مشاجرات صحابہ

 از    December 12, 2017

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری حفظ اللہ

مشاجرات صحابہ، یعنی صحابہ کرام کے باہمی اختلافات، زبانی چپکلشوں، جھگڑوں اور لڑائیوں کے بارے میں موجودہ دور کے اصلی اہل سنت (اہل حدیث ) کا وہی موقف ہے، جو خیرالقرون اور بعد کے اہل سنت کا تھا۔ سلف صالحین کا اجماعی و اتفاقی عقیدہ تھا کہ مشاجراتِ صحابہ میں زبان بند رکھی جائے اور سب کے حق میں دُعائے مغفرت کی جائے، جیسا کہ :
◈ شیخ محمد بن عبدالوہاب نجدی رحمہ اللہ (1115-1206ھ) فرماتے ہیں :
وأجمع أهل السنة على السكوت عما شجر بين الصحابة رضي الله عنهم، ولا يقال فيهم إلا الحسنٰي، فمن تكلم فى معاوية أو غيره من الصحابة، فقد خرج عن الإجماع
’’ اہل سنت کا اس بات پر اجماع ہے کہ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کی جائے گی۔ ان کے بارے میں صرف اچھی بات کہی جائے گی۔ لہٰذا جس شخص نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یا کسی اور صحابی کے بارے میں زبان کھولی، وہ اجماعِ اہل سنت کا مخالف ہے۔“ [مختصر سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم، ص : 317، طبعة وزارة الشئون الإسلامية، السعودية ]

◈ اس سے پہلے شیخ الاسلام، تقی الدین، ابوالعباس، احمد بن عبدالحلیم، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661-728ھ) فرما گئے ہیں :
كان من مذاهب أهل السنة الإمساك عما شجر بين الصحابة، فإنه قد ثبتت فضائلهم، ووجبت موالاتهم ومحبتهم، وما وقع منه ما يكون لهم فيه عذر يخفٰي على الإنسان، ومنه ما تاب صاحبه منه، ومنه ما يكون مغفورا، فالخوض فيما شجر يوقع فى نفوس كثير من الناس بغضا وذما، ويكون هو فى ذٰلك مخطئا، بل عاصيا، فيضر نفسه، ومن خاض معه فى ذٰلك، كما جرٰي لأكثر من تكلم فى ذٰلك، فإنهم تكلموا بكلام لا يحبه الله ولا رسوله، إما من ذم من لا يستحق الذم، وإما من مدح أمور لا تستحق المدح، ولهٰذا كان الإمساك طريقة أفاضل السلف
’’ اہل سنت کے عقائد میں یہ بات شامل ہے کہ صحابہ کرام میں جو بھی اختلافات ہوئے، ان کے بارے میں اپنی زبان بند کی جائے، کیونکہ (قرآن و سنت میں ) صحابہ کرام کے فضائل ثابت ہیں اور ان سے محبت ومودّت فرض ہے۔ صحابہ کرام کے مابین اختلافات میں سے بعض ایسے تھے کہ ان میں صحابہ کرام کا کوئی ایسا عذر تھا، جو عام انسان کو معلوم نہیں ہو سکا، بعض ایسے تھے جن سے انہوں نے توبہ کر لی تھی اور بعض ایسے تھے جن سے اللہ تعالیٰ نے خود ہی معافی دے دی۔ مشاجرات صحابہ میں غور کرنے سے اکثر لوگوں کے دلوں میں صحابہ کرام کے بارے میں بغض و عداوت پیدا ہو جاتی ہے، جس سے وہ خطاکار، بلکہ گنہگار ہو جاتے ہیں۔ یوں وہ اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جن لوگوں نے اس بارے میں اپنی زبان کھولی ہے، اکثر کا یہی حال ہوا ہے۔ انہوں نے ایسی باتیں کی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کو پسند نہیں تھیں۔ انہوں نے ایسے لوگوں کی مذمت کی، جو مذمت کے مستحق نہیں تھے یا ایسے امور کی تعریف کی، جو قابل تعریف نہ تھے۔ اسی لیے مشاجرات صحابہ میں زبان بند رکھنا ہی سلف صالحین کا طریقہ تھا۔“ [منهاج السنة النبوية فى نقض كلام الشيعة القدرية : 448/1، 449، طبعة جامعة الإمام محمد بن سعود الإسلامية ]
↰ یہ تھا مشاجرات صحابہ میں اہل سنت، یعنی اہل حدیث کا عقیدہ۔ اس عقیدے کے برعکس بعض لوگ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کو ہوا دیتے ہیں اور ان کی بنا پر بعض صحابہ کرام پر تنقید کرتے ہیں۔ حالانکہ صحابہ کرام پر تنقیداور ان کی تنقیص بدعت و ضلالت ہے۔ اس بارے میں :
◈ سنی امام، علامہ، ابوالمظفر، منصور بن محمد، سمعانی رحمہ اللہ (426- 489ھ ) فرماتے ہیں :
التعرض إلٰي جانب الصحابة علامة علٰي خذلان فاعله، بل هو بدعة وضلالة
’’ صحابہ پر طعن کرنا کسی کے رسوا ہونے کی علامت ہے، بلکہ یہ بدعت اور گمراہی ہے۔“ [فتح الباري لابن حجر : 365/4]
↰ مشاجراتِ صحابہ کے بارے میں زبان بند رکھنے کا عقیدہ قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے دلائل شرعیہ سے ثابت ہے۔ آئیے اس بارے میں دلائل ملاحظہ فرمائیں :
قرآنِ کریم اور مشاجرات صحابہ
اس بات میں کسی سنی مسلمان کو کوئی شبہ نہیں ہو سکتا کہ صحابہ کرام کے آپس کے اختلاف اجتہادی تھے، کسی بدنیتی پر مبنی ہرگز نہیں تھے۔ اجتہاد میں اگر کوئی انسان غلطی بھی کر لے تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اجر عنایت ہوتا ہے۔ جبکہ قرآنِ کریم کے مطابق صحابہ کرام سے جو غیر اجتہادی غلطیاں ہوئیں، ان کو بھی معاف فرما دیا گیا ہے۔ غزوۂ احد میں جن صحابہ کرام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی، ان کے بارے میں :
✿ فرمانِ الٰہی ہے :
وَلَقَدْ عَفَا اللَّـهُ عَنْهُمْ [3-آل عمران:155]
’’ یقیناً اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا ہے۔“
✿ نیز صحابہ کرام کو مخاطب کر کے فرمایا :
وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ [3-آل عمران:152]
’’ یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہیں معاف فرما دیا ہے۔“
↰ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی غیر اجتہادی غلطیاں اور ان کے صریح گناہ بھی معاف فرما دئیے ہیں۔ لہٰذا مشاجراتِ صحابہ جو یقیناً ایک فریق کی اجتہادی غلطی پر مبنی تھے، وہ قرآن کی رُو سے بالاولیٰ معاف ہو گئے ہیں۔ اب ان اختلافات کو بنیاد بنا کر کسی بھی صحابی کے بارے میں زبان کھولنا اپنی عاقبت برباد کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

کسی عام مسلمان سے کوئی کبیرہ گناہ ہو جائے اور وہ اس سے توبہ کر لے، تو اس کا ذکر کر کے اس کی تنقیص کرنا یا اس کو بنیاد بنا کر دل میں اس کے لیے تنگی رکھنا بھی گناہ ہے تو وہ اجتہادی غلطی جس پر اللہ تعالیٰ نے ایک اجر عطا فرمایا ہوا ہو، اس کی بنا پر کسی صحابی رسول کے خلاف زبان کھولنا کتنی بڑی بدبختی ہو گی !

حدیث رسول اور مشاجرات صحابہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا تسبوا أصحابي، لا تسبوا أصحابي، فوالذي نفسي بيده، لو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا، ما أدرك مد أحدهم، ولا نصيفه
’’ میرے صحابہ کی تنقیص نہ کرو، میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرے تو کسی صحابی کے ایک مد (تقریباً دو سے اڑھائی پاؤ) یا اس کے نصف کے برابر نہیں ہو سکتا۔“ [صحيح مسلم : 2540]

