محمد اسحاق صاحب جہال والا : اپنے خطبات کی روشنی میں

 از    February 22, 2015

تحریر:حافظ زبیر علی زئی
الحمد للّٰہ رب العالمین و الصلوٰۃ و السلام علیٰ رسولہ الأمین، أما بعد:
                محمداسحاق جہال والا بن  منشی بن رانجھا ۱۹۳۵؁ھ میں چک جھمرہ ضلع فیصل آباد میں پیدا ہوئے ۔اپنے معتقدین کی نظر میں وہ “مفتی ، شیخ الحدیث” اور “محقق العصر” ہیں۔ میاں محمد یٰسین عمر نے ان کے خطبات دو جلدوں میں ترتیب، تحقیق اور نظرثانی کرکے احاطہ تحریر کئے  جو خطباتِ اسحاق (فتاویٰ آن لائن والے) کے نام سے تکبیر اکیڈمی فیصل آباد سے شائع ہوئے ہیں۔ میاں محمد  یٰسین صاحب لکھتے ہیں:
                “مولانا (حفظہ اللہ) چونکہ بنیادی طور پر محقق ہیں” (خطباتِ اسحاق، عرضِ مرتب ج ۱ ص ۶)
میاں صاحب مزید لکھتے ہیں کہ
                “دوسری بات یہ کہ مولانا (حفظہ اللہ) حدیثِ رسول کے بارے میں بہت محتاط ہیں کیونکہ حدیث رسول کا مقام بہت نازک اور اہم ہے اس سے حلال چیز حرام اور حرام چیز حلال ہوسکتی ہے ، وہ ایسے لوگوں کی بہت گرفت کرتے ہیں جو موضوع اور کمزور روایتوں سے استدلال کرتے ہیں ایسے لوگوں نے دین کوبہت نقصان پہنچایا ہے ”                (عرضِ مرتب، خطباتِ اسحاق ج ۱ ص ۸)
محمد رمضان یوسف صاحب لکھتے ہیں:
                “مولانا محمد اسحاق صاحب (حفظہ اللہ) جہاں پلند پایہ محقق اور فصیح اللسان خطیب ہیں وہیں وہ اچھے مناظر اور متکلم بھی ہیں گفتگو کا سلیقہ خوب جانتے ہیں، حدیث اور رجال  پر نظر گہری ہے ۔” (محقق العصر مولانا محمد اسحاق کا مختصر تعارف، خطباتِ اسحاق ج ۱ ص ۱۶)
رمضان صاحب مزید لکھتے ہیں:
                “مولانا محمد اسحاق صاحب (حفظہ اللہ) خالص علمی و تحقیقی آدمی ہیں ہمہ وقت پڑھتے رہتے ہیں تصنیف کی طرف زیادہ توجہ نہیں دے سکے ”  (خطباتِ اسحاق ج ۱ ص ۱۸)
جناب رمضان صاحب لکھتے ہیں:
                “مولانا اسحاق صاحب بڑے ذی علم اور نکتہ دان عالمِ دین ہیں ان کے خطبات میں علمی شان اور مستند مواد پایا جاتا ہے خواندگان ذی احترام کی خدمت میں مولانا صاحب کے خطبات کا مجموعہ پیش کیا جارہا ہے اس میں سیرت النبی ﷺ پر مشتمل خطبات احاطہ تحریر میں لائے گئے ہیں یہ خطبات مستند معلومات اور صحیح روایات کے تناظر میں پیش کئے گئے ہیں”       (خطباتِ اسحاق ج ۱ ص ۱۸،۱۹)
اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ راقم الحروف نے “اسحاق جہال والا” صاحب کے خطبات کی دونوں جلدوں کا سرسری (بغیر استیعاب کے) مطالعہ کیا اور ان کے خطبات کو درج ذیل باتوں پر مشتمل پایا ہے :
۱:             ضعیف و مردود روایات                               ۲:            بےسند و بے اصل آثار و اقوال
۳:            جہالتیں                                                     ۴:            عجیب و غریب قصے
۵:            خوابوں کی دنیا
                اس مختصر مضمون میں ان پانچ اقسام کے بعض حوالے و دلائل پیشِ خدمت ہیں تاکہ عام مسلمانوں کے سامنے  اس “محقق العصر” کا صحیح علمی مقام و مرتبہ متعین ہوجائے۔
۱۔        ضعیف و مردود روایات
                اگرچہ پروپیگنڈا یہ کیاجاتاہے کہ محمد اسحاق جہال والا صاحب کے خطبات میں صحیح و مستند روایات ہیں لیکن اس کے برعکس ان خطبات میں ضعیف و مردود روایات کثرت سے ملتی ہیں ، جن کی دس مثالیں درج ذیل ہیں:
۱۔            اسحاق صاحب فرماتے ہیں:
                “اس سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک دعا کی تعلیم دی ہے د عا کے الفاظ یہ ہیں:
((اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ سَرِیْرَتِيْ خَیْرًا مِنْ عَلَانِیَتِیْ وَاجْعَلْ عَلَانِیَتِيْ صَالِحَۃً اَللّٰھُمَّ اِنِّيْ اَسْأَلُکَ مِنْ صَالِحٍ مَاتُؤْتِی النَّاسَ مِنَ الْاَھْلِ وَالْمَالِ وَالْوَلْدِ غَیْرَ الضَّالِ وَلَا الْمُضِلِّ)) اے اللہ ! میرے باطن کو ظاہر سے بہتربنا اس کیساتھ میرے ظاہر کو بھی درست کردے ۔ اے اللہ ! مجھے کنبہ ، اولاد اور مال جو بھی اچھی چیزیں تو لوگوں کو دیتا ہے مجھے بھی عطا فرما: اس کیساتھ ہی میں پناہ مانگتا ہوں کہ یہ چیزیں نہ تو مجھے گمراہ کریں نہ خود گمراہ ہوں۔”        (خطباتِ اسحاق ج ۱ ص ۱۴۶)
