وَلَا تَفَرَّقُوْا……اور فرقے مت بناؤ

 از    October 23, 2014

تحریر: فضل اکبر کاشمیری
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو قرآن و حدیث پر مشتمل ہے ۔ یہی دو مصادر ہدایت و راہنمائی کے سر چشمے ہیں اور گمراہی وضلالت سے بچنے کے لئے کافی ہیں۔ جو کچھ قرآن و حدیث میں ہے وہ حق ہے اور جو کچھ اس کے خلاف ہے وہ باطل ہے ۔ ﴿فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلَالُ ]پھر حق کے بعد کیا ہے؟ صرف گمراہی[لیکن افسوس صد افسوس کہ آج انسانوں کی اکثریت قرآن و حدیث سے جاہل ہے یا پھر مسلک پرستی، اکابر پرستی اور فرقہ پرستی وغیرہ میں اس قدر مبتلا ہے کہ اصل دین ان پر مشتبہ ہوچکا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہر طرف فرقہ پرستی کی وبا پھیل چکی ہے۔
مروّجہ تقلیدی مذاہب اس کی زندہ مثالیں ہیں۔

حافظ ابن القیم نے فرمایا: حدثت ھٰذہ البدعۃ فی القرن الرابع المذموم علیٰ  لسان رسول اللہ ﷺ(تقلید کی) یہ بدعت چوتھی صدی میں پیداہوئی ہے جس (صدی) کی مذمت رسول اللہ ﷺ نے اپنی (مقدس) زبان سے بیان فرمائی ہے ۔ (اعلام الموقتین ۲۰۸/۲)

لہذا بعض الناس کا ان تقلیدی مذاہب کو “اسلام کے بچاؤ کا سامان” کہنا باطل و مردود ہے۔ اسی طرح آلِ تقلید: حنفیوں  اور شافعیوں کے مابیں خونریز لڑائیاں بھی ہوئی ہیں ۔]دیکھئے معجم البلدان ۱۷/۳/۱ [

اسی طرح تقلیدی مذاہب کے پیروکاروں نے بیتُ اللہ میں چار مصلے بنا رکھے تھے  اور ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز پڑھنا گوارا نہیں کرتے تھے ۔(ملاحظہ فرمائیے تالیفاتِ رشیدیہ ص ۵۱۷)

اللہﷻ فرماتے ہیں کہ: ﴿وَ اعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰہِ جَمِیۡعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوۡا ۪
اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔ (آلِ عمران : ۱۰۳)

اللہ کی رسی سے مراد کتاب اللہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : ((ألا وإني تارک فیکم الثقلین: أحدھما کتاب اللہ ]عزوجل[ ھو حبل اللہ، من اتبعہ کان علی الھدیٰ ومن ترکہ کان علی الضلالۃ۔))آگاہ رہو ! میں تم میں دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں، ان میں سے ایک اللہ (عزوجل ) کی کتاب ہے ، وہ اللہ کی رسی ہے جس نے اس کی اتباع کی وہ ہدایت پر رہے گا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہی پر ہوگا۔ (مسلم: ۶۲۲۸/۲۴۰۸)

اس حدیث سے معلو م ہوا کہ حبل اللہ (اللہ کی رسی) سے مراد کتاب اللہ ہے۔ کتاب اللہ کا اطلاق حدیث پر بھی کیا جاتا ہے ۔ (ملاحظہ فرمائیے صحیح بخاری: ۶۸۴۳،۶۸۴۲ و صحیح مسلم : ۴۴۱۸)

واضح ہوا کہ حبل اللہ سے مراد قرآن و حدیث یعنی اللہ کا دین ہے جس کو تھامنے کی تاکید کی گئی ہے ۔ اللہ کے نبی ﷺ نے بھی اس کو اللہ کی پسندیدہ چیز قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ((وأن تعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرّقوا)) اور یہ کہ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور فرقے فرقے نہ بنو۔ (مسلم : ۴۴۸۱)

