مسئلہ تراویح کے ایک اشتہار پر نظر

 از    June 20, 2014

حال ہی میں  حنفی تقلیدیوں کی جانب سے ایک اشتہار شائع کیا گیا جس میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ مسنون تراویح بیس ہیں اس گمراہ کن اشتہار کامختصر جواب انصاف پسند قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے ۔ بیس رکعات کی سنت کا دعویٰ کرنے والے کی بات “قولہ” سے شروع 
کرکے اس کا جواب لکھا گیا ہے۔
قولہ : “حدیث نمبر ۱: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بے شک رسول کریم ﷺ رمضان میں بیس رکعات (تراویح ) اور وتر پڑھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ :۳۹۳/۲)
جواب:  یہ حدیث موضوع من گھڑت ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہ (۳۹۴/۲) میں یہ روایت “ابراہیم بن عثمان عن الحکم عن مقسم عن ابن عباس ” کی سند کے ساتھ ہے، اس کے راوی ابراہیم کے بارے میں علامہ زیلعی حنفی (متوفی ۷۶۲؁ھ) فرماتے ہیں :
“قال أحمد منکر الحدیث” امام احمد نے کہا : یہ منکر احادیث بیان کرتا تھا   (نصب الرایہ : ۵۳/۱)
علامہ زیلعی حنفی رحمہ اللہ نے نصب الرایہ :۶۶/۲ پر اسکی ایک حدیث کو ضعیف کہا  اور ص۶۷ پر بیہقی سے یہ قول کہ “وھو ضعیف” (وہ  ضعیف ہے)نقل کیا ہے۔ اور ج ۲ ص ۱۵۳ پر ابوالفتح سلیم بن ایوب الرازی الفقیہ سے یہ قول نقل کیا ہے کہ “وھو متفق علی ضعفہ” ( اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے)
امام عینی ؒ فرماتے ہیں :کذبہ شعبۃ و ضعفہ أحمد وابن معین و البخاري و النسائي وغیرھم وأوردلہ ابن عدي ھذا الحدیث في الکامل في مناکیرہ”
اسے (ابراہیم بن عثمان) شعبہ نے کاذب (جھوٹا) کہا ہے اور احمد، ابن معین، بخاری اور نسائی وغیرہ نے ضعیف کہا ہے اور ابن عدی نے اپنی کتاب الکامل میں اس حدیث کو اس شخص کی منکر روایات میں ذکر کیا ہے ۔ (عمدۃ القاری : ۱۲۸/۱)
ابن ہمام حنفی نے فتح القدیر (۳۳۳/۱) اور عبدالحئی لکھنوی نے اپنے فتاوی (۳۵۴/۱) میں اس حدیث پر جرح کی ہے۔
جناب انور شاہ کشمیری دیوبندی ؒ اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں: وأما عشرون رکعہ فھو عنہ علیہ السلام بسند ضعیف وعلی ضعفہ اتفاق
اور جو بیس رکعات ہیں تو آپ ﷺ سے ضعیف سند کے ساتھ (مروی) ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔
(العرف الشذی: ۱۶۶/۱)
ان کے علاوہ اور بھی دیوبندی علماء نے اس حدیث اور اس کے راوی پر جرحیں کی ہیں، مثلاً دیکھئے جناب محمد زکریا کاندھلوی دیوبندی تبلیغی کی “اوجز المسالک (۳۹۷/۱) وغیرہ
ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان پر محدثین کی شدید جروح کے لئے دیکھئے میزان الاعتدال (۴۷،۴۸/۱) تہذیب التہذیب (۱۴۴،۱۴۵/۱) وغیرہما۔ علامہ سیوطی ؒ نے اس حدیث کے راوی پر شدید جرح کی اور کہا :”ھذا حدیث ضعیف جداً لا تقوم بن حجۃ” یعنی یہ حدیث بہت زیادہ ضعیف ہے اس سے حجت قائم نہیں ہوتی۔ (الحاوی :۳۴۷/۱)
لہذا اسے کوئی تلقی بالقبول حاصل نہیں ہے بلکہ بڑے بڑے علماء مثلاً حافظ ذہبی علامہ زیلعی ، علامہ عینی ، علامہ ابن ہمام رحمہم اللہ وغیرہم نے تو رد کردیا ہے یعنی اس روایت کو تلقی بالرد حاصل ہے ، لہذا اان پڑھ لوگوں کو دھوکا دینا انتہائی قابل مذمت ہے۔
قولہ :“حدیث ۲ : یحیی بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں کو بیس رکعات۔۔۔”
جواب :  یہ سند منقطع ہے۔
جناب نیموی(متوفی ۱۳۲۲؁ھ) لکھتے ہیں :قلت رجالہ ثقات لکن یحي بن سعید الأنصاري لم یدرک عمر
میں کہتا ہوں کہ اس کے راوی سچے ہیں لیکن یحیی بن سعید الانصاری نے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہیں پایا۔
(حاشیہ آثار السنن ص ۲۵۳ ح ۷۸۰)
ایسی منقطع اور بے سند روایات کو انتہائی اہم مسئلہ میں پیش کرنا آخر کون سے دین کی خدمت ہے ؟
قولہ : “حدیث ۳ : امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کو ۔۔۔ وہ انہیں بیس رکعات پڑھاتے تھے ۔(نسخہ ابوداؤد )”
جواب: یہ بات سفید جھوٹ ہے، ہمارے پاس سنن ابی داود کا جو نسخہ ہے اس میں یہ روایت بالکل نہیں ہے ، ہمارے نسخے (۱۳۶/۲) پر جوروایت ہے اس میں  

