نظر کا لگ جانا برحق ہے

 از    February 3, 2015

سوال:      کیا نظر برحق ہے؟ جیسا کہ ہمارے ہاں مشہور ہے کہ فلاں کو فلاں کی نظر لگ گئی ، اس کی کیا حقیقت ہے ؟               
(عمران الٰہی، راولپنڈی)

الجواب:   سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

((العین حق)) نظر (کا لگنا) حق ہے ۔ (الصحیفۃ الصحیحۃ تصنیف ہمام بن منبہ: ۱۳۱، صحیح بخاری: ۵۴۷۰ و صحیح مسلم: ۲۱۸۷ (۵۷۰۱)، مصنف عبدالرزاق ۱۸/۱۱ ح ۲۹۷۷۸ ، مسند احمد ۳۱۹/۲ ح ۸۲۴۵ و سندہ صحیح ولہ طریق آخر عند ابن ماجہ: ۳۵۰۷ و سندہ صحیح و رواہ احمد ۴۸۷/۲)

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

                                ((العین حق)) نظر (لگنا) حق ہے ۔ (صحیح مسلم :۲۱۸۸ ۵۷۰۲/) 

سیدنا حابس التمیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ((والعین حق)) اور نظر برحق ہے ۔ (سنن الترمذی: ۲۰۶۱ و سندہ حسن، مسند احمد ۶۷/۴ حیۃ بن حابس صدوق وثقہ ابن حبان و ابن خزیمہ کما یظھر من اتحاف المھرۃ ۹۷/۴ وروی عنہ یحییٰ بن ابی کثیر وھولایروی إلاعن ثقۃ عندہ)

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! بنو جعفر (طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بچوں) کو نظر لگ جاتی ہے تو کیامیں ان کو دم کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ((نعم ولو کان شئ یسبق القدر لسبقتہ العین.)) جی ہاں !اور اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جاتی تو وہ نظر ہوتی۔ (السنن الکبریٰ ۳۴۸/۹ وسندہ صحیح، سنن الترمذی: ۲۰۵۹ وقال: “حسن صحیح” و للحدیث شاھد صحیح فی صحیح مسلم  ۲۱۹۸ (۵۷۲۶))

سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے (مجھے) حکم دیا کہ نظر کا دم کرو۔ (صحیح بخاری: ۵۷۳۸ و صحیح مسلم : ۲۱۹۵ (۵۷۲۰۔ ۵۷۲۲))

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نظر کے (علاج کے ) لئے دم کی اجازت دی ہے ۔ (صحیح مسلم : ۲۱۹۶ (۵۷۲۴))

                سیدہ ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک لڑکی کے بارے میں فرمایا:

((استرقوا لھا فإن بھا النظرۃ)) اسے دم کرواؤ کیونکہ اسے نظر لگی ہے ۔    (صحیح بخاری: ۵۷۳۹ و صحیح مسلم: ۲۱۹۷ (۵۷۲۵))

سیدنا جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیان کردہ ایک حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نظر لگ جانے پر دم کی اجازت دی ہے ۔ (دیکھئے صحیح مسلم : ۲۱۹۸ (۵۷۲۶))

سیدنا بریدہ بن الحصیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا  کہ دم صرف نظر یا ڈسے جانے کے لئے ہے ۔ (صحیح مسلم: ۲۲۰ (۵۲۷))

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

((لا رقیۃ إلا من عین أوحمۃ.)) دم صرف نظر اور ڈسے ہوئے (کے علاج) کے لئے ہے۔ (سنن ابی داود : ۳۸۸۴ و سندہ صحیح، ورواہ البخاری: ۵۷۰۵ موقوفاً و سندہ صحیح و المرفوع و الموقوف صحیحان والحمدللہ)

                سیدنا ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد سہل بن حنیف (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے غسل کیا تو عامر بن ربیعہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے انہیں دیکھ لیا اور کہا: میں نے کسی کنواری کو بھی اتنی خوبصورت جلد والی نہیں دیکھا۔ سہل بن حنیف (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) شدید بیمار ہوگئے ۔ جب رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا : تم اپنے بھائیوں کو کیوں قتل کرنا چاہتے ہو؟تم نے برکت کی دعا کیوں نہیں کی ؟ ((إن العین حق)) بے شک نظر حق ہے ۔ (موطأ امام مالک ۹۳۸/۲ ح ۱۸۰۱ و سندہ صحیح و صححہ ابن حبان، الموارد: ۱۴۲۴)

ان روایات سے معلوم ہوا کہ نظر لگنے کا برحق ہونا متواتر احادیث سے ثابت ہے ۔ سورۂ یوسف کی آیت نمبر ۶۷سے بھی نظر کا برحق ہونا اشارتاً ثابت ہوتا ہے ۔

نظر کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ نظر لگانے والے کے وضو (یا غسل) کے بچے ہوئے پانی سے اسے نہلایا جائے جسے نظر لگی ہے ۔ دیکھئے موطأ امام مالک (۹۳۸/۲ ح ۱۸۱۰ و سندہ صحیح)

یا درج ذیل دعا پڑھیں:
((أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّآمَّۃِ، مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَّھَامَّۃٍ وَّمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَّامَّۃٍ))
اللہ کے پورے کلمات کے ساتھ اس کی پناہ چاہتا ہوں ہر ایک شیطان اور ہر نقصان پہنچانے والی نظر بد سے ۔ (صحیح بخاری: ۳۳۷۱)

                                                                                                                                                (۱۲ جنوری ۲۰۰۷؁ء)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.