تبصرہ:       یہ روایت سنن الترمذی (۳۵۸۶ وقال: ھٰذا حدیث غریب….ولیس إسنادہ بالقوی) مشکوٰۃ المصابیح (بتحقیق الالبانی : ۲۵۰۴) و تنقیح الرواۃ (ج ۱ ص ۱۰۹) و حلیۃ الاولیاء (۵۳/۱) میں موجود ہے ۔
                اس روایت پر امام ترمذی اور صاحب تنقیح الرواۃ دونوں نے جرح کر رکھی ہے ۔ اس کا راوی ابوشیبہ عبدالرحمٰن بن اسحاق الکوفی الواسطی مشہور ضعیف راوی ہے جس پر جمہور محدثین نے جرح کر رکھی ہے ۔ حافظ ابن حجر نے کہا : “ضعیف ” (تقریب التہذیب: ۳۷۹۹)
                ابوشیبہ مذکور پر محدثین کرام کی شدید جروح کے لئے دیکھئے میری کتاب “نماز میں ہاتھ باندھنے کا حکم اور مقام” (ص۱۰) تحفۃ الاقویاء (۲۰۳)
شیخ البانی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے ۔ (سنن الترمذی بتحقیق الالبانی ص ۸۱۵)
۲:            اسحاق صاحب فرماتے ہیں:
                “ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا آپ ﷺ کا طریقہ تھا کہ آنے والے لوگوں سے ایام کفر کے حالات پوچھتے تھے ۔ اس شخص نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا میرا گناہ بھی معاف ہوسکتا ہے ؟ آپﷺ نے پوچھا : کہ بتا کہ تجھ سے کیا گناہ ہوا ہے ؟ تو اس شخص نے کہا :کہ میری بہت سی بیٹیاں پیدا ہوئیں میں انہیں زندہ درگور کرتا رہا ۔ میں سفر میں گیا تو پیچھے ایک بیٹی پیدا ہوئی میں واپس آیا تو وہ ذرا بڑی ہوگئی تھی ۔ میری بیوی کو وہ بہت پیاری تھی وہ اس کو مارنا چاہتا تھا مگر میری بیوی اس میں رکاوٹ بن گئی ۔ وہ بڑی ہوتی گئی میری عداوت بھی بڑھتی گئی ۔
                ایک دن میں نے اپنی بیوی سے کہا : کہ اس کو تیار کر دو ! میں اسے اس کے ننھیال سے ملوا لاؤں! میری بیوی کو مجھ سے خطرہ تھا اسلئے چلتے وقت اس نے مجھ سے کہا  کہ میں تجھے اللہ کا خوف دلاتی ہوں کہ اس کو نقصان نہ پہنچانا ۔ میں نے اس کے ساتھ عہد کرلیا اور بچی کو لے کر جنگل میں چلا گیا۔ وہاں ایک اندھا کنواں تھا میں اسے اس کے کنارے لے گیا جب اس کو پھینکنے لگا تو اس نے بہت منت سماجت کی وہ کہتی رہی : ہائے ابا ! ہائے ابا ! وہ آوازیں آج تک میرے کانوں میں گونج رہی ہیں مگر میں اس قدر سنگدل ہوگیا تھا کہ اس پر رحم نہیں آیا اور اسے کنویں میں پھینک دیا۔
                رسول اللہ ﷺ اس واقعہ کو سن کر بہت روئے ! صحابہ کرامؓ بھی روئے ! اس آدمی نے یہ واقعہ سنانے کے بعد پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ! کیا میرا رب مجھے بھی معاف کردے گا ! تو آپﷺ نے فرمایا کہ ہا ں! تیرا رب بہت غفور ورحیم ہے ۔ وہ سچی توبہ پر سب گناہوں کو معاف کردیتا ہے ۔”    (خطبات اسحاق ج ۱ ص ۲۰۹، ۲۱۰)
تبصرہ:       یہ روایت سنن الدارمی (ح ۲) میں وضین بن عطاء (تبع تابعی) سے مذکور ہے ۔ وضین نے اس کی کوئی سند بیان نہیں کی لہٰذا یہ روایت سخت منقطع (معضل) ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود  ہے۔
خطباتِ اسحاق کے حاشیے میں اس روایت کے تحت تفہیم القرآن (۲۶۵/۶) کا حوالہ عجیب و غریب ہے کیونکہ عام لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ تفہیم القرآن حدیث کی کتاب نہیں ہے ۔ تفہیم القرآن میں ایک اور قصہ فرزدق شاعر کے دادا صعصعہ بن ناجیہ سے بحوالہ طبرانی مذکور ہے ۔ (ج ۲ ص ۲۶۶)
                یہ قصہ طبرانی کی المعجم الکبیر ص(۹۱/۸ ، ۹۲ ح ۷۴۱۲) بخاری کی التاریخ الکبیر (۳۱۹/۴ مختصراً) حاکم کی المستدرک (۶۱۰/۳، ۶۱۱ ح ۶۵۶۲) عقیلی کی الضعفاء (۲۲۸/۲۱ ، ۲۲۹)  وغیرہ میں”العلاء بن الفضل بن عبدالملک عن عباد بن کسیب عن طفیل بن عمرو عن صعصعۃ بن ناجیۃ” کی سند سے مروی ہے ۔
اس سند کا پہلا راوی العلاء بن الفضل ضعیف ہے ۔ (تقریب التہذیب : ۵۲۵۲)

