فرض نماز کے بعد ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دعا کرنا

 از    July 6, 2014

سوال: بعض لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ فرض نماز سے سلام پھیرنے کے فوراً بعد اپنے ماتھے پر دایاں ہاتھ رکھ دیتے ہیں یا اسے پکڑ لیتے ہیں اور کوئی دعا پڑھتے رہتے ہیں۔ کیا اس عمل کی کوئی دلیل قرآن و سنت میں موجود ہے ؟ تحقیق کرکے جواب دیں، جزاکم اللہ خیراً 

الجواب:  سلام الطّویل المدائنی عن زید العمی عن معاویہ بن قرۃ عن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ 

(کان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم إذا قضی صلاتہ مسح جبھتہ بیدہ الیمنی ثم قال: أشھد أن لاإلہ إلا اللہ الرحمن الرحیم، اللھم اذھب عني الھم و الحزن)
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم جب اپنی نماز پوری کرتے (تو) اپنی پیشانی کو دائیں ہاتھ سے چھوتے پھر فرماتے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ، وہ رحمٰن و رحیم ہے۔ اے اللہ ! غم اور مصیبت مجھ سے دور کردے۔ 

(عمل الیوم اللیلۃ لابن السنی: ح ۱۱۲ واللفظ لہ ، الطبرانی فی الاوسط ۲۴۳/۳ ح ۲۵۲۰ دوسرا نسخہ: ۲۴۹۹، کتاب الدعاء للطبرانی ۱۰۹۶/۲ ح ۶۵۹، الأمالی لابن سمعون : ح ۱۲۱، نتائج الافکار لابن حجر ۳۰۱/۲، حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصبہانی ۳۰۱،۳۰۲/۲)

اس روایت کی سند سخت ضعیف ہے۔ سلام الطّویل المدائنی : متروک ہے (التقریب : ۲۷۰۲) امام بخاریؒ نے فرمایا:ترکوہ (کتاب الضعفاء مع تحقیقی: تحفۃ الاقویاء ص ۵۱ ت: ۱۵۵)

حاکم نیشاپوری نے کہا: اس نے حمید الطّویل ، ابو عمرو بن العلاء اور ثور بن یزید سے موضوع احادیث بیان کی ہیں۔(المدخل الی الصحیح ص ۱۴۴ ت : ۷۳)

حافظ ہیثمی نے کہا: وقد أجمعوا علی ضعفہ اور اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے۔ (مجمع الزوائد ج ۱ ص ۲۱۲)

حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں :”والحدیث ضعیف جداً بسببہ اور (یہ) حدیث سلام الطویل کے سبب کی وجہ سے سخت ضعیف ہے ۔ (نتائج الافکار ۳۰۱/۲)

اس سند کا دوسرا راوی زید العمی :ضعیف ہے (تقریب التہذیب : ۲۱۳۱) اسے جمہور (محدثین) نے ضعیف قرار دیا ہے (مجمع الزوائد ۱۱۰/۱۰، ۲۶۰)

حافظ ہیثمی لکھتے ہیں :”وبقیۃ رجال أحد إسنادي الطبراني ثقات وفی بعضھم خلاف اور طبرانی کی دو سندوں میں سے ایک سند کے بقیہ راوی ثقہ ہیں اور ان میں سے بعض میں اختلاف ہے۔(مجمع الزوائد :۱۱۰/۱۰)

طبرانی والی دوسری سند تو کہیں نہیں ملی، غالباً حافظ ہیثمی کا اشارہ البزار کی حدثنا الحارث بن الخضر العطار: ثنا عثمان ب ن فرقد عن زید العمي عن معاویۃ بن قرۃ عن أنس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ…..إلخ” والی سند کی طرف ہے ۔ (دیکھئے کشف الاستار ۲۲/۴ ح ۳۱۰۰)

عرض ہے کہ الحارث بن الخضر العطار کے حالات کسی کتاب میں نہیں ملے اور یہ عین ممکن ہے کہ اس نے عثمان بن فرقد اور زید العمی کے درمیان سلام الطویل المدائنی کے واسطے کو گرا دیا ہو۔ اگر نہ بھی گرایا ہو تو یہ سند اس کے مجہول ہونے کی وجہ سے  مردود ہے۔
دوسری روایت:
کثیر بن سلیم عن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سند مروی ہے کہ:
((کان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم إذا قضی صلاتہ مسح جبھتہ بیمینہ ثم یقول: باسم اللہ الذي لا إلہ غیرہ، اللھم اذھب عني الھم و الحزن ، ثلاثاً))
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم جب اپنی نماز پوری کرتے تو دائیں ہاتھ سے اپنی پیشانی کا مسح کرکے تین دفعہ فرماتے: اس اللہ کے نام کے ساتھ (شروع) جس کے علاوہ کوئی(برحق) الٰہ نہیں ہے، اے اللہ ! میرے غم اور مصیبت کو دور کردے۔ (الکامل لابن عدی ۱۹۹/۷ ترجمۃ کثیر بن سلیم ، واللفظ لہ ، الاوسط للطبرانی ۱۲۶/۴ ح ۳۲۰۲ وکتاب الدعاء للطبرانی ۱۰۹۵/۲ ح ۶۵۸، الأمالی للشجری ۲۴۹/۱ وتاریخ بغداد ۴۸۰/۱۲ و نتائج الافکار ۳۰۲،۳۰۱/۲)
کثیر بن سلیم کے بارے میں امام بخاریؒ فرماتے ہیں :منکر الحدیث (کتاب الضعفاء بتحقیقی تحفۃ الاقویاء:۳۱۶) جسے امام بخاریؒ منکر الحدیث کہہ دیں، ان کے نزدیک اس راوی سے روایت حلال نہیں ہے (دیکھئے لسان المیزان ج۱ ص۲۰) کثیر بن سلیم کے بارے میں امام نسائی فرماتے ہیں: متروک الحدیث (کتاب الضعفاء و المتروکین :۵۰۶) متروک راوی کی روایت شواہد و متابعات میں بھی معتبر نہیں ہے ۔ دیکھئے اختصار علوم الحدیث للحافظ ابن کثیر (ص۳۸، النوع الثانی، تعریفات اخری للحسن)
خلاصہ التحقیق :
یہ روایت اپنی تینوں سندوں کے ساتھ سخت ضعیف ہے۔ شیخ البانیؒ نے بھی اسے “ضعیف جداً” سخت ضعیف قرار دیا ہے ۔ (السلسۃ الضعیفۃ ۱۱۴/۲ ح ۶۶۰)
تنبیہ: سیوطیؒ نے بھی اسے ضعیف قرار دیاہے۔ (الجامع الصغیر :۶۷۴۱)
محمد ارشاد قاسمی دیوبندی نے اسے بحوالہ الجامع الصغیر و مجمع الزوائد نقل کرکے “بسند ضعیف” لکھا ہے (یعنی اس کی سند ضعیف ہے) لیکن اس نے عربی عبارت (جس میں روایتِ مذکورہ پر جرح ہے) کا ترجمہ نہیں لکھا، دیکھئے ”الدعاء المسنون“ (ص۲۱۲ پسند کردہ مفتی نظام الدین شامزئی دیوبندی)
دیوبندی و بریلوی حضرات سخت ضعیف و مردود روایات عوام کے سامنے پیش کر کے دھوکہ دے رہے ہیں۔ کیا یہ لوگ اللہ کی پکڑ سے بے خوف ہیں؟
نماز کے بعد ، ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دعا کرنے کا کوئی ثبوت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین و تابعین عظام رحمہم اللہ سے نہیں ہے۔ لہذا اس پر عمل سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے ۔

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.