نماز فجر کا مسنون وقت

 از    November 23, 2014

‘‘عن زید بن ثابت: أنھم تسحروا مع النبی ﷺ ثم قامو إلی الصلوٰۃ، قلت: کم بینھما ؟ قال: قدر خمسین أو ستین، یعنی آیۃ
زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ سحری کا کھانا کھایا۔ پھر آپ اور آپ کے ساتھی (فجر کی نماز) کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ، میں (قتادہ تابعی) نے ان  (انس ؓ ) سے کہا: سحری اور نماز کے درمیان کتنا وقفہ ہوتا  تھا؟ تو انہوں نے کہا: پچاس یا ساٹھ آیات ( کی تلاوت) کے برابر۔[صحیح البخاری: ۱؍۸۱ح۵۷۵، و اللفظ لہ، صحیح مسلم: ۱؍۳۵۰]
فوائد:
۱: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فجر کی نماز جلدی اور اندھیرے میں پڑھنی چاہیئے۔
صحیح البخاری (۱؍۸۲ ح ۵۷۸) و صحیح مسلم(۱؍۲۳۰ح ۲۴۵) کی حدیثِ عائشہ ؓ میں لکھا ہوا ہے کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھتی تھیں، جب نماز ختم ہو جاتی تو اپنے گھروں کو چلی جاتیں اور اندھیرے میں کوئی شخص بھی ہمیں اور نساء المومنین (مومنین کی عورتوں) کو پہچان نہیں سکتا تھا۔
۲: ترمذی کی جس روایت میں آیا ہے: أسفر و ا بالفجر فإنہ أعظم للأجر
فجر کی نماز اسفار(جب روشنی ہونے لگے) میں پڑھو کیونکہ اس میں بڑا اجر ہے۔ (ح ۱۵۴)

وہ اس حدیث کی رو سے منسوخ ہے جس میں آیا ہے کہ: 

نبی ﷺ وفات تک فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھتے  رہے ہیں۔ حدیث میں آیا ہے:‘‘ ثم کانت صلوٰتہ بعد ذالک التغلیس حتیٰ مات ولم یعد إلیٰ  أن یسفر’’
پھر آپ ﷺکی نماز (فجر) وفات تک اندھیرے میں تھی اور آپ نے (اس دن کے بعد) کبھی روشنی میں نماز نہیں پڑھی۔[سنن ابی داود:۱ ؍۲۳ح ۳۹۴ وسندہ صحیح ، و الناسخ و المنسوخ للحازمی ص ۷۷]

اسے ابن خزیمہ(ج۱ص ۱۸۱ح ۳۵۲) ، ابن حبان (الاحسان: ج۳ص ۵ح ۱۴۴۶)، الحاکم ( ۱؍۱۹۲، ۱۹۳) اور خطابی نے صحیح قرار دیا ہے، اسامہ بن زید اللیثی کی حدیث حسن درجے کی ہوتی ہے۔ دیکھئے سیر اعلام النبلاء (۲؍۳۴۳) وغیرہ ، یعنی اسامہ مذکور حسن الحدیث روای ہے۔
۳: سیدنا عمر ؓ نے فرمایا: ‘وصل الصبح و النجوم بادیۃ مشتبکۃ’’ إلخ اور صبح کی نماز اس وقت پڑھو جب ستارے صاف ظاہر اور باہم الجھے ہوئے ہوں۔ (موطأ امام مالک ۱؍۷ح ۶ و سندہ صحیح)

ایک روایت میں آیا ہے کہ سیدنا عمر ؓ نے فرمایا: ‘‘ و الصبح بغلس’’ اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھو۔ (السنن الکبریٰ للبیہقی ۱؍۴۵۶وسندہ حسن، حارث بن عمر و الہذلی لا ینزل حدیثہ عن درجۃ الحسن)

اس فاروقی حکم کے برعکس دیوبندی و بریلوی حضرات سخت روشنی میں صبح کی نماز پڑھتے ہیں اور پھر یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ‘‘ ہم خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرتے ہیں۔ ’’ سبحان اللہ !
۴:امام ترمذی فرماتے ہیں: ‘ وھو الذی اختارہ غیر واحد من أھل العلم من أصحاب النبی ﷺ منھم أبو بکر و عمر و من بعد ھم من التابعین، وبہ یقول الشافعی و أحمد و إسحاق یستحبون التغلیس بصلوٰۃ الفجر’’نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کئی نے اسے اختیار کیا ہے، ان میں ابو بکر و عمر ؓ اور ان کے بعد کے تابعین ہیں۔ شافعی ، احمد اور اسحاق (بن راہویہ) کا یہی قول ہے۔ یہ فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ (سنن الترمذی تحت ح ۱۵۳)
تنبیہ: اس سلسلے میں سیدنا ابو بکر ؓ  کا صریح عمل با سند صحیح نہیں ملا۔ نیز دیکھئے شرح معانی الآثار للطحاوی (۱؍۱۸۱ ، ۱۸۲) واللہ اعلم
۵: سیدنا ابو موسیٰ الاشعری اور سیدنا عبداللہ بن الزبیر ؓ صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے تھے۔ دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (۱؍۳۲۰ح ۳۲۳۹و سندہ صحیح، ح ۳۲۴۰ و سندہ صحیح)

خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے حکم جاری کیا کہ فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھو۔ دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ (۱؍۳۲۰ح ۳۲۳۷و سندہ صحیح)

۶:سیدنا عمر ؓ نے سیدنا ابو موسیٰ الاشعری ؓ  کو حکم  دیا کہ صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھو اور لمبی قراءت کرو۔ (الاوسط لابن المنذر ۲؍۳۷۵ و سندہ صحیح ، و شرح معانی الآثار ۱؍۱۸۱، مصنف ابن ابی شیبہ ۱؍۳۲۰ح ۳۲۳۵)
بہتر یہی ہے کہ صبح کی نماز اندھیرے میں شروع کی جائے اور اس میں لمبی قراءت کی جائے۔

ہمارے ہاں دیوبندی  حضرات صبح کی نماز رمضان میں سخت اندھیرے میں پڑھتے ہیں، اور باقی مہینوں میں خوب روشنی کر کے پڑھتے ہیں، پتا نہیں فقہ کا وہ کون سا کلیہ یا جزئیہ ہے جس سے وہ اس تفریق پر عامل ہیں، چونکہ سحری کے بعد سونا ہوتا ہے اس لئے وہ فریضہ نماز جلدی ادا کرتے ہیں۔ یہ عمل وہ اتباع سنت کے جذبہ سے نہیں کرتے کیونکہ بدعتی شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب محمد ﷺ کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق ہی نہیں دیتا۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.