ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا

 از    February 1, 2016

تحریر: غلام مصطفے ظہیر امن پوری

دین اسلام نے اصول و احکام اور تہذیب و معاشرت کے بارے میں واضح رہنمائی فرمائی ہے، باپ بیٹی جیسے مقدس رشتے کے حقوق سے بھی شناسا کیا، بیٹی عزت ہوتی ہے، جب وہ اپنے باپ کی اجازت کے بغیر شادی رچا لیتی ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ فلاں کی عزت فرار ہوگئی ہے، ایسا باپ شرم سے زمین میں گڑ جاتاہے، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی دہلیز سے باہر قدم رکھنا اپنے لیے باعث ذلت و رسوائی سمجھتا ہے۔

اسلام بھلا اپنے ماننے والوں کی ذلت کب برداشت کر سکتا ہے؟ اسی لیے اس نے ایسی عورت کے نکاح کو کالعدم قرار دیا جو ولی (Guardian) کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے، لیکن افسوس کہ اسلام کا نام لے کر اسلام کو رسوا کرنے والوں نے جہاں اور بہت سے اوچھے ہتھکنڈے اپنائے، وہاں ایک کوشش یہ بھی کی کہ کسی طریقے سے ولی کی اجازت کو نکاح سے نکال باہر کیا جائے تاکہ بے حیائی آسانی سے اسلامی معاشرے میں سرایت کر جائے۔

آئیے نکاح میں ولی کی اجازت شرط ہونے کے بارے میں اسلامی تعلیمات اور اس کے خلاف دی جانے والی دلیلوں کا منصفانہ جائزہ لیتے ہیں۔

دلیل نمبر۱:

فرمان باری تعالی ہے:

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ

(البقرۃ:۲۳۲)

اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو، پھر وہ اپنی مقررہ عدت کو پہنچ جائیں تو ان کو اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔

یہ آیت کریمہ اس بات پر دلیل ہے کہ ولی کی اجازت  کے بغیر نکاح درست نہیں، اس آیت میں اولیاء کو خطاب ہے، اس سے عورت کے نکاح میں ان کا اختیار اور حق ثابت ہوتا ہے۔

مشہور سنی مفسر امام ابو جعفر ابن جریری طبری رحمہ اللہ (م۳۱۰ھ) اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:

اس آیت کریمہ میں واضح دلالت ہے کہ ان لوگوں کی بات صحیح ہے جو کہتے ہیں کہ عصبہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، کیونکہ اگر عورت نکاح کرنا چاہے تو اس کو روکنے سے اللہ تعالی نے ولی کو منع فرما دیاہے، اگر عورت بغیر ولی کے خود اپنا نکاح کرسکتی ہوتی یا جسے چاہے اپنا ولی بنا سکتی ہوتی تو اس کے ولی کو نکاح کے سلسلے میں اسے روکنے کی ممانعت کا معنیٰ مفہوم نہیں، کیونکہ اس صورت میں ولی کے پاس عورت کو روکنے کا کوئی راستہ ہی نہیں، اس لیے کہ وہ جب چاہتی خود اپنا نکاح کر لیتی یا اپنا ولی بناتی وہ اس کا نکاح کر دیتا (ٓاصلی ولی کو منع کرنے کا کوئی مطلب ہی نہ ہوتا)۔

(تفسیر طبری: ۴۸۸/۲)

حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (م۷۷۴ھ) لکھتے ہیں:

 وفیھما ولالۃ علی أنّ المرأۃ لا تملک أن تزوّج نفسھا، وأناہ لا بدّ فی لنّکاح من ولی، کما قال التّرمذی و ابن جریر عند ھذہ الآیۃ۔

“ اس آیت میں دلیل ہے کہ عورت خود اپنا نکاح نہیں کر سکتی، بلکہ نکاح کےلیے ولی کا ہونا ضروری ہے، یہی بات امام ترمذی اور امام ابن جریر رحمہا اللہ  نے اس آیت کی تفسیر میں کہی ہے۔”

(تفسیر ابن کثیر ۵۶۵-۵۶۴/۱، بحقیق عبد الرزاق المھدی)

اس آیت کریمہ کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے، سیدنا معقل بن یساررضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

کانت لی أخت الیّ، فأتانی ابن عمّ لی، فأنکحتھا ایاّہ، ثم طلقھا طلاقالہ رجعۃ، ثم ترکھا حتی انقضت عدّتھا، فلمّا خطبت الیّ، أتانی یخطب، فقلت، لا واللہ! لا أنکحھا أبدا، قال: ففی نزلت ھذہ الآیۃ: (وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ) الآیۃ، قال: فکفّرت عن یمینی، فأنکحتھا ایّاہ۔

“ میری طرف میری ایک بہن سے نکاح کے لیے پیغام آئے، میرا ایک چچا زاد بھی آیا، میں نے اس سے اپنی بہن کا نکاح کر دیا، پھر اس نے اسے رجعی طلاق دے دی، پھر اس کو چھوڑ دیا حتی کہ اس کی عدت پوری ہوگئی، جب میری طرف (دوسرے لوگوں کی طرف سے) نکاح کے پیغام آنے لگے تو وہ بھی نکاح کا پیغام لے کر آگیا، میں نے کہا، نہیں، اللہ کی قسم! میں کبھی اپنی بہن کا نکاح تجھ سے نہیں کرے گا، میرے بارے میں ہی یہ آیت نازل ہوئی

