مانعین رفع الیدین کا علمی محاسبہ – حصہ دوئم

 از    July 10, 2016

اس تحریر کا پہلا حصہ یہاں ملاحظہ کیجیے

 

مانعین رفع الیدین کے دلائل دلیل نمبر ۵

 تحریر: غلام مصطفےٰظہیر امن پوری

 

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: 
ان رسول الله ﷺ كان اذا افتح الصلاة رفع يديه الي قريب من أذنيه، ثم لا يعود. 
”بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو اپنے کانوں کے قریب تک رفع الیدین کرتے، پھر دوبارہ نہ فرماتے۔“ 
(سنن ابي داود:749، سنن دارقطني:293/1، مسند ابي يعليٰ:1690)

 

تبصرہ: 
(۱) اس کی سند ”ضعیف“ ہے۔
حفاظ محدثین کا اس حدیث کے ”ضعف“ پر اجماع و اتفاق ہے، اس کا راوی یزید بن ابی زیاد جمہور کے نزدیک ”ضعیف“ اور ”سیئ الحفظ“ ہے، نیز یہ ”مدلس“ اور ”مختلط“ بھی ہے، تلقین بھی قبول کرتا تھا۔ 

 

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
ضعيف، كبر، فتغير، وصار يتلقن وكان شيعيا. 
”یہ ضعیف راوی ہے، بڑی عمر میں اس کا حافظہ خراب ہو گیا تھا اور یہ تلقین قبول کرنے لگا تھا، یہ شیعی بھی تھا۔“ 
(تقريب التھذيب: 7717)  

نیز لکھتے ہیں: 
والجمھور علي تضعيف حديثه. جمہور محدثین اس کی حدیث کو ضعیف کہتے ہیں۔ (ھدي السارى:459) 

 

بوصیری لکھتے ہیں: 
يزيد بن أبي زياد أخرج له مسلم في المتابعات وضعفه الجمھور. 
”یزید بن ابی زیاد کی حدیث امام مسلم نے متابعات مین بیان کی ہے، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔“ 
(زوائد ابن ماجه:549/2) 

 

امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
لا يخرج منه في الصحيح، ضعيف، يخطئ كثيرا. 
”کسی صحیح کتاب میں اس کی کوئی حدیث بیان نہیں کی جائے گی، یہ ضعیف ہے اور بہت زیادہ غلطیاں کرتا تھا۔“ 
(سوالات البرقاني:561) 

 

حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وليس ھو بالمتقن، فلذا لم يحتج به الشيخان. 
”وہ پختہ راوی نہیں، اسی لیے شیخین (بخاری و مسلم) نے اس سے حجت نہیں لی۔“ 
(سير أعلام النبلاء:129/6) 

 

یہ صحیح مسلم کا راوی نہیں ہے، امام مسلم نے اس سے مقروناً روایت لی ہے۔ 

 

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
ولم يكن يزيد بن أبي زياد بالحافظ، ليس بذالك. 
”یزید بن ابی زیاد حافظ نہیں تھا، حدیث کی روایت کے قابل نہ تھا۔“ 
(الجرح و التعديل:265/9) 

 

امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
ليس بالقوي. ”یہ قوی نہیں تھا۔“ (الجرح و التعديل:265/9) 

 

امام ابوزرعہ الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
لين، يكتب حديثه، ولا يحتج به. 
”کمزور راوی ہے، اس کی حدیث لکھی جائے گی، لیکن اس حجت نہیں لی جائے گی۔“ 
(الجرح و التعديل:265/9) 

 

امام جوزجانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: 
سمعتھم يضعفون حديثه. ”میں نے محدثین کو اس کی حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہوئے سنا۔“ (احوال الرجال:135) 

 

امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
ليس بالقوي. ”یہ قوی نہیں۔“ (الضعفاء والمتروكين:651) 

 

امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
ولا يحتج بحديث يزيد بن أبي زياد. ”یزید بن ابی زیاد کی حدیث سے حجت نہیں لی جائے گی۔“ (تاريخ يحيي بن معين:3144) 

 

امام وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
ليس بشئ. ”یہ (حدیث میں) کچھ بھی نہیں۔“ (الضعفاء للعقيلى:380/4،وسنده صحيح) 

 

امام علی بن المدینی رحمہ اللہ نے بھی اسے ”ضعیف“ قرار دیا ہے۔ (الضعفاء للعقيلى:480/4،وسنده صحيح) 

 