◈ عظیم تابعی و جلیل القدر محدث، امام حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
إن عائذ بن عمرو، وكان من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، دخل علٰي عبيد الله بن زياد، فقال : أى بني، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ’إن شر الرعائ الحطمة‘، فإياك أن تكون منهم، فقال له : اجلس، فإنما أنت من نخالة أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم، فقال : وهل كانت لهم نخالة؟ إنما كانت النخالة بعدهم، وفي غيرهم
’’ صحابی رسول سیدنا عائذ بن عمرو، عبیداللہ بن زیاد کے پاس آئے اور فرمانے لگے : بیٹے ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بدترین حکمران وہ ہوتے ہیں، جو اپنی رعایا پر ظلم کرتے ہیں۔ لہٰذا (میری نصیحت ہے کہ ) تیرا شمار ایسے لوگوں میں نہ ہو۔ عبیداللہ بن زیاد کہنے لگا : بیٹھ جا، تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا گھٹیا درجے کا صحابی ہے۔ سیدنا عائذ فرمانے لگے : کیا صحابہ کرام میں سے بھی کوئی گھٹیا تھا ؟ گھٹیا لوگ تو وہ ہیں جو صحابی نہ بن سکے اور وہ جو صحابہ کرام کے بعد میں آئے۔“ [صحيح مسلم : 1830]
↰ ثابت ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ ارفع و اعلیٰ درجات پر فائز ہیں۔ اس بات سے انکار نہیں کہ بعض صحابہ کو بعض پر فضیلت حاصل ہے، لیکن اس کے باوجود تمام صحابہ کرام قابل عزت و احترام ہیں اور بعد میں آنے والا کوئی شخص نیکی و تقویٰ اور علم کا بڑے سے بڑا کارنامہ سرانجام دے کر بھی کسی صحابی کی ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ لہٰذا کسی بعد والے کو یہ حق نہیں کہ وہ صحابہ کرام کی بشری لغزشوں، جن کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا ہے، یا ان کی اجتہادی غلطیوں، جن پر اللہ تعالیٰ نے بھی مؤاخذہ نہیں فرمایا، کو بنیاد بنا کر ان کے بارے میں بدظنی کا شکار ہو یا زبان درازی کرے۔

اجماعِ امت اور مشاجرات ِ صحابہ
ہم شیخ الاسلام ابن تیمیہ اور شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمها اللہ کی زبانی یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ مشاجرات صحابہ میں زبان بند رکھنے پر امت مسلمہ کا اجماع ہے۔ ان صاحبان کا یہ دعویٰ بے دلیل نہیں، واقعی سلف صالحین کا عقیدہ یہی تھا کہ مشاجرات صحابہ میں خاموشی اختیار کی جائے اور اس بارے میں زبان کھولنا گمراہی ہے، جیسا کہ :
◈ امام ابوزرعہ، عبداللہ بن عبدالکریم، رازی (200- 264ھ) اور امام ابوحاتم، محمد بن ادریس، رازی (195- 277ھ) رحمها اللہ اہل سنت کا اجماعی عقیدہ بیان فرماتے ہیں :
أدركنا العلمائ فى جميع الـأمصار حجازا، وعراقا، ومصرا، وشاما، ويمنا، فكان من مذهبهم … والترحم علٰي جميع أصحاب محمد، صلى الله عليه وسلم، والكف عما شجر بينهم
’’ ہم نے حجاز و عراق، مصر و شام اور یمن تمام علاقوں کے علمائے کرام کو دیکھا ہے، ان سب کا مذہب یہ تھاکہ۔۔۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ کے لیے رحمت کی دعا کرنا اور ان کے درمیان ہونے والے اختلافات سے اپنی زبان بند رکھنی چاہیے۔“ [كتاب أصل السنة واعتقاد الدين لابن أبي حاتم]

◈ عباسی خلیفہ القائم بامراللہ، ابوجعفر، ابن القادر، ہاشمی (391 -467ھ ) نے تقریباً 430 ہجری میں ’’ الاعتقاد القادری“ کے نام سے مسلمانوں کا اجماعی و اتفاقی عقیدہ شائع کیا، جسے اس دور کے تمام اہل علم کی تائید حاصل تھی اور اس کا مخالف باتفاقِ اہل علم فاسق و فاجر قرار پایا، اس میں یہ عقیدہ بھی درج ہے :
ولا يقول فى معاوية إلا خيرا، ولا يدخل فى شيئ شجر بينهم، ويترحم علٰي جماعتهم
’’ مسلمان سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں صرف اچھی بات ہی کرتا ہے، وہ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات میں دخل نہیں دیتا، بلکہ تمام صحابہ کرام کے لیے رحمت کی دُعا کرتا ہے۔“ [ الاعتقاد القادري، مندرج فى المنتظم لابن الجوزي : 281/15، وسنده صحيح ]

◈ ثقہ و صدوق تبع تابعی، امام عوام بن حوشب رحمہ اللہ (م : 148ھ) فرماتے ہیں :
اذكروا محاسن أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم، تأتلف عليه قلوبكم، ولا تذكروا غيره، فتحرشوا الناس عليهم
’’ تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے محاسن ہی بیان کیا کرو۔ اس سے تمہارے مابین اتحاد پیدا ہو گا۔ صحابہ کرام کے بارے میں بدگمانی والی باتیں نہ کرو۔ اس سے تم لوگوں کو ان کے خلاف بھڑکانے کا سبب بنو گے۔“ [الشريعة للآجري : 1981، السنة لأبي بكر الخلال : 828، 829، وسنده حسن]

◈ کٹر سنی، عظیم تبع تابعی، امام شہاب بن خراش رحمہ اللہ( المتوفٰي بعد : 174ھ) فرماتے ہیں :
أدركت من أدركت من صدر هٰذه الـأمة، وهم يقولون : اذكروا أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ما تأتلف عليه القلوب، ولا تذكروا الذى شجر بينهم، فتحرشوا الناس عليهم
’’ میں نے اس امت کے اسلاف کو یہی کہتے ہوئے سنا ہے کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کا صرف ایسا تذکرہ کیا کرو، جس سے ان کے بارے میں محبت پیدا ہو۔ ان کے اختلافات کا تذکرہ نہ کرو کہ اس سے تم لوگوں کو ان سے متنفر کرنے کا سبب بنو گے۔“ [الكامل فى ضعفاء الرجال لابن عدي : 53/5، تاريخ دمشق لابن عساكر : 215/23، ميزان الاعتدال للذهبي : 282/2، وسنده صحيح]

◈ امام ابوالحسن، اشعری رحمہ اللہ (260- 324ھ) فرماتے ہیں :
ونتولٰي سائر أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ونكف عما شجر بينهم
’’ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے مابین ہونے والے اختلافات کے بارے میں اپنی زبان بند رکھتے ہیں۔“ [الإبانة عن أصول الديانة، ص : 29]

◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ (673 -748ھ )فرماتے ہیں :
فسبيلنا الكف والاستغفار للصحابة، ولا نحب ما شجر بينهم، ونعوذ بالله منه
’’ ہمارا منہج یہ ہے کہ صحابہ کرام کے (اختلافات کے ) بارے میں زبان بند رکھی جائے اور ان کے لیے مغفرت کی دُعا کی جائے۔ ان کے مابین جو بھی اختلافات ہوئے، ہم ان کا تذکرہ پسند نہیں کرتے، بلکہ ایسے طرز عمل سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہیں۔“ [سير أعلام النبلاء : 39/3]

◈ مزید فرماتے ہیں :
وكان الناس فى الصدر الـأول بعد وقعة صفين علٰي أقسام ؛ أهل سنة، وهم أولوا العلم، وهم محبون للصحابة، كافون عن الخوض فيما شجر بينهم، كسعد، وابن عمر، ومحمد بن سلمة، وأمم، ثم شيعة، يتوالون، وينالون ممن حاربوا عليا، ويقولون : إنهم مسلمون، بغاة، ظلمة، ثم نواصب، وهم الذين حاربوا عليا يوم صفين، ويقرون بإسلام علٰي سابقيه، ويقولون : خذل الخليفة عثمان، فما علمت فى ذٰلك الزمان شيعيا كفر معاوية وحزبه، ولا ناصبيا كفر عليا وحزبه، بل دخلوا فى سب وبغض، ثم صار اليوم شيعة زماننا يكفرون الصحابة، ويبرؤون منهم جهلا وعدوانا، ويتعدون إلى الصديق، قاتلهم الله، وأما نواصب وقتنا فقليل، وما علمت فيهم من يكفر عليا ولا صحابيا
’’ واقعہ صفیں کے بعد صدر اوّل کے لوگ تین اقسام میں بٹ گئے تھے ؛ ایک اہل سنت جو تمام صحابہ کرام سے محبت رکھتے تھے اور ان کے باہمی اختلافات میں ٹانگ اڑانے سے باز رہتے تھے، جیسا کہ سیدنا سعد، سیدنا ابن عمر، محمد بن سلمہ اور دیگر بہت سے لوگ۔ دوسرے شیعہ جو اہل بیت سے محبت کا دم بھرتے تھے اور جن لوگوں کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لڑائی ہوئی، ان کی گستاخی کرتے ہوئے کہتے تھے کہ وہ باغی اور ظالم مسلمان ہیں۔ تیسرے ناصبی لوگ جو صفیں والے دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لڑے تھے اور سیدنا ابوبکر و عمر کو مسلمان سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خلیفۃ المسلمین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بے یار و مدد گار چھوڑ دیا۔ میرے علم میں اُس دور کا کوئی شیعہ ایسا نہیں جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ کو کافر قرار دیتا ہو، نہ اس دور کا کوئی ناصبی ایسا تھا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے گروہ پر کفر کا فتویٰ لگاتا ہو، بلکہ وہ صرف مخالفین پر سب و شتم کرتے تھے اور دل میں ان کے لیے بغض رکھتے تھے۔ پھر یہ دور آیا کہ ہمارے زمانے کے شیعہ اپنی جہالت اور ہٹ دھرمی کی بنا پر صحابہ کرام کو کافر کہتے ہوئے ان سے براءت کا اعلان کرنے لگے۔ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ظلم و زیادتی پر مبنی باتیں کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو تباہ و برباد کرے۔ رہے ناصبی تو وہ ہمارے دور میں بہت کم رہ گئے ہیں۔ میرے علم کے مطابق ان میں سے کوئی بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ یا کسی اور صحابی کو کافر قرار نہیں دیتا۔“ [سير أعلام النبلاء : 374/5]

