وسیلے کی ممنوع اقسام کےدلائل کا تحقیقی جائزہ (4)

 از    April 19, 2016

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

اس تحریر کا  دوسرا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

اس تحریر کا  تیسرا  حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

دلیل نمبر ۲۱

 

سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام جو دعائیں پڑھتے تھے، ان میں یہ الفاظ بھی شامل تھے : 
أسألك بنور وجهك الذي أشرقت له السموات والأرض، بكل حق ھو لك، وبحق السائلين عليك، أن تقبلني في ھذه الغداة، أوفي ھذه العشية، وأن تجيرني من النار بقدرتك. 
’’ (اے اللہ ! ) میں تجھ سے تیرے چہرے کے اس نور کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس سے زمین و آسمان روشن ہو گئے ہیں۔ تیرے ہر حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اور سوال کرنے والوں کا تجھ پر جو حق ہے، اس کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ تو اس صبح یا اس شام میری دعا قبول فرما لے اور اپنی قدرت سے مجھے آگ سے بچا لے۔ “ 
(المعجم الكبير للطبراني:264/8، كتاب الدعاء للطبراني: 941،940/2)


تبصره: اس کی سند باطل (جھوٹی ) ہے۔ 

 

اس کے راوی ابوالمہند فضال بن جبیر کے بارے میں حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : 
وھو ضعيف، جمع علي ضعفه. ’’یہ راوی باتفاق محدثین کرام ضعیف ہے۔ “ (مجمع الزوائد:117/10) 

 

امام ابن عدی رحمہ اللہ اس کی بیان کردہ روایات کے بارے میں فرماتے ہیں : 
ولفضان عن أبي أمامة قدر عشرة أحاديث، كلھا غير محفوظة. 
’’فضال، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے تقریباً دس احادیث روایت کرتا ہے، یہ ساری کی ساری منکر ہیں۔ “ 
(الكامل في ضعفاء الرجال:21/6) 

 

امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
يروي عن أبي أماماة ماليس من حديثه، لا يحل الا حتجاج به بحال. 
’’یہ راوی سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے منسوب کر کے ایسی روایات بیان کرتا ہے جو انہوں نے بیان نہیں کیں۔ کسی بھی صورت میں اس کی روایت سے دلیل لینا جائز نہیں۔ “ 
(المجروحين من المحدثين والضعفاء والمتروكين:304/2) 

 

نیز فرماتے ہیں کہ فضال کی سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے بیان کردہ روایت جھوٹی ہوتی ہے۔ (كتاب المجروحين:304/2) 

 

فضال کی بیان کردہ مذکورہ روایت بھی چونکہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے ہے، لہٰذا اس کے جھوٹی اور باطل ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہا۔ 

 

دوسری بات یہ ہے کہ اس روایت کے راوی ہشام بن ہشام کوفی کی توثیق بھی نہیں ملی۔

 

دلیل نمبر ۲۲

 

