نمازِ جمعہ سے پہلے اور بعد نماز

 از    April 14, 2015

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری

                نماز جمعہ سے پہلے ادا کی جانے والی نماز کی تعداد رکعات متعین اور مقرر نہیں ، پہلے آنے والا جتنی چاہے عبادت کرسکتا ہے ۔

  • سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا :

((من اغتسل ثمّ أتی الجمعۃ فصلّٰی ما قدر لہ ثم أنصت حتّٰی یفرغ الامام من خطبتہ، ثمّ یصلّی معہ غفرلہ ما بینہ و بین الجمعۃ الأخرٰی و فضل ثلاثۃ أیام))

        “جس نے غسل کیا، پھر نمازِ جمعہ کے لئے آیا ، نماز پڑھی جتنی اس کے مقدر میں تھی ، پھر خاموش رہا یہاں تک کہ امام اپنے خطبہ سے فارغ ہوگیا ، اس کے بعد امام کے ساتھ نمازِ جمعہ ادا کی ، اس جمعہ سے لیکر اگلے جمعہ تک اور تین دن کے مزید اس کے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔”    (صحیح مسلم : ۸۵۸)

(۲) سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

        ((من اغتسل یوم الجمعۃ وتطھر بما استطاع من طھر، ثم ادّھن أو مسّ من طیب ، ثم راح فلم یفرق بین اثنین، فصلّٰی ما کتب لہ ، ثمّ اذا خرج الامام أنصت ، غفرلہ ما بینہ و بین الجمعۃ الأخرٰی))

        “جس نے جمعہ کے دن غسل کیا ، بقدرِ استطاعت طہارت حاصل کی ، پھر تیل یا خوشبو لگائی ، پھر جمعہ کے لئے چل دیا ، دو آدمیوں کے درمیان تفرق نہیں ڈالی (یعنی دو اکٹھے بیٹھے ہوئے آدمیوں کے درمیان سے گھس کر آگے نہیں بڑھا) ، پھر نماز پڑھی جو اس کے مقدر میں لکھ دی گئی تھی ، جب امام نکلا (جمعہ کیلئے) تو وہ خاموش رہا،  اس جمعہ سے لیکر سابقہ جمعہ کے درمیان جو اس نے (صغیرہ) گناہ کئے ، وہ بخش دیئے جاتے ہیں۔” (صحیح بخاری : ۹۱۰)

        ان احادیث سے ثابت ہو ا کہ نماز جمعہ سے پہلے تعدادِ رکعات متعین نہیں ہے ، جتنی جی چاہے پڑھے ۔

حافظ ابن المنذر رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں۔     (الأوسط : ۵۰/۴)

(۳) نافع کہتے ہیں:

        ((کان ابن عمر یطیل الصّلاۃ قبل الجمعۃ و یصلّی بعدھا رکعتین فی بیتہ و یحدث أنّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یفعل ذٰلک))

        “سیدنا ابن عمر نماز جمعہ سے پہلے لمبی نماز پڑھتے ، جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے اور بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کا بھی یہی عمل تھا۔ ”        (سنن أبی داؤد: ۱۱۲۸ ، وسندہ صحیح)

(۴) جبلہ بن سحیم کہتے ہیں:

        أنہ کان یصلّی قبل الجمعۃ أربعاً، لا یفصل بینھن بسلام، ثم بعد الجمعۃ رکعتین ، ثم أربعاً

        “سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے ، ان کے درمیان سلام کے ساتھ فاصلہ نہیں کرتے تھے، پھر جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ ”             (شرح معانی الآثار : ۳۳۵/۱، وسندہ صحیح )

(۵) عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کرتے ہیں:

        أنّہ کان یصلّی قبل الجمعۃ ثمان رکعات، ثم یجلس فلا یصلی شیئاً حتٰی ینصرف.

        “آپ جمعہ کو آنے سے پہلے آٹھ رکعتیں پڑھتے ، پھر بیٹھ جاتے ، واپسی تک کچھ نہ پڑھتے۔”   (الأوسط : ۹۷/۳، ح :۱۸۴۴  و سندہ حسن)

        سلم بن بشیر کی امام یحییٰ بن معین (الجرح و التعدیل : ۲۶۶/۴، وسندہ حسن) اور امام ابن حبان نے توثیق کی ہے ، لہٰذا “حسن الحدیث” ہے۔

(۶)  أبو عبدالرحمٰن السلمی کہتے ہیں:

        کان ابن مسعود یأمرنا أن نصلّی قبل الجمعۃ أربعاً و بعدھا أربعاً.