امام شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: 
كان يزيد بن ابي زياد رفاعا. 
”یزید بن ابی زیاد رفاع (موقوف روایات کو مرفوع بنا دینے والا) تھا۔“ 
(الجرح و التعديل لابن أبي حاتم:265/9) 

 

امام عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
ارم به. ”اسے پھینک (چھوڑ) دو۔“ (تھذيب التھذيب:288/11) 

 

امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
ويزيد من شيعة أھل الكوفة، مع ضعفه يكتب حديثه. 
”یزید اہل کوفہ کے شیعہ میں سے ہے، ضعف کے ساتھ ساتھ اس کی حدیث لکھی جائے گی۔“ 
(الكامل:276/7) 

 

لہذٰا امام عجلی (تاريخ العجلي:2019) اور امام ابن سعد (الطبقات الکبرٰی:340/6) کا اس کو ”ثقہ“ کہنا اور امام ابن شاہین کا اسے ”الثقات (1561) “ میں ذکر کرنا جمہور کی تضعیف کے مقابلے میں ناقابل التفات ہے۔ 
نیز اس کی توثیق کے بارے میں احمد بن صالح المصری کا قول ثابت نہیں ہے۔ 

 

الحاصل: 
یہ حدیث باتفاق محدثین ”ضعیف“ ہے، ”ضعف“ کے ساتھ ساتھ یزید بن ابی زیاد نے اسے بیان بھی اختلاط کے بعد کیا ہے۔ 

(۲) یہ روایت ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ عام بھی ہے، جبکہ رکوع والے رفع الیدین کی دلیل خاص ہے، لہذٰا خاص کو عام پر مقدم کیا جائے گا۔ 

 

امام ابن حبان رحمہ اللہ اس حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں: 
ھذا خبر عول عليه أھل العراق في نفي رفع اليدين في الصلاة عندالركوع وعند رفع الرأس منه، وليس في الخبر: ثم لم يعد، وھذه الزيادة لقنھا أھل الكوفة يزيد بن أبي زياد في آخر عمره، فتلقن، كما قال سفيان بن عيينه : انه سمعه قديما بمكة يحدث بھذا الحديث باسقاط ھذه اللفظة، ومن لم يكن العلم صناعته لا يذكر له الاحتجاج بما يشبه ھذا من الأخبار الواھية. 
”یہ وہ حدیث ہے جس پر اہل عراق نے نماز میں رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کی نفی میں اعتماد کیا ہے، حالانکہ حدیث میں 
”ثم لم يعد.“ (پھر دوبارہ نہ کیا) کے الفاظ نہیں تھے، یہ زیادت یزید بن ابی زیاد کو اس کی آخری عمر میں اہل کوفہ نے تلقین کی تھی، اس نے اسے قبول کر لیا، جیسا کہ امام سفیان بن عیینہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے پہلے دور میں مکہ میں اسے یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا تھا، اس وقت اس نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے تھے، جو آدمی فن حدیث کا اہل نہ ہو، اس کے لیے اس طرح کی ضعیف روایات کو بطور دلیل ذکر کرنا درست نہیں ہے۔“ (المجروحين لابن حبان:100/3) 

 

خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
ذكر ترك العود الي الرفع ليس بثابت عن النبي ﷺ، فكان يزيد بن أبي زياد يروي ھذا الحديث قديما ولا يذكره، ثم تغير وساء حفظه فلقنه الكوفيون ذلك، فتلقنه ووصله بمتن الحديث. 
(تکبیر تحریمہ میں رفع الیدین کے بعد) دوبارہ رفع الیدین کو چھوڑنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، یزید بن ابی زیاد اس حدیث کو پہلے پہل بیان کرتا تھا، لیکن ان الفاظ کو ذکر نہیں کرتا تھا، پھر اس کا حافظہ خراب ہو گیا تو کوفیوں نے اس کو ان الفاظ کی تلقین کی، اس قبول کر لی اور اسے متن کے ساتھ ملا دیا۔ 
(المدرج:369/1) 

 

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: 
واتفق الحفاظ علي أن قوله : ثم لم يعد، مدرج في الخبر من قول يزيد بن أبي زياد. 
”حفاظ محدثین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ثم لم يعد کے الفاظ اس حدیث میں مدرج ہیں، یہ یزید بن ابی زیاد کی اپنی بات ہے۔“ 
(التلخيص الحبير:221/1)

مانعین رفع الیدین کے دلائل دلیل نمبر ۶

 

