مُدرکِ رکوع کی رکعت کا حکم

 از    December 7, 2014

تحریر:حافظ زبیر علی

سوال:کیا مدرکِ رکوع کی رکعت ہو جاتی ہے؟ مدلل جواب دیں۔ جزاکم اللہ خیراً[ڈاکٹر ابو جابر عبداللہ دامانوی، کراچی]

جواب:اس مسئلے میں علماء کے دو موقف ہیں:

اول:     یہ رکعت ہو جاتی ہے۔

دوم:     یہ رکعت نہیں ہوتی۔

اول الذکر علماء کے دلائل کا مختصر و جامع جائزہ درج ذیل ہے:

۱)ابو داود(۸۹۳) ابن خزیمہ (۱۶۲۲، و أعلہ ولم یصححہ) حاکم (۱؍۲۱۶، ۲۷۳، ۲۷۶)دار قطنی(۱؍۳۴۷ح۱۲۹۹(اور بیہقی (۲؍۸۸) نے
‘‘ یحیی بن أبی سلیمان عن زید بن أبی عتاب و سعید المقبری عن أبی ھریرۃ’’
کی سند سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(إذا جٔتم و نحن سجود فاسجدوا ولا تعدوا شیئاً ومن أدرک الرکعۃ فقد أدرک الصلوٰۃ)جب تم آؤ اور ہم سجدے میں ہوں تو سجدہ کرو اور اسے کچھ بھی نہ شمار کرو اور جس نے رکعت پالی تو اس نے نماز پالی۔
اس روایت کے راوی یحییٰ بن ابی سلیمان کے بارے میں امام بخاری نے فرمایا:‘‘ منکر الحدیث’’ [جزء القراءۃ:۲۳۹]
ابن خزیمہ نے فرمایا: دل اس سند پر مطمئن نہیں ہے کیونکہ میں یحییٰ بن ابی سلیمان کو جرح یا تعدیل کی رُو سے نہیں جانتا’’ [صحیح ابن خزیمہ ۳؍۵۷ ، ۵۸و نصر الباری ص ۲۶۲]
یحییٰ مذکور کو جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے لہٰذا حاکم کا اس کی روایت کو صحیح کہنا مردود ہے۔
تنبیہ: یہ روایت مدرکِ رکوع کی دلیل نہیں ہے بلکہ اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ جو رکعت پا لے اس نے نماز پالی۔

۲) بیہقی نے ‘‘ عن عبدالعزیز بن رفیع عن رجال عن النبی ﷺ ’’ کی سند سے روایت کیا ہے کہ
(إذا جئتم والإمام راکع فارکعو و إن کان ساجداً فاسجدوا ولا تعتدو بالسجود إذا لم یکن معہ الرکوع)
جب تم آؤ اور امام رکوع میں ہو تو رکوع کرو اور جب سجدے میں ہو تو سجدہ کرو اور سجدے شمار نہ کرو جب تک ان کے ساتھ رکوع نہ ہو۔ (۲؍۸۹)
تنبیہ: بیہقی کی ایک روایت (۲؍۲۹۶) میں ‘‘ سفیان (الثوری) عن عبدالعزیز بن رفیع من شیخ من الأنصار’’ کی سند سے ان الفاظ جیسا مفہوم مروی ہے ۔ اس روایت کی سند دو وجہ سے ضعیف ہے۔:
اول: سفیان ثوری مدلس ہیں اور روایت معنعن ہے۔
دوم: شیخ من الانصار مجہول ہے اور یہ کہنا کہ ‘‘ والصحیح أنہ صحابی’’ غلط ہے۔

۳)      دارقطنی(۱؍۳۴۶ح ۱۲۹۸) بخاری (جزء القراءۃ:۲۰۸) ابن خزیمہ(۱۵۹۵) بیہقی (۲؍۸۹) عقیلی (۴؍۳۹۸) اور ابن عدی (۷؍۲۶۸۴) وغیر ہم نے
‘‘ یحیی بن حمید عن قرۃ عن ابن شھاب عن أبی سلمۃ عن أبی ھریرۃ’’
کی سند سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
‘‘من أدرک رکعۃ من الصلٰوۃ فقد أدرکھا قبل أن یقیم الأمام صلبہ’’
جس نے امام کے پیٹھ اٹھانے سے پہلے نماز کی رکعت پالی تو اس نے نماز پالی۔
اس روایت کی سند قرہ بن عبدالرحمن بن حیویل کی وجہ سے ضعیف ہے۔ قرہ جمہور محدثین کے  نزدیک ضعیف ہے۔ اس روایت کے بارے میں شیخ امین اللہ پشاوری فرماتے ہیں:
‘‘ وسندہ ضعیف’’ اور اس کی سند ضعیف ہے۔ [فتاویٰ الدین الخالص ج ۴ص۲۱۸]
اس روایت کی ایک دوسری سند ہے جس میں متہم راوی ہے۔ (ایضاً ۴؍۲۱۸)
لہٰذا یہ سند سخت ضعیف و مردود ہے۔