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ

(البقرۃ:۲۳۲)

پھر میں نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور اسی سے اپنی بہن کا نکاح کر دیا۔

( صحیح بخاری: ۷۷/۱، ح: ۵۱۳۰، سنن ابی داؤد: ۳۰۸۷، واللفظ لہ، سنن الترمذی: ۲۹۸۱)

امام ترمذی رحمہ اللہ (۲۷۹-۲۰۰ھ) اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:

و فی ھذا الحدیث دلالۃ علی أنہ لا تجوز النّکاح بغیر ولی، لأنّ أخت معقل بن یسار کانت ثیّبا، فلو کان الأمر الیھا لزوّجت نفسھا ولم تحتج الی ولیّھا معقل بن یسار، و انّما خاطب اللہ فی ھذہ الآیۃ الأولیاء: فقال:(وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاۗءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ) ففی ھذہ الآیۃ دلالۃ علی أنّ الأمر الی الأولیاء فی التّزویج مع رضاھن۔

اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ بغیر ولی کے نکاح جائز نہیں، کیونکہ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن ثیبہ (طلاق یافتہ) تھی، اگر معاملہ نکاح اسی کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ خود اپنا نکاح کر لیتی اور اپنے ولی سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی محتاج نہ ہوتی، اللہ تعالی نے اس آیت میں ولیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے:

(فَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ)

(ان کو اپنے سابقہ خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو)

 لہذا اس آیت سے معلوم ہوا کہ معاملہ نکاح ولیوں کے ہاتھ میں ہے، ہاں عورتوں کی رضامندی ضروری ہے۔

(سنن ترمذی، تحت حدیث: ۲۹۸۱)

علامہ شوکانی رحمہ اللہ (۱۲۵۰-۱۱۷۳ھ) اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں:

یہ حدیث دلیل ہے کہ نکاح میں ولی کا ہونا شرط ہے،  اگر یہ شرط نہ ہوتی تو مرد کی عورت میں اور عورت کی مرد میں دلچسپی کافی ہو جاتی، اس حدیث کے ذریعے اس قیاس کا بھی رد ہو جاتاہے جس قیاس کے ذریعے امام ابوحنیفہ نے ولی کی اجازت کی شرط کے نہ ہونے پر حجت لی ہے، انہوں نے نکاح کو بیع (خرید و فروخت) پر قیاس کیاہے، اس طرح کہ اس معاملے میں عورت خود مختار ہے، ولی کی ضرورت نہیں اور یہی معاملہ نکاح کا ہے، انہوں نے ولی کی اجازت نکاح کے لیے شرط ہونے پر دلالت کرنے والی احادیث کو چھوٹی بچی پر محمول کیا ہے اور اس قیاس کے ذریعے ان احادیث کے عموم کو خاص کیا ہے، لیکن یہ قیاس فاسد ہے، سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کے مقابلے میں اس کا کوئی اعتبار نہیں۔

(نیل الاوطار:۱۹۷/۴)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (۸۵۲-۷۷۳ھ) لکھتے ہیں:

 نکاح میں ولی کی اجازت کی شرط ہونے میں علماء نے اختلاف کیاہے، جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ولی کی اجازت نکاح کےلیے شرط ہے، ان کا کہنا ہے کہ عورت قطعاً اپنا نکاح خود نہیں کر سکتی، انہوں نے مذکورہ احادیث کو دلیل بنایا ہے، ان میں سے قوی ترین دلیل وہ سبب نزول ہے جو اس آیت کریمہ کے بارے میں مذکور ہے اور یہ ولی کی اجازت شرط ہونے پر صریح ترین دلیل ہے، ورنہ ان (سیدنا معقل رضی اللہ عنہ) کے روکنے کےکوئی معنی نہیں، نیز یہ کہ اگر وہ عورت خود نکاح کرسکتی ہوتی تو اپنے بھائی کی محتاج نہ ہوتی اور جو اپنے معاملے میں خود مختار ہو، اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کسی نےا س کام سے روک دیا ہے، امام ابن المنذر رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ اس بارے میں کسی صحابی کا اختلاف ان کے علم میں نہیں۔

دلیل نمبر ۲:

فرمان باری تعالی ہے:

 (فَانْكِحُوْھُنَّ بِاِذْنِ اَھْلِهِنَّ وَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ)

 (النساء:۲۵)

 تم ان کے گھر والوں کی اجازت کے ساتھ ان سے نکاح کرو اور ان کو معروف  طریقے سے ان کے حق مہر ادا کرو۔

امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

(بِاِذْنِ اَھْلِهِنَّ) باذن أربابھن و أمرھم ایّاکم بالنکاح و رضا ھم

“ یعنی ان عورتوں کے سر پرستوں کی اجازت، نکاح کے بارے میں ان کے حکم اور رضا مندی سے (نکاح کرو)۔

(تفسیر ابن جریر:۱۹/۴)

دلیل نمبر ۳:

اللہ تعالی کا فرمان ہے:

( وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّٰى يُؤْمِنُوْا)

 (البقرۃ: ۲۲۱)

 اور تم (اپنی عورتوں کا) مشرکین سے نکاح نہ کرو حتٰی کہ وہ ایمان لے آئیں۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے اس آیت کریمہ سے استدلال کیا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح صحیح نہیں، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

