مسافتِ نمازِ قصر اور مدتِ قصر

 از    February 6, 2015

سوال:      کیا ۱۲ (بارہ) میل سفر کی نیت سے گھر سے نکلا جائے تو نماز قصر کرسکتا ہے ؟ نیز اگر کسی جگہ پر قیام کی نیت چار دن سے زیادہ ہو تو نماز کو پورا پڑھنا چاہیے یا قصر کرنا چاہئے؟                                                (ایک سائل)

الجواب:   صحیح مسلم میں ہے کہ

عن یحیی بن یزید الھنائي قال: سألت أنس بن مالک عن قصر الصلوٰۃ؟ فقال: کان رسول اللہ ﷺ إذا خرج مسیرۃ ثلاثۃ أمیال أو ثلاثۃ فراسخ۔ شعبۃ الشاک۔ صلّی رکعتینیحییٰ بن یزید الہنائی سے روایت ہے کہ میں نے انس بن مالک سے نماز قصر کے بار ےمیں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جب تین میل یا تین فرسخ(نو میل) کے لئے نکلتے تھے تو دو رکعتیں پڑھتے ۔ تین میل یا تین فرسخ کے بارے میں شعبہ کو شک ہے ۔ (ح ۶۹۱)

                شک کو دور کرتے ہوئے نو میل کو اختیار کریں جو کہ عام گیارہ میل کے برابر ہے تو ثابت ہوتا ہے کہ کم از کم گیارہ میل کے سفر پر قصر کرنا جائز ہے ۔

                اگر کسی شخص کی نیت چار دن سے زیادہ ہو تو بھی قصر پڑھے گا تاہم روایت ابن عباس کی رو سے اگر اس کا ارادہ بیس دن یا اس سے زیادہ  کے قیام کا ہو تو اسے پوری نماز پڑھنی چاہیے ۔ صحیح البخاری میں ہے کہ

عن ابن عباس قال: أقام النبي ﷺ تسعۃ عشر یقصر فنحن إذا سا فرنا تسعۃ عشر قصرنا و إن زدنا أتممنا                ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے (ایک جگہ) انیس دن قیام کیا ۔ آپ قصر کرتے رہے ۔ پس ہم جب انیس دن (قیام) کا سفر کرتے تو قصر کرتے اور اگر اس سے زیادہ (قیام) کرتے تو پوری (نماز ) پڑھتے۔ (ح ۱۰۸۰)

اس کے مقابلے میں تین یا چار دن کی کوئی صریح دلیل نہیں  ہے۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.