سیدنا حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب نبی کریم ﷺ سے فتنوں کے دور کے متعلق سوال کیا تھا تو آپﷺ نے یہ جواب دیا تھا:((فاعتزل تلک الفرق کلھا۔))
(ایسی حالت)تم تمام فرقوں سے علیحدہ ہوجانا۔  (بخاری : ۷۰۸۴، مسلم: ۴۷۸۴)

اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کو یہ فرمایا تھا : ((خذماتعرف ودع ما تنکر۔))

جو کچھ تمہیں معلوم ہو اسی کو اپنائے رکھو اور جو کچھ نہیں جانتے اسے چھوڑ دو۔ (ابوداود: ۴۳۴۳ واسنادہ حسن)

سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :((تعمل ما تعرف و تدع ما تنکر و تعمل بخاصۃ نفسک و تدع عوام الناس)) تمہیں جو معلوم ہو اس پر عمل کرو اور جسے تم نہیں جانتے اسے چھوڑ دو۔ خاص اپنے لئے عمل کرو اور عوام الناس کو چھوڑ دو۔ (صحیح ابن حبان ، الاحسان : ۵۹۳۳ وسندہ صحیح ، دوسرا نسخہ: ۵۹۵۳)

سیدنا ابو ثعلبہ الخشنیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ((فعلیک بخاصۃ نفسک ودع العوام)) خاص اپنی فکر کرو اور عوام کو چھوڑ دو۔ (ترمذی : ۳۰۵۸ و اسنادہ حسن، وقال الترمذی:”حسن غریب”)

اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنوں کے دور میں فرقہ بندی چھوڑکر ہمیشہ قرآن و سنت پر عمل پیرا رہنا چاہئے۔