                دوسرا راوی عباد بن کسیب مجہول الحال ہے۔ ابن حبان کے علاوہ کسی نے اس کی توثیق نہیں کی اور بخاریؒ نے کہا : “لا یصح” اس کی حدیث صحیح نہیں ہے۔                 (التاریخ الکبیر ۴۰/۶)

                اس کاتیسرا راوی طفیل بن عمرو بھی مجہول الحال یا ضعیف ہے ۔ ابن حبان کے سوا کسی نے اس کی توثیق نہیں کی اور بخاریؒ نے فرمایا: “لم یصح حدیثہ” اس کی حدیث صحیح نہیں ہے ۔  (التاریخ الکبیر ۳۶۴/۴)

عقیلی نے اسے کتاب الضعفاء میں ذکر کیا ہے ۔ (۲۲۸/۲)
معلوم ہوا کہ یہ سند سخت ضعیف و مردود ہے ۔
۳:            اسحاق صاحب فرماتے ہیں:
                “رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ ایک آدمی بکری کو ذبح کرنے کے لئے ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹ رہا تھا تو فرمایا کہ اس کو مرنے سے پہلے کیوں موت دے رہے ہو ؟ فرمایا: کہ جانور کو ایک دوسرے کے سامنے ذبح نہ کرو اور اس سے پہلے پانی پلاؤ۔”        (خطباتِ اسحاق ج ۱ ص ۳۹۰)
تبصرہ:       یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے تو نہیں ملی مگر محمد بن سیرین کی سند سے سیدنا عمرؓ سے موقوفاً مروی ہے۔
دیکھئے السنن الکبریٰ للبیہقی (۲۸۱/۹) و حاشیہ خطباتِ اسحاق (ص ۳۹۰ ج ۱)
                امام محمد بن سیرین سیدنا عمرؓ کی شہادت کے بعد سیدنا عثمانؓ کے دورِ خلافت میں پیدا ہوئے تھے ۔دیکھئے کتاب الثقات لابن حبان (۳۴۹/۵)
                لہٰذا یہ موقوف روایت بھی منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ مرفوع کا تو مجھے نام و نشان نہیں ملا۔ واللہ أعلم
۴:            اسحاق صاحب کہتے ہیں:
                “رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کہ جو شخص نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائیوں سے روکتاہے وہ زمین پر اللہ تعالیٰ کا نائب ہوتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کا نائب ہوتا ہے اور کتاب اللہ کا نائب ہوتا ہے ۔ ” (خطباتِ اسحاق ج ۱ ص ۳۰۵)
تبصرہ:       یہ روایت مجمع الزوائد میں تو نہیں ملی لیکن کامل ابن عدی (۲۱۰۴/۶ دوسرا نسخہ ۲۳۰/۷) اور میزان الاعتدال (۴۰۰/۳ ت ۶۹۲۷) میں ضرور موجود ہے ۔
                اس سند میں مسلم بن جابر الصدفی کے حالات مجھے نہیں ملے۔ عبداللہ بن لہیعہ تدلیس اور اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ کادح بن رحمۃ الزاہد جمہور محدثین کے نزدیک مجروح ہے۔ دیکھئے لمجروحین لابن حبان (۲۲۹/۲) و میزان الاعتدال (۳۹۹/۳) ولسان المیزان (۴۸۰/۴، ۴۸۱)

                حسن بن حسین الانصاری، احمد بن یحییٰ الاودی اور محمد بن عبدالواحد الناقد کے حالات مطلوب ہیں۔ خلاصہ یہ کہ یہ سند سخت ضعیف و مردود ہے ۔

