نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کوڑا کرکٹ پھینکنے والی عورت کا قصہ

 از    September 19, 2014

       فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ        

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ: اللہ تعالیٰ آپ کو لمبی عمر عطا فرمائے۔ آمینمحترم حافظ صاحب کچھ روایات لکھ کر بھیج رہا ہوں ان کی تحقیق درکار ہے۔

روایت نمبر ۱:نبی ﷺ کو نماز میں بچھو ڈس گیا۔ نماز سے فراغت کے بعد آپ ﷺ نے پانی اور نمک منگوا کر اس  کے اوپر ملا اور ساتھ ساتھ قُلْ یٰٓا یُّھَا الْکٰفِرُوْنَ، قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ قُلْ اَعُوْذُبِرَبِّ النَّاسِ۔ پڑھتے رہے۔ (مجمع الزوائد ،۵؍۱۱۱، وقال الھیثمی: إسنادہ حسن)
روایت نمبر ۲:طفیل بن عمر و الدوسی ؓ کا واقعہ کہ انہیں لوگوں نے کہا کہ آپ ﷺ سے قرآن نہ سننا، تو انہوں نے اپنے کانوں میں روئی دے لی۔ پھر آپ ﷺ کو کعبہ کے قریب قرآن پڑھتے ہوئے سنا۔ انہوں نے کانوں سے روئی نکالی اور قرآن سننا شروع کر دیا۔ خود شاعر بھی تھے تو کہنے لگے کہ یہ کسی شاعر کا کلام نہیں چنانچہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔
اکثر اہلحدیث خطباء واعظین یہ واقعہ بیان کرتے ہیں، اس کی علمی میدان میں کیا حیثیت ہے وضاحت فرمائیں؟
روایت نمبر۳: مروی ہے کہ نبی ﷺ پر ایک عورت کوڑا پھینکتی تھی۔ ایک دن اس نے کوڑا نہ پھینکا تو آپ ﷺ اس  کے گھر چلے گئے اس کے گھر کو صاف کیا۔ پانی بھرا تو وہ عورت آپ کا اخلاق دیکھ کر مسلمان ہو گئی۔ (بحوالہ تعلیمی نصاب کی کتابیں)
             اس واقعہ  کی تحقیق مطلوب ہے کہ یہ واقعہ کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے  یا صرف منہ کی بات ہے یا گورنمنٹ کا نصاب ہی اِس کا حوالہ ہے، وضاحت فرمائیں۔
روایت نمبر ۴: مروی ہے کہ ایک عورت مکہ کے اندر خریداری کے لئے آئی تو اس عورت کو کہا گیا کہ یہاں ایک شخص ہے اس کی بات نہ سننا وہ جادو گر ہے۔ شاعر ہے۔ اس عورت نے گٹھڑی اٹھائی مکہ سے باہر نکل کر بیٹھ گئی۔ چنانچہ نبی ﷺ کا گزار ادھر سے ہوا۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ آپ کہاں جانا چاہتی ہیں تو اس نے بتایا فلاں جگہ پر آپ ﷺ نے اس کا سامان اٹھایا اور وہاں اس عورت کو پہنچا دیا تو وہ عورت کہنے لگی کہ تم اچھے آدمی معلوم ہوتے ہو۔ تمہیں نصیحت ہے کہ یہاں ایک شخص نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے وہ جادوگر ہے اس سے بچ کر رہنا۔ اس کی باتیں سن کر نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص میں ہی ہوں۔ تو عورت کہنے لگی آپ پھر غلط نہیں ہو سکتے چنانچہ اس عورت نے اسلام قبول کر لیا۔ محترم حافظ صاحب یہ چار روایتیں لکھی ہیں ان کی تحقیق مطلوب ہے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے
والسلام خرم ارشاد محمدی

