نماز عصر کا وقت

 از    October 28, 2014

تحریر:حافظ زبیر علی زئی

حدیث : ((وعن ابن عباس رضي اللہ عنھما أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: أمني جبریل عند البیت مرتین….ثم صلی العصر حین کان کل شئ مثل ظلہ…..))إلخ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جبریل      نے بیت اللہ کے قریب مجھے دو دفعہ نماز پڑھائی …. پھر انہوں نے عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہوگیا.…. الخ (جامع الترمذی: ۳۸/۱ ،۳۹ ح ۱۴۹ وقال:”حدیث ابن عباس حدیث حسن”) اس روایت کی سند حسن ہے، اسے ابن خزیمہ (ح ۳۵۲) ابن حبان (ح ۲۷۹) ابن الجارود (ح۱۴۹) الحاکم (ج۱ ص ۱۹۳) ابن عبدالبر، ابوبکر بن العربی اور النووی وغیرہم نے صحیح کہا ہے ۔ (نیل المقصود فی التعلیق علی سنن ابی داؤد ح ۳۹۳) امام بغوی اور نیموی حنفی نے حسن کہا ہے ۔ (آثار السنن ص ۸۹ ح ۱۹۴)

فوائد:
۱:        اس روایت اور دیگر احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ عصر کا وقت ایک مثل پر شروع ہوجاتا ہے ، ان احادیث کے مقابلے میں کسی ایک بھی صحیح یاحسن روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عصر کا وقت دو مثل سے شروع ہوتا ہے ۔
۲:        عصر کے وقت ایک مثل پر شروع ہوجاتا ہے ، یہ ائمہ ثلاثہ (مالک ، شافعی ، احمد) اور قاضی ابو یوسف ، محمد بن حسن الشیبانی وغیرہ کا مسلک ہے ۔ دیکھئے رشید احمد گنگوہی کے افادیت والی کتاب “الکوکب الدری” (ج۱ ص ۹۰ حاشیہ) اور الاوسط لابن المنذر (۳۲۹/۲)
۳:       سنن ابی داود کی ایک روایت ہے :”آپ عصر کی نماز دیر سے پڑھتے تاآنکہ سورج صاف اور سفید ہوتا” (۶۵/۱ح ۴۰۸)
یہ روایت بلحاظ سند سخت ضعیف ہے ، محمد بن یزید الیمامی اور اس کا استاد یزید بن عبدالرحمٰن دونوں مجہول ہیں، دیکھئے تقریب التہذیب (۶۴۰۴، ۷۷۴۷) لہذا ایسی ضعیف روایت کو ایک مثل والی صحیح احادیث کے خلاف پیش کرنا انتہائی غلط و قابلِ مذمت ہے۔
۴:       سیدنا ابوہریرہؓ کے قول: “جب دومثل ہوجائے تو عصر پڑھ” کا مطلب یہ ہے کہ دو مثل تک عصر کی (افضل) نماز پڑھ سکتے ہو۔ دیکھئے التعلیق الممجد (ص ۴۱ حاشیہ: ۹) اور سابق حدیث:۶ (الحدیث:۲۴ ص ۶۵)
۵:       ایک حدیث میں آیا ہے کہ یہودیوں نے دوپہر (نصف النہار) تک عمل کیا، عیسائیوں نے دوپہر سے عصر تک عمل کیا اور مسلمانوں نے عصر سے مغرب تک عمل کیا تو مسلمانوں کو دوہرا اجر ملا۔ (دیکھئے صحیح البخاری: ۵۵۷) بعض لوگ اس سے استدلال کرکے عصر کی نماز لیٹ پڑھتے ہیں حالانکہ مسلمانوں کا دوہرا اجر (رسول اللہ ﷺ سے پہلے گزرنے والے) تمام یہود و نصاریٰ کے مجموعی مقابلے میں ہے۔ یاد رہے کہ حضرو کے دیوبندی “دائمی نقشہ اوقاتِ نماز” کے مطابق سال کے دو سب سے بڑے اور سب سے چھوٹے دِنوں کی تفصیل (حضرو کے وقت کے مطابق) درج ذیل ہے:
]۲۲ جون[          دوپہر ۱۱۔ ۱۲         مثل اول ۵۶۔۳      (فرق۴۵۔۳)       غروبِ آفتاب ۲۴۔۷ (فرق ۲۸۔۳)
]۲۲ دسمبر[         دوپہر ۰۸۔۱۲        مثل اول ۴۷۔۲      (فرق ۳۹۔۲)       غروبِ آفتاب ۰۵۔۵  (فرق ۱۸۔۲)

اس حساب سے بھی عصر کا وقت ظہر کے وقت سے کم ہوتا ہے لہذا اس حدیث سے بعض الناس کا استدلال مردود ہے۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.