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: 
رأيت رسول الله ﷺ رفع يديه حين افتتح الصلاة، ثم لم يرفعھما حتي انصرف. ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے جب نماز شروع کی تو رفع الیدین کیا، پھر سلام پھیرنے تک دوبارہ نہیں کیا۔“ (سنن ابي داود:752، مسند ابي يعلي:1689، شرح معاني الآثار:224/1)

 

تبصرہ: 
اس کی سند ضعیف ہے۔ 
اس کا راوی ابن ابی لیلیٰ جمہور کے نزدیک ”ضعیف“ ہے 
۔

 

اس حدیث کے تحت : 
امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 

ھذا الحديث ليس بصحيح. ”یہ حدیث صحیح نہیں۔“ 

 

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
ابن أبي ليلي كان سيء الحفظ. ”ابن ابی لیلیٰ خراب حافظہ والا تھا۔“ (العلل:143/1) 

 

امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
ومحمد بن عبدالرحمن بن أبي ليلي لا يحتج بحديثه، وھو أسوأ حالا عند أھل المعرفة بالحديث من يزيد بن أبي زياد. 
”محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کی حدیث حجت نہیں لی جائے گی، اس کی حالت محدثین کے نزدیک یزید بن ابی زیاد سے بھی بری تھی۔“ 
(معرفة السنن والآثار للبيھقى:419/2)




 

مانعین رفع الیدین کے دلائل دلیل نمبر ۷

 

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: 
كان رسول الله ﷺ اذا افتتح الصلاة رفع يديه حتي يحاذي منكبيه، لا يعود يرفعھما حتي يسلم من صلاته. 
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو کندھوں کے برابر رفع الیدین کیا، دوبارہ آپ رفع الیدین نہیں کرتے تھے، حتی کہ نماز سے سلام پھیر دیتے۔“ 
(مسند ابي حنيفة لابي نعيم:ص156)

 

تبصرہ: 
یہ سند سخت ترین ”ضعیف“ ہے، اس میں ابوحنیفہ نعمان بن ثابت باجماع محدثین ”ضعیف“ ہیں، ان کے حق میں کسی ثقہ امام سے باسند ”صحیح“ کوئی ادنیٰ کلمہ توثیق بھی ثابت نہیں، مدعی پر دلیل لازم ہے۔

 

مانعین رفع الیدین کے دلائل دلیل نمبر ۸

 

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: 
صليت مع النبي ﷺ ومع أبي بكر و مع عمر، فلم يرفعوا أيديھم الا عند التكبيرة الأولي في افتتاح الصلاة. 
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر اور عمر کے ساتھ نماز پڑھی، انہوں نے صرف نماز کے شروع میں پہلی تکبیر کے وقت رفع الیدین کیا۔“ 
(سنن الدارقطنى:295/1، ح:1120، واللفظ له، مسند ابي يعلى:5039)

 

تبصرہ: 
یہ روایت سخت ترین ”ضعیف“ ہے، کیونکہ 

(۱) اس کا راوی محمد بن جابر یمامی جمہور محدثین کے نزدیک ”ضعیف“ ہے۔ 

 

حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
وھو ضعيف عند الجمھور. یہ جمہور محدثین کے نزدیک ”ضعیف“ ہے۔ (مجمع الزوائد:346/5) 

 

اس کو امام احمد بن حنبل، امام بخاری، امام یحیی بن معین، امام عمرو بن علی الفلاس، امام نسائی، امام جوزجانی، امام دارقطنی وغیرہم رحمہم اللہ نے مجروح و ضعیف کہا ہے۔ 

 

امام دارقطنی اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: 
تفرد به محمد بن جابر اليمامي وكان ضعيفا. 
”اس کو بیان کرنے میں محمد بن جابر یمامی متفرد ہے اور وہ ضعیف تھا۔“ 
(سنن الدارقطنى:295/1) 

 

امام اہل سنت احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
ھذا ابن جابر ايش حديثه؟ ھذا حديث منكر، أنكره جدا. 
”یہ محمد بن جابر ہے، اس کی حدیث کیا ہے؟ یہ ایک منکر حدیث ہے، میں اسے سخت منکر سمجھتا ہوں۔“ 
(العلل:144/1) 

 

امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 
لا يتابع محمد بن جابر علي ھذا الحديث ولا علي عامة حديثه. 
”محمد بن جابر کی نہ اس حدیث میں متابعت کی گئی ہے اور نہ ہی عام احادیث پر۔“ 
(الضعفاء:42/4) 

