کیا ابو الغادیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوزخی تھے؟

 از    December 17, 2014

تحریر:حافظ زبیر علی زئی

سوال:   ایک روایت میں آیا ہے کہ “قاتل عمار وسالبہ فی النار” عمار (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو قتل کرنے والا اور ان کا سامان چھیننے والا آگ میں ہے ۔  شیخ البانیؒ نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ دیکھئے السلسلۃ الصحیحۃ (۱۸/۵ ۔ ۲۰ ح ۲۰۰۸)
          یہ بھی ثابت ہے کہ سیدنا عمارؓ کو جنگِ صفین میں ابو الغادیہؓ نے شہید کیا تھا۔ دیکھئے مسند احمد (۷۶/۴ ح ۱۶۶۹۸ و سندہ حسن)
          کیا یہ صحیح ہے کہ ابو الغادیہؓ دوزخی ہیں؟                           (حافظ طارق مجاہد یزمانی)

الجواب:  الحمدللہ رب العالمین و الصلوٰۃوالسلام علیٰ رسولہ الأمین، أما بعد: جس روایت میں آیا ہے کہ سیدنا عمارؓ کو قتل کرنے والا اور ان کا سامان چھیننے والا آگ میں ہے ، اس کی تخریج و تحقیق درج ذیل ہے:

۱:        لیث بن أبي سلیم عن مجاھد عن عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ…. إلخ (ثلاثۃمجالس من الامالی لابی محمد المخلدی ۱/۷۵۔ ۲ ، السلسلۃ الصحیحۃ ۱۸/۵ ، الآحادو المثانی لابن ابی عاصم ۱۰۲/۲ ح ۸۰۳)

یہ سند ضعیف ہے ۔ لیث بن ابی سلیم جمہور کے نزدیک ضعیف راوی ہے ، بوصیری نے کہا :”ضعفہ الجمھور” جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ (زوائد ابن ماجہ : ۲۰۸،۲۳۰)

ابن الملقن نے کہا : “وھو ضعیف عند الجمھور” وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ۔ (خلاصۃ البدر المنیر: ۷۸، البدر المنیر: ۱۰۴/۲)
امام نسائی نے فرمایا: “ضعیف کوفي” (کتاب الضعفاء: ۵۱۱)

۲:        المعتمر بن سلیمان التیمي عن أبیہ عن مجاھد عن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ … إلخ (المستدرک للحاکم 
۳۸۷/۳ ح ۵۶۶۱ وقال الذہبی فی التلخیص: علیٰ شرط البخاری و مسلم)
یہ سند سلیمان بن طرخان التیمی کے “عن” کی وجہ سے ضیف ہے ۔ سلیمان التیمی مدلس تھے، دیکھئے جامع التحصیل (ص۱۰۶) کتاب المدلسین لا بی زرعۃ ابن العراقی (۲۴) اسماء من عرف بالتدلیس للسیوطی (۲۰) التبیین لأسماء المدلسین للحلبی (ص۲۹) قصیدۃ المقدسی و طبقات المدلسین للعسقلانی (۲/۵۲) امام یحییٰ بن معین نے فرمایا :”کان سلیمان التیمي یدلّس” سلیمان التیمی یدلیس کرتے تھے ۔(تاریخ ابن معین ، روایۃ الدوری: ۳۶۰۰)

امام ابن معین کی اس تصریح کے بعد سلیمان التیمی کو طبقۂ ثانیہ یا اولیٰ میں ذکر کرنا غلط ہے بلکہ حق یہ ہے کہ طبقۂ ثالثہ کے مدلس ہیں لہٰذا اس روایت کو “صحیح علیٰ شرط الشیخین” نہیں کہا جاسکتا ۔


۳:       “أبو حفص و کلثوم عن أبي غادیۃ قال…. فقیل قتلت عمار بن یاسر و أخبر عمرو بن العاص فقال: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول : أن قاتلہ و سالبہ فی النارإلخ(طبقات ابن سعد ۲۶۱/۳ و اللفظ لہ ، مسند احمد ۱۹۸/۴ ، الصحیحۃ ۱۹/۵)
          اس روایت کے بارے میں شیخ البانی نے کہا : “وھٰذا إسناد صحیح، رجالہ ثقات رجال مسلم….

          عر ض ہے کہ ابو الغادیہؓ تک اس سند کے صحیح ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ “قاتلہ و سالبہ فی النار” والی روایت بھی صحیح ہے ۔

ابو الغادیہؓ فرماتے ہیں: “فقیل….إلخ پس کہا گیا کہ تو نے عمار بن یاسر کو قتل کیا اور عمرو بن العاص کو یہ خبر پہنچی ہے تو انہوں نےکہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:بے شک اس (عمار ) کا قاتل اور سامان لوٹنے والا آگ میں ہے ۔

               اس سے معلوم ہوا کہ اس روایت کا راوی “فقیل” کا فاعل ہے جو نامعلوم (مجہول) ہے ۔ راوی اگر مجہول ہو تو روایت ضعیف ہوتی ہے لہذا یہ    “فی النار” والی روایت بلحاظِ سند ضعیف ہے ۔ “إسنادہ صحیح” نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ ابوالغادیہؓ سے روایت دو راوی بیان کررہے ہیں :          (۱)ابوحفص: مجہول۔     (۲) کلثوم بن جبر: ثقہ ۔

امام حماد بن سلمہؒ نے یہ وضاحت نہیں فرمائی کہ انہوں نے کس راوی کے الفاظ بیان کئے ہیں؟ ابوحفص (مجہول) کے یا کلثوم بن جبر (ثقہ ) کے اور اس بات کی بھی کوئی صراحت نہیں ہے کہ کیا دو نوں راویوں کے الفاظ من و عن ایک ہیں یا ان میں اختلاف ہے۔
خلاصہ التحقیق:  یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ ضعیف ہے لہٰذا اسے صحیح کہنا غلط ہے ۔
                        تنبیہ:     ابو الغادیہؓ کا سیدنا عمار بن یاسرؓ کو جنگِ صفین میں شہید کرنا ان کی اجتہادی خطا ہے جس کی طرف حافظ ابن حجر العسقلانی  نے اشارہ کیا ہے ۔ دیکھئے الاصابۃ (۱۵۱/۴ ت ۸۸۱، ابو الغادیۃ الجہنی) وما علینا إلا البلاغ    (۵ رمضان ۱۴۲۷؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.