قنوتِ وتر میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا

 از    July 8, 2014

سوال: کیا قنوت وتر میں ہاتھ اُٹھا کر دعا کرنا ثابت ہے؟

الجواب: ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ (متوفی ۲۷۷ھ)فرماتے ہیں کہ:

‘‘ قال لی أبو زرعۃ: ترفع یدیک فی القنوت؟ قلت: لا! فقلت لہ: فترفع أنت؟ قال: نعم: فقلت : ما حجتک؟ قال: حدیث ابن مسعود، قلت: رواہ لیث بن أبی سلیم، قال: حدیث أبی ھریرۃ، قلت: رواہ ابن الھیعۃ، قال: حدیث ابن عباس، قلت: رواہ عوف، قال: فما حجتک فی ترکہ؟ قلت: حدیث أنس أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان لا یرفع یدیہ فی شی من الدعاء إلا ستسقاء، فسکت’’
ابو زرعہ(الرازی رحمہ اللہ، متوفی ۲۶۴ھ) نے مجھ سے پوچھا : کیا آپ قنوت میں ہاٹھ اُٹھاتے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں!پھر میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ (قنوت میں ) ہاتھ اُٹھاتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ، میں نے پوچھا: آپ کی دلیل کیا ہے؟ انہوں نے کہا: حدیث ابن مسعود، میں نے کہا: اسے لیث بن ابی سلیم نے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا: حدیث ابی ابو ہریرہ، میں نے کہا: اسے ابن لھیعہ نے روایت کیا ہے۔ انہوں نے کہا: حدیث ابن عباس، میں نے کہا: اسے عوف (الاعرابی) نے روایت کیا ہے۔ تو انہوں نے پوچھا: آپ کے پاس (قنوت میں) ہاتھ نہ اٹھانے کی کیا دلیل ہے؟ میں نے کہا: حدیث انس کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے سوائے استسقاء کے تو وہ (ابو زرعہ رحمہ اللہ) خاموش ہو گئے۔ (تاریخ بغداد ج ۲ص۷۶ت ۴۵۵ وسندہ حسن، وذکرہ الذھبی فی سیرأ علام النبلاء۱۳؍۲۵۳)

اس حکایت کے راویوں کا مختصر تذکرہ درج ذیل ہے:
1          أبو منصور محمد بن عیسی بن عبدالعزیز: وکان صدوقاً؍تاریخ بغداد(۲؍۴۰۶ ت ۹۳۷)
2          صالح بن أحمد بن محمد الحافظ: وکان حافظاً، فھماً، ثقۃً ثبتاً /تاریخ بغداد(۹؍۳۳۱ت ۴۸۷۱)
3          القاسم بن أبی صالح بندار: کان صدوقاً متقناً للحدیث؍ لسان المیزان(۴؍۴۶۰ت۶۶۸۰)

تنبیہ:     قاسم بن ابی صالح پر تشیع کا الزام ہے جو یہاں روایت حدیث میں مردود ہے۔ صالح بن احمد کے قول سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کا قاسم بن ابی صالح سے سماع قبل از اختلاط ہے۔ لہذا یہ سند حسن لذاتہ ہے۔

اب  ان روایات کی مختصر تحقیق پیشِ خدمت ہے جنہیں امام ابوزرعہ اور امام ابو حاتم نے باہم مناظرے میں پیش کیا ہے۔

    ۱:        حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ(جزء القراۃ للبخاری بتحقیقی: ۹۹ مصنف ابن أبی شیہ ۲؍۳۰۷ح۲۹۰۳، الطبرانی فی الکبیر ۹؍۳۲۷ ح ۹۴۲۵ السنن الکبری للبیھقی۳؍۴۱) اس کی سند لیث بن ابی سلیم (ضعیف و مدلس ) کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ یہاں پر یہ بات سخت تعجب خیز ہے کہ نیموی تقلیدی نے اس سند کو‘‘إسنادہ صحیح’’ لکھا دیا ہے(دیکھئے آثار السنن:۲۳۵) حالانکہ جمہور محدثین نے لیث مذکور کو ضعیف و مجروح قرار دیا ہے۔ زیلعی حنفی نے کہا:‘‘ ولیث ھذا الظاھر أنہ لیث بن أبی سلیم وھو ضعیف’(نصب الرایۃ ۳؍۹۶)لیث مذکور پر جرح کے لئے دیکھئے احسن الکلام(سرفراز خان صفدر دیو بندی ج ۲ص۱۲۸) جزء القرأۃ بتحریفات امین اوکاڑوی (ص۷۰ح۵۸)