محمد بن سائب کلبی کہتا ہے : 
اجتمع الطِّرماح وهشام المرادي ومحمد بن عبدالله الحميري عند معاوية بن أبي سفيان، فأخرج بدرِة فوضعها بين يديه ثم قال : يا معشر شعراء العرب ! قولو اقولكم في علي بن أبي طالب، ولا تقولوا إلا الحق، وأنا نفيّ من صَخر بن حرب ان أعطيتُ هذه البدرة الا مَن قال الحَقّ في علي ! فقام الطّرماح، فتكلّم وقال في علي ووقع فيه، فقال معاوية : اجلس، فقد عرف الله نيَّتك ورآي مكانك ! ثم قام هشام المرادي، فقال أيضاً ووقع فيه، فقال معاوية : اجلس مع صاحبك، فقد عرف الله مكانكما ! فقال عمرو بن العاص لمحمد بن عبدالله الحميري، وكان خاصّاً به : تكلّم ولا تَقُل الا الحَقّ، ثم قال : يا معاوية ! قد آليَت، ألا تُعطي هذه البدرة إلا قائل الحَقّ في علي ؟ قال : نعم، أنا نفيّ من صَخر بن حَربِ ان أعطيتها مِنهم الا من قال الحَقّ في علي! فقام محمد بن عبدالله، فتكلم، ثم قال: بحق محمد، قوله بحق، فإن الإفك من شيم اللئام، أبعد محمد بأبي وأمي. 
”طرماح، ہشام مرادی اور محمد بن عبداللہ حمیری، معاویہ بن ابوسفیان کے پاس جمع ہوئے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہیرے جواہرات کی ایک تھیلی نکال کر ان کے سامنے رکھ دی، پھر کہا : اے شعراء عرب ! تم علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں حق پر مبنی اشعار کہو۔ میں اپنے باپ صخر بن حرب کا بیٹا نہیں اگر یہ تھیلی اسے نہ دوں جو تم میں سے علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حق بات کہے گا۔ طرماح کھڑا ہوا اور اشعار میں علی رضی اللہ عنہ کی توہین کی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بیٹھ جاؤ، اللہ تمہاری نیت اور حیثیت کو جانتا ہے۔ پھر ہشام مرادی کھڑا ہوا، اس نے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گستاخی میں اشعار کہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم بھی اپنے ساتھی کے ساتھ بیٹھ جاؤ۔ اللہ تم دونوں کی حیثیت کو جانتا ہے۔ پھر عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے محمد بن عبداللہ حمیری سے، جو ان کے خاص آدمی تھے، کہا : بولو اور علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں صرف حق کہو۔ پھر فرمایا : معاویہ ! کیا آپ نے قسم اٹھائی ہے کہ آپ یہ تھیلی صرف اسی شخص کو دیں گے جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حق گوئی کرے گا ؟ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہاں، میں اپنے باپ صخر بن حرب کا بیٹا نہیں، اگر میں یہ تھیلی اس شخص کو نہ دوں جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں حق بات کہے۔ محمد بن عبداللہ کھڑا ہوا اور اشعار پڑھے، پھر کہا : محمد کے واسطے، تم حق کہو، جھوٹ بولنا تو کمینوں کی عادت ہے۔۔۔۔““ 
(بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطھار لمحمد باقر بن محمد تقي بن المقصود علي المجلسي الرافضي (م : ۱۱۱۱ھ) 259/33)


تبصرہ: یہ کائنات کا بدترین جھوٹ اور خالص ابلیسی کارروائی ہے۔ کیونکہ : 
(1) محمد بن سائب کلبی کے بارے میں:

 

امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
الناس مجتمعون علي ترك حديثه، لا يشتغل به، ھو ذاھب الحديث. 
’’اہل علم کا اس کی حدیث کو ترک کرنے پر اجماع ہے۔ اس کی حدیث کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔ اس کی بیان کردہ حدیث کا کوئی اعتبار نہیں۔“ 
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم:271/7) 

 

قرہ بن خالد سدوسی کہتے ہیں : 
كانو يرون الكلبي يزرف، يعني يكذب. ’’محدثین کرام کہتے تھے کہ کلبی جھوٹ بولتا ہے۔“ (الجرح والتعديل :271/7، وسنده حسن) 

 

سلیمان بن طرخان تیمی نے اسے ’’کذاب“ قرار دیا ہے۔ (أيضا:270/7، وسنده حسن) 

 

(2) اس کے بیٹے اور شاگرد ہشام بن محمد کلبی کے بارے میں حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : 
تركوه، وھو أخباري. ’’محدثین نے اسے چھوڑ دیا تھا۔ یہ اخباری تھا۔“ (المغني في الضعفاء:711/2) 

 

(3) محمد بن زکریا بن دینار غلابی کے بارے میں امام دار قطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
يضع الحديث. ’’یہ اپنی طرف سے حدیثیں گھڑ لیتا تھا۔“ (سوالات الحاكم للدارقطني:206) 

 

حافظ ابن مندہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
تكلم فيه. ’’اس پر جرح کی گئی ہے۔“ (ميزان الاعتدال:550/3) 

 

حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے ’’کذاب“ کہا ہے۔ (ميزان الاعتدال:166/3، ت: عمار بن عمر) 

 

نیز فرماتے ہیں کہ یہ ممتہم بالکذب. راوی ہے۔ (أيضا:325/1، ت: بشر بن مھران) 

 

