نکاح سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوتی!

 از    May 9, 2015

نکاح سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ اگر کوئی آدمی کسی عورت سے کہے کہ:

  إن أنکحتکِ فاٗنت طالق۔”

اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھے طلاق۔”

یا کہے کہ:

  کلّما نکحت امرأۃفھی طالق “

میں جب بھی کسی عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق۔” یا کہے کہ اگر میں فلاح کے گھر گیا یا فلاں سے بات کی تو جس سے میں شادی کروں گا، اسے طلاق ہے۔ وہ گھر چلا گیا بات کردی اور کسی عورت سے شادی کر لی تو ان سب صورتوں میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔ بلکہ یہ طلاق باطل ہے۔

حنفی مقلدین کے نزدیک مذکورہ تمام صورتوں میں طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ ، جبکہ ان کے پاس کوئی صحیح دلیل نہیں۔ محض تقلیدِ ناسدید کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں۔ طلاق واقع نہ ہونے پر دلائل ملاحظہ فرمائیں:

دلیل نمبر ۱:         فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

(یاٱیُھاالَذِینَ اؔمّنُو ا ذَانکَحْتُمْ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَکلَّقْتُمُو ھُنَّ مِنْ قبْلِ أنْ تَمَسُّوھُنَّ) (الا حزاب:۴۹)

“اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو،پھر ان کو مباشرت سے پہلے طلاق دے دو تو۔۔۔”

حافظ ابنِ کثیر(۷۷۳-۷۰۱ھ)اس آیت کی تفسیر لکھتے ہیں:

وقد استدلّ ابن عبّاس وسعید بن المسیّب والححسن البصری وعلیّ بن الحسین زین العابدین، وجماعۃ من السلف بھذہ الآیۃ علی أ نّ الطلاق لا یقع إ َلاإ ذاتقدَمہ نکاح، لأ نَ اللہ تعالی قال:ؕ    إ ذَانکَحْتُمْ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَکلَّقْتُمُو ھُنَّ)، فعقّب النکاح بالطلاق ، فدلّ، علی أنّہ لا یصحّ ولا یقع قبلہ، وھذا مذھب الشافعی وأحمد بن حنبل وطا ۂفۃ کثیرۃ من السلف والخلف۔

“سیدنا ابنِ عباس ، امام سعید بن مسیب، حسن بصری ، علی بن حسین زین العابدینؒ اور سلف کی ایک جماعت نے اس آیت کریمہ سے یہ استدلال کیا ہے کہ طلاق اس وقت تک واقع نہیں ہوتی، جب تک اس سے پہلے نکاح نہ ہو چکا ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکا ح کرو، پھر ان کو طلاق دو)۔ اللہ تعالیٰ نے طلاق کو نکاح کے بعد ذکر کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نکاح سے پہلے طلاق دُرست نہیں ، نہ ہی ایسی طلاق واقع ہوتی ہے۔ امام شافعیؒ امام احمد بن حنبل ؒاور سلف وخلف کی ایک بڑی جماعت کا یہی مذہب ہے” (تفسیر ابن  کثیر : ۱۹۴/۵)

ترجمان القرآن سیدنا ابن، عباس فرماتے ہیں:

ماقالھا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، وإن یکن قالھا، فزلَۃ من عالم ۔فی الرجل ؛ إن تزوَجت فلا نۃ فھی طالق ، قال اللہ تبارک وتعالی: ((یاٱیُھاالَذِینَ اؔمّنُو ا إذَانکَحْتُمْ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَکلَّقْتُمُو ھُنَّ مِنْ قبْلِ أنْ تَمَسُّوھُنَّ) (الا حزاب:۴۹) ، ولم یقل : إذا طلقتم المؤمنات ثم نکحتمو ھن۔

