخیت رفع یدین پراستدلال کیا ہے ، اگر یہ لوگ اپنے دعوی تقلید کے باوجود اپنے امام سے استدلال ثابت نہ کرسکیں تو یہ اس کی واضح دلیل ہے کہ یہ لوگ خود مجتہد بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ لوگ نماز میں باتیں کرتے تھے “وقومواللہ قانتین” آیت نازل ہوئی اور لوگوں کو سکوت (خاموشی ) کا حکم دیا گیا۔ (صحیح البخاری :۴۵۳۴ و صحیح مسلم : ۵۳۹)
یعنی اس آیت کریمہ کا تعلق رفع یدین سے نہیں ہے بلکہ “سکوت في الصلوۃ” سے ہے ،  یاد رہے کہ دل میں ، زبان میں ہلا کر پڑھنا سکوت کے منافی نہیں ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آیا ہے رسول اللہ ﷺ سکوت کے دوران “اللھم باعدبینی” الخ پڑھتے تھے (دیکھئے صحیح البخاری : ۷۴۴ و صحیح مسلم : ۵۹۸)
سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ “وقومواللہ قانتین” پڑھتے تھے (تفسیر ابن جریر ۳۵۴/۲ وسندہ صحیح ) اور خود رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے (مصنف عبدالرزاق ۶۹/۲ ح ۲۵۲۳ و مصنف ابن ابی شیبہ ۲۳۵/۱ ح ۲۴۳۱ و سندہ صحیح ، وجزء رفع الیدین للبخاری : ۲۱ ومسائل احمد، روایۃ عبداللہ :۲۴۴/۱)
(۵) یہ روایت “مسند امام اعظم” میں مجھے نہیں ملی۔ “مسند امام اعظم” نامی کتاب کی سند کا دارومدار عبداللہ بن محمد بن یعقوب الحارثی پر ہے دیکھئے مقدمہ “مسند امام اعظم” اردو (ص۲۶) و “مسند امام اعظم” عربی (ص۲۷)۔ یہ حارثی مذکور کذاب اور وضعِ حدیث میں پورا استاد تھا دیکھئے میزان الاعتدال (۲۹۶/۲) ولسان المیزان (۳۴۹،۳۴۸/۳) اور الکشف الحثیث عمن رمی بوضع الحدیث (ص ۲۴۸ ت ۴۱۱) لہذا “مسند امام اعظم ” کے نام سے سار ی کتاب موضوع اور من گھڑت ہے ، امام ابوحنیفہؒ اس کتاب سے بری ہیں۔ والحمدللہ
(۶) یہ روایت دووجہ سے ضعیف ہے ۔
 اول : سفیان ثوری مدلس ہیں۔ حنفیوں کے امام عینی ؒ نے سفیان ثوری کے بارے میں لکھا ہے کہ:

وسفیان من المدلسین و المدلس لا یحتج بعنعنتہ إلا أن یثبت سماعہ من طریق آخر(عمدۃ القاری ج۳ ص ۱۱۲ باب الوضوء من غیر حدث)

 یعنی سفیان (ثوری) مدلسین میں سے ہیں اور مدلس کا عن والی روایت حجت نہیں ہوتی الایہ کہ دوسری سند سے اس مدلس کی تصریحِ سماعت ثابت ہوجائے ۔سفیان ثوری ضعیف راویوں سے تدلیس کرتے تھے (دیکھئے میزان الاعتدال :۱۶۹/۲ ت ۳۳۲۲)

ابوبکر الصیر فی کتاب الدلائل میں لکھتے ہیں کہ :”کل من ظھر تدلیسہ عن غیر الثقات لم یقبل خبرہ حتی یقول حدثنی أو سمعت”ہر وہ شخص جس کی غیر ثقہ سے تدلیس ظاہر ہوتو اس کی صرف وہی خبر قبول کی جائے گی جس میں وہ حدثنی یا سمعت کے الفاظ کہے ۔ (شرح الفیۃ العراقی / التبصرۃ و التذکرۃ ج ۱ ص ۱۸۴، ۱۸۵ والتأ سیس فی مسئلہ التدلیس ص :۳۷مطبوعہ محدث : جنوری ۱۹۹۶؁ء) 

اس سے بھی معلوم ہوا کہ سفیا ن ثوری ؒ طبقہ ثالثہ کے مدلس ہیں ، امام حاکمؒ کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ حافظ ابن حبان نے لکھا ہے : وأما المدلسون الذین ھم ثقات و عدول فإنا لا نحتج بأخبارھم إلا ما بینوا السماع فیما رووامثل الثوری والأعمش وأبي إسحاق و أضرابھم اور وہ مدلس جو ثقہ و عادل ہیں جیسے (سفیان) ثوری، اعمش ، ابواسحاق وغیرہم ، تو ہم ان کی صرف انہی احادیث سے حجت پکڑتے ہیں جن میں سماع کی تصریح کرتے ہیں ۔ (الاحسان :۹۲/۱، و نسخۃ محققہ :۱۶۱/۱)

تفصیلی بحث کے لئے نور العینین اور التأسیس پڑھ لیں۔
دوم: امام احمد، ابو حاتم الرازی ، دارقطنی اور ابو داؤد وغیرہم جمہور محدثین نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے ، دیکھئے میری کتاب “نور العینین فی مسئلہ رفع الیدین ” طبع قدیم ص ۹۹،۹۷ وطبع دوم ص ۱۱۹۔ ۱۲۴ و طبع سوم ص ۱۱۵۔۱۱۹) رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کی صحیح روایات کے لئے صحیح بخاری و صحیح مسلم ، صحیح ابن خزیمہ و صحیح ابن حبان اور نظم المتناثر من الحدیث المتواتر (ص ۹۷،۹۶) وغیرہ کتابوں کا مطالعہ کریں۔
 
اللہ سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اما م شافعی ؒ فرماتے ہیں کہ :کل ما قلت۔۔۔۔ وکان عن النبیﷺ خلاف قولي مما یصح فحدث النبی ﷺ أولی ، ولا تقلدوني”میری ہر بات جو نبی ﷺ کی صحیح حدیث کے خلاف ہو (چھوڑ دو) پس نبی ﷺ کی حدیث سب سے زیادہ بہتر ہے اور میری تقلید نہ کرو ۔ (آداب الشافعی و مناقبہ لابن ابی حاتم ص ۵۱ وسندہ صحیح ) 

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.