نفلی نماز گھر میں پڑھنے اور قیام اللیل کی فضیلت

 از    September 18, 2014

مصنف : امام ضیاء الدین المقدسی             ترجمہ و فوائد: حافظ ندیم ظہیر

سیدنا زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے پتوں یا چٹائی سے ایک حجرہ بنایا تو رسول اللہ ﷺ اس میں نماز پڑھنے کے لئے باہر تشریف لائے۔ بہت سے آدمیوں نے آپ کی اقتدا کی اور آپ کے ساتھ نماز پڑھنے لگے۔ پھر ایک رات سارے لوگ آئے (لیکن ) رسول اللہ ﷺ نے دیر کی اور ان کے پاس تشریف نہ لائے تو لوگوں نے اپنی آوازوں کو بلند کیا اور دروازے پر کنکریاں ماریں۔ پھر رسول اللہ ﷺ غصہ کی حالت میں باہر تشریف لائے اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: کہ تم اس طرح کرتے رہے ، تو میرا خیال ہے کہ یہ نماز تم پر فرض قرار دی جائے گی پس تم اپنے گھروں میں نماز پڑھو کیونکہ فرض نمازوں کے علاوہ (اجر و ثواب کے لحاظ سے ) آدمی کی بہترین نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں ادا کرے۔[صحیح مسلم: ۷۸۱]
فوائد: فرائض کے علاوہ گھر میں نماز پڑھنا مستحب اور بہت زیادہ فضیلت کی حامل ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اپنی نمازوں کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے چھوڑو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔[بخاری:۴۳۲ ، مسلم :۷۷۷]
یعنی اہتمام کے ساتھ نوافل کو گھروں میں ادا کیا جائے وگرنہ ایسے گھر کو قبرستان تعبیر کیا جا سکتا ہے جس میں اللہ کی عبادت نہیں ہوتی کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (مثل البیت الذي یذکر اللہ فیہ، و البیت الذي لا یذکر فیہ مثل الحي والمیت) اس گھر کی مثال جس میں اللہ کا ذکر کیا جائے اور وہ گھر  جس میں اللہ کا ذکر نہ کیا جائے (وہ ) زندہ اور مردہ کی مثال ہے۔[مسلم:۷۷۹]
سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ کونسی نماز سب سے زیادہ افضل ہے؟ گھر میں ادا کی گئی یا مسجد میں ؟ تو آپ نے فرمایا: کیا تو دیکھ نہیں رہا میرا گھر مسجد کے کتنا نزدیک ہے پھر بھی فرض نماز کے علاوہ گھر میں نماز پرھنا مجھے مسجد میں نماز پڑھنے  سے زیادہ پسند ہے۔ [ابن ماجہ: ۱۳۷۸ ، مسند احمد۴؍۳۴۲، ابن خزیمہ ۲؍۲۱۰قال البوصیری: إسنادہ صحیح]

واضح رہے کہ جس قدر نوافل گھر میں پڑھنے کی ترگیب ہے اتنی ہی فرائض گھر میں پڑھنے کی وعید ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا: (من سمع النداء فلم یأت فلاصلاۃ لہ إلا من عذر) جس شخص نے اذان سنی پھر (نماز باجماعت کے لئے مسجد) نہ آیاتو اس کی کوئی نماز نہیں مگر  یہ کہ کوئی (شرعی) عذر مانع ہو۔[ابن ماجہ:۷۹۳، ابو داود: ۵۵۱و صححہ ابن حبان (۲۰۶۴)والحاکم ۱؍۲۴۵]

سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:‘‘ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز مسجد میں ادا کر لے تو اُسے چاہیئے کہ اپنی نماز میں سے کچھ حصہ اپنے گھر کے لئے ضرور رکھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اُس کے گھر میں اس کی نماز کی ادائیگی سے خیر و بھلائی عطا کرتا ہے۔’’ [مسلم: ۷۷۸]
فوائد: معلوم ہوا کہ گھروں میں نوافل کی ادائیگی سے جہاں اجر و ثواب کا وافر حصہ سمیٹنے کا موقع ملتا ہے وہاں اس سے  گھروں کی طرف خیر و برکت کے دروازے بھی کھول دیئے جاتے ہیں(واللہ اعلم)

قیام اللیل کی فضیلت:

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شیطان تم میں سے ہر ایک کے سر کے پچھلے حصے پر جب وہ سوتا ہے تو تین گرہیں لگا دیتا ہے۔ وہ ہر گرہ پر (یہ پڑھ کر) پھونکتا ہے کہ ابھی تیرے لئے بہت لمبی رات ہے پس خوب سویا رہ۔ اگر وہ بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے۔پھر اگر وضو بھی کر لے تو دوسری گرہ بھی کھل جاتی ہے۔ پھر اگر اس نے نماز پڑھ لی تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں اور اس کی صبح چست اور پاکیزہ نفس ہوتی ہے وگرنہ اس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ وہ سست اور خبیث النفس ہوتا ہے۔ [بخاری:۱۱۴۲، مسلم: ۷۷۶]
فوائد:رات کا قیام ان اعمال میں سے ہے جن سےاللہ تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے اور بندہ بہت زیادہ اپنے اللہ کا قرب حاصل کر لیتا ہے اور اس کی ترغیب قرآن و حدیث میں جابجا موجود ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے: ‘‘  وَ مِنَ الَّیۡلِ فَتَہَجَّدۡ بِہٖ نَافِلَۃً  لَّکَ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ  یَّبۡعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحۡمُوۡدًا   ’’  رات کے کچھ حصے میں نماز تہجد ادا کیجئے ۔ یہ آپ کے لئے (زائد) نمازہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو مقام محمود پر فائز کر دے۔[بنی اسرآئیل:۷۹]

یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو اتنا (لمبا) قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں مبارک پر ورم پڑ جاتے سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے کہا اے اللہ کے رسول ! آپ اتنی مشقت کیوں کرتے ہیں حالانکہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ بھی بخش دیئے گئے ہیں؟ اپ نے فرمایا: ‘‘أفلا أکون عبداً شکوراً’’ کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟ [بخاری: ۱۱۳۰، مسلم: ۲۸۲۰]

نبی کریم ﷺ دوسروں کو بھی قیام اللیل پر ابھارتے اور اس کی اہمیت کا احساس دلاتے تھے جیسا کہ سیدنا علی ؓ فرماتے ہیں کہ : نبی کریم ﷺ ان کے اور سیدہ فاطمہ ؓ کے پاس رات کو تشریف لائے تو فرمایا: ‘‘ألا تصلیان؟’’ کیا تم (رات کی ) نماز نہیں پڑھتے؟[بخاری:۱۱۲۷ ، مسلم ۷۷۵]
جو لوگ رات کو قیام کرتے ہیں ان کے لئے اجر و ثواب کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے قبولیت کے اوقات بھی رکھے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘‘رات میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ جس مسلمان آدمی کو وہ میسر آ جائے اور وہ اس میں دنیا و آخرت کے سلسلے میں کسی بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرماتا ہے اور یہ گھڑی ہر رات کو ہوتی ہے۔[صحیح مسلم: ۷۵۷]
سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘‘اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو بیدار ہو کر خود بھی قیام کرے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے اگر وہ انکار کرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو بیدار ہو کر قیام کرے اور اپنےخاوند کو بھی بیدار کرے اگر وہ انکارکرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔[سنن ابی داود:۱۳۰۸، ابن ماجہ:۱۳۳۶، حسن]
فوائد:بہترین گھریلو ماحول کی عکاسی ہو رہی ہے کہ جب خاوند اور بیوی نوافل کے اس قدر اہتمام کرنے والے ہوں گے تو یہ یقینی امر ہے کہ فرائض و واجبات میں سستی و کوتاہی ان کی زندگیوں سے بعید ہو گی۔ اور گھر واقعتاً خوشحالی کی زندہ جاوید تصویر ثابت ہو گا۔
سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی زندگی مبارک میں جب کوئی آدمی خواب دیکھتا تو اسے رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیان کرتا۔ مجھے بھی خواہش تھی کہ کوئی خواب دیکھوں اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیان کروں میں  غیر شادی شدہ نوجوان تھا اور رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں مسجد میں سویا کرتا تھا۔ پس میں نےخواب میں دیکھا گویا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور دوزخ کی طرف لے گئے۔ وہ کنوئیں کی طرح گہری تھی اور  اس کے لئے دو لکڑیاں ہیں جیسے کنوئیں پر ہوتی ہیں اور اس میں کچھ لوگ تھے جنہیں میں پہچانتا تھا۔ پس میں نے أعوذ باللہ من النار میں (جہنم کی ) آگ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، کہنا شروع کر دیا پھر ایک دوسرا فرشتہ ملا اس نے مجھ سے کہا: تم مت ڈرو، میں نے سیدہ حفصہ ؓ کے سامنے اسے بیان کیا تو سیدہ حفصہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے بیان کر دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ‘‘ عبداللہ اچھا آدمی ہے اگر یہ رات کو اُٹھ کر (تہجد کی ) نماز پڑھے’’ اس کے بعد (سیدنا عبداللہ ؓ) رات کو تھوڑی دیر ہی سویا کرتے تھے۔ [بخاری: ۱۱۲۱ ، ۱۱۲۲ ، مسلم: ۲۴۷۹]

فوائد: اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ  کی فضیلت اور نماز تہجد کی ترغیب ثابت ہو رہی ہے۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.