ماہ محرم میں رائج بدعات و خرافات

 از    August 26, 2014

۱:بعض لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ “محرم میں شادی نہیں کرنی چاہیے” اس بات کی شریعتِ اسلامیہ میں کوئی اصل نہیں ہے۔
۲:       خاص طور پر محرم ہی کے مہینے میں قبرستان پر جانا اور قبروں کی زیارت کرنا کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہے ، یاد رہے کہ آخرت و موت کی یاد اور اموات کے لئے دعا کے لئے ہر وقت بغیر کسی تخصیص کے قبروں کی زیارت کرنا جائز ہے بشرطیکہ شرکیہ اور بدعتی امور سے مکمل اجتناب کیا جائے۔
۳:       عاشوراء (۱۰ محرم) کے روزے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“وصیام یوم عاشوراء احتسب علی اللہ أن یکفر السنۃ التی قبلہ میں سمجھتا ہوں کہ عاشوراء کے روزے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گزشتہ سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ (صحیح مسلم : ۲۷۴۶، ۱۱۶۲/۱۹۶)

ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہافضل الصیام بعد رمضان شھر اللہ المحرمرمضان کے بعد سب سے بہترین روزے، اللہ کے (حرام کردہ) مہینے محرم کے روزے ہیں۔ (صحیح مسلم : ۲۷۵۵ ، ۱۱۶۳/۲۰)

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: “خالفوا الیھود وصوم التاسع و العاشریہودیوں کی مخالفت کرو اور نو (محرم) کا روزہ رکھو۔ (مصنف عبدالرزاق ۲۸۷/۴ ح ۷۸۳۹ و سندہ صحیح، والسنن الکبری للبیہقی ۲۸۷/۴)

۴:       محرم حرام کے مہینوں میں ہے ، اس میں جنگ وقتال کرنا حرام ہے الایہ کہ مسلمانوں پر کافر حملہ کردیں ۔ حملے کی صورت میں مسلمان اپنا پورا دفاع کریں گے۔
۵:       محرم ۶؁ھ میں غزوہ خیبر ہوا تھا (۲۳مئی ۶۲۷؁ء) دیکھئے تقدیم تاریخی ص ۲

۶:       ۱۰محرم ۶۱؁ھ کو سیدنا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کربلاء میں مظلومانہ شہید کئے گئے۔ ان کی شہادت پر شور مچا کر رونا ، گریبان پھاڑنا اور منہ وغیرہ پیٹنا سب حرام کام ہے ۔ اسی طرح “امام زادے” وغیرہ کہہ کر افسوس  کی مختلف رسومات انجام دینا اور سبیلیں وغیرہ لگانا شریعت سے ثابت نہیں ہے۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.