نا اُمیدی گمراہ لوگوں کا شیوہ

 از    March 25, 2015

                                                                                         تحریر: ابو عبداللہ

ناامیدی جائز نہیں، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں دو طریقے سے سوءِ ظن ہے:

۱…          نا امید آدمی سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کام نہیں کرسکتا ، حالانکہ وہ ہر چیز پر ہر وقت قادر ہے۔

۲…         وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو ناقص سمجھتا ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ رحیم ہے ، کسی بندے پر کسی بھی وقت رحم کرسکتا ہے ، اس کی رحمت سے ناامید آدمی گمراہ ہوتا ہے ، چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :

                ﴿ وَمَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَۃِ رَبِّہٖٓ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ﴾       (الحجر: ۵۶)

                “اپنے رب کی رحمت سے صرف گمراہ لوگ ہی نا امید ہوتے ہیں۔”

لہٰذا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ڈر دل میں رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی رحمت کی امید بھی رکھی جائے۔

                ناامیدی کے دو اسباب ہیں:

۱…          یہ کہ آدمی اپنی جان پر ظلم اور گناہوں پر جسارت کرتا رہے، ان پر مصر اور قائم رہنے کا عزم کرلے ، پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید ختم کرلے، یہ سمجھتے ہوئے کہ اس نے رحمت کے اسباب ختم کردیئے ہیں، آخر کار یہ ناامیدی اس کی عادت بن جاتی ہے اور شیطان انسان سے زیادہ سے زیادہ یہی مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔

۲…         یہ کہ انسان اپنے کیے ہوئے جرائم کی وجہ سے اتنا ڈر اپنے اوپر سوار کرلے کہ لاعلمی میں یہ سمجھ بیٹھے کہ اب اللہ تعالیٰ اسے معاف ہی نہیں کرے گا، اگر چہ وہ سچی توبہ ہی کرلے ، یوں وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوجاتا ہے ۔

                انسان کو چاہیے کہ وہ گناہوں پرمصر نہ رہے ، بلکہ ان کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور سچی اور پکی توبہ کرلے، پھر یہ عقیدہ رکھے کہ توبہ کے سبب بڑے سے بڑے گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں، یہی ناامیدی کا خاتمہ ہے ۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.