تفریق کے اسباب :جہل، تقلید ، تعصب اور خواہشات وغیرہ ہیں۔ اس سے بچنے کا ایک ہی نسخہ ہے کہ صرف اللہ کی وحی کو تھاما جائے اور غیر جانبداری سے قرآن و حدیث کی دعوت دی جائے۔ اللہ کی وحی کو تھامنے والوں کا افتراق کی راہ پر آنا اور تنظیمیں بنانا خیر و برکت کا باعث نہیں بلکہ فشل و اختلاف کا سبب ہے ۔اگر کسی کو یہ وسوسہ ستائے کہ صحابۂ کرامؓ کے درمیان بھی دو گروہ بن چکے تھے تو مؤدبانہ عرض ہے کہ صحابہ کا یہ عمل اجتہادی خطا پر مبنی تھا۔ یہ فرقہ بندی اور تنظیم سازی کی دلیل نہیں بن سکتا۔ صحابہ کرامؓ نے اجتہادی خطا کی بنا پر ایک دوسرے کو قتل بھی کیا تھا۔معلوم ہوا کہ یہ استدلال ہے۔ محدثینِ کرام نے کوئی تنظیمیں نہیں بنائی تھیں اور اس کے باوجود قرآن و سنت کی خدمت کےلئے انہوں نے اپنی زندگیاں کھپا دی تھیں۔ دعوت کے لئے تنظیمیں بنانااور مسلمانوں کو آپس میں لڑانا ضروری نہیں۔ اگر کوئی یہ شبہ وارد کرے کہ جب خلافت کا دور تھا تو تنظیموں کی کیا ضرورت تھی؟تو ہم سوال کرنے کاحق رکھتے ہیں کہ اس کی کیا دلیل ہے کہ جب خلافت نہ ہو تو فرقے، پارٹیاں اور تنظیمیں بنا بنا کر تعصب کو ہوا دیتے پھریں!
قارئین کرام! اگر شخصیات سے بالاتر ہو کر خالص قرآن و حدیث کی طرف لوگوں کو بلایا جائے تو اس دعوت میں کوئی تعصب نہیں۔ تعصب تو تب ہے کہ کسی خاص فرقے، مسلک اور امام کی طرف بلایا جائے یا موجودہ کاغذی امیروں کی اطاعت کی دعوت دی جائے ۔ اور ایسا کرنا اللہ ﷻ کے حکم وَلَا تَفَرَّقُوْا کے خلاف ہے۔الغرض فرقہ بندی سے بچتے ہوئے صرف سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو اپنا مقتد اور راہنما بنائیے۔ سلف صالحین کے فہم کی روشنی میں صرف آپﷺ کی اتباع کیجئے۔ سلف صالحین (صحابہ و تابعین) اسی نکتہ پر متحد تھے اور یہی سلف دعوت ہے ۔
          وکل خیر في اتباع من سلف                                   وکل شرفي ابتداع من خلف
اور سلف کی (بادلیل) اتباع میں ہر قسم کی خیر ہے اور بعد والوں کی بدعات میں ہر قسم کا شر ہے ۔
رسول اللہ ﷺ کی حدیث ہے : ((لا تختلفوا فإن من کان قبلکم اختلفوا فھلکوا))
اختلاف نہ کیا  کرو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے تباہ ہوگئے۔ (بخاری : ۲۴۱۰)
فرقہ بندی اختلاف کا سبب ہے اور اختلاف و تنازعات بزدلی اور کمزوری کا باعث ہے ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿وَ لَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَ تَذۡہَبَ رِیۡحُکُمۡ
اور آپس میں اختلاف مت کرو ورنہ بزدل بن جاؤ گے اور تمہارا رعب ختم ہوجائے گا۔ (الانفال : ۴۶)
احادیث میں مذکور الفاظ “جماعت” سے کسی خاص پارٹی یا تنظیم پر استدلال کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ اس باب سے متعلق تمام احادیث جمع کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ اس سے مراد مسلمانوں کا خلیفہ، اجماع یا نماز والی جماعت ہے۔
اگر خلافتِ اسلامیہ نہ ہو تو مسلمانوں کو چاہئے کہ کوئی پارٹی یا تنظیم نہ بنائیں اور تمام پارٹیوں اور جماعتوں سے علیحدہ ہوجائیں جیساکہ سیدنا حذیفہؓ کی بیان کردہ حدیث میں گزر چکا ہے ۔
تنظیمیں اور جماعتیں بنانا قرآن و سنت کے خلاف ہے ، اس سے مسلمانوں کا خلوص شدید متاثر ہوتا ہے ۔ اس سے آنکھوں پر تعصب کا پردہ چھا جاتا ہے ، یہ شخصیات میں غلو کا سبب ہے ۔ بعض لوگ غلو میں اس طرح حد سے گزر جاتے ہیں کہ اگر ان کا لیڈر یا امیر دن کو رات کہے یا رات کو دن کہہ دے تو بھی اسے بسر و چشم قبول کرلیتے ہیں اور پوری کوشش کرکے غلط بات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے دُورازکار تاویلیں تلاش کرتے رہتے ہیں ۔
فرقہ بندی نے مسلمانوں میں شکوک  و شبہات اور تعصّبات کو پروان چڑھایا ۔ خیرون القرون میں اس کا نام و نشان تک نہیں تھا، یہ بعد کی پیداوار ہے۔ تنظیموں کے کارکنوں خصوصاً نوجوانوں سے ہماری گزارش ہے کہ فتنوں کے اس دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کریں ،اسے فتنوں سے بچائیں ۔ اپنے مقصدِحیات کو پہچانیں، اللہ کی عبادت کے لئے کمربستہ ہوجائیں۔ اللہ سے تعلق قائم کریں، علمِ شرعی حاصل کریں اور بے مقصد اور لا یعنی امور چھوڑ دیں۔ پارٹی اور تنظیمی قیود سے آزاد ہو کر ان ذمہ داریوں کو اپنائیں جو شریعت نے ہم پر عائد کی ہیں۔ پارٹی منشور ایک خاص فکر پر مبنی ہوتے ہیں جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی موت آپ مر جاتے ہیں جبکہ سلف صالحین کے منہج پر دعوت الی اللہ کا کام قیامت تک باقی رہے گا۔ ان شاء اللہ
                                                  (۱۳ ربیع الاول ۱۴۲۷؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.