نماز وتر پڑھنے کا مسنون طریقہ

 از    July 4, 2014

تحریر: ابوثاقب محمد صفدر حضروی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
➊ ”اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔“ [بخاري : 6410، مسلم : 2677]

➋ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”وتر ایک رکعت ہے رات کے آخری حصہ میں سے۔“ [مسلم : 756]

➌ نبی کریم سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”رات کی نماز دو، دو رکعتیں ہیں۔ جب صبح (صادق) ہونے کا خطرہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔ یہ ایک (رکعت پہلی ساری) نماز کو طاق بنا دیگی۔“ [بخاري : 993، 990مسلم : 749]

➍ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رکعت وتر پڑھتے (آخری ) دو رکعتوں اور ایک رکعت کے درمیان (سلام پھیر کر ) بات چیت بھی کرتے۔“ [ابن ماجه : 77، مصنف ابن ابي شيبه : 2؍291]

➎ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عشاء سے فجر تک گیارہ رکعتیں پڑھتے ہر دو رکعتوں پر سلام پھیرتے اور ایک رکعت وتر پڑھتے۔“ [مسلم : 736]

➏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”وتر ہر مسلمان پر حق ہے پس جس کی مرضی ہو پانچ وتر پڑھے اور جس کی مرضی ہو تین وتر پڑھے اور جس کی مرضی ہو ایک وتر پڑھے۔“ [ابوداؤد : 1422، نسائي : 1710، ابن ماجه : 1190، صحيح ابن حبان : 270، مستدرك1؍302وغيره]
↰ تین رکعت وتر پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیں۔ پھر ایک رکعت وتر پڑھیں جیسا کہ احادیث مبارکہ میں آیا ہے۔ [ديكهئے مسلم : 752، 736، 765، 769، بخاري : 626، 990، 993، 994، 2013، ابن ماجه : 1177، نسائي 1698، صحيح ابن حبان : 678، صحيح ابن حبان الاحسان4؍70، 2426وغيره]

➐ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے وتر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ وہ وتر ایک رکعت ہے آخر شب میں، اور پوچھا گیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا۔“ [مسلم : 753]

➑ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ [بخاري : 991، طحاوي : 1549، 1551، آثار السنن200، 201، 202]

➒ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ [بخاري : 3764، 3765، آثار السن203]

➓ سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ [بخاري : 2356، طحاوي : 1634، آثار السنن 205، 6٠6، وغيره]

⓫ امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔ [دارقطني : 1657، طحاوي 1631، آثار السنن204]

⓬ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”جو شخص آخر رات میں نہ اٹھ سکے تو وہ اول شب وتر پڑھ لے اور جو آخر رات اٹھ سکے وہ آخر رات وتر پڑھے کیونکہ آخر رات کی نماز افضل ہے۔“ [مسلم : 755]

⓭ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اول رات، رات کے وسط اور پچھلی رات (یعنی) رات کے ہر حصہ میں نماز پڑھی۔ [بخاري : 755، 996]

⓮ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ایک رات میں دو بار وتر پڑھنا جائز نہیں۔ [ ابوداؤد1439ابن خزيمه1101، ابن حبان 671، وغيره]

⓯ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”رات کو اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔“ [مسلم : 751]
↰ اس حدیث سے ان لوگوں کا رد ہوتا ہے جو وتر کے بعد رات کو اٹھ کر تہجد پڑھتے ہیں۔

⓰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”تین وتر (اکٹھے ) نہ پڑھو، پانچ یا سات وتر پڑھو۔ اور مغرب کی مشابہت نہ کرو۔“ [دار قطني نمبر 1634، ابن حبان 680، آثار السنن591، 596وغيره]

نوٹ :