ووجہ الاحتجاج من الآیۃ والتی بعدھا أنہ تعالی خاطب بالنکاح الرّجال ولم یخاطب بہ النّساء، فکأنّہ قال: لا تنکحوا أیّھا الأولیاء مولیاتکم للمشرکین۔

اس آیت اور بعد والی آیت سے وجہ استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالی نے نکاح کے بارے میں مردوں کو مخاطب کیاہے، عورتوں کو نہیں، گویا کہ یوں فرمایا ہے کہ اے ولیو! تم اپنی زیر ولایت عورتوں کا مشرکین سے نکاح نہ کرو۔

(فتح الباری:۱۸۴/۹)

 

دلیل نمبر۴:

فرمان الہی ہے:

 (وَاَنْكِحُوا الْاَيَامٰى مِنْكُمْ)

 (النور:۳۲)

اور اپنے میں سے بے نکاح مردوں کا نکاح کرو۔

اس آیت کریمہ سے بھی امام بخاری نے ثابت کیا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح صحیح نہیں۔

قرآنی دلائل کے بعد حدیثی دلائل ملاحظہ ہوں:

دلیل نمبر ۱:

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا دورِ جاہلیت میں نکاح کی چار صورتیں بیان کرتی ہوئی فرماتی ہیں:

انّ النّکاح فی الجاھلیۃ کان علی ۷۱ربعۃ أنحاء، فنکاح منھا نکاح النّاس الیوم، یخطب الرّجل الی الرّجل ولیتہ أوابنتہ، فیصدقھا، ثم ینکحھا۔۔۔۔۔ فلمّا بعث محمّد صلّی اللہ علیہ وسلّم بالحق ھدم نکاح الجاھلیّۃ کلّہ الّا نکاح النّاس الیوم۔

دور جاہلیت میں نکاح کے چار طریقے تھے، ان میں سے ایک تو وہی ہے جو آج لوگ اختیار کرتے ہیں، یعنی ایک آدمی دوسرے آدمی کی طرف اس کی زیر ولایت عورت یا بیٹی کے بارے میں پیغام نکاح بھیجتا، پھر اس عورت کو حق مہر دے کر اس سے نکاح کر لیتا۔۔۔۔ جب محمد صلّی اللہ علیہ و سلم حق دے کر مبعوث فرمائے گئے تو آپ نے جاہلیت کے سارے نکاح ختم کر دئیے سوائے اس نکاح کے جو لوگ آج کرتے ہیں۔

(صحیح بخاری: ۷۶۸/۲، ح: ۵۱۲۷)

امام بخاری رحمہ اللہ نےا س حدیث میں موجود الّا نکاح النّاس الیوم کے الفاظ سے ثابت کیاہے کہ ولی کی اجازت نکاح میں ضروری ہے، کیونکہ جس نکاح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برقرار رکھا ہے، اس کا انداز سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہی بیان کیا ہے کہ ولی خود عورت کا نکاح کرے۔

 

دلیل نمبر ۲:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ یہ فرمان باری تعالی:

(وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ فِيْ يَتٰمَي النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا كُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْھُنَّ)

(النساء:۱۲۷)

اور وہ (بھی فتوی دیتا ہے تم کو) ان کی بابت جو پڑھا جاتا ہے تم پر کتاب میں یتیم لڑکیوں کے بارے میں جنہیں تم ان کے مقرر کردہ حق مہر ادا نہیں کرتے اور تم ان سے نکاح کرنے کی رغبت نہیں رکھتے۔

ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوا جو کسی ایسے آدمی کے پاس ہو جس کے مال میں وہ شریک ہو، وہ آدمی اس لڑکی سے نکاح کا زیادہ مستحق ہے، لیکن وہ اس سے نکاح کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا اور اسے دوسروں سے نکاح کرنے سے بھی روکتا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں کوئی اس کے مال میں شریک نہ ہو جائے۔

(صحیح بخاری: ۷۷۰/۱، ح:۵۱۲۸)

 

دلیل نمبر ۳:

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

انّ عمر حین تأیمت حفصۃ بنت عمر من ابن حذافۃ السّھمی و کان من أصحاب النّبی صلی اللہ علیہ و سلّم من أھل بدر توفّی بالمدینۃ، فقال عمر: لقیت عثمان بن عفّان، فعرضت علیہ، فقلت: ان شئت أنکحتک حفصۃ، فقال: سأنظر فی أمری، فلبثت لیالی، ثم لقینی، فقال: بدالی أن لا أتزوّج یومی ھذا، قال عمر: فلقیت أبا بکر، فقلت: ان شئت أنکحتک حفصۃ۔

جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے خاوند سیدنا ابن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ جو کہ بدری صحابی تھے، مدینہ میں فوت ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان کو پیشکش کی، میں نے کہا، اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کردوں، انہوں نے فرمایا، میں اپنے میں غور و فکر کروں گا (پھر بتاؤں گا)، میں کچھ راتیں ٹھہر گیا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ مجھے ملے اور فرمایا، میری سمجھ میں یہ بات آئی ہے کہ میں اس وقت شادی نہ کروں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور کہا، اگر آپ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کردوں (آخر ان کا نکاح نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے ہوگیا اور انہیں ام المومنین بننے کا شرف حاصل ہو گیا)۔

(صحیح بخاری ۷۷۰/۱، ح:۵۱۲۹)

