وضو میں جرابوں پر مسح

 از    September 2, 2014

عن ثوبان قال: بعث رسول اللہ ﷺ سریۃً ۔۔۔ أمرھم أن یمسحوا علی العصائب و التساخین’’ثوبان (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجاہدین کی ایک جماعت بھیجی۔۔۔انہیں حکم دیا کہ پگڑیوں اور پاؤں کو گرم کرنے والی اشیاء (جرابوں اور موزوں) پر مسح کریں۔(سنن ابی داود :ج۱ص۲۱ح۱۴۶)

اس روایت کی سند صحیح ہے، اسے امام حاکم رحمہ اللہ  اور امام ذہبی رحمہ اللہ دونوں نے صحیح کہا ہے(المستدرک و التلخیص ج ۱ص۱۶۹ح۶۰۲) اس پر امام احمد رحمہ اللہ کی جرح کے جواب کے لئے نصب الرایہ(ج۱ص۱۶۵)وغیرہ دیکھیں۔
امام ابو داود فرماتے ہیں: کہ جرابوں پر درج ذیل صحابہ کرام ﷺ نے مسح کیا ہے۔
‘‘علی بن ابی طالب ، ابو مسعود، (ابن مسعود) ، براء بن عازب ، انس بن مالک، ابو امامہ اور سہل بن سعد وغیرہم رضی اللہ عنہم’’(سنن ابی داود ج ۱ص۲۴قبل ح۱۶۰(
امام ابو داؤد السجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
‘‘ومسح علی اجوربین علی بن أبی طالب و أبو مسعود و البراء بن عازب و أنس بن مالک و أبو أمامۃ و سھل بن سعد و عمر و بن حریث، وروی ذلک عن عمر بن الخطاب و ابن عباس’’
اور علی بن ابی طالب، ابو مسعود(ابن مسعود) اور براء بن عازب، انس بن مالک، ابو امامہ ، سہل بن سعد اور عمر و بن حریث نے جرابوں پر مسح کیا اور عمر بن خطاب اور ابن عباس سے بھی جرابوں پر مسح مروی ہے(رضی اللہ عنہم اجمعین)(سنن ابی داؤد: ۱؍۲۴ح۱۵۹)
صحابہ کرام کے یہ آثار مصنف ابن ابی شیبہ(۱؍۱۸۸ ، ۱۸۹) مصنف عبدالرزاق(۱؍۱۹۹ ، ۲۰۰) محلی ابن حزم(۲؍۸۴) الکنیٰ للدولابی(۱؍۱۸۱) وغیرہ میں باسند موجود ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اثر الاوسط لابن المنذر (ج ۱ص۴۶۲)میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔

 امام ابن قدامہ فرماتے ہیں:‘‘ولأ ن الصحابۃ رضی اللہ عنھم مسحو ا علی الجوارب ولم یظھر لھم مخالف فی عصرھم فکان اجماعاً’ اور چونکہ صحابہ نے جرابوں پر مسح کیا ہے اور ان کے زمانے میں ان کا کوئی مخالف ظاہر نہیں ہوا۔ لہذا اس پر اجماع ہے کہ جرابوں پر مسح کرنا صحیح ہے۔ (المغنی:۱ ؍۱۸۱مسئلہ ۴۲۶)

صحابہ کے اس اجماع کی تائید میں مرفوع روایات بھی موجود ہیں۔ مثلاً دیکھئے (المستدرک:ج۱ص۱۶۹ح۶۰۲) خفین پر مسح متواتر احادیث سے ثابت ہے۔ جرابین بھی خفین کی ایک قسم ہیں جیسا کہ انس ؓ ، ابراہیم نخعی اور نافع وغیرہم سے مروی ہے۔ جو لوگ جرابوں پر مسح کے منکر ہیں، ان کے پاس قرآن ، حدیث اور اجماع سے ایک بھی صریح دلیل نہیں ہے۔
۱: امام ابن المنذر النیسا بوری رحمہ اللہ نے فرمایا: ‘‘حدثنا محمد بن عبدالوھاب: ثنا جعفر بن عون: ثنا یزید بن مردانبۃ: ثنا الولید بن سریع عن عمرو بن حریث قال: رأیت علیاً بال ثم توضأ ومسح علی الجوربین’’
مفہوم: سیدنا علی ؓ نے پیشاب کیا پھر وضو کیا اور جرابوں پر مسح کیا۔ (الاوسط ج ۱ص ۴۶۲) اس کی سند صحیح ہے۔
۲: ابو امامہ ؓ نے جرابوں پر مسح کیا، دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ(۱؍۱۸۸ح ۱۹۷۹) و سندہ حسن
۳: براء بن عازب ؓ نے جرابوں پر مسح کیا، دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (۱؍۱۸۹ح ۱۹۸۴)وسندہ صحیح
۴:عقبہ بن عمر و ؓ نے جرابوں پر مسح کیا، دیکھئے ابن ابی شیبہ(۱؍۱۸۹ح۱۹۸۷) اور اس کی سند صحیح ہے۔
۵:سہل بن سعد ؓ نے جرابوں پر مسح کیا، دیکھئے ابن ابی شیبہ (۱؍۱۸۹ح ۱۹۹۰) و سندہ حسن
ابن منذر نے کہا کہ : امام اسحاق بن راہویہ نے فرمایا کہ: ‘‘صحابہ کا اس مسئلے پر کوئی اختلاف نہیں  ہے۔ (الاوسط لابن المنذر ۱؍۴۶۴ ، ۴۶۵)  تقریباً یہی بات ابن حزم نے کہی ہے(المحلی ۲؍۸۶، مسئلہ نمبر ۲۱۲) ابن قدامہ نے کہا: اس پر صحابہ کا اجماع ہے(المغنی ج ۱ص۱۸۱ ، مسئلہ۴۲۶)
معلوم ہوا کہ جرابوں پر مسح کے جائز ہونے کے بارے میں صحابہ کا اجماع ہے رضی اللہ عنہم اجمعین اور اجماع شرعی حجت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : ‘‘اللہ میری امت کو گمراہی پر کبھی جمع نہیں کرے گا’’ (المستدرک للحاکم:۱ ؍۱۱۶ح۳۹۷ ، ۳۹۸ نیز دیکھئے‘‘ابراء اھل الحدیث و القرآن مما فی الشواھد من التھمۃ و البھتان’’ ص۳۲، تصنیف حافظ عبداللہ محدث غازی پوری(متوفی ۱۳۳۷ھ) تلمیذ سید نذیر حسین محدث الدہلوی رحمہما اللہ تعالیٰ
مزید معلومات:
۱:ابراہیم الخنعی رحمہ اللہ جرابوں پر مسح کرتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبہ ۱؍۱۸۸ح۱۹۷۷) اس کی سند صحیح ہے۔
۲:سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے جرابوں پر مسح کیا۔(ایضاً۱؍۱۸۹ح ۱۹۸۹) اس کی سند صحیح ہے۔
۳:عطاء بن ابی رباح جرابوں پر مسح کے قائل تھے۔(المحلی۲؍۸۶)

معلوم ہوا کہ تابعین کا بھی جرابوں پر مسح کے جواز پر اجماع ہے۔ و الحمد للہ

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.