الجواب بعون الوھاب

نماز میں بچھو کا ڈسنا
روایت نمبر ۱: یہ روایت مجمع الزوائد میں بحوالہ ‘‘الطبرانی فی الصغیر’’ مروی ہے (۵؍۱۱۱)
المعجم الصغیر للطبرانی میں اس کی سند درج ذیل ہے:
‘‘حدثنا محمد بن الحسین الأشنانی الکوفی: حدثنا عباد بن یعقوب الأسدي: حدثنا محمد بن فضیل عن مطرف عن المنھال بن عمرو عن محمد بن الحنفیۃ عن علی کرم اللہ وجھہ فی الجنۃ۔۔۔’’ (۲؍۲۳ح۸۵۰)
اس سند کے راوی عباد بن یعقوب الرواجنی کا جامع تعارف درج ذیل ہے:
۱:حافظ ابن حبان نے کہا: ‘‘وکان رافضیاً داعیۃ إلی الرفض ومع ذلک یروی المنا کیر عن أقوام مشاھیر فاستحق الترک’’ وہ رافضی تھا، رافضیت کی طرف دعوت دیتا تھا اور اس کے ساتھ وہ مشہور لوگوں  سے منکر روایات بیان کرتا تھا لہذا وہ متروک قرار دیئے جانے کا مستحق ٹھہرا(المجروحین ۲؍۱۷۲)
۲:ابو بکرابن ابی شیبہ یا ھناد بن السری نے اس پر جرح کی، دیکھئے الکامل لابن عدی(۴؍۱۶۵۳)
۳:ابن عدی نے کہا: ‘‘ وفیہ غلو فیما فیہ من التشیع وروی أحادیث أنکرت علیہ في فضائل أھل البیت وفي مثالب غیرھم’’ (الکامل ۴؍۱۶۵۳دوسرا نسخہ۵؍۵۵۹)
۴:ابن جوزی نے اسے کتاب الضعفاء و المتروکین میں ذکر کیا(۲؍۷۷ت ۱۷۸۸)
۵:ابو حاتم الرازی نے کہا:‘‘کوفی شیخ’’ (الجرح و التعدیل۲؍۸۸)
نیز دیکھئے کتاب الضعفاء لابی زرعۃ الرازی(۲؍۵۶۶)

تنبیہ: حافظ مزی و ذہبی وغیر ہما نے بغیر سند کے لکھا ہے کہ ابو حاتم نے کہا: ‘‘شیخ ثقۃ’’ (تہذیب الکمال مطبوعۃ مصغرۃ ۴؍۶۰وسیر اعلام النبلاء۱۱؍۵۳۷)

یہ قول با سند صحیح امام ابو حاتم رازی سے ثابت نہیں ہے۔
۶:شیخ البانی رحمہ اللہ نے محمد بن طاہر سے نقل کیا کہ‘‘من غلاۃ الروافض، روی المناکیر عن المشاھیر’’([الضعیفۃ ۳؍۳۸۳ح ۱۲۳۷]نیز دیکھئے اقوالِ تعدیل نمبر:۱۰)
۷:بوصیری نے اس کی روایت کو ضعیف کہا ہے دیکھئے یہی مضمون(تنبیہ:۱)
۱۔        ان اقوال کے مقابلے میں امام دار قطنی نے فرمایا:‘‘شیعي صدوق’’ (سوالات الحاکم:۴۲۵)
۲۔       ابن خزیمہ نے کہا:‘‘ناعباد بن یعقوب۔ المتھم في رأیہ، الثقۃ في حدیثہ’’(صحیح ابن خزیمہ۲؍۳۷۶ ، ۳۷۷ح ۱۴۹۷)
۳:       حاکم نے اس کی حدیث کو صحیح کہا (المستدرک۲؍۴۹۲ح۳۸۲۰ ، ۳؍۱۵۴ح ۴۷۳۱)
۴۔       الضیاء المقدسی نے المختارۃ میں اس سے حدیث لی(المختارۃ ۲؍۱۸۳ح۵۶۲)
۵۔       حافظ ذہبی نے کہا: ‘‘صدوق فی الحدیث، رافضي جلد’’ (ذکر أسماء من تکلم فیہ وھو مؤثق:۱۰۶(نیز دیکھئے سیر اعلام النبلاء  (۱۱؍۵۳۶)ومیزان الاعتدال (۲؍۳۷۹ ، ۳۸۰)
۶۔       امام بخاری نے صحیح بخاری میں ، متابعات میں عباد بن یعقوب سے روایت لی (صحیح البخاری:۷۵۳۴)
۷:       حافظ ہیثمی نے اس کی بیان کردہ حدیث کو حسن کہا(مجمع الزوائد۵؍۱۱۱)
۸۔       حافظ ابن حجر نے کہا:‘‘صدوق رافضي، حدیثہ فی البخاري مقرون ، بالغ ابن حبان فقال: یستحق الترک’’ (تقریب التہذیب:۳۱۵۳) نیز دیکھئے ہدی الساری(ص۴۱۲) و فتح الباری(۱۳؍۵۱۰)
۹:        ابن العماد نے کہا:‘‘الحافظ الحجۃ’’ (شذرات الذھب ۲؍۱۲۱اوفیات۲۵۰ھ)
۱۰:       محمد بن طاہر الفتنی نے کہا:‘‘ رافضی داعیۃ إلا أنہ ثقۃ صدوق۔۔۔’’ (تذکرۃ الموضوعات ص۲۶۶)
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ عباد بن یعقوب جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ و صدوق ہے لہذا وہ حسن الحدیث ہے اور باقی سند حسن ہے۔
خلاصۃ التحقیق: یہ روایت حسن ہے۔
تنبیہ(۱):سنن ابن ماجہ میں ایک روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘‘إذاأنا مت فاغسلونی بسبع قرب من بئری بئر غرس’’ جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے میرے کنویں بئر غرس کی سات مشکوں سے غسل دینا(ح۱۴۶۸وقال البوصیری :‘‘ ھذا إسناد ضعیف ، عباد بن یعقوب۔۔۔’’إلخ)
راوم الحروف نے تسہیل الحاجہ میں اسے ‘‘إسنادہ ضعیف’’ لکھا ہے(قلمی ص۱۰۰) شیخ البانی (الضعیفۃ:۱۲۳۷)
اور بوصیری  اس روایت کو ضعیف کہتے ہیں لیکن انصاف یہ ہے کہ ابن ماجہ والی روایت بلحاظ سند حسن ہے، اسے الضیاء المقدسی نے المختارۃ میں بیان کیا ہے(۲؍۱۸۳ح۵۲۶)
لہذا میں اپنی پہلی تحقیق سے رجوع کرتا ہوں واللہ الموفق
تنبیہ۲: بعض لوگوں نے کہا ہے کہ عباد مذکور سیدنا عثمان ؓ کو گالیاں دیتا تھا مگر اس میں سے کچھ بھی باسند و صحیح حسن ثابت نہیں ہے۔ واللہ اعلم