ان دونوں حدیثوں سے امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح جائز نہیں ہے، کیونکہ پہلی حدیث میں نکاح سے روکنے کی نسبت ولی کی طرف کی گئی ہے اور اس بات کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، اگر اسلام میں ولی کے پاس عورت کو نکاح سے روکنے کی اتھارٹی ہے ہی نہیں تو اس آیت کے نزول کا کوئی مقصد نہ ہوا، حالانکہ ایسا قطعا نہیں۔

دوسری حدیث میں بھی واضح ہے کہ باوجود بیوہ ہونے کے سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کے نکاح کا انتظام ان کے ولی یعنی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا ہے، نیز

 ان شئت أنکحتک حفصۃ

 (اگر آپ چاہیں تو میں آپ سے حفصہ کا نکاح کردوں)

 کے الفاظ عورت کے نکاح میں ولی کی اجازت کے ضروری ہونے پر صریح دلیل ہیں، کیونکہ اگر ولی کو کوئی اختیار نہ تو اس کی طرف نکاح کی نسبت کرنا لغت و عقل دونوں کے خلاف ہے۔

دلیل نمبر۴:

سیدنا ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 لا نکاح الا بولّی۔

ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں۔

(المستدرک للحاکم: ۱۷۳ح، ۲۷۱۷، وسندہٗ حسن والحدیث صحیح)

اس حدیث کو امام ابن الجارود(۷۰۲)، امام ابن حبان(۴۰۸۳)، امام علی بن المدینی (المستدرک للحاکم:۱۷۰/۲، السنن الکبری للبیہقی:۱۰۸/۷)، امام ذہلی (المستدرک للحاکم:۱۷۰/۲)اور امام حاکم رحہم اللہ نے صحیح کہا ہے۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

 ھذا حدیث حسن صحیح

( تخریج احادیث المختصر: ۳۷۲-۳۷۱/۲)

یہ حدیث اس بات پر نص ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔

امیر صنعانی فرماتے ہیں:

والحدیث دلّ علی أنّہ لا یصحّ النّکاح الّا بولّی، لأنّ الأصل فی النّفی نفی الصّحّۃ لا الکمال۔

“ یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح صحیح نہیں، کیونکہ نفی میں اصل صحت کی نفی ہوتی ہے نہ کہ کمال کی نفی۔”

(سبل السلام:۱۱۷/۳)

 

دلیل نمبر ۵:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ایّما امرأۃ نکحت بغیر اذن و لیّھا فنکا حھا باطل، فنکاحھا باطل، فنکاحھا باطل، فان دخل بھا فلھا المھر بما استحلّ من فرجھا، فان اشتجروا فالسّلطان ولّی من لّا ولیّ لہ۔

“ جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باکل ہے، اگر مرد اس کے ساتھ دخول کرلیتاہے تو اس عورت کو مرد کی طرف سے شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض حق مہر ملے گا اور اگر (باپ نہ ہو اور) ان (دوسرے ولیوں) میں اختلاف ہو جائے تو حاکم وقت اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہیں ہے۔”

(مسند احمد:۴۹۹، مسند الامام احمد:۱۶۶-۱۶۵، مسند الحمیدی: ۲۲۸، مسند الطیالسی (منحۃ: ۳۰۵/۱)، سنن ابی داؤد: ۲۰۸۳، سنن ابی ماجہ: ۱۸۷۹، سنن ترمذی:۱۱۰۲، السنن الکبریٰ للنسائی: ۵۳۹۴، مسند ابی یعلی: ۲۰۸۳، سنن الدارقطنی: ۲۲۱/۳، السنن الکبری للبیھقی: ۱۰۵/۷، وسندہ حسن)

اس حدیث کو امام ترمذی اور حافظ ابن عساکر(معجم الشیوخ:۲۳۴) رحمہما اللہ نے “حسن”، جبکہ امام ابن الجارود(۷۰۰)، امام ابو عوانہ (۴۲۵۹)، امام  ابن خزیمہ (فتح الباری: ۱۹۱/۹)، امام ابن حبان (۴۰۷۵،۴۰۷۴)، حافظ بیہقی (السنن الکبریٰ: ۱۰۷/۷)، حافظ ابن الجوزی (التحقیق: ۲۵۵/۲) اور امام حاکم رحمہم اللہ نے “صحیح”کہا ہے۔

امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

 لیس یصح فی ھذا شیء الّا حدیث سلیمان بن موسیٰ۔

اس (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث) میں صرف سلیمان بن موسی کی حدیث صحیح ہے۔

(التاریخ لابن معین بروایۃ الدوری:۲۳۶/۲، الکامل لابن عدی: ۱۱۱۵/۳، السنن الکبری للبیھقی: ۱۰۷/۷)

حافظ ابو موسیٰ المدینی کہتے ہیں:

ھذا حدیث ثابت مشھور یحتجّ بہ۔

یہ ثابت شدہ اور مشہور قابل حجت حدیث ہے۔

(اللطائف:۶۰۶،۵۸۶،۵۵۶)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کو حسن  کہا ہے۔

(تخریج احادیث المختصر: ۲۰۵/۲)

حافظ بیہقی رحمہ اللہ اس حدیث کے راویوں کے بارے میں لکھتے ہیں:

و کلّھم ثقہ حافظ۔ 

 یہ سب ثقہ حافظ ہیں

(معرفۃ السنن والآثار:۲۹/۱)

امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتےہیں:

و ھذا حدیث جلیل فی ھذا الباب ((لا نکاح الّا بولیّ))، و علی ھذا الاعتماد فی ابطال نکاح بغیر ولیّ۔

ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا، اس بارے میں یہ حدیث عظیم الشان ہے اوربغیر ولی کے نکاح کو باطل قرار دینے پر اسی پر اعتماد کیا جاتاہے۔

(الکامل لابن عدی: ۱۱۱۵/۳، و فی نسخۃ :۲۶۶/۳)

امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس حدیث پرباب قائم کیاہے:

ذکر بطلان النّکاح الّذی نکح بغیر ولی۔

ولی کے بغیر کیے گئے نکاح کے باطل ہونے کا بیان۔

(صحیح ابن حبان: ۳۸۴/۹)

 

دلیل نمبر ۶:

خلیفہ راشد سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

أیما امرأۃ نکحت بغیر اذن ولیّھا فنکاحھا باطل، لا نکاح الّا باذن ولّی۔

جو عورت بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے، اس کانکاح باطل ہے، ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں۔

(السنن الکبری للبیھقی: ۱۱۱/۷، وسندہٗ صحیح)

امام بیھقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ھذا اسناد صحیح۔

یہ سند صحیح ہے۔

 

دلیل نمبر ۷:

ام المومنین سیدہ زنیب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہے:

فکانت زینب تفخر علی أزواج النّبی صلّی اللہ علیہ و سلم تقول: زوّجکن أھالیکنّ و زوّجنی اللہ تعالیٰ من فوق سبع سموت۔

سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات پر فخر کرتے ہوئے کہتی تھیں کہ تم سب کا نکاح تمہارے گھروالوں نے کیا ہے، جبکہ میرا نکاح اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کے اوپر سے کیا ہے۔

(صحیح بخاری: ۱۱۰۶/۲، ح: ۶۴۲۰)

دلیل نمبر ۸:

سیدنا موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

اذا أراد الرّجل أن یزوّج ابنتہ فلیستأدنھا۔

جب کوئی آدمی اپنی بیٹی کی شادی کرنے لگے تو اس سے اجازت طلب کرے۔

(مسند ابی یعلیٰ: ۷۲۲۹، وسندہٗ صحیح)

حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

رواہ أبو یعلیٰ و الطّبرانی و رجالہ رجال الصحیح۔

اس کو امام ابو یعلی اور امام طبرانی نے بیان کیا ہے اور اس کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں۔

(مجمع الزوائد: ۲۷۹/۴)

اس حدیث میں آدمی کو اپنی بیٹی کا نکاح کرتے وقت اس سے اجازت لینے کا حکم دیا گیا ہے، واضح ہے کہ نکاح کا اختیار والی کے پاس ہے، ورنہ اگر عورت اس معاملے میں خود مختار ہوتی تو ولی کیسے اس کا نکاح کر سکتا تھا اور کیوں اس سے اجازت طلب کرتا پھرتا، پھر تو عورت اپنے گھر والوں کو بتاتی کہ میں نے فلاں مرد سے نکاح کرنا ہے، جبکہ حدیث میں ولی کو حکم ہے کہ وہ لڑکی کو اعتماد میں لے۔

دلیل نمبر ۹:

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

الثّیّب أحقّ بنفسھا من ولیّھا، والبکر نستأمر، واذنھا سکوتھا۔

شوہر دیدہ عورت اپنے (نکاح کے) بارے میں اپنے ولی سے بڑھ کر حق رکھتی ہے اور کنواری لڑکی سے اجازت طلب کی جائے گی، اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے۔

(صحیح مسلم: ۴۵۵/۱، ح: ۱۴۳۱)

ایک روایت میں ہے:

لیس للولیّ مع لثّبّت أمر، والیتیمۃ تستأمر، وصمتھا اقرارھا۔

ولی کو شوہر کے ساتھ کوئی کام نہیں، کنواری لڑکی سے مشورہ لیا جائے گا، اس کی خاموشی ہی اقرار ہے۔

امام ابن حبان اس حدیث کے مفہوم کو یوں بیان کرتےہیں:

(( الأیّم أحقّ بنفسھا)) أرادبہ أحقّ بنفسھا من ولیّھا بأن تختار من الأزواج من شاءت، فتقول: أرضی فلانا، ولا أرضی فلانا، لا أنّ عقد النّکاح الیھن دون الأولیاء۔

“ شوہر دیدہ عورت اپنے نفس کی زیادہ حق دار ہے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی مراد یہ ہے کہ وہ خاوندوں میں سے جس کو چاہے پسند کرے، وہ کہے کہ میں فلاں کو پسند کرتی ہوں اور فلاں کو پسند نہیں کرتی، یہ مراد نہیں کہ عقد نکاح اولیاء کے بجائے اس کے ہاتھ میں ہے۔

(صحیح ابن حبان، تحت حدیث: ۴۰۸۷)

نیز لیس للولیّ مع الثّیب أمر کا مطلب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

قولہ صلیّ اللہ علیہ و سلّم (( لیس للولیّ مع الثّیب أمر)) یبّین لک صحّۃ ما ذھبنا الیہ أنّ الرّضا و الاختیار الی النّساء والعقد الی الأولیاء، لنفیہ صلیّ اللہ علیہ و سلّم عن الولیّ انفراد الاٌمر دونھا اذا کانت ثّیبا، لأنّ لھا الخیار فی بضعھا و الرّضا بما یعقد علیھا۔ و قولہ صلّی اللہ علیہ و سلّم: (( الیتیمۃ تستأمر)) أراد بہ تسترضیٰ فیمن عزم لہ علی العقد علیھا، فان صمتت فھو اقرارھا، ثم یتربّص بالعقد الی البلوغ، لأنّھا و ان صمتت و أذنت لیس لھا أمر و الا اذن، اذ الأمر و الاذن لا یکون الا للبالغۃ۔

آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان  ہے کہ شوہر دیدہ کے ساتھ ولی کو کوئی کام نہیں، ہمارے اس مذہب کی صحت کو روز روشن کی طرح عیاں کرتا ہے کہ مرد کے بارے میں رضا و اختیار تو عورتوں کا حق ہے اور نکاح کرنا اولیاء کا حق ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے عورت کے شوہر دیدہ ہونے کی صورت میں ولی کو عورت سے پوچھے بغیر اپنی مرضی سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ عورت کی اپنی عصمت میں اختیار اور مرد میں رضا مندی ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ کنواری لڑکی سے مشورہ کیا جائے، اس سے مراد یہ ہے کہ جس مرد سے اس کا نکاح کرنے کا ارادہ ہو، اس کے بارے میں اس کی رضامندی طلب کی جائے، اگر وہ خاموش ہو جائے تو یہ اس  کا اقرار ہے، پھر وہ اس لڑکی کے بالغ ہونے تک عقد کا انتظار کرے، کیونکہ اگرچہ اس نے خاموش ہو کر اجازت دے دی ہے، مگر اس نابالغ کے لیے یہ امر ہے نہ اجازت، کیونکہ مشورہ اور اجازت صرف بالغہ کے لیے ہے۔

امام ترمذی رحمہ اللہ اس حدیث کے تحت لکھتےہیں:

و قداحتجّ النّاس فی اجازۃ النّکاح بغیر ولیّ بھذا الحدیث، ولیس فی ھذا الحدیث ما احتجّوا بہ، لأنّہ قدروی من غیر وجہ عن ابن عباس عن النّبی صلیّ اللہ علیہ وسلّم قال: لا نکاح الّا بولّی(سنن ابن ماجہ :۱۸۸۰، وسندہٗ حسن والحدیث صحیح) وھکذا أفتی بہ ابن عباس بعد النّبی صلّی اللہ علیہ و سلّم فقال: لا نکاح الّا بولّی (سنن سعید بن منصور: ۵۵۳، مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱۲۸/۲/۴، وسندہٗ ضعیف)، و انّما معنٰی قول النّبی صلّی اللہ علیہ و سلّم (( الأیّم أحق بنفسھا من ولیّھا)) عند أکثر أھل العلم أنّ الولیّ لا یزوّجھا الّا برضاھا و أمرھا، جان زوّجھا فالنّکاح مفسوخ علیٰ حدیث خنساء بنت خدام (صحیح بخاری: ۷۷۱/۱، ح: ۵۱۳۸، سنن ترمذی: ۱۱۰۸)حیث زوّجھا أبوھا و ھی ثّیب، فکرھت ذالک، فردّ النّبی صلّی اللہ علیہ و سلّم نکاحہ۔

اس حدیث سے بعض لوگوں نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کے جواز کی دلیل لی ہے، حالانکہ اس حدیث میں ان کی دلیل موجود نہیں، کیونکہ یہ حدیث کئی سندوں کے ساتھ سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں (سنن ابن ماجہ :۱۸۸۰، وسندہٗ حسن والحدیث صحیح) ، اسی طرح سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی اس طرح فتویٰ دیا ہے (سنن سعید بن منصور: ۵۵۳، مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱۲۸/۲/۴، وسندہٗ ضعیف)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہ شوہردیدہ اپنے ولی سے بڑھ کر اپنے نفس کی حق دار ہوتی ہے، اکثر علمائے کرام کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ اس کا نکاح اس کی رضا مندی اور مشورے کے بغیر نہیں کر سکتا، اگر ولی نے اس کا نکاح بغیر اس کی مرضی کے کر دیا تو وہ نکاح فسخ کر دیا جائے گا، جیسا کہ خنساء بنت خدام کی حدیث (صحیح بخاری: ۷۷۱/۱، ح: ۵۱۳۸، سنن ترمذی: ۱۱۰۸) ہے کہ ان کے باپ نے ان کا  نکاح کر دیا، وہ شوہردیدہ تھیں، انہوں نے اس نکاح کو پسند نہ کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے ولی کا کیا ہوا نکاح رد کر دیا۔” (سنن ترمذی، تحت حدیث: ۱۱۰۸)

علامہ سندھی حنفی لکھتےہیں:

(( الأیّم أحق)) ھو یقتضی المشارکۃ، فیفید أنّ لھا حقّا فی نکاحھا و لو لیّھا حقّا، و حقّھا أوکد من حقّہ، فانّھا لا تجبر لأجل الولیّ، و ھو یجبر لأجلھا، فان أبی زوّجھا لقاضی، فلاینا فی ھذا الحدیث حدیث: لا نکاح الّا بولّی۔

شوہر دیدہ زیادہ حق رکھتی ہے، یہ فرمان نبوی مشارکت کا تقاضا کرتاہے، یہ اس بات کا فائدہ دیتاہے کہ نکاح میں عورت کا بھی حق ہے اور اس کے ولی کا بھی حق ہے اور اس کا حق زیادہ تاکید والا ہے، پس (شوہر دیدہ) کو ولی کی وجہ سے مجبور نہیں کیا جائے گا، جبکہ اس کے ولی کو اس شوہردیدہ کی وجہ سے مجبور کیا جائے گا، چنانچہ اگر وہ (ولی) انکار کر دے تو قاضی اس کا ولی بن کر نکاح کردے گا، پس یہ حدیث لا نکاح الّا بولی کے خلاف نہیں ہے۔