اس کے برعکس بعض حضرات نے یہ فتوی دیا ہے کہ ایک رکعت وتر پڑھنا جائز نہیں۔ [دیکھئے علم الفقہ ص 186از عبدالشکور لکھنوی دیوبندی]
دیوبندیوں کے مفتی اعظم عزیز الرحمن (دیوبندی) نے فتویٰ دیا ہے کہ ”ایک رکعت وتر پڑھنے والے امام کے پیچھے نماز حتی الوسع نہ پرھیں۔ کیونکہ وہ غیر مقلد معلوم ہوتا ہے اور اس شخص کا امام بنانا اچھا نہیں ہے ؟“ [دیکھئے فتاویٰ دارالعلوم دیوبنج 3ص154 سوال نمبر 770، مکتبہ امداد یہ ملتان پاکستان]

حرمین شریفین میں بھی امام ایک رکعت وتر پڑھاتے ہیں۔ اب ان حجاج کرام کی نمازوں کا کیا ہو گا ؟ اور اس فتویٰ کی زد میں کون سی شخصیات آتی ہیں ؟

◈ جبکہ جناب خلیل احمد سہار نپوری (دیوبندی) صاحب انوار ساطعہ کے بدعتی مولوی پر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”وتر کی ایک رکعت احادیث صحاح میں موجود ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہما اس پر۔ اور امام مالک رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ، امام احمد رحمہ اللہ کا وہ مذھب۔ پھر اس پر طعن کرنا مؤلف کا ان سب پر طعن ہے۔ کہو اب ایمان کا کیا ٹھکانا۔“ [براهين قاطعه ص7]

یہ فریق مخالف کی کتب کے ہم حوالے اس لئے دیتے ہیں تاکہ ان پر حجت تمام ہو جائے اور ویسے بھی ہر فریق کے لئے اس کی کتاب یا اپنے اکابرین کی کتاب اس پر حجت ہے۔ [ديكهئے بخاري، 3635، مسلم : 1299] جب تک وہ اس سے برأت کا اظہار نہ کرے۔

جو حضرات تین وتر اکٹھے پڑھتے ہیں اور اصلاح کر لیں اور اپنے علماء سے اس کی دلیل طلب کریں کہ کون سی صحیح حدیث میں تین وتر اکٹھے پڑھنا آیا ہے۔ جن روایات میں ایک سلام سے تین رکعتوں کا ذکر آیا ہے وہ سب بلحاظ سند ضعیف ہیں۔ بعض میں قتادہ رحمہ اللہ مدلس ہے اور مدلس کی ”عن“ والی روایت صحیح نہیں ہوتی۔ جب تک وہ سماع کی صراحت نہ کرے یا پھر کوئی دوسرا ثقہ راوی اس کی متابعت نہ کرے (تاہم بعض صحابہ کرام سے تین وتر اکٹھے پڑھنا ثابت ہے ) یاد رہے کہ صحیحین میں تدلیس مضر نہیں وہ دوسرے طرق سے سماع پر محمول ہے۔ [ديكهئے خزائن السنن ص 1حصه اول، ازالة الريب 1237از جناب سرفراز خان صفدر ديوبندي، حقائق السنن ص 156، 161، وغيره]

تاہم اگر کوئی ان ضعیف روایات (اور آثار ) پر عمل کرنا چاہے تو دوسری رکعت میں تشہد کے لئے نہیں بیٹھے گا۔ بلکہ صرف آخری رکعت میں ہی تشہد کے لئے بیٹھے گا۔ جیسا کہ السنن الکبریٰ للبیہقی وغیرہ میں قتادہ کی روایت میں ہے۔ [زاد المعادص 330 ج 1] اور [مسند احمد ص 155 ج 5] والی روایت لا فصل فيهن یزید بن یعمر کے ضعف اور حسن بصری رحمہ اللہ کے عنعنہ (دو علتوں) کی وجہ سے ضعیف ہے۔