“سیدناابنِ مسعود نے نکاح سے پہلے طلاق واقع ہونے کا فتویٰ نہیں دیا۔ اگر بالفرض انہوں نے ایسا کہا ہے تو یہ ایک عالم کی لغزش ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔:                     (اے ایمان والو!جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر طلاق دے دو تو۔۔۔) یہ نہیں کہا کہ جب تم مومن عورتوں کو طلاق دے دو اور پھر نکاح کروتو۔۔۔۔” (السن الکبری للبھقی : ۳۲۱/۷، وسندہ حسن”)

تنبیہ:                               سیدنا ابن مسعود سے یہ بات ثابت  نہیں ۔ سنن سعید بن منصور (۱۰۰۳) والی روایت ابراہیم نخعی ؒ کی “تد لیس ” کی وجہ سے “ضعیف” ہے۔ ابراہیم نخعی کا سیدنا ابن مسعود سے سماع بھی ثابت نہیں ہے۔

مصنف عبدالرزاق(۲۰/۶) میں ان  کی متا بعت امام شعبی نے کی ہے، لیکن امام شعبی ؒ کا بھی سیدنا ابنِ مسعودؒ سے سماع ثابت نہیں ۔ (المراسیل لابن ابی حاتم : ۶۰، السنن الکبریٰ للبیہقی: ۱۶۹/۷)

نیز اس میں امام عبدالرزاق اور امام سفیان ثوری کی” تدلیس” بھی موجود ہے۔

سنن سعید بن منصور (۱۰۰۴) والی دوسری روایت بھی سخت ترین”ضعیف” ہے اس میں جویبربن سعید البلخی راوی سخت ترین  “ضعیف” ہے۔

حافظ ابنِ حجر ؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

ضعیف جدَا

“یہ سخت ترین ضعیف  راوی ہے۔” (تقریب التھذیب لابن حجر: ۹۸۷)

نیز ضحاک بن مزاحم کے سیدنا ابن عباسؒ سے سماع پر کوئی دلیل نہیں۔

مفس ثعلبیؒ فرماتے ہیں:

  وفی الاۤۤ یۃ دلیل علی آنّ الطلاق قبل النکاح غیر واقع، خصّ آو عمْ، خلافا الاھل الکوفۃ۔

“اس آیت کریمہ میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوتی، وہ خاص کی گئی ہو یا عام ہو ۔ یہ بات اہل کوفہ کے خلاف ہے” (الکشف والبیان النیسابوری:۵۳/۸)

مفسر ابنِ عادلؒ کہتے ہیں:

 وفی ھذہ إلاۤ یۃ دلیل علی آن تعلیق الطلاق قبل النکاح لایصحْ۔

“اس آیت کریمہ  میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق کو معلق کرنا دُرست نہیں۔ (الباب فی عفوم الکتاب: ۵۶۵/۱۵)

یہی بات حافظ بغوی ؒ(تفسیر البغوی:۳۶۱/۶) ، علامہ خازن (تفسیر الخازن:۲۶۷/۵) وغیرہ نے بھی کہی ہے۔

دلیل نمبر ۲:                       سیدنا عبد اللہ عمرو بن عاملؒ سے روایت ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا:

لیس علی الرجال طلاق فیما لا یملک

“جس عورت پر آدمی کی ملکیت (نکاح) نہ ہو، اس کے بارے میں آدمی ( کی طلاق اس) پر شمار نہیں ہوتی۔” (مصنف ابن ابی شیبہ : ۲۲۴/۱۴، مسند الامام احمد: ۱۸۹/۲، سنن ابی داود : ۲۱۹۰، مشکل الآثار للطحاوی : ۶۶۰، سنن الدارقطنی : ۱۴/۴، السنن الکبریٰ للبیہقی : ۳۱۸/۷،  وسندہ حسن)

اس کا راوی مطر الوراق جمہور محدثین کے نزدیک “ثقہ” ہے۔ حافظ ہبیؒ اس کے بارے میں لکھتے ہیں:

ثقۃ تابعیّ۔                              “یہ ثقہ تابعی ہیں” (السغنی للذھبی: ۴۱۱/۲)