                الفردوس للدیلمی (۶۲۴۳) کے حاشیے میں ایسی روایت باطل سند کے ساتھ “بقیۃ عن عبداللہ بن نعیم عن سالم بن أبی الجعد عن ثوبان” کی سند سے مروی ہے ۔                (ج۴ ص ۲۳۶ مع الہامش)
                اس کی سند سے قطع نظر بقیہ صدوق، مدلس اور عبداللہ بن نعیم عابدلین الحدیث (التقریب : ۳۶۶۷) یعنی ضعیف ہے ۔ سالم بن ابی الجعد نے ثوبان سے کچھ نہیں سنا۔  دیکھئے المراسیل لابن ابی حاتم (ص ۸۰)
یہ سند بھی ظلمات، سخت ضعیف اور مردود ہے ۔
۵:            اسحاق صاحب فرماتے ہیں:
                “رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تمہیں رمضان المبارک کے انعامات کا علم ہوجائے تو تم یہ تمنا کرو کہ اللہ تعالیٰ سارے سال کو رمضان میں بدل دے ۔ ” (خطباتِ  اسحاق ج ۱ ص ۱۱۶)
تبصرہ:       یہ روایت جریر بن ایوب البجلی الخ کی سند سے درج ذیل کتابوں میں موجود ہے :
شعب الایمان للبیہقی (۳۶۳۴) صحیح ابن خزیمہ (۱۸۸۶، اسے ابن خزیمہ نے صحیح نہیں کہا بلکہ جرح کی ) مسند ابی یعلیٰ (۱۸۰/۹ ح ۵۲۷۳) الموضوعات لابن الجوزی (۱۸۹/۲ ح ۱۱۱۹) الامالی للشجری (۲۹۱/۱، ۲۴/۲ من طریق ابی الشیخ)
سیوطی نے درمنثور میں اسے نوادر الاصول للحکیم الترمذی، الثواب لابی الشیخ، ابن مردویہ اور الترغیب للاصبہانی کی طرف (سیدنا) ابومسعود الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سند سے منسوب کیا ہے ۔  (۱۸۶/۱)
اس کا راوی جریر بن ایوب سخت مجروح راوی ہے ۔دیکھئے لسان المیزان (۱۰۱/۲)
امام بخاریؒ نے کہا : “منکر الحدیث ” (کتاب الضعفاء : ۵۰)
امام نسائیؒ: “متروک الحدیث ” (کتاب الضعفاء : ۱۰۲)
                اس شدید ضعیف راوی کی اس روایت کو ابن الجوزی اور البانی نے موضوع کہا ہے۔
دیکھئے الموضوعات (۱۸۹/۲) وضعیف الترغیب و الترہیب (۳۰۳/۱)
سیوطی نے اللآلی المصنوعہ (۱۰۰/۲) میں اس روایت کا ایک شاہد پیش کیا ہے  جس کاراوی ہیاج بن بسطام ضعیف  اور باقی بہت سے راوی نامعلوم ہے ۔
ایسی ضعیف و مردود روایت کو اسحاق صاحب بطورِ جزم سیدنا رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کررہے ہیں۔
۶:            اسحاق صاحب کہتے ہیں:
                “ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے کعب احبارؓ سے پوچھا علماء کس وجہ سے لوگوں کی غلط رہنمائی کرتے ہیں انہوں نے جواب دیا؛ طمع کی وجہ سے ۔ ”                (خطباتِ اسحاق ۸۰/۲)
تبصرہ:       یہ روایت مشکوٰۃ میں بحوالہ دارمی (۱۴۴/۱ ح ۵۹۰) مذکور ہے۔ (المشکوٰۃ : ۲۶۶و تنقیح الرواۃ ۵۶/۱)
اس روایت کے راوی امام سفیان ثوری کی پیدائش سے بہت عرصہ پہلے سیدنا عمرؓشہید ہوگئے تھے لہٰذا یہ روایت سخت منقطع و معضل ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے ۔سنن الدارمی (۵۸۱) میں ایک دوسری روایت میں سیدنا عمرؓ اور سیدنا عبداللہ بن سلامؓ کا قصہ بیان کیا گیا ہے  ۔ یہ روایت بھی سخت منقطع و معضل ہونے کیوجہ سے ضعیف و مردود ہے اس کے راوی عبید اللہ بن عمر کی ولادت سے پہلے سیدنا عمر ؓ شہید ہوگئے تھے۔
۷:            اسحاق صاحب کہتے ہیں:
                “رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: آسمان پر مجھے جتنے فرشتے بھی ملے وہ مسکرا کر ملے مگر جب جہنم کے داروغہ سے ملے تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی ۔ آپ ﷺ نے جبریل سے اس کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ جب سے یہ پیدا کیا گیا اس کے چہرے پر کبھی مسکراہٹ نہیں آئی اللہ تعالیٰ نے اسے سخت طبع بنایا ہے کہ اس کے دل میں کسی کے لئے رحم نہیں آتا ۔ ” (خطباتِ اسحاق ۱۱۲/۲)
تبصرہ:       یہ روایت سیوطی کی کتاب الخصائص الکبریٰ (۱۵۵/۱) میں بحوالہ ابن ابی حاتم مذکور ہے ۔ ابن ابی حاتم کی سند تفسیر ابن کثیر (۸۸/۴ ح ۴۱۴۷ سورۂ بنی اسرائیل آیت نمبر :۱) میں موجود ہے  ۔

                اس کا راوی خالد بن یزید بن ابی مالک جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے  ۔حافظ ابن حجر نے کہا : “ضعیف مع کونہ فقیھاًوقد اتھمہ ابن معین” وہ فقیہ ہونے کے ساتھ ضعیف تھا اور ابن معین نے اسے متہم قرار دیا ہے ۔ (تقریب التہذیب: ۱۶۸۸)