↰ دو تشہد اور تین وتر والی مرفوع روایت بلحاظ سند موضوع و باطل ہے۔ دیکھئے [الاستیعاب ص 471ج 4 ترجمہ ام عبد بنت اسود، میزان الاعتدال وغیرہ ہما]
اس کے بنیادی راوی حفص بن سلیمان القاری اور ابان بن ابی عیاش ہیں۔ دونوں متروک و معتہم ہیں۔ نیچے کی سند غائب ہے اور ایک مدلس کا عنعنہ بھی ہے۔ اتنے شدید ضعف کے باوجود ”حدیث و اہل حدیث“ کے مصنف نے اس موضوع (جھوٹی) روایت سے استدلال کیا ہے۔ دیکھئے [کتاب مذکور ص523، نمبر22 طبع مئی 1993ء تفصیل کے لئے دیکھیں ھدیۃ المسلمین ص56]

محترم بھائیو ! اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں سخت وعید فرمائی ہے۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ ”ان لوگوں کو ڈرنا چاہیئے جو آپ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں کہ کہیں ان پر فتنہ (شرک و کفر) اور دردناک عذاب آنہ جائے۔“ [سورة النور63] مومن کی تو یہ شان ہے کہ جب اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان آ جائے تو سر تسلیم خم کر دے۔ اس کا عمل اگر پہلے خلاف سنت تھا۔ تو اب دلیل مل جانے پر اپنے عمل کو حدیث، رسول کے مطابق کرے، یہ کیسی ہٹ دھرمی ہے کہ حدیث رسول کو اپنے پہلے سے طے شدہ اصول اور عمل کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا رہے ! [ماخوذ ازھدیہ المسلمین ص 54، از حافظ زبیر علی زئی]
↰ خود تو بدلتے نہیں حدیث کو بدل دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسی سوچ و فکر سے اپنی پناہ میں رکھے آمین۔

⓱ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
”میری تمام امت جنت میں داخل ہو گی سوائے اس کے جس نے انکار کر دیا۔“ کسی نے پوچھا: انکار کرنے والا کون ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ”جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا۔ اور جس نے میری نافرمانی کی تو اس نے میرا انکار کیا۔“ [صحيح بخاري 7680]

نیز فرمایا :
⓲ ”جس نے بھی میری سنت سے منہ موڑا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“ [بخاري 5023، مسلم : 1401]

⓳ ”جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اسے بجا لاؤ۔“ [بخاري : 7688، مسلم : 1337]

⓴ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا : ”نماز اس طرح پڑھو جس طرح مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھتے ہو۔“ [بخاري : 231]

21 : رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”جس نے ہماری طرح نماز پڑھی۔ ہمارے قبلہ کا رخ کیا اور ہمارا ذبیحہ کھایا تو وہ مسلمان ہے۔“ [بخاري : 391]

ایک دوسری روایت میں ہے۔
22 : ”مجھے اللہ نے حکم دیا کہ میں لوگوں کے ساتھ جنگ کروں جب تک لوگ اللہ کی وحدانیت کا اقرار کر لیں اور ہماری طرح نماز پڑھیں۔“ [بخاري396]

23 : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”میری سنت کو میرے خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لو۔“ [ ابوداؤد : 2607، الترمذي : 6276 وقال : حسن صحيح و صححه ابن حبان : 102 او الحاكم1؍95، 96 و وافقه الذهبي]

24 : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”آخری زمانہ میں دجال اور کذاب ہوں گے وہ تمہیں ایسی ایسی احادیث سنائیں گے جنہیں تم نے اور تمہارے آباو اجداد نے نہیں سنا ہو گا۔ لہذا ان سے اپنے آپ کو بچانا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں گمراہ کر دیں اور فتنہ میں ڈال دیں۔“ [مسلم : 7]

محترم بھائیو، بزرگو ! اپنی نمازوں کی اصلاح کیجئے اور امام الانبیاء رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی ”نماز محمدی“ کو سینے سے لگائیں۔ اسی میں دونوں جہانوں کی کامیابی ہے۔

25 : ”جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ عظیم کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔“ [الاحزاب : 71]

ورنہ یاد رکھیں :
26 : ”قیامت کے دن انسان اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔“ [بخاری : 3288مسلم : 2639]
وما علينا إلا البلاغ

 

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.