۴:بیہقی(۲؍۹۰) نے عبداللہ بن مسعود ؓ  کا قول نقل کیا ہے کہ ‘‘ من لم یدرک الإمام راکعاً لم یدرک تلک الرکعۃ ’’ جس نے امام کو رکوع میں نہ پایا اس نے رکعت نہیں پائی۔

اس روایت کی سند میں علی بن عاصم جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح ہے لہٰذا اس روایت کو ‘‘وإسنادہ صحیح’’ کہنا غلط ہے۔ اس روایت کی ایک دوسری سند میں ابو اسحاق السبیعی مدلس ہیں لہٰذا وہ سند بھی ضعیف ہے۔ جب تک سند صحیح و حسن نہ ہو تو‘‘ورجالہ موثقون’’ کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

۵: ابن ابی شیبہ (۱؍۹۹) طحاوی (۱؍۲۲۳) اور بیہقی (۲؍۹۰) نے عبداللہ بن مسعود ؓسے روایت کیا کہ وہ مدرکِ رکوع کو مدرکِ رکعت سمجھتے تھے۔
اس کی سند صحیح ہے لیکن یہ صحابی کا فتویٰ ہے۔

۶: ابن ابی شیبہ(۱؍۲۴۳) نے ابن عمر ؓ سے ان کا فتویٰ نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ مدرکِ رکوع کو مدرکِ رکعت سمجھتے تھے۔
اس روایت کی سند حفص اور ابن جریح کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔ السنن الکبریٰ للبیہقی(۲؍۹۰( میں اس کا ایک ضعیف شاہد بھی ہے ۔ اس میں ولید بن مسلم ہیں جو کہ تدلیسِ تسویہ بھی کرتے تھے اور سماعِ مسلسل کی تصریح نہیں ہے۔

۷: بیہقی (۲؍۹۰) نے زید بن ثابت اور ابن عمر ؓ سے نقل کیا کہ ‘‘ من أدرک الرکعۃ قبل أن یرفع الإمام رأسہ فقد أدرک السجدۃ’’ جس نے امام کے سر اٹھانے سے پہلے رکوع پالیا تو اس نے سجدہ پا لیا یعنی رکعت پا لی۔

اس روایت کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔ امام مالک نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں یہ روایت کس ذریعے سے پہنچی ہے۔ اس موقوف روایت کی دیگر سندیں بھی ہیں۔

ان آثار کے مقابلے میں امام بخاری فرماتے ہیں:

‘‘حدثنا عبید بن یعیش قال: حدثنا یونس قال: حدثنا (ابن ) إسحاق قال: أخبرنی الأعرج قال سمعت أباھریرۃ رضی اللہ عنہ یقول :لا یجزئک إلا أن تدرک الإمام قائماً قبل أن ترکع’’ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا: تیری رکعت اس وقت تک جائز نہیں ہوتی جب تک تو رکوع سے پہلے امام کو حالتِ قیام میں نہ پالے۔[جزء القراءۃ: ۱۳۲ و سندہ حسن، نصر الباری ص ۱۸۲، ۱۸۳]

ابو سعید الخدری ؓ نے فرمایا: ‘‘یرکع أحدکم حتیٰ یقرأ بأم القرآن’’
سورۃ فاتحہ پڑھ لینے کے بغیر تم میں سے کوئی بھی رکوع نہ کرے۔[جزء القراۃ: ۱۳۳و سندہ صحیح]معلوم ہوا کہ اس مسئلے میں صحابہ کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ جب اختلاف ہو جائے تو کتاب و سنت کی طرف رجوع کرنے کا حکم ہے۔

۸: ابن ابی شیبہ (۱؍۲۵۶ح ۲۶۳۱) نے عبداللہ بن الزبیر ؓ سے نقل کیا کہ وہ رکوع میں چلتے چلتے صف میں شامل ہو جاتے تھے۔
اس روایت کی سند ابن تمیم کی وجہ سے ضعیف ہے۔
تنبیہ: اس روایت کی مدرکِ رکوع سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

۹: بیہقی(۲؍۹۰) نے ابو بکر الصدیق  ؓ سے نقل کیا کہ وہ رکوع میں چلتے ہوئے صف میں شامل ہو گئے۔ یہ سند تدلیسِ تسویہ کرنے والے ولید بن مسلم کی تدلی اور ابو بکر بن عبدالرحمن بن الحارث کے انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے۔ یہ کہنا کہ انہوں نے زید بن ثابت سے یہ روایت لی ہے، بے دلیل ہے۔

۱۰:مسند احمد (۵؍۴۲ح۲۰۴۳۵) میں آیا ہے کہ ابو بکر ؓ رکعت ملنے کے لئے چل  کر آئے تھے۔ اس روایت کی سند بشار بن عبدالملک الخیاط المزنی کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اسے ‘‘ سندہ حسن’’ کہنا غلط ہے۔ بشار کو ابن معین نے ضعیف کہا اور سند کے اتصال میں بھی نظر ہے۔