نیز فرماتے ہیں :          حسن الحدیث                             “اس کی حدیث حسن ہے” (میزان الا عتدال للذھبی: ۱۲۷/۴)

حافظ ابن حجرؒ نے بھی اسے “ثقہ” قراردیا ہے:               (فتح الباری لابن حجر: ۳۸۴/۹)

اس حدیث مین یہ الفاظ بھی ہیں :

  لایجوز طلاق ولاعناق ولا بیع ولا وفاء نذر فیما لایملک۔

“جو چیز ملکیت میں نہ ہو، اس میں طلاق ، آزادی بیع اور نذر کو پورا کرنا موثر نہیں ہوتا۔” (مسند الا مام احمد : ۱۹۰/۲ وسندہّ حسن)

یہ الفاظ بھی ہیں :

من طلَق مالا یملک، فلا طلاق لہ۔

“جو شخص ایسی عورت کو طلاق دے، جو اس کی ملک (نکاح) میں نہیں، اس کی طلاق کی کوئی چیثیت نہیں۔” (المستدر ک للحا کم : ۳۰۰/۴۔ وقال: صحیح الا سناد، السنن الکبری للبیھقی: ۳۰۰/۱۰،وسند ہْ حسن)

اس حدیث کو امام ترمذی ؒ نے “حسن صحیح “اور امام ابن الجارود ؒ(۷۴۳)نے “صحیح ” کہا ہے۔ حافظ خطابیؒ( ۳۸۸-۳۱۹ھ) فرماتے ہیں :

أسعد الناس بھذا الحدیث من قال بظاھرہ، واْ جراہ علی عمو مہ، إ ذلا حجّۃ مع من فرّق بین حال وحال ، والحدیث حسن.

“اس حدیث کے حوالے سے سب سے خوش بخت وہ ہے جو اس کے ظاہر کے مطابق کہتا ہے اور اس کو اس کے عموم پر رہنے دیتا ہے، کیونکہ اس شخص کے پاس کوئی دلیل نہیں جو حالات کے تحت تفریق کرتے ہیں۔یہ حدیث حسن ہے۔” (تحفۃ الا حوذی لعبد الرحمن المبار کپوری: ۲۱۳/۲)

جب عور ت نکاح سے پہلے آدمی کی مِلک ہی نہیں تو طلاق کیسےٖ؟ اسیی طلاق لغور ہو جائے گی ۔یہ کہنا باطل ہے کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ فی الضور طلاق واقع نہیں ہوتی، نکاح کے بعد ہوجاتی ہے یا أنت طالق(تجھے طلاق) کہنے سے تو نہیں ہوتی، یعنی جب تعلیق میں عموم ہو تو ہوتی ۔ اس توجیہ کی دلیل میں امام زہریؒ کا قول(مصنف عبدالرزاق:۴۲۱/۶،ح: ۱۱۴۷۵) پیش کیا جاتا ہے لیکن وہ امام عبدالرزاق ؒ کی “تدلیس” کی وجہ سے “ضعیف” ہے،لہذا یہ توجیہ بھی ضعیف ہوئی ۔ ان تمام صورتوں کے متعلق حافظ ابنِ حزم ؒ فرماتے ہیں:

                فکلّ ذلک باطل

               “یہ تمام توجیہات باطل ہیں۔”

                                                                (المحلی لابن حزم: ۲۰۵/۱۰)

صحیح بات یہ ہے کہ تعلیق میں عموم ہو یا خصوصی ، دونو ں حالتوں میں طلاق نہیں ہوتی، کیونکہ طلاق کا محل نہیں ہوتا۔ دونو ں حالتوں میں عورت آدمی کی مِلک نہیں ہوتی۔ لہذا ایسی طلاق ہر حال میں لغوباطل ہے۔ سیدنا ابنِ عباساور جمہور سلف صالحین یہی کہتے ہیں اور یہی حق وصواب ہے۔