فکان یصلی لھم عشرین لیلۃ”یعنی : وہ انہیں بیس راتیں پڑھاتے تھے۔ الخ کے الفاظ ہیں۔

 امام بیہقی ؒ نے یہی حدیث امام داود سے نقل کی ہے اس میں بھی بیس راتیں کا لفظ ہے۔ (السنن الکبری ۴۹۸/۲) اسی طرح مشکوۃ المصابیح ، تحفہ الاشراف وغیرہما میں بھی یہی حدیث ابو داود سے بیس راتیں کے لفظ کے ساتھ منقول ہے۔ حافظ زیلعی حنفی نے نصب الرایہ (۱۲۶/۲) میں ابوداود سے یہی حدیث “عشرین لیلۃ” یعنی بیس راتیں کے لفظ کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے حوالے ہیں، انصاف پسند کے لئے یہی کافی ہے، اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے۔

قولہ  “حدیث ۴ : یزید بن رومانؒ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں رمضان میں ۲۳ رکعات پڑھتے تھے”
جواب : یہ روایت منقطع ہے جیسا کہ علامہ عینی ؒ نے عمدۃ القاری (۱۲۷/۱۱ طبع دار الفکر ) میں تصریح کی ہے۔
جناب نیموی ؒ نے کہا :یزید بن رومان لم یدرک عمر بن الخطابؓ
یزید بن رومان نے عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہیں پایا۔ (آثار السنن ، حاشیہ : ص ۲۵۳)
قولہ : “حدیث ۵ حضرت سائب بن یزید صحابی ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ اور عثمانؓ کے زمانہ میں لوگ رمضان میں ۲۰رکعات تراویح پڑھا کرتے تھے”
جواب: بیہقی (۴۹۶/۲) میں یہ الفاظ قطعاً نہیں ہے کہ لوگ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ میں بیس (۲۰) رکعات پڑھتے تھے، لہذا یہ کاتب اشتہار کا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر سفید جھوٹ ہے۔
دوسرے یہ کہ اس روایت کا ایک راوی علی بن الجعد تشیع کے ساتھ مجروح ہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی تنقیص کرتا تھا۔ (دیکھئے تہذیب التہذیب وغیرہ) اس کی روایات صحیح بخاری میں متابعات میں ہیں ، اور جمہور محدثین نے اس کی توثیق کی ہے لیکن ایسے مختلف فیہ راوی کی شاذ روایت مؤطا امام مالک کی صحیح روایت کے خلاف کیونکر پیش کی جاسکتی ہے ؟
قولہ : “حدیث ۶ : حضرت ابوعبدالرحمٰن اسلمی سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رمضان میں ۔۔۔ الخ”
جواب : یہ روایت سخت ضعیف ہے ۔
بیہقی (۴۹۶/۲) پر اس کا ایک راوی حماد بن شعیب ہے ، جسے امام ابن معین، امام نسائی ، امام ابوزعہ وغیرہم نے ضعیف کہا۔ امام بخاری نے کہا “منکر الحدیث ۔۔ ترکوا حدیثہ” کہا: دیکھئے لسان المیزان (۳۴۸/۲) اس پر نیموی دیوبندی کی جرح کے لئے دیکھئے حاشیہ آثار السنن ص ۲۵۴
اس کا دوسرا راوی عطاء بن السائب مختلط ہے، زیلعی حنفی نے کہا :