حافظ ابن حبان رحمہ اللہ اس کے بارے میں کہتے ہیں : 
كان صاحب حكايات وأخبار، يعتبر حديثه إصا روي عن الثقات، لأنه في روايته عن المجاھيل بعض المناكير. 
’’یہ حکایات اور قصے کہانیاں بیان کرتا تھا۔ اس کی حدیث اس وقت معتبر ہوتی ہے جب وہ ثقہ راویوں سے بیان کرے، کیونکہ اس کی مجہول راویوں سے بیان کردہ روایات میں بعض مناکیر ہیں۔“ 
(الثقات:159/4) 

 

(4) اس کا استاذ عبداللہ بن ضحاک مرادی نامعلوم و مجہول ہے، لہٰذا اس روایت پر جرح مفسر ہو گئی ہے۔ 
اس میں مزید خرابیاں موجود ہیں۔ لہٰذا یہ جھوٹی روایت ہے۔


دلیل نمبر ۲۳

 

ایک روایت یوں ہے : توسلو ابجاھي، فإن جاھي عندالله عظيم. ’’تم میرے مقام و مرتبے کے وسیلے سے دعا کیا کرو، کیونکہ میرا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ “ 
ایک راویت کے الفاظ یوں ہیں : 
إذا سألتم الله فاسئلوه بجاھي، فإن جاھي عندالله عظيم. ’’جب تم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو تو میرے مقام و مرتبے کے وسیلے سے مانگا کرو، کیونکہ میرا مقام و مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بلند ہے۔ “


تبصرہ: یہ روایت بے اصل و بےثبوت ہے۔ 

 

اس کے بارے میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م : ۷۲۸ھ) فرماتے ہیں : 
وروي بعض الجھال عن النبی صلی الله عليه وسلم أنه قال: إذا سألتم الله فاسئلوه بجاھي، فإن جاھي عندالله عظيم۔ وھذا الحديث كذب، ليس في شيء من كتب المسلمين التي يعتمد عليھا أھل الحديث، ولا ذكره أحد من أھل العلم بالحديث، مع أن جاھه عند الله تعالی أعظم من جاه جميع الأنبياء والمرسلين. 
’’بعض جاہل لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب یہ روایت بیان کرتے ہیں۔۔۔ یہ روایت جھوٹی ہے۔ مسلمانوں کی کسی ایسی کتاب میں اس کا وجود نہیں جس پر محدثین کرام اعتماد کرتے تھے۔ محدثین میں سے کسی نے اس کا ذکر بھی نہیں کیا۔ یہ بات تو برحق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ اللہ تعالیٰ کے ہاں تمام انبیاء و رسل سے بڑھ کر تھا ( لیکن اس مقام و مرتبے کو وسیلہ بنانا شریعت اسلامیہ میں مشروع نہیں ) ۔ “ 
(قاعدة جليلة في التوسل والوسيلة،ص:252) 

 

علامہ محمد بشیر سہسوانی رحمہ اللہ (م : ۱۳۲۶ھ) فرماتے ہیں : 
لم يروه أحد من أھل العلم، ولا ھو في شيى من كتب الحديث. 
’’اسے کسی اہل علم نے روایت نہیں کیا، نہ ہی کتب حدیث میں سے کسی کتاب میں اس کا وجود ملتا ہے۔ “ 
(صيانة الإنسان عن وسوسة الشيخ دحلان، ص:189، 188)


دلیل نمبر ۲۴

 

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ قرآن کریم سیکھتے تھے، لیکن جلدی بھول جاتا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ دعا سکھائی : 
اللهم إنى أسألك بمحمد نبيك، وإبراهيم خليلك، وموسى نجيك، وعيسى كلمتك وروحك، وبتوراة موسى،وإنجيل عيسى، وزبور داود، وفرقان محمد صلى الله عليه وآله وسلم، وبكل وحى أوحيته، أو قضاء قضيته. 
’’اے اللہ ! میں تجھ سے ان سب کے واسطے سے سوال کرتا ہوں۔ تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، تیرے خلیل ابراہیم علیہ السلام، تیری ہم کلامی کا شرف حاصل کرنے والے موسیٰ، تیری روح و کلمہ عیسیٰ، موسیٰ کی تورات، عیسیٰ کی انجیل، داؤد کی زبور، محمد کے قرآن، تیری ہر وحی اور تیری تمام قضاء وقدر۔“ 
(جامع الأصول لابن الأثير:302/4،ح:2302، اللآلي المصنوعة في الأحاديث الموضوعة للسيوطي:299،298/2، قاعدة جليلة لا بن تيمية،ص:165،164)