        “سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمیں جمعہ سے پہلے اور بعد میں چار چار رکعت ادا کرنے کا حکم دیتے تھے۔”  (الأوسط لابن المنذر : ۱۸۸۰ ، وسندہ حسن )

        سفیان نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے اور عطا بن السائب سے قبل الاختلاط  روایت لی ہے ۔

        صافیہ کہتی ہیں:

        رأیت صفیۃ بنت حیّییّ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنھا صلت أربع رکعات قبل خروج الامام للجمعۃ.

        “میں نے سیدہ صفیہ بنت حییٔ کو امام کے جمعہ کیلئے نکلنے سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے دیکھا۔”

                                                                                        (طبقات ابن سعد ؛ نصب الرّایۃ : ۲۰۷/۲)

        اس کی سند “ضعیف ” ہے ، صافیہ کے حالات نہیں ملے۔

(۷) نافع کہتے ہیں:

        کان ابن عمر یھجر یوم الجمعۃ، فیطیل الصّلوٰۃ قبل أن یخرج الامام.

        “سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ کے دن جلدی آتے اور امام کے نکلنے سے پہلے لمبی نماز پڑھتے تھے۔”          (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۳۱/۲ ، وسندہ صحیح)

(۸) عمران بن حدیر کہتے ہیں:

        أنہ کان یصلی فی بیتہ رکعتین یوم الجمعۃ.

        “آپ جمعہ کے دن اپنے گھر میں دو رکعتیں ادا فرماتے ۔” ( مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۳۱/۲ ، وسندہ صحیح)

(۹)  عبداللہ بن طاوٗس اپنے باپ کے بارے میں بیان کرتے ہیں:

أنّہ کان لایأتی المسجد یوم الجمعۃ حتّٰی یصلی فی بیتہ رکعتین.

        “آپ جمعہ کے دن گھر میں دو رکعتیں پڑھنے سے پہلے مسجد نہ آتے تھے۔”         (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۳۱/۲ ، و سندہ حسن)

امام سفیان ثوری اور امام عبداللہ بن مبارک جمعہ سے پہلے اور جمعہ کے بعد چار رکعتوں کے قائل ہیں۔     (جامع الترمذی: تحت حدیث : ۵۲۳)

                                (۱۰)        امام عبدالرزاق بھی اسی کے قائل ہیں۔         (مصنف عبدالرزاق : ۲۴۷/۳)

 عقبہ بن علقمہ کہتے ہیں کہ میں امام اوزاعی کو جمعہ کے لئے جاتے ہوئے مسجد کے دروازے پر ملا ، ان کو سلام کہا اور اور ان کے پیچھے پیچھے گیا ، میں نے امام کے نکلنے سے پہلے ان کی نماز شمار کی ، وہ چونتیس رکعات تھیں، آپ کا قیام ، رکوع اور سجود سب بہترین تھے۔”  (تقدمۃ الجرح و التعدیل :

۲۱۸ ، وسندہ حسن)

نبی کریم ﷺ سے نمازِ جمعہ سےپہلے کچھ پڑھنا ثابت نہیں ہے 

۱)            سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں:

                کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یرکع قبل الجمعۃ أربعاً (زاد الطبرانی ؛ وبعدھا أربعاً) ،لا یفصل فی شیء منھنّ.

                “نبی کریم ﷺ جمعہ سے پہلے (اور بعد) چار رکعتیں پڑھتے ، درمیان میں کوئی فاصلہ نہ کرتے ۔”          (سنن ابن ماجہ: ۱۱۲۹، المعجم الکبیر للطبرانی : ۱۰۱/۱۲ ، ح : ۱۲۶۷۴)

                اس کی سند سخت ترین “ضعیف” ہے ، کیونکہ:

۱)            اس میں مبشر بن عبید راوی “ضعیف و متروک” ہے ۔      (۲) حجاج بن أرطاۃ “ضعیف و مدلس” ہے۔