۱۱: بعض لوگ کہتے ہیں کہ سعید بن المسیب، میمون اور شعبی (تابعین) اس کے قائل تھے کہ مدرکِ رکوع مدرکِ رکعت ہوتا ہے۔ [دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ۱؍۲۴۳، ۲۴۴]تابعین کے یہ آثار سیدنا ابو ہریرہ ؓ وغیرہ کے آثار اور مرفوع احادیث کے عموم کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہیں۔

۱۲: طبرانی نے سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جو رکوع نہ پائے تو وہ سجدہ شمار نہ کرے۔
یہ آثار با سند صحیح ثابت نہیں ہے۔

۱۳: ایک روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:
‘‘لا تبادرونی برکوع ولا بسجود فإنہ مھما أسبقکم بہ إذا رکعت تدرکونی بہ إذا رفعت و إنی قد بدنت’’
مجھ سے پہلے رکوع اور سجدے نہ کرو۔ پس بے شک میں جتنا تم سے پہلے رکوع کروں گا تو تم مجھے اس کے ساتھ پا لو گے جب میں سر اٹھاؤں گا ، میرا بدن بھاری ہو گیا ہے۔ [سنن ابی داود:۲۱۹ و سندہ حسن]

یہ روایت مدرکِ رکوع کی دلیل نہیں ہے مگر عینی حنفی نے اسے اپنے دلائل میں پیش کر دیا ہے۔ دیکھئے عمدۃ القاری (۳؍۱۵۳)

۱۴: ابن ابی شیبہ (۱؍۲۴۲) نے عروہ بن الزبیر (تابعی) اور زید بن ثابت ؓ سے نقل کیا ہے کہ وہ دونوں جب امام کو رکوع میں پاتے تو دو تکبیریں کہتے، ایک تکبیر افتتاح دوسری تکبیر رکوع۔ یہ روایت زہری کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے اور ادراکِ رکوع کی دلیل نہیں ہے۔

۱۵: ابن ابی شیبہ(۱؍۲۵۵) نے محمد بن سیرین سے نقل کیا کہ ابو عبیدہ(بن عبداللہ بن مسعود) آئے اور لوگ رکوع میں تھے تو وہ چل کر صف میں شامل ہو گئے اور بیان کیا کہ ان کے والد نے ایسا ہی کیا تھا۔

یہ روایت منقطع ہے کیونکہ ابو عبیدہ نے اپنے والد سے کچھ نہیں سنا۔

۱۶: ایک روایت میں آیا ہے کہ
‘‘ عبدالعزیز بن رفیع عن ابن مغفل المزنی قال قال النبی ﷺ : (ولا تعتدو بالسجود إذا لم تدرکوا الرکعۃ)
[مسائل احمد و اسحاق ۱؍۱۲۷، ۱لصحیحۃ:۱۱۸۸]
اس روایت میں اگر ابن مغفل سے مراد عبداللہ بن مغفل المزنی ؓ ہیں تو ان سے عبدالعزیز بن رفیع کی ملاقات کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور اگر شداد بن معقل ہیں تو یہ سند منقطع ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس سلسلے کی تمام مرفوع روایات بلحاظظ سند ضعیف ہیں۔
رہے آثارِ صحابہ تو ان میں اختلاف ہے۔

دوم: جو علماء کہتے ہیں کہ مدرکِ رکوع کی رکعت نہیں ہوتی کیونکہ اس کے دو فرض رہ گئے ہیں:
۱: قیام  ۲: سورہ فاتحہ
ان لوگوں کا قول حق بجانب ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
‘‘ لا تفعلو  إلا بأم القرآن فإنہ لا صلٰوۃ لمن لم یقرأ بھا’’
سورۃ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھو کیونکہ جو اسے نہیں پڑھتا تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔
[ کتاب القراءۃ للبیہقی: ۲۲۱وسندہ حسن، و صححہ البیہقی؍نافع بن محمود ثقۃ و ثقہ الدار قطنی و البیہقی و ابن حبان و ابن حزم و الذہبی وغیرہم ]

امام بخاری اور بہت سے جلیل القدر علماء اس کے قائل تھے کہ مدرکِ رکوع کی رکعت نہیں ہوتی۔ تفصیل کے لئے دیکھئے مولانا محمد یونس قریشی رحمہ اللہ کی کتاب‘‘ اتمام الخشوع باحکام مدرک الرکوع’’ اور مولانا محمد منیر قمر حفظہ اللہ کا رسالہ‘‘ رکوع میں ملنے والے کی رکعت، جانبین کے دلائل کا جائزہ’’          وما علینا إلا البلاغ (۲۶رجب ۱۴۲۷ھ)

؍

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.