تبصرہ: یہ جھوٹ کا پلندہ ہے : 
جو کہ عبدالملک بن ہارون نے ترتیب دیا ہے۔ 

 

اس کے بارے میں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ’’ کذاب“ ہے۔ (تاريخ يحيي بن معين:376/2) 

علامہ جوزجانی کہتے ہیں : 
دجال كذاب. ’’یہ بہت بڑا دھوکے باز اور سخت جھوٹا شخص ہے۔“ (أحوال الرجال،ص:68) 

 

امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ’’منکر الحدیث“ قرار دیا ہے۔ (الضعفاء الصغير:218) 

 

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اسے ’’ضعیف الحدیث“ فرماتے ہیں۔ (العلل ومعرفة الرجال:2648) 

 

امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
له أحاديث غرائب عن أبيه عن جده عن الصحابة، مما لا يتابعه عليه أحد. 
’’یہ اپنے باپ اور دادے کے واسطے سے صحابہ کرام سے منسوب منکر روایات بیان کرتا ہے۔ ان روایات پر کوئی ثقہ راوی اس کی موافقت نہیں کرتا۔“ 
(الكامل في ضعفاء الرجال:529/6) 

 

امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
كان ممن يضع الحديث، لا يحل كتابة حديثه إلا علی جھة الاعتبار. 
’’ یہ ان لوگوں میں سے تھا جو جعلی احادیث گھڑتے تھے۔ اس کی حدیث کو صرف جانچ پرکھ کے طور پر لکھنا جائز ہے۔“
(كتاب المجروحين :133/2) 

 

امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
روي عن أبيه أحاديث موضوعة. ’’اس نے اپنے باپ سے جھوٹی روایات بیان کی ہیں۔“ (المدخل إلي كتاب الإكليل:129) 

 

علامہ ابن عراق کنانی رحمہ اللہ مذکورہ روایت کے بارے میں فرماتے ہیں : 
رواه أبو الشيخ في الثواب من حديث أبي بكر الصديق، من طريق عبدالملك بن ھارون الدجال. 
’’اس روایت کو ابوالشیخ نے کتاب الثواب میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی روایت سے نقل کیا ہے۔ اس کی سند دجال (سخت جھوٹے) راوی عبدالملک بن ہارون نے بیان کی ہے۔“ 
(تنزيه الشريعة المرفوعة عن الأخبار الشنيعة الموضوعة:322/2) 

 

اس روایت کے بارے میں حافظ سیوطی رحمہ اللہ کہتے ہیں : 
عبدالملك دجال، مع ما في السند من الإعضال. 
’’عبدالملک سخت جھوٹا راوی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سند سخت منقطع بھی ہے۔“ 
(اللآلی المصنوعة فی الأحاديث الموضوعة:299/2) 

 

حافظ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
وھو منقطع بين ھارون وأبي بكر. 
”اس روایت کی سند میں ہارون اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے۔“ 
(المغني عن حمل الأسفار في تخريج ما في الإحياء من الأخبار:374/1)


دلیل نمبر ۲۵

 

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے : 
من سره أن يوعيه الله عزوجل حفظ القرآن وحفظ أصناف العلم، فليكتب هذا الدعاء في إناء نظيف، أو في صحفة قوارير بعسل وزعفران وماء مطر، ويشربه على الريق، وليصم ثلاثة أيام، وليكن إفطاره عليه، فإنه يحفظھا إن شاء الله عزوجل، ويدعو به في أدبار صلواته: اللهم ! إني أسألك بأنك مسئول لم يسأل مثلك ولا يسأل، أسألك بحق محمد رسولك ونبيك، وإبراهيم خليلك و صفيك، وموسى كليمك ونجيك، وعيسى كلمتك وروحك، وأسألك بصحف ابراھيم، وتوراة موسط، وزبور داود، وإنجيل عيسى، وفرقان محمد صلى الله عليه وسلم، وأسألك بكل وحي أو حيته، وبكل حق قضيته، وبكل سائل أعطيته. 
’’جو شخص قرآن کریم اور علوم دینیہ کو یاد کرنا چاہے، وہ درجِ ذیل دعا کو ایک صاف برتن یا چاندی کی پلیٹ میں شہد، زعفران اور بارش کے پانی سے لکھے۔ پھر تین دن اسے نہار منہ پیے۔ وہ فرض نمازوں کے بعد بھی اس دعا کو پڑھے۔ ان شاء اللہ ! اسے سب کچھ یاد رہے گا۔ دعا یہ ہے : اے اللہ ! میں تجھ سے اس لیے سوال کرتا ہوں کہ تیری جیسی کوئی ذات نہیں جس سے مانگا گیا ہو یا مانگا جائے گا۔ میں تجھ سے تیرے نبی اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے، تیرے خلیل اور دوست ابراہیم علیہ السلام کے واسطے، تیرے کلیم موسیٰ کے طفیل، تیرے کلمے اور روح عیسی کے وسیلے ٰ سے سوال کرتا ہوں، نیز میں ابراہیم کے صحیفوں، موسی کی تورات، داؤد کی زبور، عیسیٰ کی انجیل، محمد کے قرآن، تیری ہر وحی، تیری تمام قضاء و قدر اور ہر اس سائل کے وسیلے سے مانگتا ہوں جسے تو نے عطا کیا ہے۔۔۔“ 
(الدعاء للطبراني:14223/3،ح:1334)