۳)           عطیہ العوفی “ضعیف ” ہے ۔        (۴) بقیہ بن ولید “تدلیس التسویہ” کا مرتکب ہے ۔

                حافظ نووی نے اس حدیث کو باطل (جھوٹی) قرار دیا ہے ۔(              (خلاصۃ الأحکام : ۸۱۳/۲)

حافظ ابن قیم الجوزیہ لکھتے ہیں:

                ھٰذا الحدیث فیہ عدۃ بلایا .             “اس حدیث میں کئی مصیبتیں ہیں”۔ (زاد المعاد : ۱۷۰/۱)

                حافظ ابن حجر کہتے ہیں:                واسنادہٗ ضعیف جدّاً.     “اس کی سند سخت ترین ضعیف ہے۔”           (التلخیص الحبیر  : ۷۴/۲)

زیلعی حنفی لکھتے ہیں:     وسندہ واہ جدّاً فمبشر بن عبید معدود فی الوضاعین ، وحجاج و عطیۃ ضعیفان.

                “اس کی سند سخت ترین ضعیف ہے ، مبشر بن عبید راوی کا شمار احادیث گھڑنے والوں میں کیا گیا ہے ، نیز حجاج (بن أرطاۃ) اور عطیہ (العوفی ) دونوں ضعیف ہیں۔”                (نصب الرایۃ : ۲۰۶/۲)

ظفر احمد تھانوی دیوبندی صاحب نے لکھا ہے:

وکلام الھیثمی مشعر بأ ن لیس فی سند الطبرانی أحد غیرھما متکلم فیہ.

“علامہ ہیثمی کے کلام سے پتہ چلتا ہے کہ طبرانی کی سند میں ان دونوں  (حجاج بن أرطاۃ اور عطیہ العوفی ) کے علاوہ کوئی متکلم فیہ راوی نہیں۔”                (اعلاء السنن : ۱۸۶۲)

                جبکہ واضح ہے کہ طبرانی کی سند میں مبشر بن عبید “متروک اور وضاع” راوی موجود ہے ، لہٰذا بعض الناس کا اس کی سند کو “حسن” کہنا نری جہالت ہے ، یاد  رہے کہ بقیہ بن ولید جمہور کے نزدیک “ثقہ” ہے ، صرف ان پر “تدلیسِ تسویہ” کا الزام ہے ۔

۲)           سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

                کان سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی قبل الجمعۃ أربعاً و بعدھا أربعاً یجعل التسلیم فی آخرھن رکعۃ.

                “رسول اللہ ﷺ جمعہ سےپہلے اور بعد میں چار چار رکعتیں پڑھتے ، سلام آخری رکعت میں ہی پھیرتے ”             (المعجم الأوسط للطبرانی  : ۳۶۸/۲ ، ح : ۱۶۴۰ ، المعجم لابن الأعرابی: ۸۷۳)

اسکی سند ضعیف ہے ، کیونکہ :

۱:             اس میں أبو اسحٰق السبیعی راوی “مدلس و مختلط”ہے۔

۲:            محمد بن عبدالرحمٰن السہمی “متکلم فیہ” راوی ہے۔

                اس کے بارے میں امام بخاریؒ فرماتے ہیں:    ولا یتابع علیہ. “اس کی حدیث پر اس کی متابعت نہیں کی گئی ۔”           (التاریخ الکبیر : ۱۶۲/۱)

                امام ابو حاتم الرازی کہتے ہیں:        لیس بمشھور. “یہ مشہور نہیں تھا۔”               (الجرح و التعدیل: ۳۲۶/۷)

                امام یحییٰ بن معین نے اسے “ضعیف ” کہا ہے ۔               (لسان المیزان : ۲۴۵/۵)

۳:            سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ سے پہلے اور بعد میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔   (کشف الأستار فی زوائد البزار : ۳۴۱/۲ ، تاریخ بغداد : ۳۶۵/۶)

اس کی سند سخت ترین “ضعیف ” ہے ۔ اس میں الحسن بن قتیبہ الخزاعی راوی ہے ، اس کو امام دارقطنی نے “متروک الحدیث” کہا ہے ۔ (العلل : ۳۴۷/۵) نیز “ضعیف ” بھی کہا ہے ۔ (سنن دار قطنی : ۷۸/۱ ، العلل : ۱۲۹/۷) ، امام ابوحاتم کہتے ہیں: لیس بقویّ الحدیث ، ضعیف الحدیث . (الجرح و التعدیل : ۳۳/۳)