دلیل نمبر۳۔             سیدنا عبد اللہ عمرو بن عاصسے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :

                        )) لا طلاق قبل النکاح))۔

“نکاح سے پہلے طلاق کی کوئی حیثیت نہیں”(المستدرک علی الصحیحین للحاکم:۲۰۵-۲۰۴/۴،  السنن الکبری للبیھقی: ۳۱۷/۷، وسندہْ حسن)”

یہ الفاظ بھی ہیں:: طلاق ہوتی ہی نکاح کے بعد ہے۔” (مسند الطیالسی : ص ۲۹۹، السنن الکبری للبیھقی ۳۱۸/۷ وسندہٰ حسن)

امام سعید بن مسیّب تابعیؒ اس آدمی کے بارے میں فرماتے ہیں جو کہے کہ جس دن میں فلاں عورت سے شادی کروں گا، اسے طلاق:

لیس بشی ء          “یہ بے فائدہ بات ہے: (مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱۶/۵، وسندہ صحیح)

امام سعید بن جبیرتابعؒ بھی ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں:

لیس بشیء إنّما الطلاق بعد النکاح

 “یہ بات کچھ حیثیت نہیں رکھتی، کیونکہ طلاق تو نکاح کے بعد ہی ہو سکتی ہے” (مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱۶/۵، وسندہ صحیح)

جو آدمی کہتا ہے کہ جس سے میں نکاح کروں گا، اسے طلاق ہے ،اس شخص  کو ا    ٍمام سعید بن جبیر ؒ فرماتے ہیں:

کیف تطلّق مالا تملک؟ إنّما الطلاق بعد النکاح۔

“تم اس عورت کو کیسے طلاق دو گے، جوتمہاری مِلک(نکاح) میں نہیں۔ طلاق تو  نکاح کے بعدہی ہوتی ہے۔” (مصنف ابن ابی شیبۃ: ۲۰/۵، وسندہ صحیح)

امام علی بن حسین زین العابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:      لاطلاق إلّا بعد النکاح       ۔  “طلاق ہوتی ہی نکاح کے بعد ہے۔” (مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱۶/۵، وسندہ صحیح)

اما م شریح ؒ فرماتے ہیں:                                لاطلاق إلّا بعد النکاح       ۔  نکاح کے بعد ہی طلاق ہوتی ہے۔”(مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱۷۰۱۶/۵، وسندہ صحیح)

نیز امام طاؤس ؒ (مصنف ابن ابی شیبہ:۱۷/۵، وسند صحیح ) ، قاسم بن عبدالرحمٰن ؒؒ (مصنف ابن ابی شیبہ:۱۷/۵، وسند  ہ صحیح )، محمد بن کعبؒ (مصنف ابن ابی شیبہ:۱۷/۵، وسندہ حسن )،نافع بن جبیر ؒ (مصنف ابن ابی شیبہ:۱۷/۵، وسندہ حسن )، امام حسن بصری ؒ(سنن سعید بن منصور:۱۰۳۱، وسند صحیح )  ، منصور بن زاذا ن ؒ (سنن سعید بن منصور:۱۰۴۰، وسندہ  صحیح ) ، عروہ بن زبیر ؒ (سنن سعید بن منصور:۱۰۵۴، وسند ہ صحیح )، امام احمد بن حنبل ؒ اور امام شافعی ؒ کا یہی مذہب ہے۔

اس کے برعکس کچھ سلف کا موقف ہے کہ نکاح سے پہلے دی گئی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ ان کا یہ اجتہاد قرآن وحدیث اور سیدنا ابنِ عباس اور جمہور سلف صالحین  کے خلاف ہونے کی وجہ سے نا قابل التفات ہے۔