تبصرہ: یہ انتہائی جھوٹی روایت ہے۔ 

اس کو گھڑنے والا موسیٰ بن عبدالرحمٰن صنعانی راوی ہے۔ اس کے بارے میں : 
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
دجال يضع الحديث، وضع علي ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس كتابا في التفسير. 
’’یہ سخت جھوٹا اور مکار انسان ہے۔ احادیث اپنی طرف سے گھڑنا اس کا مشغلہ تھا۔ اس نے 
عطاء عن ابن عباس کی سند سے تفسیر کی ایک کتاب خود گھڑ کر امام ابن جریج سے منسوب کی ہوئی تھی۔“ (كتاب المجروحين:242/2) 

 

امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ’’منکر الحدیث“ راوی ہے۔ (الكامل:349/6) 

 

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
ھالك. ”یہ سخت ضعیف راوی ہے۔“ (المغني في الضعفاء:6507) 


تنبیہ ۱ :

یہ روایت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔ (الموضوعات لابن الجوزي:131/3، اللآلي المصنوعة للسيوطي:298/2)

لیکن یہ روایت بھی من گھڑت ہے۔ اس کو گھڑنے کا ارتکاب عمر بن صبح نامی راوی نے کیا ہے۔ 

 

اس کو امام دارقطنی نے ’’متروک الحدیث“ اور امام ابوحاتم رازی (الجرح والتعديل لابن أبي حاتم:117/6) و امام ابن عدی(الكامل:24/5) نے ’’منکر الحدیث“ قرار دیا ہے۔ 

 

امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
كان ممن يضع الحديث علي الثقات، لا يحل كتابة حديثه إلا علي جھة التعجب لأھل الصناعة فقط. 
’’یہ شخص ثقہ راویوں سے منسوب کر کے اپنی طرف سے احادیث گھڑتا تھا۔ اس کی حدیث کو صرف ماہرین فن حدیث لکھ سکتے ہیں اور وہ بھی صرف اور صرف بطور تعجب۔“ 
(المجروحين:88/2) 

 

امام ابونعیم اصبہانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : 
روي عن قتادة ومقاتل الموضوعات. ’’اس نے قتادہ اور مقاتل کی طرف جھوٹی روایات منسوب کی ہیں۔“ (الضعفاء:151)

 

امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
روي عن قتادة ومقاتل بن حيان أحاديث موضوعة. 
’’اس نے قتادہ اور مقاتل بن حیان کی طرف منسوب کر کے جھوٹی احادیث گھڑی ہوئی ہیں۔“ 
(المدخل إلی الصحيح:113) 

 

حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں : 
ھذا حديث موضوع علي رسول الله صلي الله عليه وسلم، والمتھم به عمر بن الصبح. 
’’یہ حدیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی منسوب کی گئی ہے اور یہ کارروائی عمر بن صبح نامی راوی کی ہے۔“
(الموضوعات:831/3) 

 

حافظ سیوطی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : 
موضوع، واتھم به عمر بن صبح. ’’یہ من گھڑت روایت عمر بن صبح کی گھڑنت ہے۔“ (اللآلي المصنوعة للسيوطي:298/2) 

 

دوسری علت یہ ہے کہ یزید بن عمر بن عبدالعزیز کی توثیق بھی نہیں مل سکی۔ 


تنبیہ۲ :