                حافظ عقیلی نے “کثیر الوہم” کہا ہے ۔(الضعفاء : ۲۴۱/۱) ذہبی نے “ھالک” کہا ہے ۔ (المیزان: ۵۱۹/۱)

اس میں سفیان کی “تدلیس” بھی ہے ، نیز اسحٰق بن سلیمان البغداد ی کی “توثیق” مطلوب ہے ۔

۴:            عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی قبل الجمعۃ و بعدھا أربعاً.

                “رسول اللہ ﷺ جمعہ سے پہلے اور بعد چار کعتیں پڑھتے تھے۔”    (المعجم الأوسط للطبرانی : ۳۹۷۱)

اس کی سند “ضعیف و منقطع ” ہے ، ابوعبیدہ کا اپنے باپ عبداللہ بن مسعود سے “سماع” نہیں ہے ۔

حافظ ابن حجر کہتے ہیں:                والرّاجح أنہ لا یصح سماع من أبیہ.

“راجح بات یہ ہے کہ اس کا اپنے باپ سے کوئی سماع نہیں۔”            (تقریب التہذیب : ۸۲۳۱)

نیز سلمان بن عمرو بن خالد الرقی کی “توثیق ” مطلوب ہے ۔

۵:            قال أبو الحسن عبدالرحمٰن بن محمد بن یاسر فی ((حدیث أبی القاسم علی بن یعقوب)) عن اسحٰق بن ادریس ثنا أبا ن ثنا عاصم الأحول عن نافع عن عائشۃ أنّ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلی قبل الجمعۃ رکعتین فی أھلہ.

                “سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم  ﷺ جمعہ سےپہلے اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔”

                یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔

علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:  باطل موضوع و آفتہ اسحٰق ھذا وھو الأسواری البصریّ قال ابن معین  ؛ کذاب یضع الحدیث.

“یہ جھوٹی اور من گھڑت روایت ہے ، اس میں اسحٰق (بن ادریس) اسواری بصری راوی کی وجہ سے آفت ہے  ، اس کے بارے میں امام یحییٰ بن معین کہتے ہیں کہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور احادیث گھڑتا تھا۔ ” )الأجوبۃ النافعۃ: ۲۴)

۶:            عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں ابوعبیدہ کہتے ہیں:

                کان یصلی قبل الجمعۃ أربعاً .           “آپ جمعہ سے پہلے چار رکعت ادا کرتے تھے۔”             (مصنف ابن أبی شیبہ : ۱۳۱/۲)

اس کی سند “ضعیف” ہے ، ابوعبیدہ کا اپنے باپ سے کوئی سماع نہیں ہے ۔

مصنف عبدالرزاق (۵۵۲۴) میں قتادہ نے ابوعبیدہ کی متابعت کر رکھی ہے ، یہ بھی ضعیف ہے ، کیونکہ قتادہ کا ابن مسعود سے سماع نہیں ہے۔

۷:            ابو اسحٰق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمعہ سے پہلے اور جمعہ کے بعدچار  رکعات ادا کرتے تھے۔         (مصنف عبدالرزا ق: ۵۵۲۴ ، المعجم الکبیر للطبرانی : ۳۱۰/۹)

اسکی سند “ضعیف” ہے ، اس میں عبدالرزاق اور ابو اسحٰق کی “تدلیس” ہے۔

۸:            ابراہیم نخعی کہتے ہیں: کانوا یصلّون قبلھا أربعاً.

“(صحابہ  وتابعین) جمعہ سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے تھے۔”              (مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۳۱/۲)

اسکی سند “ضعیف” ہے ، حفص بن غیاث او راعمش دونوں “مدلس” ہیں۔

جمعہ کے بعد نماز

                جمعہ کے بعد صرف دو رکعتیں بھی پڑھی جاسکتی ہیں، چار بھی پڑھی جاسکتی ہیں، دو پڑھ کر پھر چار یعنی چھ بھی پڑھی جاسکتی ہیں، گھر میں پڑھیں یا مسجد میں ، دونوں صورتیں جائز ہیں۔

۱:             سیدنا ابن عمررضی اللہ عنہما سے روایت ہے :

                کان لا یصلی بعد الجمعۃ حتی ینصرف ، فیصلی رکعتین فی بیتہ.