◈ نیز لکھتے ہیں :
بل سبيلنا أن نستغفر لكل ونحبهم، ونكف عما شجر بينهم
’’ ہمارا منہج یہ ہے کہ ہم تمام صحابہ کرام کے لیے مغفرت کی دُعا کرتے ہیں، سب سے محبت رکھتے ہیں اور ان کے مابین جو اختلافات ہوئے، ان سے زبان بند رکھتے ہیں۔“ [سير أعلام النبلاء : 370/7]

◈ امام محمد بن حسین آجری رحمہ اللہ ( م : 360ھ) فرماتے ہیں :
ينبغي لمن تدبر ما رسمناه من فضائل أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وفضائل أهل بيته رضي الله عنهم أجمعين أن يحبهم، ويترحم عليهم، ويستغفر لهم، ويتوسل إلى الله الكريم بهم، ويشكر الله العظيم إذ وفقه لهٰذا، ولا يذكر ما شجر بينهم، ولا ينقر عنه، ولا يبحث، فإن عارضنا جاهل مفتون قد خطئ به عن طريق الرشاد، فقال : لم قاتل فلان لفلان، ولم قتل فلان لفلان وفلان؟ قيل له : ما بنا وبك إلٰي ذكر هٰذا حاجة تنفعنا، ولا اضطررنا إلٰي علمها، فإن قال : ولم ؟ قيل له : لأنها فتن شاهدها الصحابة رضي الله عنهم، فكانوا فيها علٰي حسب ما أراهم العلم بها، وكانوا أعلم بتأويلها من غيرهم، وكانوا أهدٰي سبيلا ممن جائ بعدهم، لأنهم أهل الجنة، عليهم نزل القرآن، وشاهدوا الرسول صلى الله عليه وسلم، وجاهدوا معه، وشهد لهم الله عز وجل بالرضوان والمغفرة والـأجر العظيم، وشهد لهم الرسول صلى الله عليه وسلم أنهم خير قرن، فكانوا بالله عز وجل أعرف، وبرسوله صلى الله عليه وسلم وبالقرآن وبالسنة، ومنهم يؤخذ العلم، وفي قولهم نعيش، وبأحكامهم نحكم، وبأدبهم نتأدب، ولهم نتبع، وبهٰذا أمرنا، فإن قال : وإيش الذى يضرنا من معرفتنا لما جرٰي بينهم والبحث عنه؟ قيل له : ما لا شك فيه، وذٰلك أن عقول القوم كانت أكبر من عقولنا، وعقولنا أنقص بكثير، ولا نأمن أن نبحث عما شجر بينهم، فنزل عن طريق الحق، ونتخلف عما أمرنا فيهم، فإن قال : وبم أمرنا فيهم؟ قيل : أمرنا بالاستغفار لهم، والترحم عليهم، والمحبة لهم، والاتباع لهم، دل علٰي ذٰلك الكتاب والسنة وقول أئمة المسلمين، وما بنا حاجة إلٰي ذكر ما جرٰي بينهم، قد صحبوا الرسول صلى الله عليه وسلم، وصاهرهم، وصاهروه، فبالصحبة يغفر الله الكريم لهم، وقد ضمن الله عز وجل فى كتابه أن لا يخزي منهم واحدا، وقد ذكر لنا الله تعالٰي فى كتابه أن وصفهم فى التوراة والإنجيل، فوصفهم بأجمل الوصف، ونعتهم بأحسن النعت، وأخبرنا مولانا الكريم أنه قد تاب عليهم، وإذا تاب عليهم لم يعذب واحدا منهم أبدا، رضي الله عنهم ورضوا عنه، أولٰئك حزب الله، ألا إن حزب الله هم المفلحون، فإن قال قائل : إنما مرادي من ذٰلك لـأن أكون عالما بما جرٰي بينهم، فأكون لم يذهب على ما كانوا فيه، لأني أحب ذٰلك ولا أجهله، قيل له : أنت طالب فتنة، لأنك تبحث عما يضرك ولا ينفعك، ولو اشتغلت بإصلاح ما للٰه عز وجل عليك فيما تعبدك به من أدائ فرائضه، واجتناب محارمه، كان أولٰي بك، وقيل : ولا سيما فى زماننا هٰذا، مع قبح ما قد ظهر فيه من الـأهوائ الضالة، وقيل له : اشتغالك بمطعمك وملبسك من أين هو؟ أولٰي بك، وتكسبك لدرهمك من أين هو؟ وفيما تنفقه؟ أولٰي بك، وقيل : لا يأمن أن يكون بتنقيرك وبحثك عما شجر بين القوم إلٰي أن يميل قلبك، فتهوٰي ما لا يصلح لك أن تهواه، ويلعب بك الشيطان، فتسب وتبغض من أمرك الله بمحبته، والاستغفار له، وباتباعه، فتزل عن طريق الحق، وتسلك طريق الباطل، فإن قال : فاذكر لنا من الكتاب والسنة، وعمن سلف من علمائ المسلمين، ما يدل علٰي ما قلت، لترد نفوسنا عما تهواه من البحث عما شجر بين الصحابة رضي الله عنهم، قيل له : قد تقدم ذكرنا لما ذكرته مما فيه بلاغ وحجة لمن عقل، ونعيد بعض ما ذكرناه ليتيقظ به المؤمن المسترشد إلٰي طريق الحق، قال الله عز وجل : ﴿محمد رسول الله والذين معه اشدآئ على الكفار رحمآئ بينهم تراهم ركعا سجدا يبتغون فضلا من الله ورضوانا سيماهم فى وجوههم من اثر السجود ذٰلك مثلهم فى التوراة ومثلهم فى الـانجيل كزرع اخرج شطاه فآزره فاستغلظ فاستوٰي علٰي سوقه يعجب الزراع ليغيظ بهم الكفار﴾ [الفتح 48 : 29] ، ثم وعدهم بعد ذٰلك المغفرة والـأجر العظيم، وقال الله عز وجل : ﴿لقد تاب الله على النبى والمهاجرين والـانصار الذين اتبعوه فى ساعة العسرة﴾ [التوبة 9 : 117] ، وقال عز وجل : ﴿والسابقون الـاولون من المهاجرين والـانصار والذين اتبعوهم باحسان رضي الله عنهم﴾ [التوبة 9 : 100] إلٰي آخر الآية، وقال عز وجل : ﴿يوم لا يخزي الله النبى والذين آمنوا معه نورهم يسعٰي بين ايديهم وبايمانهم﴾ [التحريم 66 : 8] الآية، وقال عز وجل : ﴿كنتم خير امة﴾ [آل عمران 3 : 110] الآية، وقال عز وجل : ﴿لقد رضي الله عن المؤمنين﴾ [الفتح 48 : 18] إلٰي آخر الآية، ثم إن الله عز وجل أثنٰي علٰي من جائ بعد الصحابة، فاستغفر للصحابة، وسأل مولاه الكريم أن لا يجعل فى قلبه غلا لهم، فأثني الله عز وجل عليه بأحسن ما يكون من الثنائ، …..، وقال النبى صلى الله عليه وسلم : ”خير الناس قرني، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم“ [صحيح البخاري : 2652، صحيح مسلم : 2533] ، …..، قال محمد بن الحسين رحمه الله : يقال لمن سمع هٰذا من الله عز وجل ومن رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن كنت عبدا موفقا للخير اتعظت بما وعظك الله عز وجل به، وإن كنت متبعا لهواك خشيت عليك أن تكون ممن قال الله عز وجل ”ومن أضل ممن اتبع هواه بغير هدي من الله (، وكنت ممن قال الله عز وجل) ولو علم الله فيهم خيرا لأسمعهم ولو أسمعهم لتولوا وهم معرضون“، ويقال له : من جائ إلٰي أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتٰي يطعن فى بعضهم ويهوٰي بعضهم، ويذم بعضا ويمدح بعضا، فهٰذا رجل طالب فتنة، وفي الفتنة وقع، لأنه واجب عليه محبة الجميع، والاستغفار للجميع، رضي الله عنهم، ونفعنا بحبهم
’’ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام اور آپ کے اہل بیت کے جو فضائل بیان کیے ہیں، جو شخص ان کو غور سے ملاحظہ کر لے، اسے چاہئیے کہ وہ تمام صحابہ کرام اور اہل بیت سے محبت رکھے، سب کے لیے رحمت اور مغفرت کی دُعا کرے۔ ان (کے بارے میں اس عقیدے ) کو اللہ تعالیٰ کے دربار میں وسیلہ بناتے ہوئے اس طرف توفیق دینے پر اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کریں، وہ صحابہ کرام کے مابین جو اختلافات ہوئے، ان کا نہ ذکر کرے، نہ ان کے بارے میں بحث و تفتیش میں پڑے۔ اگر راہِ ہدایت سے بھٹکا ہوا کوئی جاہل اور پاگل شخص تکرار کرتے ہوئے ہمیں کہے کہ فلاں صحابی نے فلاں سے لڑائی کیوں کی اور فلاں نے فلاں کو قتل کیوں کیا ؟ تو ہم اسے جواب میں یہ کہیں گے کہ ہمیں اس بات کا نہ تو کوئی فائدہ ہے نہ ہم اسے معلوم کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر وہ کہے کہ کیوں ؟ تو ہم کہیں گے کہ یہ فتنے تھے جن سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا پالا پڑا اور انہوں نے ان فتنوں میں وہی طریقہ کار اپنایا جس کی طرف ان کے علمی اجتہاد نے ان کی رہنمائی کی۔ وہ ان فتنوں کی حقیقت کو بعد والوں سے بڑھ کر جانتے تھے۔ وہ بعد والوں سے زیادہ سیدھے راستے پر گامزن تھے، کیونکہ وہ اہل جنت تھے، ان کے سامنے قرآن نازل ہوا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کیا اور آپ کی معیت میں جہاد بھی کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے اپنی خوشنودی، مغفرت اور اجر عظیم کی ضمانت دی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خیرالقرون ہونے کی گواہی دی۔ وہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑھ کر معرفت رکھنے والے تھے، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ جاننے والے اور قرآن و سنت کو سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے، لہٰذا ہم علم انہی سے اخذ کرتے ہیں، ان کے اقوال سے تجاوز نہیں کرتے، انہی کے فیصلوں کو نافذ کرتے ہیں، اپنے آپ کو انہی کے رنگ میں رنگتے ہیں، انہی کی پیروی کرتے ہیں اور ہمیں حکم بھی اسی بات کا دیا گیا ہے۔ اگر وہ شخص یہ کہہ دے کہ ہمیں صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کی جانچ پڑتال میں پڑنے سے کون سا نقصان ہو جائے گا ؟ تو ہم کہیں گے مشاجرات ِ صحابہ میں دخل دینے سے نقصان میں مبتلا ہونا لازم ہے، کیونکہ صحابہ کرام عقلی اعتبار سے ہم سے بہت فائق تھے، جبکہ ہم ان کے مقابلے میں بہت زیادہ کم عقل ہیں، یوں اگر ہم ان کے مابین اختلافات میں غور و خوض کریں گے تو ضروری طور پر راہِ حق سے گمراہ ہو جائیں گے اور ان کے بارے میں جس سلوک کا ہمیں حکم دیا گیا ہے، اس سے منحرف ہو جائیں گے۔ اگر وہ سوال کرے کہ ہمیں صحابہ کرام کے بارے میں کیا حکم دیا گیا ہے ؟ تو ہم کہیں گے کہ ہمیں ان کے لیے استغفار اور رحمت کی دُعا کرنے، ان سے محبت رکھنے اور ان کی اطاعت کرنے کا حکم سنایا گیا ہے۔ اس پر کتاب و سنت اور ائمہ مسلمین کے اقوال دلیل ہیں۔ ہمیں صحابہ کرام کے مابین اختلافات کو ذکر کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مشرف ہوئے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ داری اختیار کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان سے رشتہ داری بنائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی بنا پر ہی اللہ کریم ان کو معاف فرما دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ضمانت دی ہے کہ وہ ان میں سے کسی کو رسوا نہیں کرے گا اور قرآنِ کریم میں یہ بھی ذکر کیا کہ صحابہ کرام کی نشانیاں توراۃ و انجیل میں مذکور ہیں۔ یوں اللہ تعالیٰ نے انہیں بہترین محاسن و اوصاف سے متصف فرمایا اور ہمیں یہ بتا دیا کہ اس نے اُن کی توبہ قبول کر لی ہے۔ جب ان کی توبہ قبول ہو گئی ہے تو ان میں سے کسی کو کبھی بھی عذاب نہیں ہو سکتا۔ اللہ صحابہ کرام سے راضی ہو گیا اور صحابہ کرام اللہ تعالیٰ سے راضی ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کا گروہ تھے اور اللہ کا گروہ ہی کامیاب و کامران ہے۔ اگر کوئی کہے کہ اس سے میری مراد یہ ہے کہ میں صحابہ کرام کے اختلافات سے باخبر ہو جاؤں اور وجہ اختلاف جاننا مجھے اچھا لگتا ہے۔ اسے کہا جائے کہ تو فتنہ برپا کرنا چاہتا ہے، کیونکہ تو وہ چیز طلب کر رہا ہے جو تجھے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی، البتہ نقصان ضرور دے گی۔ اگر اس کے بجائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کیے گئے فرائض و واجبات کی ادائیگی کر کے اور اس کے بیان کردہ محرمات سے بچ کر اپنی بندگی کی اصلاح کر لیتا تو یہ کام تیرے لیے بہتر ہوتا، خصوصاً ہمارے اس زمانے میں جب کہ بہت سی گمراہیاں بھی سر اٹھا چکی ہیں۔ تیرے کھانے پینے، لباس اور معاش کا انتظام کہاں سے ہو گا اور مال کو خرچ کہاں کرنا ہے ؟ اس بارے میں غور و فکر تیرے لیے زیادہ بہتر ہے۔ صحابہ کرام کے مشاجرات کی بحث و تفتیش میں پڑنے کے بعد تیرا دل کج روی سے محفوظ نہیں رہ پائے گا اور تو وہ سوچنے لگے گا، جو تیرے لیے جائز ہی نہیں، شیطان تجھے بہکائے گا اور تو ان ہستیوں کو برا بھلا کہنے لگے گا اور ان سے بغض رکھنے لگے گا، جن سے محبت کرنے، جن کے بارے میں استغفار کرنے اور جن کی پیروی کرنے کا تجھے اللہ کی طرف سے حکم ہے۔ یوں تو شاہراہِ حق سے بھٹک کر باطل کی پگڈنڈیوں کا راہی بن جائے گا۔ اگر وہ کہے کہ ہمیں قرآن و سنت کی نصوص اور علمائے مسلمین کے اقوال میں وہ بات دکھاؤ جس سے تمہارا مدعا ثابت ہوتا ہو تاکہ ہم صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے بارے میں بحث و تفتیش کی خواہش سے باز آ جائیں، تو اس سے کہا جائے گا کہ اس سلسلے میں وہ تمام چیزیں ہم ذکر کر چکے ہیں جن سے ذی شعور شخص کو حقیقت کا ادراک ہو سکتا ہے، البتہ ان میں سے کچھ باتیں یہاں دوبارہ ذکر کی جائیں گی تاکہ حق کا متلاشی مؤمن کا ضمیر جاگ جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
﴿مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّـهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ﴾ [الفتح 48 : 29]
”محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں، وہ کافروں پر بہت سخت اور آپس میں بہت مہربان ہیں، آپ انہیں رکوع و سجود کرتے دیکھیں گے، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی کے طلبگار رہتے ہیں، ان کی ایک خصوصی پہچان ان کے چہروں میں سجدوں کا نشان ہے، ان کی یہ صفت تورات میں ہے، اور انجیل میں ان کی صفت اس کھیتی کے مانند ہے جس نے اپنی کونپل نکالی، پھر اسے مضبوط کیا اور وہ (پودا) توانا ہو گیا، پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہو گیا، یہ صورت حال کسانوں کو خوش کرتی ہے، (اللہ کی طرف سے یہ اس لیے ہوا) تاکہ ان (صحابہ کرام ) کی وجہ سے کفار کو غیض و غضب میں مبتلا کرے۔“
پھر اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کو مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ دیا۔ یہ بھی فرمایاکہ :
﴿لَقَدْ تَابَ اللَّـهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ﴾ [التوبة 9 : 117]
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان مہاجرین و انصار پر شفقت فرمائی جنہوں نے تنگی کے عالم میں آپ کی پیروی کی۔“
نیز فرمایا
﴿وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّـهُ عَنْهُمْ﴾ [التوبة 9 : 100]
”مہاجرین اور انصار میں سے اسلام میں سبقت کرنے والے اور جن لوگوں نے اچھے طریقے سے ان کی پیروی کی، اللہ ان سے راضی ہو گیا“
﴿يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّـهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ﴾ [التحريم 66 : 8]
”(قیامت وہ دن ہے) جس دن اللہ اپنے نبی اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا، ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑتا ہو گا۔“ ﴿كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ﴾ [آل عمران 3 : 110] ”تم بہتر امت ہو۔“ ﴿لَقَدْ رَضِيَ اللَّـهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الفتح 48 : 18] ”یقیناً اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے راضی ہو گیا۔“ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف بھی کی جو صحابہ کرام کے بعدآ کر ان کے لیے استغفار کریں گے اور دُعا کریں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں صحابہ کرام کے بارے میں کوئی خلش نہ ڈالے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی بہت زیادہ ثناء کی ہے۔۔۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سب سے بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئے اور پھر وہ جو ان کے بعد آئے [ صحيح البخاري : 2652، صحيح مسلم : 2533] جو شخص اللہ تعالیٰ اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ فرامین سن لے، اسے کہا جائے کہ اگر تو ہدایت و بھلائی کا طالب ہے تو اللہ تعالیٰ کی نصیحت پر عمل کر اور اگر اب بھی تو اپنی من مرضی کرے گا تو ڈر ہے کہ تیرا شمار ان لوگوں میں سے ہو جائے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ﴿وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِنَ اللَّـهِ﴾ [القصص 28 : 50] ”اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس نے اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنے نفس کی پیروی کر لی ؟“ ﴿وَلَوْ عَلِمَ اللَّـهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَأَسْمَعَهُمْ وَلَوْ أَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ﴾ [الأنفال 8 : 23] اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتا تو انہیں ضرور سنا (سمجھا) دیتا، اور اگر وہ انہیں (سمجھا) دیتا تو بھی وہ ضرور پھر جاتے اور اعراض کرنے والے ہوتے اور اسے یہ بھی کہا جائے کہ جو شخص رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ کرام پر طعن کرے اور بعض کی تعریف کرے، نیز بعض پر تنقید کرے، اور بعض کی مدح کرے، وہ فتنہ پرور ہے اور فتنے میں مبتلا ہو چکا ہے، کیونکہ اس پر فرض تھا کہ سب صحابہ کرام سے محبت کرتا اور سب کے لیے استغفار کرتا۔ اللہ تعالیٰ صحابہ کرام سے راضی ہو اور ہمیں ان کی محبت کے سبب نجات دے۔۔۔“ [الشريعة : 2485/5]