یہ روایت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ بھی مروی ہے۔ (الجامع لأخلاق الراوي و آداب السامع للخطيب البغدادي:261/2، ت:1793، أخبار لحفظ القرآن لابن عساكر:3)

لیکن اس کی سند بھی سخت ترین ’’ضعیف“ ہے۔ اس کے راوی موسیٰ بن ابراہیم مروزی کے بارے میں امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ’’متروک“ ہے۔ (تاريخ بغداد للخطيب البغدادي:40/13، وسنده حسن ) 

 

امام عقیلی رحمہ اللہ نے اسے ’’منکر الحدیث“ قرار دیا ہے۔ (الضعفاء الكبير:166/4) 

حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس روایت کے بارے میں فرمایا ہے : 
فمن بلاياه. ’’یہ موسیٰ بن ابراہیم کی ایک گھڑنت ہے۔“ (ميزان الاعتدال:199/4) 

 

حافظ سیوطی رحمہ اللہ نے اسے ’’کذاب“ قرار دیا ہے۔ 

 

”اس راوی کے بارے میں ادنیٰ کلمہ توثیق بھی ثابت نہیں“۔ (اللآلي المصنوعة للسيوطي:298/2)


دلیل نمبر ۲۶

 

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 
قال داود صلى الله عليه وسلم أسألك بحق آبائي إبراهيم وإسحاق ويعقوب، فقال: أما إبراهيم، فألقي في النار فصبر من أجلي، وتلك بلية لم تنلك وأما إسحاق، فبذل نفسه ليذبح فصبر من أجلي، وتلك بلية لم تنلك، وأما يعقوب، فغاب عنه، يوسف وتلك بلية لم تنلك. 
’’ داؤد نے کہا : اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے آبا و اجداد، یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے صبر کیا اور یہ شرف تجھے نہیں ملا۔ اسحاق نے اپنے آپ کو ذبح کے لیے پیش کر دیا اور میری خاطر صبر کیا اور یہ مصیبت تجھے نہیں پہنچی۔ یعقوب سے ان کے فرزند یوسف گم ہو گئے اور یہ تکلیف تجھے نہیں پہنچی۔“ 
(مسند البزار:1307)


تبصرہ: یہ یہودیانہ کارروائی ہے، جس میں سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے بجائے سیدنا اسحاق علیہ السلام کو ذبیح قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہود کا ہی اس بات پر اصرار ہے کہ ذبیح اللہ سیدنا اسحاق علیہ السلام تھے، جبکہ قرآن و سنت کی روشنی میں مسلمان سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو ذبیح قرار دیتے ہیں۔ یہ تو تھی متن کی بات، رہی اس روایت کی سند تو وہ بھی کئی وجوہ سے سخت ترین ’’ضعیف“ ہے۔ 

 

(1) اس کا راوی ابوسعید حسن بن دینار ’’ضعیف و متروک“ ہے۔ 

اس کے بارے میں امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
ليس بشيء. ’’یہ بالکل قابل اعتبار نہیں۔“ (تاريخ ابن معين برواية العباس الدوري:4157) 

امام ابوحیثمہ رحمہ اللہ اسے ’’ضعیف الحدیث“ قرار دیتے ہیں۔ (الجرح والتعديل لابن أبي حاتم:12/3، وسندہ صحيح) 

 

امام فلاس رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
واجتمع أھل العلم من أھل الحديث أنه لا يروی عن الحسن بن دينار. 
’’محدثین کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حسن بن دینار سے کوئی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔“ 
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم:12/3، وسندہ صحيح) 

 

امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
ھو متروك الحديث، كذاب، وترك أبوزرعة حديث الحسن بن دينار. 
’’یہ متروک الحدیث اور سخت جھوٹا شخص ہے۔ امام ابوزرعہ رحمہ اللہ نے حسن بن دینار کی حدیث کو ترک کر دیا تھا۔“
(الجرح و التعديل:12/3) 

 

امام دارقطنی رحمہ اللہ بھی اسے ’’متروک الحدیث“ قرار دیتے ہیں۔ (سنن الدارقطني:162/1) 

 

امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
تركه ابن المبارك و وكيع، وأما أحمد ابن حنبل ويحيی بن معين فكانا يكذبانه. 
”امام عبداللہ بن مبارک اور امام وکیع رحمہا اللہ نے اسے چھوڑ دیا تھا، جبکہ امام احمد بن حنبل اور امام یحییٰ بن معین رحمہا اللہ نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔“ 
(كتاب المجروحين:226/1) 

