کیا “الخیرات الحسان ” حافظ ابن حجر عسقلانی کی کتاب ہے؟

 از    May 26, 2014

کیا “الخیرات الحسان ” حافظ ابن حجر عسقلانی کی کتاب ہے؟ اور کیا اس کتاب میں انہوں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے اقوال و واقعات لکھے ہیں؟

الجواب: کتاب “الخیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفۃ النعمان” حافظ ابوالفضل احمد بن علی بن حجر العسقلانی رحمہ اللہ (متوفی 852 ھ) کی لکھی ہوئی نہیں ہے بلکہ اسے شہاب الدین احمد بن محمد بن محمد بن علی بن محمد بن علی بن حجر الہیتمی المکی السعدی الانصاری الشافعی ابوالعباس (متوفی 973ھ) نے لکھا ہے۔

اس ابن حجر المکی کے بارے میں امام محمود شکری بن عبداللہ بن محمود بن عبداللہ بن محمود الحسینی الآلوسی البغدادی رحمہ اللہ (متوفی 1342 ھ) لکھتے ہیں کہ:

” ابن حجر کی اکثر کتابیں جھوٹ کا پلندہ ہیں، اور افتراء، قول زور، بے اصل آراء اور دعوت الی غیراللہ جیسی بدعات و ضلالات سے پر ہیں”  (انور رحمانی ترجمۃ غایۃ الامانی: 433/2)

امام آلوسی مزید لکھتے ہیں:

“ابن حجر کی سب کتابیں اہل بصیرت کی نظر میں عیوب کی جامع ہیں اوران میں بعض میں دوسروں کی کتابوں کا عیب بھی ہے۔۔۔۔ پھر ان میں موضوع احاد یث ہیں.جنہیں غلط طور پرآں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔”  ( انوار رحمانی ترجمۃغایۃالامانی 434-433/2)

علامہ آلوسی کے بارے میں عمر رضا کحالہ نے لکھا ہے:

 “جمال الدین ابوالمعالی مورخ ادیب لغوی من علماء الدین۔۔۔۔”  (معجم المولفین ج 3 ص810 ت 16603)

خیر الدین زرکلی نے لکھا ہے:

مورخ عالم بالادب والدین من الدعاۃ الی الاصلاح و حمل علی اہل البدع فی الاسلام برسائل فعاداہ کثیرون (الاعلام ج 8 ص172)

علامہ آلوسی البغدادی کی اس گواہی کو مد نظر رکھتے ہوئے ’’الخیرات الحسان ‘‘کے بارے میں درج ذیل اہم نکات پیش خدمت ہیں۔

1)    اس کتاب میں سندیں حذف کرکے قال فلان اور روی فلان کے ساتھ روایتیں لکھی گئی ہیں ،اہل تحقیق پر یہ بات مخفی نہیں ہے کہ بے سند و غیر ثابت روایات کے بارے میں قال فلان و روی فلان وغیرہ کے الفاظ لکھنا انتہائی معیوب اور ناپسندیدہ حرکت ہے۔
2)     ابن حجر مکی نے موضوع و بے اصل روایات کو جزم کے صیغے استعمال کرکے بیان کیا ہے تا کہ عام لوگ یہ سمجھیں کہ یہ روایات صحیح اور ثابت ہیں۔
مثال نمبر1: وعنہ :ان احتیج للرای فرای مالک و سفیان وابی حنیفۃ وہو افقہہم و احسنھم وادقھم فطنۃ و اغوصہم علی الفقہ (الخیرات الحسان ص45)

ترجمہ: ابن مبارک فرماتے ہیں کہ اگر رائے کی ضرورت ہو تو امام مالک اور سفان اورامام ابو حنیفۃ کے رائیں درست ہیں ،ان سب میں امام ابوحنیفہ سے زیادہ فقیہ اور اچھے فقیہ تھے اور باریک بینی اور فقہ میں زیادہ غور وخوض کرنے والے تھے (سرتاج محدثین ص۱۵۷،مترجم عبدالغنی طارق دیوبندی)

تبصرہ:

یہ روایت تاریخ بغداد للخطیب البغدادی (ج13ص343)میں احمد بن محمد بن مغلس (الحمانی)کی سند سے موجود ہے اس ابن مغلس کے بارے میں امام ابن عدی نے فرمایا وما رایت فی الکذابین اقل حیاء منہ ‘‘اور جھوٹوں میں اتنا بے حیاء شخص کوئی نہیں دیکھا (الکامل لابن عدی ج1 ص202)

امام دارقظنی  رحمہ اللہ نے فرمایا: “یضح الحدیث” یہ حدیثیں گھڑتا تھا۔   (کتاب الضعفاء المتروکین: ص 123، ترجمہ 59)

اس کذاب شخص کو کسی محدث نے ثقہ یا صدوق نہیں کہا ہے، حافظ زہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“و قسم کالبخاری و احمد بن حنبل و ابی ذرعۃ و ابن عدی: معتدلون منصفون” یعنی امام بخاری، امام احمد بن حنبل امام ابو ذرعہ اور امام ابن عدی سب معتدل اور انصاف کرنے والے تھے۔ (ذکر من یعتمد قولہ فی الجرح والتعدیل: ص 159/2)

سخاوی نے کہ:

وقسم معتدل کاحمد والدارقطنی وابن عدی یعنی اور ایک قسم (جرح تعدیل) والے معتدل ہیں مثلا احمد، دارقطنی اور ابن عدی۔ (المتکلمون فی الرجال ص: 137)

مثال نمبر 2: ابن حجر المکی نے کہا: “وقال وکیع: ما رایت احدا فقہ منہ ولااحسن صلاۃ منہ”   (الخیرات الحسان: 48)

ترجمہ: محدث وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام ابوحنیفہ سے بڑا نہ فقیہ دیکھا ہے اور نہ ان سے اچھی کسی کو نماز پڑھتے دیکھا ہے   (سرتاج محدثین: ص 163)

تبصرہ:

یہ روایت تاریخ بغداد (345/13) میں احمد بن الصلت الحمانی کی سند سے ہے اور احمد بن الصلت کذاب ہے جیسا کہ اوپر گزرا ہے۔ یہ دو مثالیں بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں ورنہ “الخیرات الحسان” اس قسم کی موضوع، بے اصل اور باطل روایات سے بھری ہوئی ہے۔

کسی کتاب سے حوالہ پیش کرنے کے لئے تین باتوں کا ہونا ضروری ہے:

اول: صاحب کتاب ثقہ و صدوق ہو۔
دوم: کتاب، صاحب کتاب تک صحیح ثابت ہو۔
سوم: صاحب کتاب سے لے کر صاحب قول و روایت تک سند صحیح و حسن لذاتہ ہو۔

تو خلاصہ کلام یہ ہے کہ ابن حجر المکی المبتدع کی کتاب “الخیرات الحسان” میں مناقب الامام ابی حنیفۃ رحمہ اللہ والی روایات کا بہت بڑا اور اکثر حصہ غیرثابت، موضوع اور بے اصل روایات پر مشتمل ہے۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.