مرد کے لئے کانوں کو چھیدوا کر بالیاں وغیرہ ڈالنا شرعاً کیسا ہے

 از    October 5, 2015

سوال  :   مرد کے لئے کانوں کو چھیدوا کر بالیاں وغیرہ ڈالنا شرعاًً کیسا ہے؟

جواب:    بچے یا مرد کے لئے کانوں کو چھیدوانا اور ان میں بالیاں وغیرہ ڈالنا شرعاًً جا ئز نہیں ہے، کیونکہ یہ عورتوں کے ساتھ مشابہت ہے ، جو کہ حرام ہے۔

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

” بچے کے کان کو چھید کرانے میں نہ کوئی دنیاوی مصلحت ہے ، نہ ہی دینی۔ صرف اس کے اعضاء میں سے ایک عضو کو کاٹنا ہے ، جو کہ جائز نہیں۔ ”  (تحفۃ المو دود باحکام المولود : ١٤٣  )

ابن الخاس لکھتے ہیں :

  و ذلک بدعۃ یجب اِ نکارھا والمنع منھا 


بچے کے کان کو چھیدنا بدعت ہے ، اس کا انکار کرنا اور اس سے منع کرنا واجب ہے۔

فائدہ

سید نا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے ،جس میں بچے کے متعلق سات چیزوں کو سنت کہا گیا ہے،ان میں سے ایک اس کے کان کو چھیدوانا بھی ہے۔

(المعجم الاوسط للطبرانی : ١/١٧٦،ح: ٥٥٨ )

تبصرہ    

اس روایت کی سند ضعیف ہے، کیونکہ اس کا راوی رواد بن جراح اگرچہ جمہور کے نزدیک ” حسن الحدیث” ہے، لیکن آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس بنا پر ” متروک” قرار پایا۔

جیسا کہ اس بارے میں حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

صد وق  اختلظ بأخرۃ ، فترک ، و فی حدیثہ عن الثّوری ضعف شدید ۔ 

یہ صدوق راوی ہے لیکن آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس کی سفیان ثوری رحمہ اللہ سے حدیث میں سخت کمزوری ہے

( تقریب التھذیب لابن حجر : ١٩٥٨) 

القاسم  بن مساور الجوہری د ونوں کے بارے میں کسی نے ذ کر نہیں کیا  کہ انہوں نے رواد سے اختلاط سے پہلے سنا ہو، لہذا سند ” ضعیف ” ہے

ابو الحسن علی بن اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے باپ اسحق بن راہویہ رحمہ اللہ کے کان پیدائشی طور پر چھیدے ہوئے تھے تو دادا راہویہ ، الفضل بن موسی السیانی کے پاس گئے ، ان سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا، آپ کا بیٹا تو انتہائی اچھا انسان ہو گا یا انتہائی برا ہو گا۔

( تاریخ بغداد للخطیب البغدادی : ٦/ ٣٤٧،وسندہ حسن)

حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

ھذا اِسناد جیّد و حکایۃ عجیبہ ۔۔۔۔     

“اس کی سند حسن ہے اور یہ حکایت عجیب ہے۔

( سیر اعلام النبلاء للذھبی: ١١/٣٨٠)

حافظ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں :

گویا کہ امام الفضل بن موسی یوں سمجھے کہ جس طرح یہ بچہ اس خاصیت میں دوسروں سے منفرد ہے ،اسی طرح یہ د ین ،یا دنیا میں دوسروں سے منفر د ہو گا۔”

(تحفۃ المودود : ١٤٣ )

امام اسحاق بن راہویہ المروزی رحمہ اللہ ( ١٦١/ ٢٣٨ھ ) کے بارے میں امام خطیب بغدای رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

      کان أحد أئمۃ المسلمین و عَلَماًً من اعلام الد ّین،اجتمع لہ الحدیث، والفقہ ،والحفظ ، والصّدق ،و لورع ، والزّھد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

     ” آپ مسلمانوں کے اماموں میں سے ایک امام ہیں ۔ ان کے پاس حدیث، فقہ، حفظ،صدق، ورع، اور زہد سب کچھ جمع ہو گیا” تھا۔۔۔۔۔۔۔

(تاریخ بغداد للخطیب : ٦/ ٣٤٥ )

آپ رحمہ اللہ نے بلاد خراسان میں جہمیوں اور دیگر اہل بدعت کا خوب ردّ کیا، سنت کی بالا دستی اور صحیح اسلامی عقائد کی نشر و اشاعت میں بھر پور کردار ادا کیا۔

           فائدہ:

بچی یا عورت کے لئے کانوں میں چھید کروانا جائز اور درست ہے ،کیونکہ عورت زینت کے لئے زیور کی محتاج ہے،اس کے جواب پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  کی حدیث ام زرع  دلیل ہے۔ اس میں ہے کہ گیارویں عورت نے اپنے خاوند کے بارے میں کہا

   أناس من حلّی أذنی۔ 

  ” اس نے زیورات سے میرے کان لچکا دیئے۔”

       (صحیح بخاری : ٢/ ٧٨٠/٥١٨٩،صحیح مسلم : ٢/٢٨٨، ٢٤٤٨/٩٢)

سید نا ابنِ عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلّم نے نماز عید کے بعد عورتوں کو صد قہ کی ترغیب دلائی تو

         فجعلت المرأۃ تلقی قرطھا۔ 

”   عورت اپنی بالیاں اتارنے لگی”

 (صحیح بخاری : ٢/٨٤٣،ح: ٥٨٧٣،صحیح مسلم : ١/٢٩٠،ح ٨٩٠  )

محمد بن محمود السروشنی (الحنفی م ٦٣٢ھ ) لکھتے ہیں :

  ولا بأس بثقف أذن الطّفل من البنات ، لأنّھم یفعلون ذلک زمن النّبیّ صلی اللہ علیہ وسلّم من غیر انکار ۔۔۔۔۔۔۔

بچیوں کے کانوں کو چھید وانے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ لوگ عہد نبوی میں بغیر انکار کے ایسا کرتے تھے  

  (جامع احکام الصغار ٢/١٢٢ )

               الحاصل :

مرد کے لئے کانوں کو چھید وانا  اور ان میں بالیاں وغیرہ ڈالنا قطعاًً جائز نہیں ہے بلکہ عورتوں کی مشابہت کی بنا پر حرام ہے۔ افسوس ہے مسلمان نوجوان کافروں کی نقالی میں شریعت مطہرہ کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے ہیں۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.