روایت نمبر ۲:
طفیل بن عمرو الدوسی ؓ کا قصہ
سیدنا طفیل بن عمرو الدوسی ؓ سے منسوب یہ قصہ‘‘ ابن إسحاق عن عثمان بن الحویرث عن صالح بن کیسان’’ کی سند سے درج ذیل کتابوں میں منقول ہے:
الاستیعاب لابن عبدالبر(۲؍۲۳۲) سیر أعلام النبلاء للذھبی(۱؍۳۴۵)
تنبیہ: یہ روایت اس سند کے ساتھ کتاب المغازی لابن إسحاق کے صرف ایک نسخہ میں ہے۔
دیکھئے الاصابۃ لابن حجر(۲؍۲۲۵)
‘‘السیرۃ النبویۃ’’ لابن اسحاق (مطبوع) میں مجھے یہ روایت نہیں ملی۔
یہ سند تین وجہ سے ضعیف ہے:
۱:ابن اسحاق مدلس ہے اور یہ سند معنعن (عن سے) ہے۔
۲:عثمان بن الحویرث کی توثیق نامعلوم ہے۔
۳:صالح بن کیسان تابعی ہے لہذا یہ سند مرسل ہے۔
سیرت ابن ہشام(عربی۲؍۲۲) دلائل النبوۃ للبیہقی (۵؍۳۶۰ ۔ ۳۶۳)تاریخ دمشق لابن عسا کر(۲۷؍۹ ، ۱۰) البدایۃ و النھایۃ (۳؍۹۶ ، ۹۷) اور السیرۃ النبویۃ لابن کثیر(۲؍۷۲ ۔ ۷۶) میں یہی روایت محمد بن اسحاق بن یسار سے مرسلاً  منقطعاً ، بغیر سند کے مروی ہے۔
اس روایت کی تائید میں بعض روایتیں مروی ہیں مثلاً دیکھئے طبقات ابن سعد (۴؍۲۳۷ ، ۲۳۹)و الاصابۃ (۲؍۲۲۵) و النبلاء (۱؍۳۴۴ ، ۳۴۵) ان روایتوں کی سندوں میں محمد بن عمر الواقدی اور الکلبی دونوں جھوٹے راوی ہیں۔
خلاصۃ التحقیق: یہ قصہ ثابت نہیں ہے۔

روایت نمبر ۳:
کوڑا کرکٹ پھینکنے والی عورت کا قصہ
یہ بالکل بے اصل اور من گھڑت روایت ہے۔ ہمارے علم  کے مطابق حدیث کی کسی کتاب میں بھی اس کی کوئی سند موجود نہیں ہے۔
روایت نمبر ۴:
گٹھڑی والی عورت کا قصہ
یہ بھی بالکل بے اصل اور من گھڑت روایت  ہے۔ اس قسم کی روایتیں واعظ نما قصہ گو حضرات نے گھڑی ہیں۔واللہ أعلم)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.