“کلامي لا ینسخ کلام اللہ” والی روایت موضوع ہے

 از    October 14, 2014

سوال:   ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

          “کلامي لا ینسخ کلامَ اللہ،وکلامُ اللہ ینسخ کلامي، وکلامُ اللہ ینسخ بعضہ بعضاً
          میرا کلام اللہ کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا، اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے اور اللہ کے کلام کا بعض اپنے بعض کو منسوخ کرتا ہے ۔ (مشکوٰۃ المصابیح : ۱۹۵)

کیا یہ روایت صحیح ہے ؟ تحقیق کر کے جواب دیں۔جزاکم اللہ خیراً (ایک سائل)

الجواب:  مشکوٰۃ میں یہ روایت بحوالہ (سنن) دارقطنی (۱۴۵/۴ ح ۴۲۳۳) مذکور ہے ۔ اسے دارقطنی، ابن عدی (الکامل ۶۰۲/۲ دوسرا نسخہ ۴۴۳/۲) اور ابن الجوزی (العلل المتناہیہ ۱۲۵/۱ ح ۱۹۰)
نےجبرون بن واقد: حدثنا سفیان بن عیینۃ عن أبي الزبیر عن جابرکی سند سے روایت کیا ہے ۔
ابن عدی نے کہا :”منکر” یہ حدیث منکر ہے ۔ (نیز دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ: ۴۴۰۶)
حافظ ذہبی نے اس حدیث کے بارے میں کہا :”موضوع” (میزان الاعتدال ۳۸۸/۱)
حافظ ابن حجر نے اس فیصلے کو لسان المیزان میں برقرار رکھا ہے۔  (دیکھئے للسان ۹۴/۲)
جبرون بن واقد کے بارے میں ذہبی نے کہا :”لیس بثقۃ” وہ ثقہ نہیں ہے ۔
                                                  (دیوان الضعفاء و المتروکین : ۷۲۲، المغنی فی الضعفاء:۱۰۸۹)
اور کہا :”متھم فإنہ روی بقلۃ حیاء…..” یہ (وضعِ حدیث کے ساتھ) متہم ہے کیونکہ اس نے (یہ روایت ) بے حیائی سے بیان کی…. (میزان الاعتدال ۳۸۷،۳۸۸/۱)
مُتھم سے مراد “متھم بالوضع” ہے ۔ (الشکف الحثیث عمن رمی بوضع الحدیث ص ۱۲۲)
کسی ایک محدث نے بھی اس راوی کی توثیق نہیں کی ہے۔

خلاصہ التحقیق: یہ روایت جبرون بن واقد کی وجہ سے موضوع ہے ۔ (۱۰ ربیع الثانی ۱۴۲۷؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.