میت کو کہاں دفن کیا جائےگا ؟

 از    February 9, 2015

سوال:      ہمارا شہر بزرگوں اور پیروں کی وجہ سے بہت مشہور ہے اور ان کے عقیدت مند و مرید اپنے گاؤں یا شہرکے قبرستان کو چھوڑ کر سینکڑوں میل دور اپنی میت کو ہمارے شہر کے قبرستان میں عقیدت کی بنیاد پر دفن کرتے ہیں۔ ایک میت کو دفن کرنے کے ساتھ ساتھ کئی نئی قبریں فرضی بنا کر جاتے ہیں تاکہ ان میں اپنی اور میتیں دفن کریں گے ، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟            (ریاض احمد، تونسہ شریف)
الجواب:   سنت سے یہی ثابت ہے کہ میت جہاں فوت ہو اسے وہیں (اسی علاقہ میں) دفن کرنا چاہیے۔ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے : “ہم نے اُحد کے دن مقتولوں کو (جنت البقیع میں) دفن کرنے کے لئے اٹھایا تو ایک منادی کرنے والے نے اعلان کیا کہ رسول اللہ ﷺ حکم دیتے ہیں کہ مقتولین کو ان کی جائے قتل پر ہی دفن کرو۔ ”       (سنن ابی داود:۳۱۶۵، ترمذی: ۱۷۱۷، وقال : “حسن صحیح” نسائی ۷۹/۴ ، ابن ماجہ: ۱۵۱۶)
                اسے ابن الجارود (۵۵۳) ابن حبان (۷۷۴،۷۷۵) اور ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے ۔اس کا راوی نبیح العنزی ثقہ ہے ۔ دیکھئے : کتب الرجال و نیل المقصود (۱۵۳۳)

                ام المومنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو جب دور سے لا کر مکہ میں دفن کیا گیاتو ام المومنین نے فرمایا : اگر میں (یہاں) موجود ہوتی تو عبدالرحمٰن کو وہیں دفن کردیا جاتا جہاں فوت ہوا تھا۔ ” (سنن ترمذی ح ۱۰۵۵، مصنف عبدالرزاق ۵۱۷/۳ ح ۶۵۳۵ و سندہ صحیح و اللفظ لہ) اس قسم کے دیگر آثار بھی ہیں دیکھئے السنن الکبریٰ للبیہقی (ج ۵۷/۴) وغیرہ ۔ (شہادت، جولائی ۱۹۹۹؁ء)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.