کیا امام شافعی امام ابوحنیفہؒ کی قبر پر گئے تھے؟

 از    October 14, 2014

سوال:    ایک روایت میں آیا ہے کہ امام شافعیؒ نے فرمایا:
            “إني لأتبرک بأبي حنیفۃ و أجي إلیٰ قبرہ في کل یوم۔ یعني زائراً۔ فإذا عرضت لي حاجۃ صلیت رکعتین و جئت إلیٰ قبرہ و سألت اللہ تعالیٰ الحاجۃ عندہ فما تبعد عني حتیٰ تقضی”
میں ابوحنیفہ کے ساتھ برکت حاصل کرتا اور روزانہ ان کی قبر پر زیارت کے لئے آتا ۔ جب مجھے کوئی ضرورت ہوتی تو دو رکعتیں پڑھتا اور ان کی قبر پر جاتا اور وہاں اللہ سے اپنی ضرورت کا سوال کرتا تو جلد ہی میری ضرورت پوری ہوجاتی۔(بحوالہ تاریخ بغداد) کیا یہ روایت صحیح ہے ؟ (ایک سائل)

الجواب:
          یہ روایت تاریخ بغداد (۱۲۳/۱) و اخبار ابی حنیفہ و اصحابہ للصیمری (ص ۸۹) میںمکرم بن أحمد قال: نبأنا عمر بن إسحاق بن إبراھیم قال: نبأنا علي بن میمون قال: سمعت الشافعي…. کی سند سے مذکور ہے۔
          اس روایت میں “عمر بن اسحاق بن ابراہیم” نامی راوی کے حالات کسی کتاب میں نہیں ملے۔
شیخ البانیؒ فرماتے ہیں:”غیر معروف….” یہ غیر معروف راوی ہے …. (السلسلۃ الضعیفہ ۳۱/۱ ح ۲۲)
یعنی یہ راوی مجہول ہے لہٰذا یہ روایت مردود ہے۔
اس موضوع و مردود روایت کو محمد بن یوسف الصالحی الشافعی (عقود الجمان عربی  ص ۳۶۳ و مترجم اردو ص ۴۴۰) ابن حجر ہیثمی/مبتدع (الخیراب الحسان فی مناقب النعمان عربی ص ۹۴ و مترجم ص ۲۵۵]سرتاجِ محدثین[) وغیرہما نے اپنی اپنی کتابوں میں بطورِ استدلال و بطور ِ حجت نقل کیا ہے مگر عمر بن اسحاق بن ابراہیم کی توثیق سے خاموشی ہی میں اپنی عافیت سمجھی۔ اسی ایک مثال سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ تحقیق و انصاف سے دور بھاگنے والے حضرات نے کتبِ مناقب وغیرہ میں کیا کیا گل کھلا رکھے ہیں۔ یہ حضرات دن رات سیاہ کو سفید اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں حالانکہ تحقیقی میدان میں ان کے سارے دھوکے اور سازشیں ظاہر ہوجاتی ہیں پھر باطل پرست لوگوں کو منہ چھپانے کے لئے کوئی جگہ نہیں ملتی ۔ مردود روایات کی ترویج کرنے والے ایک اور روایت پیش کرتے ہیں کہ شہاب الدین الابشیطی (۸۱۰؁ھ وفات ۸۸۳؁ھ) نامی شخص نے (بغیر کسی سند کے ) نقل کیا ہے :
امام شافعیؒ نے صبح کی نماز امام ابوحنیفہؒ کی قبر کے پاس ادا کی تو اس میں دعائے قنوت نہیں پڑھی۔ جب ان سے عرض کیا گیا  تو فرمایا :اس قبر والے کے ادب کی وجہ سے دعائے قنوت نہیں پڑھی۔ (عقود الجمان ص ۳۶۳، الخیرات الحسان ص ۹۴ تذکرۃ النعمان ص ۴۴۱،۴۴۰ سرتاج محدثین ص ۲۵۵)
یہ سارا قصہ بے سند، باطل اور موضوع ہے۔اسی طرح محی الدین القرشی کا طبقات میں بعض (مجہول) تاریخوں سے عدمِ جہر بالبسملہ کا ذکر کرنا بھی بے سند ہونے کی وجہ سے موضوع اور باطل ہے ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے امام شافعیؒ کے امام ابوحنیفہؒ کی قبر پر جانے والے قصے کا موضوع اور بے اصل ہونا حدیثی اور عقلی دلائل سے ثابت کیا ہے۔ دیکھئے “اقتضاء الصراط المستقیم” (ص ۳۴۴،۳۴۳ دوسرا نسخہ ص ۳۸۶،۳۸۵) جو شخص ایسا کوئی قصہ ثابت سمجھتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے پیش کردہ قصے کی صحیح متصل سند پیش کرے۔ مجرّد کسی کتاب کا حوالہ کافی نہیں ہوتا۔

تنبیہ بلیغ: امام محمد بن ادریس شافعیؒ سے امام ابوحنیفہؒ کی تعریف و ثنا قطعاً ثابت نہیں ہے بلکہ اس کے سراسر برعکس امام شافعیؒ سے امام ابوحنیفہؒ پر جرح باسند صحیح ثابت ہے دیکھئے آداب الشافعی و مناقبہ لابن ابی حاتم (ص ۱۷۱، ۱۷۲ و سندہ صحیح، ۲۰۲،۲۰۱ و سندہ صحیح) تاریخ بغداد (۴۳۷/۱۳ و سندہ صحیح، ۱۷۷،۱۷۸/۲ و سندہ صحیح) لہٰذا اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ امام شافعیؒ کبھی امام ابوحنیفہؒ کی قبر کی زیارت کے لئے گئے ہوں۔ وما علینا إلا البلاغ (۱۰ربیع الثانی ۱۴۲۷؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.