نماز میں عورت کی امامت

 از    July 20, 2014

جناب فضیلہ الشیخ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ۔          السلام علیکم ورحمۃ اللہ
ایک سوال درپیش ہے کہ کیا عورت عورتوں کی امامت یا عورتوں مردوں کی اکٹھی امامت کرا سکتی ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔جزا کم اللہ خیراً’’         [چوہدری محمد اکرم گجر جلال بلگن ضلع گوجرانوالہ]

الجواب:    اس مسئلے میں علماء کرام کا اختلاف ہے کہ کیا عورت نماز میں عورتوں کی امام بن سکتی ہے یا نہیں؟ ایک گروہ اس کے جواز کا قائل ہے۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ: ‘وکان رسول اللہ ﷺ یزورھا فی بیتھا وجعل لھا مؤذنا یؤذن لھا و أمرھا أن تؤ م اھل دارھا’’رسول اللہ ﷺ ان (ام ورقہ رضی اللہ عنہا) کی ملاقات کے لئے ان کے گھر جاتے، آپ نے ان کے لئے اذان دینے کے لئے ایک مؤذن مقرر کیا تھا اور آپ نے انہیں (ام ورقہ رضی اللہ عنہا کو ) حکم دیا تھا کہ انہیں(اپنے قبیلے یا محلے والیوں کو) نماز پڑھائیں۔ (سنن ابی داؤد ، کتاب الصلوۃ، باب امامۃ النساء ح ۵۹۶و عنہ البیھقی فی الخلافیات قلمی ص ۴ ب) یہ سند حسن ہے، اسے ابن خزیمہ (۱۶۷۶)اور ابن الجارود (المنتقی:۳۳۳) نے صحیح قرار دیا ہے۔

اس حدیث کا بنیادی راوی ولید بن عبداللہ بن جمیع: صدوق ، حسن الحدیث ہے۔(تحریر تقریب التہذیب: ۷۴۳۲) یہ صحیح مسلم و غیرہ کا راوی اور جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہے لہذا اُس پر جرح مردود ہے۔ولید کا استاد عبدالرحمن بن خلاد: ابن حبان، ابن خزیمہ اور ابن الجارود کے نزدیک ثقہ و صحیح الحدیث ہے لہذا اُس پر ‘‘حالہ مجھول’’ والی جرح مردود ہے۔

لیلی بنت مالک(ولید بن جمیع کی والدہ) کی توثیق ابن خزیمہ اور ابن الجارود نے اس کی حدیث کی تصحیح کر کے ، کر دی ہے  لہذا اس کی حدیث بھی حسن کے درجہ سے نہیں گرتی۔

اس حدیث کا مفہوم کیا ہے؟ اس کے لئے دو اہم باتیں مد نظر رکھیں۔ 

 اول:     حدیث حدیث کی شرح و تفسیر بیان کرتی ہے، اس کے لئے حدیث کی تمام سندوں اور متون کو جمع کر کے مفہوم سمجھا جاتا ہے۔   

دوم:     سلف صالحین (محدثین کرام، روایانِ حدیث) نے حدیث کی جو تفسیر اور مفہوم بیان کیا ہوتا ہے اُسے ہمیشہ مد نظر رکھا جاتا ہے، بشرطیکہ سلف کے مابین اس مفہوم پر اختلاف نہ ہو۔

اُم ورقہ رضی اللہ عنہا والی حدیث پر امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (متوفی ۳۱۱ھ) نے درج ذیل باب باندھا ہے۔

‘باب إمامۃ المرأۃ النساء فی الفریضۃ’ (صحیح ابن خزیمہ۳؍۸۹ح۱۶۷۶)

امام ابو بکر بن المنذر النیسا بوری رحمہ اللہ (متوفی ۳۱۸ھ) فرماتے ہیں: ‘‘ذکر إمامۃ المرأ ۃ النساء فی الصلوات المکتوبۃ’’ (الاوسط فی السنن و الاجماع و الاختلاف ج ۴ ص ۲۲۶)
   
    ان دونوں محدثین کرام کی تبویب سے معلوم ہوا کہ اس حدیث میں ‘‘اھل دارھا’’ سے مراد عورتیں ہیں مرد نہیں ہیں، محدثین کرام میں اس تبویب پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔

امام ابو الحسن الدارقطنی رحمہ اللہ(متوفی ۳۸۵ھ) فرماتے ہیں:‘‘حدثنا أحمد بن العباس البغوی: ثنا عمر بن شبہ: (ثنا) أبو أحمد الزبیری: نا الولید بن جمیع عن أمہ عن أم ورقۃ أن رسول اللہ ﷺ أذن لھا أن یؤذن لھا و یقام و تؤم نساء ھا’’بے شک رسول  ﷺ نے ام ورقہ (رضی اللہ عنہا) کو اس کی اجازت دی تھی کہ ان کے لئے اذان اور اقامت کہی جائےا ور وہ اپنی (گھر ، محلے کی)عورتوں کی (نماز میں) امامت کریں۔(سنن دار قطنی ج ۱ص۲۷۹ح ۱۰۷۱ و سندہ حسن، وعنہ ابن الجوزی فی التحقیق مع التنقیح ۱؍۲۵۳ح۴۲۴وضعفہ، دوسرا نسخہ ۱؍۳۱۳ح ۳۸۷ ، اتحاف المھرہ لابن حجر ۱۸؍۳۲۳)