یحییٰ بن معین نے کہا : : “لیس بشئ ” (التاریخ، روایۃ عباس الدوری: ۵۱۰۱)
اس روایت کے بارے میں حافظ ابن کثیر نے کہا : “ھٰذا سیاق فیہ غرائب عجیبۃ” اس سیاق میں عجیب غرائب ہیں۔ (تفسیر ابن کثیر  ۹۰/۴)
خلاصہ یہ کہ یہ روایت ضعیف و مردود ہے ۔
۸:            اسحاق صاحب کہتے ہیں:
                “ایک اور آدمی جو رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا مسلمان ہوا آپ سے کئی مسائل پوچھے اس کانام عینیہ بن حصن تھا بعد میں یہ مرتد ہوگیا ۔حضرت ابوبکر الصدیقؓ  کے دورِ خلافت میں یہ گرفتار ہو اتو  انہوں نے اسے مدینہ کے بچوں کے حوالے کردیا بچے اسے آگے آگے دوڑاتے  اس پر پتھر پھینکتے آوازیں کستے کہ تو مسلمان ہونے کے بعد مرتد کیوں ہوا تو وہ جواب دیتا کہ میں نے کلمہ پڑھا ہی کب تھا ۔”      (خطباتِ اسحاق ج ۲ ص ۱۴۵)
تبصرہ:       خطباتِ اسحاق کے حاشیے میں اس کا حوالہ حافظ ابن حجر کی کتاب الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ (۵۵/۳) سے پیش کیا گیا ہے ۔ الاصابہ میں اس قسم کا کوئی قصہ مذکور نہیں ہے ۔
تنبیہ:        الاصابہ وغیر ہ میں عینیہ بن حصن کے مرتد اور الاحمق المطاع ہونے کی جتنی روایات مذکور ہیں ان میں سے ایک بھی ثابت نہیں ہے۔ منقطع ، مدلس اور ضعیف روایات کو پیش کرنا مردود ہوتا ہے ۔
صحیح مسلم میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عینیہ بن حصنؓ کو (تالیفِ قلب کے لئے ) سو اونٹ عطا فرمائے تھے ۔ (ح ۱۰۶۰و ترقیم دارالسلام : ۲۴۴۳)
خلاصہ یہ کہ اسحاق جہال والا صاحب کا مذکورہ قصہ بے اصل اور باطل ہے ۔
۹:            اسحاق صاحب فرماتے ہیں:
                “خلیفہ نے اسی ہزار (80000) درہم ام المومنین حضرت عائشہؓ کی خدمت میں بھیجے ۔ آپ نے شام ہونے سے پہلے پہلے سب غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کردیئے۔ شام کے وقت نفلی روزہ افطار کرنے کے لئے خادمہ سے کچھ مانگا تو اس نے جواب دیا کہ اماں اگر دو درہم ہی بچا لیتیں تو افطاری کا بندوبست ہوجاتا ۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ نے جواب دیا: کوئی بات نہیں ! روزہ تو پانی کے ساتھ بھی افطار  ہوجائے گا وہ رقم مجھ سے زیادہ مستحق لوگوں تک پہنچ گئی ہے  ۔” (خطباتِ اسحاق ج ۲ ص ۴۰، ۴۱ بحوالہ تربیۃ الاولادغرس ااـصول النفسیۃ ج ۱ ص ۳۶۳ بحوالہ المستدرک للحاکم ۱۳/۴ ح ۵۷۴۵)
تبصرہ:       اس روایت کا راوی محمد بن یونس بن موسیٰ الکدیمی جمہور محدثین کے نزدیک مجروح راوی ہے ۔ حافظ ابن حبا ن نے کہا  :وہ ثقہ راویوں پر حدیثیں گھڑتا تھا ۔ (المجروحین ۳۱۳/۲)
امام قاسم بن زکریا المطرز نے کہا : میں قیامت کے دن اللہ کے سامنے گواہی دوں گا ، یہ (کدیمی) تیرے رسول اور علماء پر جھوٹ بولتا تھا۔  (سوالات السہمی للدارقطنی : ۷۴)
اسحاق جہال والا کو اس کذاب راوی کی روایت پیش کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے تھا۔ اس سند کا دوسرا راوی ہشام بن حسان مدلس ہے ۔ (طبقات المدلسین : ۳/۱۱۰)
اور روایت بشرطِ صحت معنعن ہے ۔
تنبیہ:        روایتِ مذکورہ میں خلیفہ کے بجائے (سیدنا) معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کا نام لکھا ہوا ہے جسے اسحاق صاحب نے چھپا لیا ہے ۔ اس روایت کا متن بھی مختلف ہے ۔

اس میں:”کوئی بات نہیں…. پہنچ گئی ہے ” والا متن بھی نہیں ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ متن اسحاق صاحب نے جوشِ خطابت میں خود بنا ڈالا ہے ۔ واللہ اعلم

۱۰:          اسحاق صاحب فرماتے ہیں:
                “حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو اتنی اونچی آواز میں روتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا جتنی اونچی آواز میں وہ حضرت حمزہ ؓ کی لاش کو دیکھ کر روئے ، دوسری طرف آپ اللہ کی رضا پر راضی تھے آپ کا دل مطمئن تھا کہ اللہ جو کرتا ہے وہ درست ہے۔”               (خطباتِ اسحاق ج ۱ ص ۳۳۷ بحوالہ الرحیق المختوم ، مجمع الزوائد ۱۲۱/۶۵ باب مقتل حمزہ، الطبرانی)
تبصرہ:       الرحیق المختوم ، اردو (ص ۳۸۲) میں یہ روایت بحوالہ مختصرہ السیرۃ للشیخ عبداللہ (ص ۲۵۵) مذکور ہے ۔ مختصرہ السیرۃ (ص ۲۵۵) میں یہ روایت بحوالہ ابن شاذان کے بغیر سند کے مذکور ہے  ۔
ابن شاذان کو ن ہے اور ابن شاذان سے سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ تک سند کہاں ہے ؟ اس کا کوئی اتا پتہ نہیں ہے۔
ذخائر العقبیٰ (۱۸۱/۱) میں لکھا ہوا ہے کہ “خرجہ ابن شاذان وقال: غریب”  اسے ابن شاذان نے روایت کیا ہے اور غریب قرار دیا ہے  ۔
معلوم ہوا کہ یہ غریب اور بے سند روایت ہے جسے اسحاق صاحب لوگوں کے سامنے بطورِ حجت پیش کررہے ہیں۔
گزارش:    میاں محمد یٰسین صاحب نے لکھا تھا کہ اسحاق صاحب “ایسے لوگوں کی بہت گرفت کرتے ہیں جو موضوع اورکمزور روایتوں سے استدلال کرتے ہیں ایسے لوگوں نے دین کو بہت نقصان پہنچایا ہے ” تو عرض ہے کہ اسحاق صاحب سے فرمائیے کہ اپنی گرفت بھی کریں اور دین کو نقصان نہ پہنچائیں! فافھم و تدبر
۲:        بے سند و بے اصل آثار و اقوال
اس سلسلے کے تین بے سند و بے اصل آثار و اقوال پیشِ خدمت ہیں جنہیں اسحاق صاحب نے بطورِ جزم بیان فرمایا ہے:
۱:             اسحاق صاحب فرماتے ہیں:

                “امام جعفر صادق فرماتے ہیں:      سب سے افضل عبادت اللہ تعالیٰ کے بارے میں غورو فکر کرنا ہے  ”   (خطباتِ اسحاق ج ۱ ص ۲۳)

          امام جعفر صادقؒ نے یہ قول کہاں فرمایا ہے ؟ اس کا کوئی حوالہ اسحاق صاحب نے نہیں بتایا اور ظاہر ہے کہ بے سند و بے حوالہ بات مردود ہوتی ہے ۔

۲:            اسحاق صاحب کہتے ہیں:
                “حضرت عمر ؓ  شام گئے راستے میں وہ اپنے ساتھیوں سے الگ ہوکر ایک طرف نکل گئے وہاں دیکھا کہ ایک جھونپڑے میں بوڑھی عورت بیٹھی ہے حضرت عمرؓ نے انہیں سلام کیا اور پوچھا اما ں! عمر کے بارے میں تیری کیا رائے ہے ؟ عورت نے کہا : قیامت کے دن عمر کا دامن ہوگا اور میراہاتھ ہوگا۔ حضرت عمرؓ ان کی بات سن کر کانپ گئے پوچھا؟ اماں کیا بات ہوئی ! اس عورت نے کہا وہ جب سے خلیفہ بنا ہے اس نے میری خبر نہیں لی ۔حضرت عمرؓ نے پوچھا؟ اماں ! کیا  تم نے کبھی عمر کو اپنے حالات سے آگاہ کیا ۔ اسے مدینے میں بیٹھے کیا معلوم تیری کیا حالت ہے ۔ اس عورت نے کہا : اسے حکومت کرنے کا کوئی حق نہیں ۔ اگر اسے اپنی رعایا کے حالات کا علم نہیں ۔ حضرت عمرؓ بعد میں فرماتے : کہ خلافت کی حقیقت سے مجھے شام کی اس بوڑھی عورت نے آگاہ کیا ۔ ” (خطباتِ اسحاق ج ۱ ص ۱۰۶)
تبصرہ:       یہ بے اصل و بے سند قصہ ہے جس کا اسحاق صاحب نے کوئی حوالہ نہیں دیا۔
۳:            اسحاق صاحب فرماتے ہیں:
                “امام حسن بصری (رحمہ اللہ) کہتے ہیں : کہ ایک نوجوان نے مجھے لاجواب کردیا وہ ہر وقت خاموش رہتا ۔ میں نے اس سے خاموشی کا سبب دریافت کیا تو اس نے جواب دیا :  دو بوجھ ہیں جو مجھے بولنے نہیں دیتے ۔
(۱)          ایک تو جب اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھتا ہوں کہ ایک لمحے کیلئے بھی اس کا سلسلہ نہیں رکتا
(۲)         دوسری طرف اپنے گناہوں اور نافرمانیوں کی طرف دیکھتا ہوں تو یہ بوجھ کسی بھی لمحے سوچ و فکر سے آزاد نہیں چھوڑتا ”            (خطباتِ اسحاق ج ۱ص۱۶۸)
تبصرہ:       اس قول کی کوئی سند اسحاق صاحب نے بیان نہیں کی۔
۳:        جہالتیں
اسحاق صاحب فرماتےہیں:
                “شیخ سعدی (رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ کعبہ کے دروازے پر ایک آدمی رو رو کر اللہ تعالیٰ سے فریاد کررہا ہے ۔ میں نے سنا وہ کہہ رہا تھا : میں یہ نہیں کہتا کہ میری نیکیاں قبول فرما ! میرے اس کون سی نیکیاں ہیں میں تو صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ تو اپنے فضل اور مہربانی سے میرے گناہوں پر معافی کا قلم پھیردے ! شیخ سعدی (رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا وہ حضرت شیخ عبدالقادری جیلانی (رحمہ اللہ ) تھے۔  اتنے بڑے ولی ہوکر وہ اللہ سے التجا کر رہے ہیں”              (خطباتِ اسحاق ج ۱ ص۴۱۹)
تبصرہ:       شیخ سعدی شیزاری ۵۸۹؁ھ اور ۸۹۰؁ھ (۱۱۹۳؁ء) میں پیدا ہوئے ۔
دیکھئے ارشاد الطالبین فی احوال المصنفین (ص۸۲)
جبکہ شیخ عبدالقادری جیلانی رحمہ اللہ ۵۶۱؁ھ میں فوت ہوئے۔
                معلوم ہوا کہ شیخ سعدی کی شیخ عبدالقادری سے ملاقات ہی نہیں ہوئی لہٰذا اسحاق صاحب نے یہ قصہ بیان کرکے جھوٹ کا لک توڑ دیا ہے ۔ یہ قصہ اسحاق صاحب کی جہالت کا شاہکار ہے ۔
٭           سحری کے بارے میں اسحاق صاحب فرماتے ہیں:
                “مؤذن کے اللہ اکبر کہنے کے بعد لقمہ بھی منہ ڈالنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص افطاری سے ایک منٹ پہلے روزہ کھول لے ۔ ”    (خطباتِ اسحاق ج ۱ص ۱۲۰)
تبصرہ:       اسحاق صاحب کی یہ بات ان کی جہالت کی ایک اور دلیل ہے جوکہ اس صحیح حدیث کے بھی خلاف ہے جس میں اذان کے وقت سحری کھانے کا جواز ثابت ہے ۔ دیکھئے سنن ابی داود (۲۳۵۰ و سندہ حسن و صححہ الحاکم ۲۰۳/۱ علیٰ شرط مسلم ووافقہ الذہبی)
