مروجہ جماعتوں اور بیعت کی حیثیت

 از    October 24, 2014

سوال:     اگر اسلامی مملکت کےقیام کے لئے کوئی جماعت بنتی ہے اور اس کے امیر کے ہاتھ پر تمام ممبران جماعت بیعت (بیعتِ ارشاد) کرتے ہیں تو اس کی کیا شرعی حیثیت ہوگی؟ (جائز، غلط، بدعت وغیرہ)؟ (عبدالمتین، ماڈل ٹاون ، لاہور)
الجواب از محترم زبیر علی زئی مرحوم (رحمہ  اللہ):
   اسلامی مملکت کے قیام کے لئے ذاتی، انفرادی اور جماعت سازی کے بغیر اجتماعی کوشش جاری رکھنی چاہیے اور سب سے پہلے اپنی اور اپنے متعلقین کی کتاب و سنت کے مطابق اصلاح کرنی چاہئے۔ موجودہ تمام جماعتیں باطل  اور “وَلَا تَفَرَّقُوْا“اور فرقے فرقے نہ بنو۔ (آلِ عمران : ۱۰۳) کے قرآنی حکم کے سراسر خلاف ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ پارٹیاں پارٹیاں ، فرقے ، فرقے اور گروہ گروہ نہ بنو۔ جب کہ جماعت پرست لوگ عملاً یہ کہتے ہیں کہ پارٹیاں بناؤ اور گروہ در گروہ میں بٹ جاؤ۔
جب تک روئے زمین کے تمام صحیح العقیدہ لوگ مل کر ایک ہی جماعت اور ایک ہی خلیفہ کے تحت نہ ہوجائیں ان تمام پارٹیوں میں شمولیت جائز نہیں ہے ۔ ان کی رکنیت، چندہ مہم اور حزبیت سے دور دور رہ کر ان سے معروف (نیکی) میں تعاون کیا جاسکتا ہے ، اسلام میں صرف  دو ہی بیعتیں ہیں :
          ۱:        نبی کی بیعت 
          ۲:        خلیفہ کی بیعت

ان کے علاوہ تیسری کسی بیعت کا دین اسلام میں کوئی نام و نشان نہیں ہے تفصیل کے لئے شیخ البانیؒ کے مشہور شاگرد شیخ علی حسن الحلبی کی کتاب البیعۃ بین السنۃ و البدعۃ عند الجماعات الإسلامیۃ کا مطالعہ انتہائی مفید ہے ۔

تنبیہ:    بیعت بھی صرف اس خلیفہ کی ہی کرنی چاہئے جس پر مسلمانوں کا اجماع ہو۔ جیسا کہ احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں ۔ دیکھئے المسند من مسائل الامام رحمہ اللہ (قلمی ۱، بحوالہ الامامۃ العظمیٰ عند اہل سنۃ و الجماعۃ ص ۲۱۷) و مسائل الامام احمد لابن ہانیء (۱۵۸/۲رقم: ۲۰۱۱) و السنہ للخلال (ص ۸۰، ۸۱ رقم : ۱۰ وھو صحیح عن احمد رحمہ اللہ )

شیخ علی حسن الحلبی فرماتے ہیں لا تکون البیعۃ إلا لأمیر المؤمنین فقط امیر المومنین کے علاوہ کسی دوسرے کی بیعت جائز نہیں ہے ۔ (البیعہ ص ۲۳)

علی حسن الحلبی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ:

لا تعطی البیعۃ علی أنواعھا إلا لخلیفۃ المسلمین المنفذ للأحکام، المطبق للحدود
بیعت اپنی تمام اقسام کے ساتھ صرف اسی کی کرنی چاہئے جو مسلمانوں کا خلیفہ ہو، جس نے احکام کو نافذ اور (اسلامی) حدود کو نافذ (لاگو) کر رکھا ہو۔ (البیعہ ص ۲۸)       وما علینا إلا البلاغ (۲۰ صفر ۱۴۲۷؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.