چار سنتیں دو دو کر کے پڑھنا افضل ہے

 از    August 12, 2014

سوال :محترم فضیلۃ الشیخ زبیر علی زئی صاحب کیا ظہر اور عصر کی چار سنت کو ایک سلام کے ساتھ ادا کرنا جائز ہے؟ (ایک سائل)
الجواب:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:صلوۃ اللیل و النھار مثنیٰ مثنیٰ”    رات اور دن کی (نفل، سنت) نماز دو دو (رکعتیں) ہے۔(سنن ابی داؤد : ۱۲۹۵ و سندہ حسن)

اسے ابن خزیمہ (۱۲۱۰) ابن حبان (۶۳۶) اور جمہور محدثین نے صحیح قرار دیا ہے ۔(دیکھئے میری کتاب نیل المقصود فی التعلیق علی سنن ابی داؤد ج ۱ ص ۳۷۱)

معرفۃ علوم الحدیث للحاکم (ص ۵۸ ح ۱۰۱) میں اس کی ایک مؤید روایت ہے جس کی سند حسن ہے،  اس کے باوجود امام حاکم نے اسے “وھم” قرار دیا ہے !

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ : “صلوۃ اللیل و النھار مثنی مثنی رات اور دن کی (نفل) نماز دو دو(رکعتیں) ہے ۔ (السنن الکبری للبیہقی ج ۲ ص ۴۸۷وسندہ صحیح ولاعلۃ فیہ)

اس سے معلوم ہوا کہ سنن ابی داؤد والی حدیث سابق صحیح لغیرہ ہے ۔ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ چار سنتیں دو دو کر کے دو سلاموں کے ساتھ پڑھنی چاہئیں۔

نافع (تابعی) سے روایت ہے کہ (سیدنا) عبداللہ بن عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) دن کو چار چا ر رکعتیں (سنت) پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ج۲ ص ۲۷۴ح ۶۶۳۴ و سندہ صحیح )

عبداللہ بن عمر العمری (صدوق حسن الحدیث عن نافع، ضعیف عن غیرہ) عن نافع کی سند سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما رات کو دو دو رکعت اور دن کو چار رکعت (نوافل) پڑھتے تھے ، پھر سلام پھیرتے تھے۔(مصنف عبدالرزاق ۵۰۱/۲ ح ۴۲۲۵ و اسنادہ حسن)

اس روایت کی دوسری سند سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحیح لغیرہ ہے۔ (دیکھئے مصنف عبدالرزاق ح ۴۲۲۶)

امام ابن المنذر النیسابوری نے اسے “ثابت عن ابن عمر” قرار دیا ہے ۔ (الاوسط ۲۳۶/۵)

تنبیہ: عبداللہ بن عمر العمری کی مصنف عبدالرزاق والی روایت الاوسط میں “أخبرنا عبداللہ بن عمر عن نافع عن أبن عمر” إلخ کی سند سے چھپی ہوئی ہے !

اس اثر سے معلوم ہوا کہ ایک سلام میں چار سنتیں پڑھنا بھی جائز ہے ۔
لیکن بہتر یہی ہے کہ مرفوع حدیث کی وجہ سے وتر کے علاوہ تمام سنتیں اور نوافل دو دو کر کے پڑھے جائیں۔

حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:صلوۃالنھار رکعتان رکعتان”             دن کی نماز دو دو رکعتیں ہے
(مسائل الإمام أحمد و إسحاق بن راھویہ، روایۃ إسحاق بن منصور الکوسج ۲۰۵/۱ فقرہ : ۴۳۳ وسندہ صحیح، الأشعث ھو ابن عبد الملک الحمرانی)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ دن کی نفل نماز دو دو کرکے پڑھتے تھے (ایضاً فقرہ: ۴۰۵)

لقد کان لکم فی رسول اللہ أسوۃ حسنۃ،
                                                                                                       وما علینا إلاالبلاغ

اُمتِ مسلمہ کے منافقین کی اکثریت قاریوں میں سے ہے
امام بخاریؒ (متوفی ۲۵۶؁ھ) فرماتے ہیں:
قال ليمحمد بن مقائل: حدثنا ابن المبارک قال: أخبرنا عبدالرحمٰن بن شریح المعافري قال: حدثني شراحیل بن یزید عن محمد بن ھدیۃ عن عبداللہ بن عمرو بن العاص قال قال النبي ﷺ :أکثر منافقي أمتي قراءھا”
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: “میری امت کے منافقوں کی اکثریت قاریوں میں سے ہے ۔ (التاریخ الکبیر ج ۱ ص ۲۵۷ وسندہ حسن)
اس روایت کے سارے راوی ثقہ و صدوق ہیں۔ محمد بن ھدیہ الصدفی المصری کو امام (معتدل) العجلی، حافظ ابن حبان اور یعقوب بن سفیان نے ثقہ قرار دیا ہے (دیکھئے تحریر تقریب التہذیب ۳۲۸/۳)
لہذا یہ سند حسن لذاتہ ہے ۔
مسند احمد (۱۵۵،۱۵۴،۱۵۱/۲) وغیرہ میں اس کے دوسرے شواہد (تائید کرنے والی روایتیں) موجود ہیں۔ دیکھئے السلسۃ الصحیحۃ للشیخ الألباني رحمہ اللہ (۳۸۸،۳۸۷/۲ ح ۷۵۰)
لہذا یہ حدیث صحیح (لغیرہ) ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ (صحیح الجامع : ۱۲۰۳)
اس حدیث کا مفہوم واضح ہے کہ امت مسلمہ میں اکثر منافقین وہ لوگ ہیں جو قاری (قراء) حضرات ہیں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ قاریوں کی اکثریت بدعات، گمراہیوں، جھوٹ ، وعدہ خلافی اور تکبر وغیرہ امراض میں مبتلا ہے۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.