یاد رہے کہ اگلے صفحہ (۱۲۱) پر اسحاق صاحب نے اس صحیح حدیث کی بعید ترین تاویل رکھی ہے جس کا باطل ہونا ظاہر ہے۔
۴:        عجیب و غریب قصے
اسحاق صاحب نے اپنے خطبات میں عجیب و غریب قصے بھی بیان کر رکھے ہیں مثلاً:
۱:             اسحاق صاحب کہتے ہیں:
                “اولیاء کے تذکروں میں یہ واقعہ محفوظ ہے ۔ ۱؎ کہ شیخ بو علی قلندر جو مجذوب تھے ایک دفعہ شیخ ثناء اللہ پانی پتی (رحمہ اللہ ) کے مدرسہ میں گئے ۔ بو علی قلندر کی مونچھیں بہت بڑھی ہوئیں تھیں۔  شیخ ثناء اللہ (رحمہ اللہ) نے ان سے کہا کہ قلندر صاحب ! آپ کی مونچھیں بہت بڑی ہیں یہ شریعت کے خلاف ہیں انہیں کٹوا دیجئے ! بوعلی قلندر نے علامہ پانی پتی (رحمہ اللہ) سے کہا : کہ ذرا آنکھیں بند کیجئے ۔ انہوں نے آنکھیں بند کیں تو دیکھا کہ مونچھوں کا ایک سرازمین کی گہرائی میں ہے اور دوسرا آسمان سے بھی اوپر ہے ۔ بو علی قلندر نے کہا : کہ اگر انہیں کاٹ سکتے ہو تو کاٹ دیجئے۔ علامہ پانی پتی (رحمہ اللہ) نے بو علی قلندر سے کہا : کہ اب ذرا اپنی آنکھیں بند کیجئے! انہوں نے آنکھیں بند کیں تو دیکھا کہ ایک قینچی ہے جس کا ایک سرا ساتویں زمین سے بھی نیچے ہے اور دوسرا سرا آسمان سے بھی بلند ہے ۔ بو علی قلندر نے دیکھ کر فرمایا کہ واقعی شریعت سب چیزوں کا احاطہ کئے ہوئے ہے آپ میری مونچھیں کاٹ دیجئے ۔ ” (خطبات اسحاق ج ۲ ص ۵۳)   ]1؎ تحفۃ الہند[
تبصرہ:       یہ سارا قصہ من گھڑت ہے اور دین کے ساتھ مذاق بھی ہے ۔
۲:            اسحاق صاحب فرماتے ہیں:
                “اپنے دور کے بہت بڑے ولی حضرت ابوبکر شبلی (رحمہ اللہ) کو لوگوں نے دیوانہ قرار دے کر جیل میں بھیج دیا کچھ دوست ملاقات کے لئے آئے تو شبلی (رحمہ اللہ) نے ان کی طرف پتھر پھینکنے شروع کردیئے وہ لوگ گھبرا کر دور چلے گئے تو فرمایا :آپ لوگ کون ہیں؟ انہوں نے کہا : کہ آپ کے دوست ! تو فرمایا : کہ کبھی دوست بھی دوست کی مار سے بھاگتا ہے ؟ جو بھاگ گیا وہ دوست نہیں ! اسی طرح جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش سے گھبرا جائے وہ مومن نہیں ہوسکتا ۔ ” (خطباتِ اسحاق ج ۱ ص ۵۱)
تبصرہ:       بے اصل اور من گھڑت قصہ ہے ۔
۳:            اسحاق صاحب کہتے ہیں:
                “جیسا کہ حضرت فضیل بن عیاض (رحمہ اللہ ) کی توبہ کا واقعہ آپ نے سنا ان کے بارے میں لکھا ہے کہ جن لوگوں کو انہوں نے لوٹا تھا ان میں بڑے بڑے تاجر شامل تھے آپ ان کے پاس گئے جو کچھ موجود تھا انہیں واپس کردیا۔ کچھ سے کہا کہ مہلت دے دو میں کما کر واپس کردوں گا بہت سے لوگوں نے کہا کہ ہمیں تمہارے تائب ہونے کی اتنی خوشی ہے ہم تمہیں معاف کرتے ہیں”          (خطباتِ اسحاق ج ۱ ص ۲۱۰)
تبصرہ:       یہ بے اصل قصہ ہے ۔ فضیل بن عیاض رحمہ اللہ کا ڈاکو ہونا صحیح سند سے ثابت نہیں ہے ۔ اس قسم کے بے اصل قصوں کے لئے دیکھئے تاریخ دمشق لابن عساکر (۲۶۴/۵۱، ۲۶۵) وغیرہ۔
۵:        خوابوں کی دنیا
اسحاق صاحب اپنے خطبات میں بغیر کسی خوف کے بے اصل خواب بھی بیان کرتے ہیں مثلاً:
۱:             اسحاق صاحب کہتے ہیں:
                “علامہ رشید رضامصری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ مفتی محمد عبدہ (رحمہ اللہ) نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور انہوں نے آپ سے پوچھا : یا رسول اللہ ! اگر احد کے دن اللہ تعالیٰ جنگ کے نتیجہ کے بارے میں آپ کو اختیار دیتا تو آپ فتح پسند فرماتے یا شکست پسند فرماتے ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ شکست کو پسند کرتا حالانکہ ساری دنیا فتح کو پسند کرتی ہے ۔(تفسیر نمونہ بحوالہ تفسیر المنار ۹۲/۳)” (خطباتِ اسحاق ج ۲ ص ۱۹۳، ۱۹۴)