                “نبی کریم ﷺ جمعہ کے بعد گھر لوٹ کر دو رکعتیں اد اکرتے ”        (صحیح بخاری  : ۹۳۷، صحیح مسلم : ۸۸۲)

امام ترمذی اس حدیث کے تحت فرماتے:

                والعمل علیٰ ھٰذا عند بعض أھل العلم ، وبہ یقول الشافعی و أحمد .

“بعض اہل علم کا اس پر عمل ہے ، امام شافعی اور امام احمد کا یہی مذہب ہے ۔”       (ترمذی تحت: ۵۲۱)

۲:            سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

                اذا صلّٰی أحدکم الجمعۃ فلیصلّ بعدھا أربعاً.

                “جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے ، تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے ۔”              (صحیح مسلم : ۶۷/۸۸۱)

صحیح مسلم  (۶۹/۸۸۱) ہی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

من کان منکم مصلّیاً بعد الجمعۃ فلیصلّ أربعاً.

“تم میں سے جو جمعہ کے بعد نماز پڑھنا چاہے ، وہ چار رکعتیں پڑھے۔”

۳:            ابن جریج کہتے ہیں کہ عطاء نے مجھے بتایا کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جمعہ کے بعد نماز پڑھتے دیکھا کہ آپ اپنی جمعہ والی جگہ سے تھوڑا سا سرک جاتے اور دو رکعتیں پڑھتے ، پھر اس سے زیادہ چلتے اور چار رکعتیں ادا کرتے، میں نے عطا سے پوچھا کہ آپ نے کتنی مرتبہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایسا کرتے دیکھا ، تو کہا  ، کئی مرتبہ ۔         (سنن أبی داود : ۱۱۳۳، جامع ترمذی : ۵۲۳ ، وسندہ صحیح)

                حافظ نووی نے اس کی سند کو “صحیح” کہا ہے ۔   (خلاصۃ الأحکام : ۸۱۲/۲)

۴:            عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں:

                کان اذا کان بمکۃ فصلی الجمعۃ تقدم ، فصلّٰی رکعتین ، ثم تقدم ، فصلّٰی أربعاً ، واذا کان بالمدینۃ صلّی الجمعۃ، ثم رجع الیٰ بیتہ فصلّٰی رکعتین ولم یصلّ فی المسجد ، فقیل لہ ؛ فقال ؛ کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یفعل ذٰلک.

                “عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما جب مکہ ہوتے اور جمعہ پڑھتے تو (تھوڑا سا) آگے ہو کر دو رکعتیں پڑھتے اور جب مدینہ میں ہوتے تو جمعہ پڑھ کر گھر لوٹ آتے ، پھر دو رکعتیں پڑھتے، مسجد میں نہ پڑھتے ، ان سے پوچھا گیا تو فرمایا ، رسول کریم ﷺ ایسے ہی کرتے تھے۔ ” (سنن أبی داؤد :۲۲۳، وسندہ صحیح)

                حافظ نووی نے اس کی سند کو “صحیح” کہا ہے ۔   (خلاصۃ الأحکام: ۸۱۲/۲)

فائدہ:    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ایک روایت یہ پیش کی جاتی ہے :

                أنہ کان یکرہ أن یصلی بعد صلوۃ الجمعۃ مثلھا.

                “آپ رضی اللہ عنہ جمعہ کے بعد اسی طرح کی (دو رکعت) نماز پڑھنا ناپسند کرتے تھے۔”     (شرح معانی الآثار للطحاوی : ۳۳۷/۱)

اس کی سند سفیان ثوری اور اعمش کی “تدلیس” کی وجہ سے “ضعیف” ہے۔

۵:            جبلہ بن سحیم کہتے ہیں:

                انہ کان یصلی قبل الجمعۃ أربعاً لا یفصل بینھن بسلام، ثم بعد الجمعۃ رکعتین، ثم أربعاً.