 

امام حاکم رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”ضعیف“ کہا ہے۔ (معرفة السنن والآثار للبيھقى:425/2) 

 

حافظ ابن الجوزی فرماتے ہیں: 
ھذا حديث لا يصح عن رسول الله ﷺ. ”یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔“(الموضوعات:96/2) 

 

امام ابوحاتم الرازی رحمہ اللہ کہتے ہیں: 
وحديثه عن حماد، فيه اضطراب. ”اس کی حدیث حماد بن ابی سلیمان سے مضطرب ہوتی ہے۔“ (الجرح و التعديل:219/7) 

 

یہ روایت بھی اس نے اپنے استاد حماد سے بیان کی ہے، لہذا جرح مفسر ہے۔ 

 

تنبیہ: 
محمد بن جابر یمامی کہتے ہیں: 

سرق أبوحنيفة كتب حماد مني. ”ابوحنیفہ نے مجھ سے حماد بن ابی سلیمان کی کتابیں چوری کیں۔“ (الجرح و التعديل:450/8) 

 

اب یہاں عجیب الجھن پیدا ہو گئی ہے کہ اگر محمد بن جابر یمامی ”ثقہ“ ہے تو امام صاحب پر چوری کا الزام عائد ہوتا ہے اور اگر امام صاحب کو بچائیں تو اس روایت سے ہاتھ دھونے پڑیں گے! 

 

(۲) اگر یہ حدیث صحیح ہے تو بعض الناس قنوت وتر اور عیدین میں رفع الیدین کیوں کرتے ہیں؟ 

 

(۳) یہ روایت ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ عام ہے، جبکہ رکوع جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کے ثبوت والی احادیث خاص ہیں، لہذا خاص کو عام پر مقدم کیا جائے گا۔ اتنی سی بات بعض لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں! 

 

(۴) سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے رفع الیدین کرنا صحیح سند سے ثابت ہے۔ (السنن الكبري للبيهقي:73/2)

 

مانعین رفع الیدین کے دلائل دلیل نمبر ۹

 

قال الامام ابن أبي شيبة: حدثنا ابن فضيل عن عطاء عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : ترفع الأيدي في سبعة مواطن : اذا قام الي الصلاة، واذا رأي البيت، وعلي الصفا والمروة، وفي عرفات، وفي جمع وعند الجمار. 
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سات مقامات پر رفع الیدین کیا جاتا ہے: جب نماز کے لیے کھڑا ہو، جب بیت اللہ کو دیکھے، کوہ صفا اور کوہ مروہ پر، عرفات میں، مزدلفہ میں اور جمرات کے پاس۔ 
(مصنف ابن ابي شيبة:236،235/2)

 

تبصرہ: 
(۱) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس قول کی سند ”ضعیف“ ہے کیونکہ عطاء بن السائب (حسن الحدیث) ”مختلط“ ہیں اور ابن فضیل نے ان سے اختلاط کے بعد روایت لی ہے۔ 

 

امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطا بن السائب راوی ”مختلط“ ہیں۔ (الجرح والتعديل:335/6) 

 

امام احمد بن حنبل، امام ابوحاتم الرازی (الجرح والتعديل:334/6) اور امام دارقطنی (العلل:186/5، 288/8) رحمہم الله نے ان کو ”مختلط“ قرار دیا ہے۔ 

 

امام ابوحاتم الرازی فرماتے ہیں: 
وما روي عنه ابن فضيل، ففيه غلط واضطراب. 
”عطا بن السائب سے جو کچھ ابن فضیل نے روایت کیا ہے، اس میں غلطیاں اور اضطراب ہے۔“ 
(الجرح والتعديل:334/6) 


یہ جرح مفسر ہے، لہذا سند ”ضعیف“ ہے، اس قول میں قنوت وتر اور عیدین کے رفع الیدین کا بھی ذکر نہیں ہے، وہ کیوں کیا جاتا ہے؟ 

 

(۲) ابو حمزہ (عمران بن ابی عطاء القصاب ثقہ عند الجمہور) کہتے ہیں: 
رأيت ابن عباس يرفع يديه اذا افتتح الصلاة واذا ركع واذا رفع رأسه من الركوع. 
”میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نماز شروع کرتے، رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کرتے ہوئے دیکھا۔“ 
(مصنف ابن ابي شيبة:239/1، وسنده حسن) 

 

اس روایت سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں: 
(ا) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز میں رفع الیدین کے قائل تھے۔ 
(ب) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کا رفع الیدین کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہے۔ 

 

فائدہ: 
یہ روایت مرفاعاً بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند بھی ”ضعیف“ ہے، 
اس میں ابن ابی لیلی راوی جمہور محدثین کے نزدیک ہے، 
ضعيف، سيء الحفظ. 