تبصرہ :       اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ محمد عبدہ (مصری، منکرِ حدیث بدعتی) نے خوا ب میں ضرور بالضرور رسول اللہ ﷺ کو ہی دیکھا تھا ۔ کیا وہ آپﷺ کی صورت مبارک پہنچانتا تھا ؟ کیا اس نے خواب بیان کرنے میں جھوٹ نہیں بولا؟
۲:            اسحاق صاحب فرماتے ہیں:
                “حضرت علی ؓ نے شاہ عبدالعزیز (رحمہ اللہ) کو خواب میں اللہ تعالیٰ سے نسبت حاصل کرنے کے یہی تین طریقے بتائے تھے ۔ جن کا اللہ تعالیٰ نے اپنی پاک کتاب میں ذکر فرمایا ہے کہ :قرآن پاک کی تلاوت کرو، نماز ادا کرو ، اور اللہ کا ذکر کرو۔ اس کے بعد فرمایا: ﴿وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ
جو بھی تم کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے ۔ ”         (خطباتِ اسحاق ج ۱ ص ۱۳۴)
تبصرہ:       عبدالعزیز دہلوی کو کس نے بتایا تھا کہ انہوں نے جسے خواب میں دیکھا ہے وہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہیں؟
لطیفہ:       عبدالعزیز دہلوی کا ایک من گھڑت خواب دیوبندیوں کی کتابوں سے پیش خدمت ہے:
عاشق الہٰی میرٹھی دیوبندی لکھتے ہیں:
                “ایک بار شاہ عبدالعزیز صاحبؒ نے جناب امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ کو خواب میں دیکھا اور دریافت کیا کہ مذاہبِ اربعہ میں کون مذہب آپ کے مذہب کے مطابق ہے؟ فرمایا “کوئی بھی نہیں” پھر سلاسل اربعہ کو دریافت کی اس کی بابت بھی وہی جواب  ارشاد ہوا کہ کوئی بھی نہیں جب اس خواب کی خبر مرزا جان جانانؒ کو ہوئی تو آپ نے شاہ صاحب سے پوچھ بھیجا کہ یہ خواب اضغاث احلام تو نہیں ہے ؟ اسکے کیا معنی کہ سلاسل اربعہ اور مذاہب اربعہ میں سے کوئی ایک بھی جناب امیر کے موافق نہیں؟ شاہ صاحب نے جواب لکھا کہ یہ خواب رویائے صالحہ ہے اور عدم موافقت کا یہ مطلب ہے کہ من کل الوجوہ اور ہرہر جزئیات میں کوئی سلسلہ اور کوئی مذہب آپ کے مذہب کے مطابق نہیں ہے اِسلئے کہ ہر ایک مذہب مذاہب صحابہ کا مجموعہ ہے کوئی مسئلہ حضرت صدیقؓ کے مطابق ہے تو کوئی مسئلہ حضرت علیؓ کے اور کوئی حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ کے رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور یہی حال سلاسل مشائخ کا  ہے ۔” (تذکرۃ الرشید ج ۲ ص ۲۶۷)
تبصرہ:       اس جعلی خواب کے سلسلے میں عرض ہے کہ اگر یہ خواب صحیح ہے تو سیدنا علی ؓ کی بات کو لیاجائے اور شاہ عبدالعزیز دہلوی یا مرزا جان جانان کی تاویل کو دیوار پر دے مارا جائے گا اور اگر یہ خواب جعلی ہے اسے بیان کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
                یہ مختصر تحقیقی مضمون محمد اسحاق صاحب جہال والا کی اصلاح اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے لکھا گیا ہے ۔
تنبیہ:        محمد اسحاق صاحب جہال والا کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے بارے میں خطرناک نظریات، اہل بدعت کی حمایت اور اہل حق پر تنقید کا جائزہ اور دیگر نظریات و عقائد اور ان کا رد ایک خاص تحقیقی مضمون کا متقاضی ہے ۔ اسحاق صاحب بغیر کسی ڈر کے صحیح و ثابت روایات کو موضوع، من گھڑت اور جھوٹ وغیرہ کہہ دیتے ہیں اور علمائے حق کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ اہل حدیث ان کے غلط عقائد اور تمام اہل بدعت کو راضی کرنے والی پالیسی سے بری ہیں۔ وما علینا إلا البلاغ
                                                                                                                                                                (۲۰ فروری ۲۰۰۷؁ء)

 

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.