 

امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
وھو إلي الضعف أقرب منه إلي الصدق. ’’یہ شخص سچائی کی نسبت کمزوری سے زیادہ قریب تھا۔“ (الكامل في ضعفاء الرجال:303/2) 

 

امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
وھو ليس بالقوي في الحديث. ’’یہ حدیث میں قوی نہیں۔“ (مسند البزار:1307) 

اس کے علاوہ بھی حسن بن دینار پر بہت سی جروح ثابت ہیں۔ 

 

(2) علی بن زید بن جدعان راوی جمہور کے نزدیک ’’ضعیف“ ہے۔ 

 

علامہ ہیثمی (مجمع الزوائد:209/8) ، علامہ بوصیری (مصباح الزجاجة:84) ، حافظ ابن العراقی (طرح التثريب:7712) ، حافظ ابن ملقن(البدر المنير:434/4) ، علامہ بقاعی (نظم الدررفي تناسب الآيات والسور:525/4) نے اسے جمہور کے نزدیک ’’ضعیف“ قرار دیا ہے۔ 

 

(3) اس کی سند میں امام حسن بصری کی ’’تدلیس“ بھی موجود ہے۔ سماع کی تصریح نہیں ملی۔ 

 

اس روایت کے بارے میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
لم يصح سنده ففي إسناده ضعيفان، وھما الحسن بن دينار البصري متروك، وعلي بن زيد بن جدعان منكر الحديث. 
’’اس روایت کی سند صحیح نہیں، کیونکہ اس میں دو راوی ضعیف ہیں۔ ایک حسن بن دینار بصری ہے جو متروک الحدیث ہےاور دوسرا علی بن زید بن جدعان ہے جو منکر الحدیث ہے۔“ 
(تفسير ابن كثير:355/5) 


تنبیہ ۱ :

احنف بن قیس، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام نے فرمایا : 
أي رب ! إن بني إسرائيل يسألونك بإبراهيم وإسحق ويعقوب فاجعلني يا رب لهم رابعا فأوحى الله إليه أن يا داود! أن إبراهيم ألقي في النار في سي فصبر، وتلك بلية لم تنلك وإن إسحق بذل نفسه ليذبح فصبر من أجلي، فتلك بلية لم تنلك، وإن يعقوب أخذت حبيبه حتي ابيضت عيناه فصبر، وتلك بلية لم تنلك. 
’’داؤد علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی : اے میرے رب ! بنی اسرائیل تجھ سے ابراہیم، اسحٰق اور یقوب کے وسیلے سے مانگتے ہیں۔ تو مجھے بھی ان تینوں کے ساتھ شامل کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی : اے داؤد ! ابراہیم تو آگ میں ڈالے گئے تھے اور انہوں نے صبر کیا تھا، یہ آزمائش تجھے تو نہیں پہنچی۔ اسحٰق نے اپنے آپ کو ذبح ہونے کے لیے پیش کر دیا تھا اور اس پر ڈٹ گئے، یہ آزمائش آپ سے تو نہیں ہوئی۔ یعقوب کا محبوب (بیٹا یوسف ) میں نے چھین لیا تھا، حتی کہ غم میں ان کی آنکھیں رو رو کر سفید ہو گئی تھیں، انہوں نے صبر کیا، یہ آزمائش تیرے پاس تو نہیں آئی۔ 
(مصنف ابن أبي شيبه:554/11)

اس کی سند درج ذیل تین وجہ سے ’’ضعیف“ ہے : 

 

(1) یہ ’’مرسل“ روایت ہے۔ احنف بن قیس تابعی ہیں اور ڈائریکٹ اس روایت کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کر رہے ہیں۔ 

(2) اس میں وہی علی بن زید بن جدعان راوی موجود ہے جس کے بارے میں مفصل بات ابھی گزری ہے۔ 

(3) اس میں امام حسن بصری کی ’’تدلیس“ بھی موجود ہے۔ 

 

