ولیمے کا وقت

 از    January 6, 2015

سوال: کیا شادی کے بعد میاں بیوی کے اکٹھے ہونے (شبِ زفاف گزارنے) سے پہلے ولیمہ کرنا ثابت ہے؟ [حافظ طارق مجاہد یزمانی]

الجواب: سیدنا انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے (اپنی ) ایک زوجہ کے ساتھ شبِ زفاف گزاری پھر مجھے بھیجا تو میں نے لوگوں کو (ولیمے کے) کھانے پر بلایا۔ (صحیح بخاری: ۵۱۷۰)امام بیہقی نے اس حدیث پر‘‘باب وقت الولیمۃ’’ کا باب باندھ کر یہ اشارہ کیا ہے کہ میاں بیوی کے اکٹھے ہونے اور شبِ زفاف گزارنے کے بعد ولیمہ کرنا چاہیئے۔ ایک دوسری حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی ﷺ نے اپنی زوجہ مبارکہ صفیہ ؓ کے ساتھ شبِ زفاف کی تین راتیں گزاریں اور سیدنا انس ؓ نے لوگوں کو ولیمے کے لئے بلایا۔(دیکھئے صحیح بخاری: ۵۱۵۹) لہٰذا مسنون یہی ہے کہ رخصتی اور شبِ زفاف گزارنے کے بعد (تین دنوں کے اندر اندر) ولیمہ کیا جائے۔ (۲۷دسمبر ۲۰۰۶ء)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.