۱۔            احناف کی دلیل یہ ہے کہ قاسم بن محمدؒ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا  گیا، جس نے کہا تھا کہ اگر وہ نکاح کرے تو اس کی بیوی کو طلاق۔ امام قاسم بن محمد ؒ نے فرمایا:                  إنّ جلا جعل امرأ ہْ علیہ کظہر أمہ إ ن ھو تزوْ جھا، فامرہ عمر بن الخطٓاب، إن ھوتزوّ جھا لا یقربھا حتّی بکفّر کفّارۃ المظاھر۔

“ایک آدمی نے ایک عورت کے بارے میں کہا کہ اگر وہ اس سے نکاح کرے تو میری ماں کی پشت کی طرح مجھ پر حرام ہے ۔ سید ناعمر بن خطاب ؒ نے حکم فرمایا کہ اگر وہ اس عورت سے نکاح کرے تو ظہار کا کفارہ دینے تک اس کے قریب نہ جائے ۔” (لیسوضا، الامام مافت: ص ۵۱۵، ظھار الحر: کتاب الطلاق)

لیکن اس کی سند”انقطاع” کی وجہ سے “ضعیف” ہے۔ قاسم بن محمد ؒ کا سید نا عمر بن خطاب  سے سماع نہیں ہے۔

نیز یہ بات فرمانِ الہی :

اَلَّذِیْنَ یُظاھرُوْنَ مِنْ نِسَائِھِمْ
…..ؐ (المجادلۃ:۳)

(وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے اظہار کرتے ہیں۔۔۔) کے خلاف ہے۔

جب نکاح سے پہلے یہ بات کہی گئی تو اس وقت وہ عورت بیوی نہیں تھی ، لہذا اظہار واقع ہی نہیں ہوا کہ کفارہ واجب ہو۔

۲۔           دوسری دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عمر بن خطاب کے پاس آیا اور کہا:

کلْ امر لۃ أتزوّ جھا ، فھی طالق ثلاثا ، فقال لہ عمر: فھو، کما فلت

“ہر وہ عورت جس سے میں شادی کروں گا، اسے تین طلاقیں ۔ سیدنا عمر  نے اس سے فرمایا:جیسے تم نے کہا ہے، ویسے ہی ہوگا۔”(مصنف عبدالرزاق: ۴۲۱/۶، ح: ۱۱۴۷۴)”

لیکن اس کی سند سخت ترین “ضعیف” ہے، کیونکہ:

۱۔            اس میں امام عبدالرزاق ؒ کی “تدلیس”ہے۔

۲۔           ابو محمد راوی کو حافظ ابنِ حزم ؒ نے”مجہول” کہا ہے۔ (المحلی : ۲۰۷/۱۰)

۳۔           اس میں یاسین بن  معاذ الزیات نامی راوی باتفاق محد ثین “ضعیف” اور “منکر الحدیث”ہے۔

۴۔امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن کی سید نا عمر  سے روایت “منقطع” ہوتی ہے۔ (تھذیب التھذیب لا بن حجز: ۱۲۸/۱۲)

یہی بات حافظ ابنِ حزم ؒ نے بھی کہی ہے۔۔ (المحلی لابن حزم : ۲۰۷/۱۰)

حافظ ابنِ حزمؒ فرماتے ہیں ۔ ۔ وھو قول لم یصحّ عن أحد من الصحابۃ۔

                “یہ ایسا قل ہے، جو کسی بھی صحابی سے ثابت نہیں ہے۔”۔ (المحلی ۲۰۷/۱۰)

الحاصل:                         نکاح سے پہلے کسی بھی صورت میں دی گئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔

***********

رسول اللہﷺ کا خواب حق ہے!

سیدنا معاذ بن جبل  فرماتے ہیں ::

إنّ رسول اللہ ﷺ ما رآہ فی نومہ وفی یقظتہ، فھو حقّ۔

” رسول ﷺ نے جوکچھ حالتِ نیند اور حالت ِ بیداری میں دیکھا ہے، وہ حق ہے۔”۔ (السنۃ لابن ابی عاصم:۱۳۰۰۰۴۷۳، وسندہ صحیح)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.