◈ امام ابوبکر، احمد بن ابراہیم، اسماعیلی رحمہ اللہ ( 277- 371ھ) محدثین کرام کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
والكف عن الوقيعة فيهم، وتأول القبيح عليهم، ويكلونهم فيما جرٰي بينهم على التأويل إلى الله عز وجل
’’ ائمہ حدیث صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے بارے میں اپنی زبان بند رکھتے ہیں، بری باتیں ان پر نہیں تھوپتے اور اجتہادی طور پر ان کے مابین جو بھی ناخوشگوار واقعات ہوئے، ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑتے ہیں۔“ [اعتقاد ائمة الحديث، ص : 79]

◈ امام، ابوالحسن، علی بن اسماعیل، اشعری رحمہ اللہ (260- 324ھ ) فرماتے ہیں :
فأما ما جرٰي من على والزبير وعائشة رضي الله عنهم أجمعين، فإنما كان علٰي تأويل واجتهاد، وعلي الإمام، وكلهم من أهل الاجتهاد، وقد شهد لهم النبى صلى الله عليه وسلم بالجنة والشهادة، فدل علٰي أنهم كلهم كانوا علٰي حق فى اجتهادهم، وكذٰلك ما جرٰي بين سيدنا على ومعاوية رضي الله عنهما، فدل علٰي تأويل واجتهاد، وكل الصحابة أئمة مأمونون غير متهمين فى الدين، وقد أثني الله ورسوله علٰي جميعهم، وتعبدنا بتوقيرهم وتعظيمهم وموالاتهم، والتبري من كل من ينقص أحدا منهم، رضي الله عنهم أجمعين
’’ سیدنا علی، سیدنا زبیر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم کے مابین جو اختلافات ہوئے، وہ اجتہادی تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے اور سب صحابہ کرام مجتہد تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جنت اور شہادت کی خوشخبری سنائی ہے۔ اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ سب اپنے اجتہاد میں حق پر تھے۔ اسی طرح سیدنا علی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین جو اختلافات ہوئے، وہ بھی اجتہادی تھے۔ تمام صحابہ کرام بااعتماد اور باکردار ائمہ تھے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سب کی تعریف کی ہے اور ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی عزت و تعظیم کریں، ان سے محبت رکھیں اور جو شخص ان کی تنقیص کرتا ہے، اس سے براءت کا اعلان کریں۔ اللہ تعالیٰ ان سب پر راضی ہو چکا ہے۔“ [الإبانة عن أصول الديانة، ص : 78]

◈ امام ابومنصور معمر بن احمد اصبہانی رحمہ اللہ (م : 418ھ ) مشاجرات ِ صحابہ میں زبان بند رکھنے کو اہل سنت و الجماعت کا اجماعی و اتفاقی عقیدہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
ومن السنة السكوت عما شجر بين أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، ونشر فضائلهم والاقتدائ بهم، فإنهم النجوم الزاهرة رضي الله عنهم، ثم الترحم على التابعين والـأئمة والسلف الصالحين رحمة الله عليهم
’’ سنت (کا مقتضیٰ) یہ ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے مابین جو اختلافات ہوئے، ان کے بارے میں خاموشی اختیار کی جائے، ان کے فضائل بیان کیے جائیں اور ان کی اقتداء کی جائے۔ صحابہ کرام تو چمکدار ستارے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سب پر راضی ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ تابعین، ائمہ دین اور سلف صالحین کے لیے رحمت کی دُعا کی جائے۔“ [الحجة فى بيان المحجة لأبي القاسم الأصبهاني : 252/1، وسنده صحيح]

◈ امام ابونعیم اصبہانی رحمہ اللہ (430-336ھ ) فرماتے ہیں :
فالواجب على المسلمين فى أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم إظهار ما مدحهم الله تعالٰي به وشكرهم عليه من جميل أفعالهم وجميل سوابقهم، وأن يغضوا عما كان منهم فى حال الغضب والإغفال وفرط منهم عند استزلال الشيطان إياهم، ونأخذ فى ذكرهم بما أخبر الله تعالٰي به، فقال تعالٰي : ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ [الحشر 59 : 10] الآية، فإن الهفوة والزلل والغضب والحدة والإفراط لا يخلو منه أحد، وهو لهم غفور، ولا يوجب ذٰلك البرائ منهم، ولا العداوة لهم، ولٰكن يحب على السابقة الحميدة، ويتولٰي للمنقبة الشريفة
’’ اصحاب رسول کے بارے میں مسلمانوں پر یہ فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح میں جو کچھ فرمایا ہے اور ان کے اچھے افعال و کارناموں کی جو تعریفات کی ہیں، انہیں بیان کیا جائے اور شیطان کے بہکاوے میں آ کر ان سے غصے، غفلت اور شدت میں جو کوتاہیاں ہوئی ہیں، ان سے چشم پوشی کی جائے۔ اس سلسلے میں ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو دلیل بناتے ہیں : ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ [الحشر 59 : 10] ”جو لوگ ان کے بعد آئیں اور کہیں کہ اے ہمارے رب ! تو ہمیں بھی معاف فرما دے اور ہم سے پہلے ایمان والوں کو بھی )۔“ کیونکہ لغزش، غلطی، غصے، شدت اور کوتاہی سے کوئی بھی مبرا نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی ایسی لغزشوں کو معاف فرما دیا ہے۔ صحابہ کرام کی ایسی بشری لغزشیں ان سے براءت اور عداوت کا باعث نہیں بن سکتیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی قابل ستائش سبقت ِ اسلام کی بنا پر ان سے محبت رکھتا ہے اور عزت والے مرتبے کی وجہ سے ان سے دوستی رکھتا ہے۔“ [كتاب الإمامة والرد على الرافضة، ص : 341، 342]

◈ شیخ الاسلام، ابوعثمان، اسماعیل، صابونی رحمہ اللہ (م : 449ھ )فرماتے ہیں :
ويرون الكف عما شجر بين أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، وتطهير الـألسنة عن ذكر ما يتضمن عيبا لهم ونقصا فيهم، ويرون الترحم علٰي جميعهم، والموالاة لكافتهم
’’ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام کے مابین اختلافات میں خاموشی اختیار کی جائے اور زبان کو ایسی باتوں سے پاک رکھا جائے جن سے صحابہ کرام کا کوئی عیب و نقص ظاہر ہوتا ہو، بلکہ ان سب کے لیے رحمت کی دُعا کی جائے اور ان سب سے محبت رکھی جائے۔“ [عقيدة السلف أصحاب الحديث، ص : 93]

◈ حافظ عبیداللہ بن محمد، ابن بطہ رحمہ اللہ(304 – 387ھ )فرماتے ہیں :
نكف عما شجر بين أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقد شهدوا المشاهد معه، وسبقوا الناس بالفضل، فقد غفر الله لهم، وأمرك بالاستغفار لهم، والتقرب إليه بمحبتهم، وفرض ذٰلك علٰي لسان نبيه، وهو يعلم ما سيكون منهم، وأنهم سيقتلون، وإنهم فضلوا علٰي سائر الخلق، لأن الخطأ والعمد قد وضع عنهم، وكل ما شجر بينهم مغفور لهم
’’ ہم اصحاب رسول کے باہمی اختلافات کے بارے میں اپنی زبان بند رکھتے ہیں۔ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا اور نیکی میں ان کو ساری امت سے سبقت حاصل ہے، اللہ نے ان کو معاف فرما دیا ہے اور مسلمانوں کو ان کے لیے دُعائے مغفرت کرنے اور ان سے محبت رکھ کر اپنا تقرب حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ احکام اس اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی فرض کیے ہیں جسے یہ بخوبی معلوم تھاکہ آئندہ کیا ہونے والا ہے، اسے معلوم تھا کہ صحابہ کرام آپس میں قتال تک کریں گے۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے (انبیائے کرام کے بعد) ساری مخلوق پر انہیں فضیلت عطا فرمائی۔ خطا و عمد دونوں قسم کی لغزشیں ان سے دور کر دی گئی ہیں اور ان کے تمام باہمی اختلافات بھی انہیں معاف فرما دیے گئے ہیں۔“ [الإبانة فى أصول السنة، ص : 268]