اس روایت کی سند حسن ہے اور اس پر ابن الجوزی کی جرح غلط ہے۔ابو احمد محمد  بن عبداللہ بن الزبیر الزبیری صحاح ستہ کا راوی اور جمہور کے نزدیک ثقہ ہے لہذا صحیح الحدیث ہے۔

امام یحیی بن معین نے کہا: ثقہ، ابو زرعہ نے کہا: صدوق ، ابو حاتم رازی نے کہا: حافظ للحدیث عابد مجتھد لہ أوھام(الجرح و التعدیل۷؍۲۹۷)عمر بن شبہ: صدوق لہ تصانیف(تقریب التہذیب : ۴۹۱۸) بلکہ ثقہ ہے۔ (تحریر تقریب التہذیب ۳؍۷۵) حافظ ذہبی نے کہا: ثقۃ(الکاشف۲؍۲۷۲)أحمد بن العباس البغوی: ثقہ ہے۔ (تاریخ بغداد۴؍۳۲۹ت ۲۱۴۴)

اس تفصیل سے معلوم ہوا  کہ یہ سند حسن لذاتہ ہے۔ اس صحیح روایت نے اس بات کا قطعی فیصلہ کر دیا کہ ‘‘ أھل دارھا’’ سے مراد  ام  ورقہ رضی اللہ عنہا کے گھر، محلے اور قبیلے کی عورتیں ہیں، مرد مراد نہیں ہیں۔

[تنبیہ: اس سے معلوم ہوا کہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے ان کا مؤذن نماز نہیں پڑھتا تھا]

یہاں یہ بات حیرت انگیز ہے کہ کوئی پروفیسر خورشید عالم نامی(؟) لکھتے ہیں:
‘‘ یہ دار قطنی کے اپنے الفاظ ہیں حدیث کے الفاظ نہیں ، یہ ان کی اپنی رائے ہے۔ سنن دار قطنی کے علاوہ حدیث کی کسی کتاب میں یہ اضافہ نہیں، اس لئے اس اضافے کو بطورِ دلیل پیش نہیں کیا جا سکتا’’۔(اشراق ۱۷/۵ مئی ۲۰۰۵ص۳۸ ، ۳۹)

حالانکہ آپ نے ابھی پڑھ لیا ہے کہ یہ حدیث کے الفاظ ہیں، دار قطنی کے اپنے الفاظ نہیں ہیں بلکہ راویوں کی بیان کردہ روایت کے الفاظ ہیں۔ انہیں امام دار قطنی رحمہ اللہ کی ‘‘اپنی رائے’’ کہنا غلط ہے۔ جن لوگوں کو روایت اور رائے میں فرق معلوم نہیں ہے وہ کس لئے مضامین لکھ کر امت مسلمہ میں اختلاف و انتشار پھیلانا چاہتے ہیں؟رہا یہ مسئلہ کہ یہ الفاظ سنن دار قطنی کے علاوہ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہیں تو عرض ہے کہ امام دار قطنی ثقہ و قابل اعتماد امام ہیں۔

شیخ الاسلام ابو الطیب طاہر بن عبداللہ الطبری (متوفی ۴۵۰ھ) نے کہا:‘‘کان الدار قطنی أمیر المؤمنین فی الحدیث’’ (تاریخ بغداد ۱۲/۳۶ت ۶۴۰۴)

خطیب بغدادی رحمہ اللہ (متوفی ۳۶۳ھ) نے کہا:
‘‘ وکان فرید عصرہ و قریع دھرہ و نسیج وحدہ و إمام وقتہ، انتھی إلیہ علم الأثر و المعرفۃ بعلل الحدیث و أسماء الرجال و أحوال الرواۃ مع الصدق و الأمانۃ و الفقہ و العدالۃ (و فی تاریخ دمشق عن الخطیب قال: و الثقۃ و العدالتہ، ۴۶/۴۷) وقبول الشھادۃ وصحۃ الإعتقاد و سلامۃ المذھب۔۔’ (تاریخ بغداد ۱۲/۳۴ت۶۴۰۴)

حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا:
‘‘الإمام الحافظ المجود شیخ الإسلام علم الجھابذہ’’ (سیر اعلام النبلاء ۱۶؍۴۴۹)