(حاشیۃ المسندی علی النسائی: ۸۴/۶)

یہی بات حافظ نووی رحمہ اللہ نے کہی ہے۔

(شرح صحیح مسلم: ۴۵۵/۱)

فائدہ:

الأیّم کا لفظ اگرچہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے عام  ہے، لیکن یہاں اس سے مراد شوہردیدہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ البکر کا عطف الأیّم پرہے، معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان مغایرت ہوتی ہے، اس کی تائید صحیح مسلم ( ۴۹۵/۱، ح: ۱۴۲۱) کے ان الفاظ سے بھی ہوتی ہے:

الثّیّب أحق بنفسھا من ولیّھا۔

شوہردیدہ عورت اپنے نفس کی اپنے ولی سے بڑھ کر حق دار ہے۔

حافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

قال العلماء الأیّم ھنا الثّیّب۔

علمائے کرام کا کہنا ہے کہ یہاں الأیّم  سے مراد شوہردیدہ عورت ہے۔

( شرح مسلم للنووی: ۴۵۵/۱)

امام سعید بن مسیّب اور امام حسن بصری ایسی عورت جس نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیا ہو، اس کے بارے میں فرماتے ہیں: یفرّق بینھما۔ “ ان دونوں کے درمیان جدائی واقع کی جائے گی۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱۳۱/۴، ح:۱۶۱۷۶، وسندہٗ صحیح)

امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وبھذا یقول سفیان الثّوری و الأوزاعیّ و مالک و عبداللہ ابن المبارک و الشّافعّی و أحمد و اسحاق۔

امام سفیان بن سعید ثوری، امام اوزاعی، امام مالک، امام عبداللہ بن مبارک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ کہتےہیں کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔

(سنن ترمذی، تحت حدیث: ۱۱۰۷)

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نکاح میں ولی کی اجازت شرط ہونے کے متعلق لکھتے ہیں:

فانّۃ دلّ علیہ القرآن فی غیر موضع و السّنّۃ فی موضع، وھو عادۃ الصحابۃ، انّما کان یزوّج النّساء الرّجال، لا یعرف أنّ امرائۃ تزوّج نفسھا، و ھذا ممّا یفّرق فیہ بین النّکاح و متّخذات أخدان۔

اس کی دلیل قرآن و سنت میں بارہا مقامات پر موجود ہے، یہی صحابہ کی عادت تھی، مردہی عورتوں کا نکاح کرتے تھے، یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ (اس دور میں) کسی عورت نے اپنا نکاح خود کر لیا ہو، اسی بات سے نکاح اور ناجائز آشنائی والیوں میں فرق ہوتا ہے۔

(مجموع الفتاویٰ: ۱۳۱/۳۲)

ابن قدامہ المقدسی لکھتے ہیں:

 انّ النّکاح لا یصحّ الّا بولیّ و لا تملک المرأۃ تزویج نفسھا و لا توکیل غیر و لیّھا فی تزویجھا، فان فعلت لم یصحّ النّکاح۔

ولی کے بغیر نکاح جائز نہیں، نہ ہی عورت اپنایا کسی اور عورت کا نکاح کر سکتی ہے، نہ اپنے ولی کے علاوہ کسی اور کو اپنے نکاح کی ذمہ داری دے سکتی ہے، اگر ایساکرے گی تو نکاح درست نہ ہو گا۔

(المغنی: ۱۴۹/۶)

شاہ ولی اللہ الدہلوی الحنفی نکاح میں ولی کی اجازت شرط ہونے کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

نکاح میں ولی کی جو شرط لگائی گئی ہے، اس میں ولیوں کی شان کو بلند کرتا ہےاور عورتوں کا نکاح کے ساتھ منفرد ہونا یہ ان کی رسوائی ہے، جس کا باعث قلت حیاء، مردوں پر برجستہ ہونا اور ان کی پروانہ کرنا ہے اور یہ بات بھی ہے کہ نکاح کو بدکاری سے تشہیر کے ساتھ جدا کیا جائے اور اس تشہیر میں سب سے زیادہ حق دار چیز ولیوں کا حاضر ہوناہے۔

(حجۃ اللہ البالغۃ: ۱۲۷/۲)

اعتراض:

انّ عائشۃ روج النّبی صلّی اللہ علیہ و سلّم روّجت حفصۃ بنت عبدالرّحمن ، المنذر بن الزّبیر، وعبدالرّحمن غائب بالشّام، فلمّا قدم عبدالرّحمن قال: ومثلی یصنع ھذا بہ؟ و مثلی یفتات علیہ؟ فکلّمت عائشۃ المنذربن الزّبیر، فقال المنذر: فان ذالک بعد عبدالرّحمن، فقال عبدالرّحمن:ما کنت لأردّ أمراقضیتنۃ، فقرّت ح حفصۃ عند المنذر، ولم یکن ذالک طلاقا۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حفصہ بنت عبدالرحمن کا نکاح زیبر سے کردیا، جبکہ عبدالرحمن شام کے سفر پرتھے، جب وہ آئے تو کہنے لگے، کیا میرے جیسے شخص کے ساتھ یہ معاملہ کیا جاتاہے؟ کیا میرے جیسے شخص کے مشورے کے بغیر کام کیاگیاہے؟ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے منذر سے بات کی، منذر نے کہا، یہ کام عبدالرحمن کے بعد ہوا تھا، عبدالرحمن نے کہا، میں اس معاملے کو رد نہیں کر سکتا جس کو آپ نے طے کر دیا ہے، لہذا حفصہ منذر کے ہاں ہی رہیں اور یہ طلاق نہ ہوئی۔