◈ امام، قوام السنۃ، ابوالقاسم، اسماعیل بن محمد، اصبہانی رحمہ اللہ (م : 535ھ )فرماتے ہیں :
وما جرٰي بين على وبين معاوية، فقال السلف : من السنة السكوت عما شجر بين أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم
’’ سیدنا علی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین جو اختلافات ہوئے، اس سلسلے میں سلف کا موقف یہ ہے کہ صحابہ کرام کے مابین اختلافات میں خاموشی اختیار کرنا سنت (کا مقتضٰی) ہے۔“ [الحجة فى بيان المحجة : 569/2]

◈ حافظ، ابوزکریا، یحییٰ بن شرف، نووی رحمہ اللہ (631 – 676ھ ) قتل مسلم پر جہنم کی وعید والی حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
واعلم أن الدمائ التى جرت بين الصحابة رضي الله عنهم، ليست بداخلة فى هٰذا الوعيد، ومذهب أهل السنة والحق إحسان الظن بهم، والإمساك عما شجر بينهم، وتأويل قتالهم، وأنهم مجتهدون متأولون، لم يقصدوا معصية، ولا محض الدنيا، بل اعتقد كل فريق أنه المحق، ومخالفه باغ، فوجب عليه قتاله ليرجع إلٰي أمر الله، وكان بعضهم مصيبا، وبعضهم مخطئا معذورا فى الخطإ، لأنه لاجتهاد، والمجتهد إذا أخطأ لا إثم عليه، وكان على رضى الله عنه هو المحق المصيب فى تلك الحروب، هٰذا مذهب أهل السنة، وكانت القضايا مشتبهة، حتٰي إن جماعة من الصحابة تحيروا فيها، فاعتزلوا الطائفتين، ولم يقاتلوا، ولم يتيقنوا الصواب، ثم تأخروا عن مساعدته
’’ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ صحابہ کرام کے مابین اختلافات کے دوران جو خون بہے، وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ اہل سنت و اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ وہ صحابہ کرام کے بارے میں حسن ظن ہی رکھتے ہیں، ان کے مابین اختلافات پر خاموشی اختیار کرتے ہیں، اہل سنت کے نزدیک صحابہ کرام کی باہمی لڑائیاں دلائل پر مبنی تھیں اور وہ اس سلسلے میں مجتہد تھے۔ ان کا ارادہ کسی گناہ یا دنیاوی متاع کا نہیں تھا، بلکہ ہر فریق یہی سمجھتا تھا کہ وہ حق پر اور ان کا مخالف باغی ہے، جس کو اللہ کے حکم کی طرف لوٹانے کے لیے قتال ضروری ہے۔ یوں بعض واقعی حق پر اور بعض خطا پر تھے، کیونکہ یہ اجتہادی معاملہ تھا اور مجتہد جب غلطی کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ ان لڑائیوں میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی حق پر تھے ( لیکن خطا اجتہادی ہونے کی بنا پر دوسرے صحابہ پر بھی کوئی قدغن نہیں )۔ اہل سنت والجماعت کا یہی مذہب ہے۔ یہ معاملات اتنے پیچیدہ تھے کہ بہت سے صحابہ کرام بھی اس سلسلے میں پریشان رہے اور دونوں گروہوں سے علیحدگی اختیار کر لی۔ انہیں بالقیں درست بات کا علم نہ ہو سکا اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی حمایت سے بھی دستبردار رہے۔“ [شرح صحيح مسلم : 11/18]

◈ نیز فرماتے ہیں :
وأما الحروب التى جرت، فكانت لكل طائفة شبهة، اعتقدت تصويب أنفسها بسببها، وكلهم عدول رضي الله عنهم، ومتأولون فى حروبهم وغيرها، ولم يخرج شيئ من ذٰلك أحدا منهم عن العدالة، لأنهم مجتهدون، اختلفوا فى مسائل من محل الاجتهاد، كما يختلف المجتهدون بعدهم، فى مسائل من الدمائ وغيرها، ولا يلزم من ذٰلك نقص أحد منهم، واعلم أن سبب تلك الحروب أن القضايا كانت مشتبهة، فلشدة اشتباهها اختلف اجتهادهم، وصاروا ثلاثة أقسام؛ قسم ظهر لهم بالاجتهاد أن الحق فى هٰذا الطرف، وأن مخالفه باغ، فوجب عليهم نصرته وقتال الباغي عليه، فيما اعتقدوه، ففعلوا ذٰلك، ولم يكن يحل لمن هٰذه صفته التأخر عن مساعدة إمام العدل، فى قتال البغاة فى اعتقاده، وقسم عكس هٰؤلائ، ظهر لهم بالاجتهاد أن الحق فى الطرف الآخر، فوجب عليهم مساعدته وقتال الباغي عليه، وقسم ثالث اشتبهت عليهم القضية، وتحيروا فيها، ولم يظهر لهم ترجيح أحد الطرفين، فاعتزلوا الفريقين، وكان هٰذا الاعتزال هو الواجب فى حقهم، لأنه لا يحل الإقدام علٰي قتال مسلم، حتٰي يظهر أنه مستحق لذٰلك، ولو ظهر لهؤلائ رجحان أحد الطرفين، وأن الحق معه، لما جاز لهم التأخر عن نصرته فى قتال البغاة عليه، فكلهم معذورون، رضي الله عنهم، ولهٰذا اتفق أهل الحق، ومن يعتد به فى الإجماع، علٰي قبول شهاداتهم ورواياتهم، وكمال عدالتهم، رضي الله عنهم أجمعين
’’ جو لڑائیاں صحابہ کرام کے مابین ہوئیں، ان میں ہر گروہ کو ایک شبہ تھا جس کے مطابق ہر ایک نے اپنے آپ کو حق پر سمجھ لیا اور صحابہ کرام سب کے سب عادل تھے اور اپنی لڑائیوں اور دیگر معاملات میں دلائل رکھتے تھے۔ ان میں سے کسی بھی معاملے کی بنا پر کوئی بھی صحابی ثقاہت کے دائرہ کار سے خارج نہیں ہوا، کیونکہ سب صحابہ کرام مجتہد تھے، وہ کئی اجتہادی مسائل میں مختلف الخیال ہوئے، جیسا کہ بعد میں آنے والے فقہائے کرام بھی قتل و حرب سمیت بہت سے مسائل میں اختلافات کا شکار ہوئے۔ ان اختلافات سے کسی میں کوئی نقص ثابت نہیں ہوتا۔ یہاں آپ کو ان لڑائیوں کی وجہ بھی معلوم ہونی چاہئیے۔ ان کی وجہ یہ بنی کہ معاملات انتہائی پیچیدہ تھے اور اسی سخت پیچیدگی کے باعث صحابہ کرام کے اجتہادات مختلف ہو گئے اور وہ تین قسموں میں بٹ گئے۔ ایک قسم وہ تھی جنہوں نے اپنے اجتہاد سے پہلے فریق کو حق پر سمجھا اور اس کے مخالف کو باغی خیال کیا، یوں ان پر پہلے فریق کی مدد کرنا اور اس کے مخالف سے لڑنا لازم ہو گیا اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔ حق والوں کے لیے اپنے نزدیک اہل حق کی نصرت اور اہل بغاوت سے لڑائی کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ دوسری قسم ان کے برعکس تھی، انہوں نے اپنے اجتہاد سے سمجھا کہ دوسرا فریق حق پر ہے، چنانچہ ان پر دوسرے فریق کی نصرت اور ان کے مخالفین کی سرکوبی ضروری ہو گئی۔ تیسری قسم میں وہ صحابہ کرام تھے جن پر معاملہ واضح نہ ہو سکا، وہ اس سلسلے میں کشمکش ہی کا شکار رہے اور کسی ایک فریق کی ترجیح ان پر ظاہر نہ ہو سکی۔ ایسے لوگ دونوں فریقوں سے علیحدہ ہو گئے اور ان پر یہ علیحدگی ہی ضروری تھی، کیونکہ اس وقت تک کسی مسلمان کو قتل کرنے کی کوشش جائز نہیں جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ وہ اس کا ہے۔ اگر ان صحابہ کرام کے سامنے کسی ایک فریق کا اہل حق ہونا عیاں ہو جاتا تو ان کے لیے اس کی نصرت و حمایت اور باغیوں سے قتال فرض ہو جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اہل حق اور اہل علم کا اجماع ہے کہ تمام صحابہ کرام کی گواہی اور ان کی روایات قبول کی جائیں گی اور ان کی ثقاہت میں کوئی نقص نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سب پر راضی ہو چکا ہے۔“ [شرح صحيح مسلم : 149/15]