اس جلیل القدر امام پر متاخر حنفی فقیہ محمود بن احمد العینی(متوفی ۸۵۵ھ) کی جرح مردود ہے۔ عبدالحئ لکھنوی حنفی اس عینی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ :‘‘ ولو لم یکن فیہ رائحۃ التعصب المذھبي لکان أجو دو أجود’’
اگر اس میں مذہبی (یعنی حنفی) تعصب کی بدبو نہ ہوتی تو بہت ہی اچھا ہوتا(الفوائد البہیہ ص ۲۰۸)

تنبیہ:     امام دار قطنی رحمہ اللہ تدلیس کے الزام سے بری ہیں، دیکھئے میری کتاب الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین (۱۹؍۱)

جب حدیث نے بذاتِ خود حدیث کا مفہوم متعین کر دیا ہے اور محدثین کرام بھی اس حدیث سے عورت کا عورتوں کی امامت کرانا ہی سمجھ رہے ہیں  تو پھر لغت اور الفاظ کے ہیر پھیر کی مدد سے عورتوں کو مردوں کا امام بنا دینا کس عدالت کا انصاف ہے؟ ابن قدامہ لکھتے ہیں: ‘‘وھذہ زیادۃ یجب قبولھا’ اور اس زیادت (نساء ھا) کا قبول کرنا واجب ہے۔(المغنی۲؍۱۶م ۱۱۴۰)

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ آثار سلف صالحین سے عورت کا عورتوں کی امامت کرانا ہی ثابت ہوتا ہے۔ عورت کا مردوں کی امامت کرانا یہ کسی اثر سے ثابت نہیں ہے۔

ریطہ الحنفیہ (قال العجلی: کوفیۃ تابعیۃ ثقۃ)سے روایت ہے کہ:‘‘ أمتنا عائشۃ فقامت بینھن فی الصلوۃ المکتوبۃہمیں  عائشہ (رضی اللہ عنہا) نے فرض نماز پڑھائی تو آپ عورتوں کے درمیان میں کھڑی ہوئیں۔(سنن دار قطنی ۱؍۴۰۴ح۱۴۲۹، وسندہ حسن، وقال النیموی فی آثار السنن: ۵۱۴‘‘وإسنادۃ صحیح’’ و انظر کتابی أنوار السنن فی تحقیق آثار السنن ق ۱۰۳)

امام شعبی رحمہ اللہ (مشہور تابعی) فرماتے ہیں کہ: ‘تؤم المرأ النساء فی صلوۃ رمضان تقوم معھن فی صفھن’’عورت عورتوں کو رمضان کی نماز پڑھائے (تو)وہ ان کے ساتھ صف میں کھڑی ہو جائے۔(مصنف ابن ابی شیبہ۲؍۸۹ح۴۹۵۵وسندہ صحیح، عنعتہ ھشیم عن حصین محمولۃ علی السماع ، انظر شرح علل الترمذی لابن رجب ۲؍۵۶۲و الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین لراقم الحروف ۱۱۱؍۳)

ابن جریج نے کہا:     ‘‘تؤم المرأۃ النساء فی رمضان و تقوم معھن فی الصف’’ عورت عورتوں کو رمضان میں نماز پڑھائے اور وہ اُن کے ساتھ صف میں کھڑی ہو۔ (مصنف عبدالرزاق ۳/۱۴۰ ح ۵۰۸۵و سندہ صحیح)

معلوم ہوا کہ اس پر سلف صالحین کا اجماع ہے کہ عورت جب عورتوں کو نماز پڑھائے گی تو صف سے آگے نہیں بلکہ صف میں ہی اُن کے ساتھ برابر کھڑی ہو کر نماز پڑھائے گی۔

مجھے ایسا ایک حوالہ بھی باسند نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ سلف صالحین کے سنہری دور میں کسی عورت نے مردوں کو نماز پڑھائی ہو یا کوئی مستند عالم اس کے جواز کا قائل ہو۔ [اسی طرح کسی روایت میں ام ورقہ رضی اللہ عنہا کے مؤذن کا اُن کے پیچھے نماز پڑھنا قطعاً ثابت نہیں]

ابن رشد(متوفی ۵۱۵ھ) وغیرہ بعض متاخرین نے بغیر کسی سند و ثبوت کے یہ لکھا ہے کہ ابو ثور (ابراہیم بن خالد، متوفی ۲۴۰ھ) اور محمد بن جریر) الطبری (متوفی ۳۱۰ھ) اس بات کے قائل ہیں کہ عورت مردوں کو نماز پڑھا سکتی ہے (دیکھئے بدایۃ المجتہدج ۱ص ۱۴۵، المغنی فی فقہ الإمام احمد ۲/۱۵ مسئلہ:۱۱۴۰) چونکہ یہ حوالے بے سند ہیں لہذا مردود ہیں۔


خلاصۃ التحقیق: عورت کا نماز میں عورتوں کی امامت کرانا جائز ہے مگر وہ مردوں کی امام نہیں بن سکتی.

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.