 

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: 
ضعيف، سيء الحفظ. ضعیف اور خراب حافظے والا ہے۔ (التلخيص الحبير:22/3) 

 

حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں: 
محمد بن عبدالرحمن بن أبي ليلي سيء الحفظ، لا يحتج به عند أكثرھم. 
ابن ابی لیلی خراب حافظے والا ہے، اکثر محدثین کے نزدیک قابل حجت نہیں۔ 
(تحفة الطالب:345) 

 

امام طحاوی حنفی نے اس کو مضطرب الحديث جدا. کہا ہے۔ (مشكل الآثار للطحاوي:226/3) 

 

انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب کہتے ہیں: 
فھو ضعيف عندي كما ذھب اليه الجمھور. 
”وہ میرے نزدیک بھی ضعیف ہے، جیسا کہ جمہور کا مذہب ہے۔“ 
(فيض الباري:168/3) 

 

(۲) اس کی سند میں الحکم بن عتیبہ راوی ”مدلس“ ہے جو کہ ”عن“ سے روایت کر رہا ہے۔ 


امام عینی حنفی نے بھی اس کو ”مدلس“ کہا ہے۔ (عمدة القاري:248/21) 
نیز دیکھیں 
(اسماء المدلسين للسيوي:96)



 

مانعین رفع الیدین کے دلائل دلیل نمبر ۱۰

 

عباد بن زبیر سے روایت ہے: 
ان رسول الله ﷺ كان اذا افتتح الصلاه رفع يديه في أول الصلاة، ثم لم يرفعھما في شيء حتي يفرغ. 
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو رفع الیدین فرماتے، پھر فارغ ہونے تک کسی بھی رکن میں رفع الیدین نہیں فرماتے تھے۔“ 
(الخلافيات للبيھقي، نصب الراية للزيلعي:404/1)

 

تبصرہ: 
یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔ 
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ لکھتے ہیں: 

وھو موضوع. ”یہ حدیث موضوع (من گھڑت) ہے۔“ ( المنار المنيف:ص139) 
(۱) عباد تابعی کا تعارف مطلوب ہے کہ یہ کون ہے؟ عباد بن زبیر کے نام سے کئی راوی ہیں، اس سے عباد بن عبداللہ بن زبیر مراد لینا غلط ہے۔ 
(۲) محمد بن اسحاق راوی کا تعین مطلوب ہے۔ 
(۳) اس کی سند میں حفص بن غیاث ”مدلس“ ہیں، جو ”عن“ سے روایت کر رہے ہیں، سماع کی تصریح ثابت نہیں، لہذا سند ”ضعیف“ ہے۔ 
(۴) بعض الناس قنوت وتر اور عیدین میں رفع الیدین کیوں کرتے ہیں؟ 
(۵) یہ موضوع (من گھڑت) روایت عام ہے، جبکہ رکوع کو جاتے اور سر اٹھاتے وقت رفع الیدین کی احادیث خاص ہیں، تعارض کے وقت خاص کو عام پر مقدم کیا جاتا ہے۔

 

دعوت فکر 

دینی بھائیو اور بہنو! ہم نے جانبین کے دلائل پوری دیانت کے ساتھ ذکر کر دئیے ہیں، اب آپ کا دینی فریضہ ہے کہ دونوں طرف کے دلائل کو غیر جانبداری سے بنطر انصاف پڑھیں، پھر اللہ تعالیٰ سے ڈر کر فیصلہ کریں کہ حق کس کے ساتھ ہے؟ جو لوگ اللہ رب العالمین کے عذاب سے بے خوف و خطر ہو کر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی میں یہ کہتے ہیں کہ رفع الیدین کا حکم دکھاؤ، رفع الیدین کی احادیث کو اللہ و رسول نے ”صحیح“ کہا ہو، دس کا اثبات اور اٹھارہ کی نفی دکھاؤ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اس کو سنت کہا ہو، وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ 
ایسے لوگ علم اور عقل و نقل سے بالکل عاری ہیں۔ مومنین کے راستہ کو چھوڑ کر کسی اور راستے کے راہی ہیں۔

 

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.