◈ علامہ، ابوحامد، محمد بن محمد، غزالی (450- 505ھ) فرماتے ہیں :
وما جرٰي بين معاوية وعلي رضي الله عنهما كان مبنيا على الاجتهاد، ولا منازعة من معاوية فى الإمامة
’’ سیدنا معاویہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما کے باہمی اختلافات اجتہاد پر مبنی تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے امامت و خلافت کا کوئی تنازع نہیں تھا۔“ [إحياء علوم الدين : 115/1]

◈ علامہ، علی بن احمد، ابن حزم رحمہ اللہ (384- 456ھ) فرماتے ہیں :
فبهٰذا قطعنا علٰي صواب على رضي الله عنه، وصحة أمانته، وأنه صاحب الحق، وأن له أجرين؛ أجر الاجتهاد، وأجر الإصابة، وقطعنا أن معاوية رضى الله عنه ومن معه مخطئون، مجتهدون، مأجورون أجرا واحدا
’’ ان دلائل کی رُو سے ہم یقین سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ درستی پر تھے، صاحب حق و امانت تھے اور ان کے لیے دو اجر ہیں، ایک اجتہاد کا اور دوسرا درستی کا۔ ہم یہ بھی یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی غلطی پر تھے، لیکن مجتہد تھے اور ان کو اجتہاد کا ایک اجر ملے گا۔“ [الفصل فى الملل والأهواء والنحل : 161/4]

◈ شیخ الاسلام، ابوالعباس، احمد بن عبدالحلیم، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661- 728ھ) فرماتے ہیں :
ولهٰذا ينهٰي عما شجر بين هٰؤلائ، سوائ كانوا من الصحابة أو ممن بعدهم، فإذا تشاجر مسلمان فى قضية، ومضت، ولا تعلق للناس بها، ولا يعرفون حقيقتها، كان كلامهم فيها كلاما بلا علم ولا عدل، يتضمن أذاهما بغير حق، ولو عرفوا أنهما مذنبان أو مخطئان، لكان ذكر ذٰلك من غير مصلحة راجحة من باب الغيبة المذمومة، لٰكن الصحابة رضوان الله عليهم أجمعين أعظم حرمة، وأجل قدرا، وأنزه أعراضا، وقد ثبت من فضائلهم خصوصا وعموما ما لم يثبت لغيرهم، فلهٰذا كان الكلام الذى فيه ذمهم علٰي ما شجر بينهم أعظم إثما من الكلام فى غيرهم
’’ صحابہ کرام ہوں یا بعد والے مسلمان، ان کے باہمی اختلافات میں دخل دینے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دو مسلمان کسی معاملے میں جھگڑ پڑیں، پھر وہ معاملہ قصہ پارینہ بن جائے، بعد میں آنے والے لوگوں کا اس سے کوئی تعلق بھی نہ ہو اور وہ اس کی حقیقت سے واقف بھی نہ ہوں تو ان کا اس بارے میں باتیں کرنا جہالت و ناانصافی کا باعث ہو گا اور یہ عمل ان دونوں مسلمانوں کو ناحق اذیت دینے کی کوشش ہو گی۔ اگر بعد والوں کو یہ معلوم بھی ہو جائے کہ وہ غلطی پر تھے تو بھی اس معاملے کا ذکر کرنا مذموم غیبت شمار ہو گا جس میں کوئی مصلحت نہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو عام لوگوں سے بہت بڑھ کر حرمت، مقام و مرتبے اور عزت و تکریم کے حامل تھے۔ ان کے اس قدر عمومی و خصوصی فضائل و محاسن ثابت ہیں جو کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہو سکے۔ چنانچہ ان کے باہمی اختلافات کی مذمت میں کوئی بات کرنا دیگر گزرے ہوئے مسلمانوں کے اختلافات کے بارے میں بات کرنے سے بڑا جرم ہے۔“ [منهاج السنة النبوية فى نقض كلام الشيعة القدرية : 147,146/5]

◈ نیز فرماتے ہیں :
الإمساك عما شجر بينهم مطلقا، وهو مذهب أهل السنة والجماعة
’’ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا ہی اہل سنت والجماعت کا مذہب ہے۔“ [مجموع الفتاوي : 51/35]

◈ حافظ، ابوعبداللہ، محمد بن احمد بن عثمان، ذہبی رحمہ اللہ ( م : 748ھ )فرماتے ہیں :
وخلف معاوية خلق كثير يحبونه ويتغالون فيه، ويفضلونه، إما قد ملكهم بالكرم والحلم والعطاء، وإما قد ولدوا فى الشام علٰي حبه، وتربٰي أولادهم علٰي ذٰلك، وفيهم جماعة يسيرة من الصحابة، وعدد كثير من التابعين والفضلائ، وحاربوا معه أهل العراق، ونشؤوا على النصب، نعوذ بالله من الهوٰي، كما قد نشأ جيش على رضى الله عنه ورعيته إلا الخوارج منهم علٰي حبه، والقيام معه، وبغض من بغٰي عليه، والتبري منهم، وغلا خلق منهم فى التشيع، فبالله كيف يكون حال من نشأ فى إقليم، لا يكاد يشاهد فيه إلا غاليا فى الحب، مفرطا فى البغض، ومن أين يقع له الإنصاف والاعتدال ؟ فنحمد الله على العافية الذى أوجدنا فى زمان قد انمحص فيه الحق، واتضح من الطرفين، وعرفنا مآخذ كل واحد من الطائفتين، وتبصرنا، فعذرنا، واستغفرنا، وأحببنا باقتصاد، وترحمنا على البغاة بتأويل سائغ فى الجملة، أو بخطإ إن شائ الله مغفور، وقلنا كما علمنا الله : ﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا﴾ [الحشر 59 : 10] وترضينا أيضا عمن اعتزل الفريقين، كسعد بن أبي وقاص، وابن عمر، ومحمد بن مسلمة، وسعيد بن زيد، وخلق، وتبرأنا من الخوارج المارقين الذين حاربوا عليا، وكفروا الفريقين، فالخوارج كلاب النار، قد مرقوا من الدين، ومع هٰذا فلا نقطع لهم بخلود النار، كما نقطع به لعبدة الأصنام والصلبان
’’ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد بہت سے لوگ ایسے تھے جو ان سے محبت رکھتے تھے، ان کے بارے میں غلو سے کام لیتے تھے اور ان کے فضائل بیان کرتے تھے۔ اس کی وجہ یا تو یہ تھی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی حکمرانی کے دوران ان سے حلم و کرم اور بخشش کا سلوک فرمایا تھا یا پھر یہ لوگ شام میں پیدا ہوئے تو علاقائی طور پر ان کی محبت میں پرورش پائی اور ان کی اولادیں اسی ماحول میں پروان چڑھیں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے محبت کرنے والوں میں کچھ صحابہ کرام اور تابعین کرام کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔ اہل شام نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر اہل عراق کے خلاف لڑائی کی اور ان میں (نعوذ باللہ ) بغض اہل بیت پیدا ہوا۔ اسی طرح خوارج کے علاوہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی رعایا اور ان کا گروہ ان کی محبت و عقیدت میں اور ان کے مخالفین کے بغض و عناد میں پروان چڑھا۔ ان میں سے ایک گروہ تو تشیع میں غلو اختیار کر گیا۔ ایسے علاقے میں پرورش پانے والے لوگوں کا کیا حال ہوتا ہو گا کہ جو اپنے ارد گرد کے لوگوں کو کسی خاص شخص کی محبت میں غلو کرتے اور کسی خاص شخص کے بغض میں حد سے بڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے انصاف اور اعتدال کی کیا امید کی جا سکتی ہے ؟ ہم اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں ایسے پرعافیت زمانے میں پیدا کیا جس میں حق نتھر کر سامنے آ گیا اور طرفین کے دلائل واضح ہو گئے۔ ہم نے دونوں گروہوں کے مآخذ تک رسائی حاصل کی، غور و فکر کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ سب لوگ قابل قبول عذر رکھتے تھے۔ چنانچہ ہم نے ان سب کے لیے دُعائے مغفرت کی اور اعتدال پسندی کو اختیار کرتے ہوئے جائز تاویل یا معاف شدہ غلطی کی بنیاد پر باغیوں کے لیے بھی رحمت کی دُعا کی اور وہی کہا جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھایا تھا کہ : ﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا﴾ [الحشر 59 : 10] ”اے ہمارے رب ! ہمیں بھی معاف فرما دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ایمان کی حالت میں ہم سے پہلے گزر چکے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے بارے میں کوئی خلش نہ ڈالنا۔“ ہم نے ان صحابہ کرام کے بارے میں رضائے الٰہی طلب کی جنہوں نے دونوں فریقوں سے علیحدگی اختیار کی تھی، ان میں سیدنا سعد بن ابو وقاص، سیدنا ابن عمر، سیدنا محمد بن مسلمہ، سیدنا سعید بن زید وغیرہ شامل تھے۔ البتہ ہم مسلمانوں کی جماعت سے نکل جانے والے ان خارجیوں سے براءت کا اعلان کرتے ہیں جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑائی کی اور سب صحابہ کرام کو کافر قرار دیا۔ خوارج جہنم کے کتے ہیں، وہ اسلام سے نکل چکے تھے۔ اس کے باوجود ہم ان کو اس طرح ہمیشہ کے جہنمی نہیں سمجھتے جس طرح بتوں کے پجاریوں اور صلیبیوں کو سمجھتے ہیں۔“ [سير أعلام النبلاء : 128/3]