(موطا امام مالک: ۵۵۵/۲، السنن الکبریٰ للبیھقی: ۱۱۳-۱۱۲/۷)

جواب:

یہ معاملہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رائے سے طے پایا تھا، اس لیے نکاح کی نسبت ان کی طرف کر دی گئی ہے، ولی کوئی اور ہو گا، کیونکہ ایک عورت دوسری عورت کی ولی نہیں بن سکتی، اس میں اشارہ تک نہیں ملتا کہ یہ نکاح ولی کےبغیر ہوا تھا، جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتےہیں:

وأجیب بأنّہ لم یرد فی الخبر التّصریح بأنّھا باشرت العقد، فقد یحتمل أن تکون البنت لمذکورۃ ثّیبا و دعت الی کف وأبوھا غائب، فانتقلت الولایۃ الی الولیّ الأبعد أوالی السّلطان۔

اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ حدیث میں یہ وضاحت موجود نہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود نکاح کیا تھا، احتمال ہے کہ مذکورہ لڑکی شوہر دیدہ ہو اور وہ ہم سررشتے کے سپرد کر دی گئی اس حال میں کہ اس کا باپ غائب تھا، چنانچہ ولایت دوروالے ولی یا حاکم وقت کی طرف منتقل ہو گئی۔

(فتح الباری: ۱۸۶/۹)

امام بیہقی رحمہااللہ اس روایت کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

انّما أرید بہ انّھا مھّدت تزویجھا، ثّم تولّٰی عقد النکاح غیرھا، فأضیف التّزویج الیھا، لأنّھا فی ذالک و تمھیدھا أسبابہ، واللہ أعلم!

اس سے مراد یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نکاح کا بندوبست کیا تھا، جبکہ نکاح کا ولی وہ نہیں بنی تھیں، مگر (اس بندوبست کی وجہ سے) نکاح کی نسبت ان کی طرف کر دی گئی، کیونکہ وہ اس نکاح کے بندوبست میں شریک تھیں اور نکاح کا بندوبست کرنا یہ اس نکاح کے اسباب میں سے ہے، ( لہذا سبب بننے والے کی طرف نسبت ہو گئی)۔

( السنن للبیھقی: ۱۱۳/۴)

ثابت ہوا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنی روایت کے خلاف کچھ نہیں کیا، والحمد للہ!

یاد رہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی نکاح کی نسبت عورت کی طرف کی گئی ہے، وہاں شوہر دیدہ عورت مراد ہے، نہ کہ کنواری، بعض الناس خوامخواہ قرآن و حدیث میں تعارض پیدا کرتے رہتے ہیں۔

عبدالرحمن بن أبی الزّناد عن أبیہ من الفقھاء الّذین ینتھی الی قولھم من تابعی أھل المدینۃ، کانوا یقولون: لا تعقد امرأۃ عقدۃ النّکاح فی نفسھا و لا فی غیرھا۔

عبد الرحمن بن ابی زناد اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ جن تابعین کے قول کو فیصلہ کن سمجھا جاتا تھا، وہ کہتے تھے کہ عورت نہ خود اپنا نکاح کرسکتی ہے، نہ کسی اور عورت کا۔

(السنن الکبری للبیھقی: ۱۱۳/۴، وسندہٗ حسن)

مشہور تابعی امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لا تنکح المرأۃ المرأۃ۔

کوئی عورت دوسری عورت کا نکاح نہیں کر سکتی۔

( مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱۳۳/۲/۴، وسندہٗ صحیح)

فائدہ: امام محمد بن سیرین تابعی رحمہ اللہ فرماتےتھے:

لا تنکح المرأۃ نفسھا، و کانوا یقولون: انّ الزّانیۃ ھی التی تنکح نفسھا۔

عورت اپنا نکاح خود نہیں کر سکتی، وہ (صحابہ و تابعین) کہا کرتے تھے کہ جو عورت خود اپنا نکاح کرتی ہے، وہ بلاشبہ زانیہ ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱۳۴/۲/۴، وسندہٗ صحیح)

اعتراض نمبر۲:

 سیدنا علی ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

انّہ أجاز نکاح امرأۃ بغیر ولیّ، أنکحتھا أؐمّھا برضاھا۔

آپ نے ایک عورت کا بغیر ولی کے نکاح جائز قرار دیا، اس کی ماں نے اس کی رضا مندی سے نکاح کیا تھا۔

( مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱۳۲/۲/۴)

تبصرہ:

اس کی سند سخت ترین “ضعیف” ہے، کیونکہ:

۱۔ اس میں ابو معاویہ الضریر “ مدلس” ہیں اور عن سے روایت کررہے ہیں۔

۲۔ اس میں ایک مبہم و مجہول راوی موجود ہے۔

۳۔ یہ قرآن و حدیث اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کےاپنے قول کے بھی خلاف ہے۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.