نماز میں قرآن کی آیات کا تصدیقی جواب

 از    January 13, 2015

سوال:    محترم زبیر علی زئی صاحب نماز میں قرآن کی چند آیات کا جواب دینا کیسا ہے ؟ جیساکہ احادیث میں ہے ، کیا یہ درست ہے اور ان کا جوا ب تمام مقتدیوں کو دینا چاہیے یا کہ صرف امام کو ؟ اور مقتدی اگر جوا ب دے تو وہ جہری طور پر دے یا دل میں؟               (ایک سائل)

الجواب:   صحیح مسلم میں ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب رات کی نماز میں تسبیح والی آیت پڑھتے توتسبیح فرماتے، جب دعا والی آیت پڑھتے تو دعا فرماتے اورجب تعوذ والی آیت پڑھتے تو آپﷺ اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگتے تھے۔ (ح ۷۷۲)

          امام ابن ابی شیبہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ابوموسیٰ اشعریؓ نے جمعہ کی نماز پڑھی۔ جب آپ نے ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی﴾ کی تلاوت کی تو کہا: “سبحان ربي الاعلیٰ” (المصنف لابن ابی شیبہ ۲/۵۰۸)

          تقریباً یہی عمل عمران بن حصین اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما وغیرہ سے ثابت ہے ۔ (ایضاً) لہٰذا امام کیلئے جائز ہے کہ جمعہ وغیرہ میں کسی آیت کی تلاوت کے بعد کبھی کبھار اس کا جوا ب بھی عربی زبان میں ہی جہراً یا سراً دے دے تا ہم مجھے ایسی کوئی دلیل نہیں ملی کہ مقتدی حضرات بھی آیات کا جوا ب دیں گے لہٰذا نمازیوں کو چاہئے کہ وہ حالت جہر میں امام کے پیچھے صرف سورۂ فاتحہ پڑھیں۔ واللہ أعلم  (شہادت فروری ۲۰۰۰؁ء) (۲۰ فروری ۲۰۰۷؁ء)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.