لکنہ اختلط بآخرہ و جمیع من روی عنہ في الاختلاط إلا شعبۃ وسفیان۔۔۔۔۔
لیکن وہ آخر میں اختلاط کا شکار ہوگیا تھا، اور تمام جنہوں نے اس سے روایت کی ہے اختلاط کے بعد کی ہے سوائے شعبہ اور سفیان کے۔ (نصب الرایہ :۵۸/۳)

لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے ضعیف ، منکر اور موضوع روایا ت چن چن کر اشتہار چھاپنا بہت ہی بری بات ہے ، آخر ایک دن ہم سب نے مرنا بھی تو ہے؟ تو اس دن کے لئے کیا جواب سوچ رکھا ہے ؟
قولہ :  “حدیث ۷: ابوالحسناء فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ۔۔۔”
جواب: یہ سند بھی ضعیف ہے ، ابوالحسنا ء مجہول ہے ۔ (تقریب التہذیب :۸۰۵۳، ص ۴۰۱ للحافظ ابن حجر )
حافظ ذہبی نے کہا : لایعرف ، یعنی وہ معروف نہیں ہے۔ (میزان الاعتدال : ۵۱۵/۴)
نیموی دیوبندی نے بھی کہا: وھو لا یعرف (حاشیہ آثار السنن : ۲۵۵)
قولہ : “حدیث ۸ : امام حسین ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے حکم دیا بیس رکعات پڑھاؤ۔۔۔۔ (مسند زید ص ۱۳۹)”
جواب : کاتب اشتہار کا زیدی شیعوں کی من گھڑت مسند زید سےحوالہ پیش کرنا انتہائی تعجب خیز ہے ، اس مسند کے راوی عمرو بن خالد الواسطی کو محدثین نے بالاتفاق کذاب اور جھوٹا قرار دیا ہے، امام احمد، امام ابن معین وغیرہم نے کہا : کذاب (تہذیب التہذیب وغیرہ ) وہ زید بن علی سے موضوع روایات بیان کرتا ہے ۔ (تہذیب ، میزان الاعتدال ۲۵۷/۳)
اس کا دوسرا راوی عبدالعزیز بن اسحاق بن البقال بھی غالی شیعہ اور ضعیف تھا (دیکھئے لسان المیزان :۲۵/۴ تاریخ بغداد :۴۵۸/۱) اس کتاب میں بہت سی موضوع روایات ہیں مثلاً دیکھئے مسند زید ص ۴۰۵ وغیرہ ۔
قولہ : “حدیث ۹: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیس تراویح پڑھاتے تھے ۔ (قیام اللیل ص ۹۱)”
جواب: یہ سند منقطع ہے۔
قیام اللیل  للمروزی کے ہمارے نسخے میں صفحہ ۲۰۰ پر یہ روایات بلا سند “اعمش” سے منقول ہے عمدۃ القاری :(۱۲۷/۱۱) پر “حفص بن غیاث عن الاعمش” کے ساتھ اس کی سند مذکور ہے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۳۲؁ھ یا ۳۳؁ھ میں مدینہ میں فوت ہوئے ، جناب اعمش ؒ ۶۱؁ھ میں پیدا ہوئے اور مشہور ثقہ مدلس تھے ، ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کی پیدائش سے بہت عرصہ پہلے فوت ہوگئے تھے ، لہذا اس قسم کی منقطع روایت ڈوبتے والے تنکوں کا سہارا لینے کے مترادف ہے، اس کی سند میں حفص بن غیاث بھی مدلس ہیں اور عن سے روایت کر رہے ہیں۔
قولہ : “حدیث ۱۰: عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو بیس رکعات تراویح اور تین وتر پڑھتے پایا۔ (ابن ابی شیبہ :۳۹۳/۲)” 
جواب: یہ نہ قرآن ہے اور نہ حدیث اور نہ اجماع اور نہ عمل خلفائے راشدین اور نہ عمل صحابہ ، دوسرے یہ کہ اس کا ترجمہ میں “ہی” کا لفظ غلط ہے، تیسرے یہ کہ نامعلوم لوگوں کا عمل کوئی شرعی حجت نہیں ہے ، چوتھے یہ کہ نامعلوم لوگوں کا عمل خلیفہ راشد کے حکم کے خلاف ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے ، پانچویں یہ کہ اہل مدینہ اکتالیس ۴۱ رکعات پڑھتے تھے (سنن ترمذی :۱۶۶/۱) کیاان کا یہ عمل شرعی حجت ہے ۔ اشتہار پر مختصرتبصرہ ختم ہوا، وما علینا إلا البلاغ 

موضوع سے متعلق
آٹھ رکعات نماز تراویح پر ناقابل تردیددلائل

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.