                “ابن عمر رضی اللہ عنہما جمعہ سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے ، ان میں سلام کے ساتھ فاصلہ نہ ڈالتے ، پھر جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے ، پھر چار پڑھتے۔”  (شرح معانی الآثار : ۳۳۵/۱ ، وسندہ صحیح)

۶:            ابو عبدالرحمٰن السلمی کہتے ہیں:     کان ابن مسعود یأمرنا أن نصلی قبل الجمعۃ أربعاً و بعدھا  أربعاً.

                “سیدنا عبداللہ بن مسعود ہمیں نماز جمعہ سےپہلے اور بعد چار رکعتیں پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔”

                                                                                                (الأوسط لابن المنذر : ۱۸۸۰، وسندہ حسن)

                عبداللہ بن حبیب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۳۳/۲ ) اس کی سند “ضعیف ” ہے ، اس میں شریک اور ابواسحٰق دونوں “مدلس” ہیں۔

                ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے۔    (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۳۳/۲) اسکی سند “ضعیف” ہے ، ابوعبیدہ کا اپنے باپ سے کوئی سماع نہیں۔

مسیب کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھتے تھے۔      (مصنف ابن ابی شیبہ : ۳۳/۲ و سندہ صحیح)

علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود جمعہ کے بعد چار اکٹھی رکعات ادا کرتے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۳۳/۲)

اسکی سند “ضعیف” ہے ، اس میں حجاج بن ارطاۃ “ضعیف و مدلس” اور حماد بن ابی سلیمان “مختلط” اور ابراہیم نخعی “مدلس” ہے ، لہٰذا سند “ضعیف” ہے ۔

ابو حصین کہتے ہیں:      رأیت الأسود بن یزید صلّٰی بعد الجمعۃ أربعاً.

“میں نے اسود بن یزید کو دیکھا، آپ نے جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھیں۔”

عمران بن حدیر کہتے ہیں:             اذا سلم الامام صلّٰی رکعتین یوم الجمعۃ، واذا رجع صلّٰی رکعتین .

“ابو مجلز جب جمعہ کے دن امام سلام پھیرتا تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر واپسی کے وقت دو رکعتیں ادا کرتے ۔” (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۳۳/۲، وسندھما صحیح)

جمعہ کے بعد نبی کریم ﷺ سے چار رکعتیں پڑھنا ثابت نہیں ہے ، جیساکہ پہلے گزر چکا ہے ۔

ابو عبدالرحمٰن السلمی سے روایت ہے : أنہ کان یصلی بعد الجمعۃ ستّاً.

“سیدنا علی رضی اللہ عنہ جمعہ کے بعد چھ رکعتیں پڑھتے تھے۔”         (تقدمۃ الجرح و التعدیل : ۱۶۷ ، وسندہ صحیح)

ابوبکر بن ابی موسیٰ اپنے باپ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہتے ہیں:

انہ کان یصلی بعد الجمعۃ ستّ رکعات.

“آپ جمعہ کے بعد چھے رکعات ادا کرتے تھے۔”           (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۳۲/۲ ، و سندہ صحیح)

ابراہیم نخعی کہتے ہیں: صلّ بعد الجمعۃ رکعتین ، ثم صل بعد ما شئت.

“جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھ، پھر اس کے بعد جتنی چاہے پڑھتا رہ ۔”                (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۳۲/۲ و سندہ حسن)

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں:        ان شئت صلّیت  أربعاً ، وان شئت صلّیت ستّ رکعات مثنٰی مثنٰی، کذا أختار أنا ، وان شئت صلّیت أربعاً فلا بأس.

                “اگر چاہے تو چار پڑھ اور چاہے تو چھ پڑھ ، دو دو کرکے ، یہ مجھے پسند ہے ، اگر چاہے تو چار پڑھ لے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ۔”                (مسائل احمد لابنہ عبداللہ : ۱۲۳)

                امام ابن المنذر فرماتے ہیں:

                ان شاء صلّی رکعتین ، وان شاء أربعاً ، ویصلّی أربعاً یفصل بین کلّ رکعتین بتسلیم أحبّ الیّ.

                “نماز جمعہ ادا کرنے والا چاہے تو دو رکعتیں پڑھے ، چاہے چار، چار پڑھے تو دو رکعتوں کے بعد سلام پھیرنا مجھے زیادہ پسند ہے ۔” (الأوسط لا بن المنذر : ۱۲۷/۴)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.