اس راویت کے بارے میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
وھذا مرسل، وفيه نكارة، بأن الصحيح أن إسماعيل ھو الذبيح، ولكن علي بن زيد بن جدعان له مناكير وغرائب كثيرة. 
’’یہ روایت مرسل ہونے کے ساتھ ساتھ منکر بھی ہے کیونکہ ذبیح سیدنا اسماعیل ہی تھے۔ علی بن زید بن جدعان راوی اس طرح کی منکر اورعجیب و غریب روایات بیان کرتا رہتا ہے۔“ 
(تفسير ابن كثير:600،599/3) 


تنبیہ ۲:

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : 
قال نبي الله داود: رب! أسمع الناس يقولون: رب إسحاق، قال: إن إسحاق جادلي بنفسه. 
’’اللہ کے نبی داؤد نے عرض کی : میرے رب ! کیا وجہ ہے کہ میں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنتا ہوں کہ اے اسحٰق کے رب ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسحٰق نے میری خاطر اپنی جان پیش کر دی تھی۔“ 
(المستدرك للحاكم:556/2)

اس کی سند میں وہی دو خرابیاں موجود ہیں، 
یعنی علی بن زید بن جدعان ’’ضعیف“ ہے 
اور امام حسن بصری ’’مدلس“ ہیں۔ 
لہٰذا امام حاکم کا اسے ’’صحیح“ کہنا صحیح نہیں۔ 

تنبیہ ۳ :

مبارک بن فضالہ بھی اسی روایت کو حسن بصری سے مرفوعاً اور موقوفاً بیان کرتے ہیں۔ (مسند البزار:1308)

لیکن اس کی سند بھی ’’ضعیف“ ہے۔ 
مبارک بن فضالہ اگرچہ جمہور محدثین کرام کے نزدیک ’’ثقہ“ ہیں، 

 

جیسا کہ حافظ بوصیری رحمہ اللہ لکھتے ہیں : 
وثقه الجمھور. ’’انہیں جمہور نے ثقہ کہا ہے۔“ (زوائد ابن ماجه:520) 

 

حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : 
والأكثر علي توثيقه. ’’اکثر محدثین انہیں ثقہ کہتے ہیں۔“ (مجمع الزوائد:54/1) 

 

مگر یہ غضب کے ’’مدلس“ بھی تھے، جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 
صدوق، يدلس ويسوي. ’’یہ ہیں تو سچے لیکن تدلیس کرتے ہیں اور وہ بھی تدلیس تسویہ (تدلیس کی سب سے سخت قسم )۔“ (تقريب التھذيب:6464) 


انہوں نے سماع کی تصریح نہیں کی، لہٰذا سند ’’ضعیف“ ہے۔ 
دوسری بات یہ کہ اس میں امام حسن بصری کی ’’تدلیس“ بھی موجود ہے۔


دلیل نمبر ۲۷

 

عبداللہ حذاء کا بیان ہے : 
قال يوسف عليه السلام: اللھم! إني أتوجه إليك بصلاح آبائي، إبراھيم خليلك، وإسحاق ذبيحك، ويعقوب إسرائيلك. 
’’یوسف نے عرض کیا : اے اللہ ! میں تیرے دربار میں اپنے آباء و اجداد ابراہیم خلیل، اسماعیل ذبیح اور یعقوب اسرائیل کا وسیلہ پیش کرتا ہوں۔ “ 
(حلية الأولياء لأبي نعيم الأصبھاني: 9/10)


تبصره: اس کی سند سخت ’’ضعیف“ ہے، کیونکہ : 
(1) اس کے راوی حسین بن عبداللہ بن شاکر سمرقندی کو امام دارقطنی نے ’’ضعیف“ قرار دیا ہے۔ (سئوالات الحاكم للدارقطني:89) 

البتہ ابوسعد ادریسی نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ لیکن ہمارار جحان امام دارقطنی کے قول کی طرف ہے، کیونکہ ادریسی متاخر ہیں۔ 

(2) قصہ گو عبداللہ حذاء کون ہے؟ 
اس روایت سے استدلال کرنے والے ذرا اس کے حالات زندگی اور اس کی توثیق تو پیش کریں۔
نیز یہ بھی بتائیں کہ عبداللہ حذاء کا یوسف سے کیا واسطہ تھا ؟ 

 

(3) یہ روایت مسلمانوں کے اجماع کے بھی خلاف ہے، کیونکہ کوئی ثقہ مسلمان اسحاق کے ذبیح ہونے کا قائل نہیں۔

 

 اس تحریر کا پانچواں حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.