۲:        حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ(السنن الکبری للبیھقی ۳؍۴۱) اس کی سند ابن لھیعہ کی تدلیس اور اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہے۔

۳:       حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ( مصنف ابن ابی شیبہ ۲؍۳۱۶ ح ۷۰۴۲، ۷۰۴۳ والا وسط لابن المنذر : ۵؍۲۱۳) یہ روایت قنوت فجر سے متعلق          ہے۔ اس روایت کی دو سندیں  ہیں۔ پہلی میں سفیان ثوری مدلس ہیں او ردوسری  میں ہشیم بن بشیر مدلس ہیں لہذا یہ دونوں سندیں ضعیف ہیں۔ ابو حاتم رازی نے اس روایت کو عوف الاعرابی کی وجہ سے ناقابل حجت قرار دیا ہے۔ حالانکہ وہ الجرح و التعدیل میں عوف کو‘‘ صدوق صالح الحدیث’’ کہتے ہیں(۷؍۱۵)

تنبیہ:      عوف الاعرابی پر جرح مردود ہے۔ اسے جمہور محدثین نے ثقہ و صدوق قرار دیا ہے لہذا وہ حسن الحدیث یا صحیح الحدیث ہے۔ صحیحین میں اس کی تمام روایات صحیح ہیں۔ والحمد للہ۔

۴:       حدیث انس رضی اللہ عنہ (صحیح البخاری: ۱۰۳۰ و صحیح مسلم: ۷؍۷۹۶)
اس تفصیل سے معلوم ہوا  کہ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ حسن لغیرہ حدیث کو حجت نہیں سمجھتے تھے۔ کیونکہ امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللہ کی ذکر کردہ تینوں روایات ایک دوسرے کی تائید کرتی ہیں اور ان کا ضعف شدید نہیں ہے۔ جو لوگ ضعیف + ضعیف سے حسن لغیر بنا دیتے ہیں، ان کے اصول پر یہ روایات باہم مل کر حسن لغیرہ بن جاتی ہیں۔ آپ نے دیکھ لیا  ہے کہ ابو حاتم رازی حسن لغیرہ روایات کو حجت نہیں سمجھتے۔

فائدہ:     عامر بن شبل الجرمی(ثقہ راوی) سے روایت ہے کہ ‘‘رأیت أبا قلابۃ یرفع یدیہ فی قنوتہ’’ میں ابو قلابہ (ثقہ تابعی) کو دیکھا، وہ اپنے قنوت میں ہاتھ اُٹھاتے تھے(السنن الکبریٰ للبیھقی ج۳ ص۱ ۴ و سندہ حسن) قنوت نازلہ میں (دعا کی طرح) ہاتھ اُٹھانا ثابت ہے۔ (مسند احمد ۳؍۱۳۷ح ۱۲۴۲۹ و سندہ صحیح)

امام اہل سنت احمد بن حنبل اور امام اسحاق بن راہویہ بھی قنوت وتر میں ہاتھ اُٹھانے کے قائل تھے(دیکھئے مسائل ابی داود ص ۶۶ و مسائل احمد و إسحاق راویۃ إسحاق بن منصور الکوسج ۱؍۲۱۱ت۴۶۵  ، ۵۹ ت ۳۴۶۸)


خلاصہ:   قنوت وتر مین دعا کی طرح ہاتھ اُٹھائیں یا نہ اُٹھائیں، دونوں طرح جائز ہے لیکن بہتر یہی ہے کہ حدیث انس رضی اللہ عنہ و دیگر دلائل کی رُو سے قنوت میں ہاتھ نہ اٹھائے جائیں۔  واللہ أعلم

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.