◈ حافظ، ابوفداء، اسماعیل بن عمر، ابن کثیر رحمہ اللہ (700 – 774ھ ) فرماتے ہیں :
وأما ما شجر بينهم بعده عليه الصلاة والسلام، فمنه ما وقع عن غير قصد، كيوم الجمل، ومنه ما كان عن اجتهاد، كيوم صفين، والاجتهاد يخطئ ويصيب، ولٰكن صاحبه معذور وإن أخطأ، ومأجور أيضا، وأما المصيب فله أجران اثنان
’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام کے مابین جو اختلافات ہوئے، ان میں سے بعض ایسے تھے جو بلا قصد و ارادہ واقع ہو گئے، جیسا کہ جنگ جمل والے دن ہوا اور بعض ایسے ہیں جو اجتہادی طور پر سرزد ہوئے، جیسا کہ جنگ صفیں والے دن ہوا۔ اجتہاد کبھی غلط ہوتا ہے اور کبھی درست، لیکن اجتہاد کرنے والا غلطی بھی کرے تو اسے ایک اجر ملتا ہے اور اس کا عذر قبول کیا جاتا ہے اور اگر وہ درست ہو تو اسے دو اجر ملتے ہیں۔“ [الباعث الحثيث إلى اختصار علوم الحديث، ص : 182]

◈ نیز فرماتے ہیں :
إن أصحاب على أدني الطائفتين إلى الحق، وهٰذا هو مذهب أهل السنة والجماعة أن عليا هو المصيب، وإن كان معاوية مجتهدا، وهو مأجور، إن شاء الله
’’ بلاشبہ دونوں گروہوں میں سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی حق کے زیادہ قریب تھے۔ اہل سنت والجماعت کا یہی مذہب ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ
حق پر تھے، لیکن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی مجتہد تھے اور ان کو بھی ان شاءاللہ ایک اجر ملے گا۔“ [البداية والنهاية : 279/2]

◈ حافظ، ابوالفصل، احمد بن علی بن محمد، ابن حجر، عسقلانی رحمہ اللہ(773 – 852ھ) فرماتے ہیں :
واتفق أهل السنة علٰي وجوب منع الطعن علٰي أحد من الصحابة، بسبب ما وقع لهم من ذٰلك، ولو عرف المحق منهم، لأنهم لم يقاتلوا فى تلك الحروب إلا عن اجتهاد، وقد عفا الله تعالٰي عن المخطئ فى الاجتهاد، بل ثبت أنه يؤجر أجرا واحدا، وأن المصيب يؤجر أجرين
’’ اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کی بنا پر کسی بھی صحابی پر طعن کرنا حرام ہے، اگرچہ کسی کو ان میں سے اہل حق کی پہچان ہو بھی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اجتہادی طور پر یہ لڑائیاں کی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے اجتہاد میں غلطی کرنے والے سے درگزر فرمایا ہے، بلکہ اسے ایک اجر ملنا بھی ثابت ہے اور جو شخص حق پر ہو گا، اسے دو اجر ملیں گے۔“ [فتح الباري : 34/13]

◈ علامہ، ابومحمد، محمود بن احمد، عینی، حنفی (762- 855ھ ) فرماتے ہیں :
والحق الذى عليه أهل السنة الإمساك عما شجر بين الصحابة، وحسن الظن بهم، والتأويل لهم، وأنهم مجتهدون متأولون، لم يقصدوا معصية ولا محض الدنيا، فمنهم المخطئ فى اجتهاده والمصيب، وقد رفع الله الحرج عن المجتهد المخطئ فى الفروع، وضعف أجر المصيب
’’ برحق نظریہ جس پر اہل سنت والجماعت قائم ہیں، وہ یہ ہے کہ صحابہ کرام کے مابین ہونے والے اختلافات کے بارے میں خاموشی اختیار کی جائے، ان کے بارے میں حسن ظن سے کام لیا جائے، ان کے لیے تاویل کی جائے اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ مجتہد تھے اور ان سب کے پیش نظر دلائل تھے، ان اختلافات میں سے کسی صحابی نے بھی کسی گناہ یا دنیاوی متاع کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ اجتہاد میں بعض کو غلطی لگی اور بعض درستی کو پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے فروعی معاملات میں اجتہادی غلطی کرنے والے کو گناہ گار قرار نہیں دیا (بلکہ ایک اجر کا حق دار ٹھہرایا ہے )، جبکہ درستی کو پہنچنے والے کا اجر دو گناکر دیا گیا ہے۔“ [عمدة القاري : 212/1]

◈ قاضی، ابوالفضل، عیاض بن موسیٰ، یحصبی (476- 544ھ) فرماتے ہیں :
ومن توقيره وبره صلى الله عليه وسلم توقير أصحابه وبرهم، ومعرفة حقهم، والاقتدائ بهم، وحسن الثناء عليهم، والاستغفار لهم، والإمساك عما شجر بينهم، ومعاداة من عاداهم، والإضراب عن أخبار المؤرخين، وجهلة الرواة، وضلال الشيعة والمبتدعين القادحة فى أحد منهم، وأن يلتمس لهم فيما نقل عنهم من مثل ذٰلك فيما كان بينهم من الفتن أحسن التأويلات، ويخرج لهم أصوب المخارج، إذ هم أهل ذٰلك، ولا يذكر أحد منهم بسوئ، ولا يغمص عليه أمر، بل تذكر حسناتهم وفضائلهم وحميد سيرهم، ويسكت عما ورائ ذٰلك
’’ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و تکریم کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کی عزت و تکریم کی جائے، ان کا حق پہچانا جائے، ان کی اقتدا کی جائے، ان کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے، ان کے لیے استغفار کیا جائے، ان کے مابین ہونے والے اختلافات میں اپنی زبان بند رکھی جائے، ان کے دشمنوں سے عداوت رکھی جائے، ان کے خلاف مؤرّخین کی (بے سند) خبروں، مجہول راویوں کی بیان کردہ روایات، گمراہ شیعوں اور بدعتی لوگوں کی پھیلائی ہوئی من گھڑت کہانیوں کو نظر انداز کیا جائے، جن سے ان کی شان میں کمی ہوتی ہو۔ ان کے مابین فتنوں پر مبنی جو اختلافات ہوئے ہیں، ان کو اچھے معنوں پر محمول کیا جائے اور ان کے لیے بہتر عذر تلاش کیے جائیں، کیونکہ وہ لوگ اسی کے اہل ہیں۔ ان میں سے کسی کا بھی برا تذکرہ نہ کیا جائے، نہ ان پر کوئی الزام دھرا جائے، بلکہ صرف ان کی نیکیاں، فضائل اور ان کی سیرت کے محاسن بیان کیے جائیں۔ اس سے ہٹ کر جو باتیں ہوں، ان سے اپنی زبان کو بند رکھا جائے۔“ [الشفا بتعريف حقوق المصطفٰي : 612,611/2]

↰ ہم نے علمائے سلف کی نصائح پر مبنی یہ چند صفحات عام مسلمانوں کی خیرخواہی کے نظریے سے تحریر کیے ہیں، کیونکہ بعض لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی صحابہ کرام کو انہی مشاجرات کی بنا پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور لوگوں کو بھی ان سے بدظن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہا، وغیرہ۔
حالانکہ یہ صحابہ کرام کا باہمی معاملہ تھا، جس کو اللہ رب العالمین نے معاف فرما دیا ہے اور ان سے راضی ہو گیا ہے۔ ائمہ اہل سنت نے مشاجرات صحابہ کے حوالے سے روایات تو اپنی کتابوں میں درج کی ہیں، لیکن ان کی بنا پر کسی بھی صحابی پر طعن و تنقید نہیں کی۔ سلف صالحین ہی قرآن و سنت کی نصوص اور صحابہ کرام کے معاملے کو بہتر طور پر سمجھتے تھے۔
بتقاضائے بشریت صحابہ کرام سے ایسی باتوں کا صدور باعث ملامت نہیں، جیسا کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا :
يا أمير المؤمنين، اقض بيني وبين هٰذا الكاذب، الآثم، الغادر، الخائن
’’ اے امیرالمومنین ! میرے اور اس جھوٹے، سیاہ کار، دھوکہ باز اور خائن کے مابین فیصلہ صادر فرما دیں۔“ [صحيح مسلم : 1757، صحيح البخاري : 3094، مختصرا]
کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ان الفاظ کی بنا پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی وہی معاملہ کرناجائز ہے جو معاملہ بعض لوگ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کرتے ہیں ؟ حق یہ ہے کہ صحابہ کرام معصوم عن الخطا نہیں تھے، لیکن ہم مشاجرات صحابہ میں سلف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں تمام اصحاب رسول کی محبت پر زندہ رکھے اور اسی پر ہمارا خاتمہ فرمائے۔

 

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.