فرض نمازیں اور ان کی رکعات

 از    September 12, 2014

سوال:   دن رات میں کتنی نمازیں فرض ہیں؟ قرآن وحدیث میں جواب دیں ۔ (فیاض خان  دامانوی، بریڈفورڈ )
الجواب:  نبی کریم ﷺ نے جب سیدنا معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجا تو فرمایا  کہ:

فأخبرھم أن اللہ فرض علیھم خمس صلوات في یومھم ولیلتھم پس انہیں بتاؤ اللہ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ (صحیح البخاری :۷۳۷۲ و صحیح مسلم : ۱۹/۱۲۱)

          سیدہ عائشہؓ نے فرمایا کہ:”فرض اللہ الصلوٰۃ حین فرضھا رکعتین رکعتین فی الحضرو السفر فأقرت صلوٰۃ السفر و زید فی صلوٰۃ الحضر اللہ نے جب نماز فرض کی تو سفر و حضر (گھر اور حالتِ اقامت) میں دو دو رکعتیں فرض کیں پھر سفر کی نماز تو اسی طرح قائم رہی اور حَضر (گھر و حالتِ اقامت) والی نماز میں اضافہ کردیاگیا۔ (صحیح البخاری: ۳۵۰ و صحیح مسلم : ۶۸۵/۱۵۷۰)

          سیدہ عائشہؓ سے دوسری روایت میں آیا ہے کہ :فرضت الصلوٰۃ رکعتین ثم ھاجر النبي ﷺ ففرضت أربعأ و ترکت صلوٰۃ السفر علی الأولیٰنماز دو  (دو ) رکعتیں فرض ہوئی پھر نبیﷺ نے ہجرت فرمائی تو چار (چار) رکعتیں فرض کردی گئیں اورسفر کی نماز کو اس کے پہلے حال پر چھوڑ دیا گیا ۔ (صحیح بخاری: ۳۹۳۵)

          سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے روایت  ہے کہ :فرض اللہ الصلوٰۃ علی لسان نبیکم ﷺ فی الحضر أربعاً وفی السفر رکعتین وفی الخوف رکعۃاللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی ﷺ کی زبان مبارک کے ذریعے حَضر میں چار رکعتیں ، سفر میں دو اور خوف میں ایک رکعت نماز فرض کی (صحیح مسلم : ۶۸۷/۱۵۷۵)

سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ :کان أول ما افترض علی رسول اللہ ﷺ الصلوٰۃ رکعتان رکعتان إلا المغرب فإنھا کانت ثلاثاً، ثم أتم اللہ الظھر و العصر و العشاء الآخرۃ أربعاً فی الحضر و أقر الصلوٰۃ علی فرضھا الأول فی السفر رسول اللہ ﷺ پر پہلے دو دو رکعتیں نماز فرض ہوئی تھی سوائے مغرب کے وہ تین رکعات فرض تھی۔ پھر اللہ نے حضر میں ظہر، عصر اور عشاء کی نماز چار (چار) کردی اور سفر والی نماز اپنی حالت پر (دو دو سوائے مغرب کے) فرض رہی۔ (مسند الامام احمد ج ۶ ص ۲۷۲ ح ۲۶۸۶۹ دوسرا نسخہ : ۲۶۳۳۸ و سندہ حسن لذاتہ )

          سیدہ عائشہ ؓ سے ہی روایت ہے کہ :فرضت صلوٰۃ السفر و الحضر رکعتین فلما أقام رسول اللہ ﷺ بالمدینۃ زید فی صلوٰۃ الحضر رکعتان رکعتان و ترکت صلوٰۃ الفجر لطول القرأۃ و صلوٰۃ المغرب لأنھا وتر النھار سفر اور حضر  میں دو (دو) رکعتیں نماز فرض ہوئی۔ پھر جب رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں اقامت اختیار کی تو حضر کی نماز میں دو دو رکعتوں کا اضافہ کردیا گیا اور صبح کی نماز میں طولِ قرأت اور مغرب کی نماز کو دن کے وتر ہونے کہ وجہ سے چھوڑ دیا گیا ۔ (صحیح ابن حبان ۱۸۰/۴ ح ۲۷۲۷ دوسرا نسخہ: ۲۷۳۸ و صحیح ابن خزیمہ ۷۱/۲ح ۹۴۴ و سندہ حسن)

          تنبیہ: اس روایت کا راوی محبوب بن الحسن بن ہلال بن ابی زینب حسن الحدیث  ہے، جمہور محدثین نے اسے ثقہ و صدوق قرار دیا ہے ۔         ان احادیثِ صحیحہ سے معلوم ہوا کہ دن رات میں پانچ نمازیں (ہر مکلّف پر) فرض ہیں۔

۱:        نمازِ فجر                        ۲:        نمازِ ظہر۲:        نمازِ عصر                       ۴:       نمازِ مغرب۵:       نمازِ عشاء

          نمازِ فجر اور نمازِ عشاء کا خاص طور پر ذکر قرآن مجید میں ہے  (سورۃ النور : ۵۸)
          ظہر کا اشارہ سورہ بنی اسرائیل میں موجود  ہے ۔(آیت : ۷۸)نیز دیکھئے کتاب الأم للامام الشافعی (۶۸/۱)
اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے ک ہ دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔ حافظ ابن حزم (متوفی ۴۵۶؁ھ) فرماتے ہیں کہ : اس پر اتفاق (اجماع) ہے کہ پانچ نمازیں فرض ہیں۔
          اس پر اتفاق (اجماع) ہے کہ خوف و امن، سفر و حضر میں صبح کی نماز دو رکعتیں (فرض ) ہے اور خوف و امن، سفر و حضر میں مغرب کی نماز تین رکعتیں (فرض) ہے۔ اس پر اتفاق (اجماع) ہے کہ حالتِ امن میں مقیم  پر ظہر ، عصر اور عشاء کی نمازیں چار چار رکعات (فرض) ہیں۔” (مراتب الاجماع ص ۲۵،۲۴)
ان احادیثِ صحیحہ سے یہ بھی ثابت ہے کہ گھر میں (حالتِ امن میں) صبح کی نماز دو رکعتیں ، ظہر کی چار، عصر کی چار، مغرب کی تین اور عشاء کی چار رکعتیں فرض ہے۔ حالتِ سفر میں مغرب کے علاوہ باقی نمازیں دو دو رکعتیں فرض ہیں۔
کفار کے ساتھ جہاد کرتے وقت حالتِ خوف میں صبح و مغرب کے علاوہ باقی نمازیں ایک ایک رکعت فرض ہیں۔

تنبیہ بلیغ: سفر میں قصر کرنا افضل ہے لیکن قصر کے بجائے پوری نماز پڑھنا بالکل جائز ہے اور صحیح ہے جیساکہ صحیح احادیث اور آثارِ صحابہ سے ثابت  ہے۔

 امام ابوبکر محمد بن ابراہیم بن المنذر النیسابوری(متوفہ ۳۱۸؁ھ) فرماتے ہیں کہ:
“۳۴:    اجماع ہے کہ نمازِ ظہر کا وقت زوال آفتاب ہے۔
۳۵:      اجماع ہے کہ مغرب کی نماز غروبِ آفتاب کے بعد واجب ہوتی ہے ۔
۳۶:      اجماع ہے کہ نماز فجر کا وقت طلوعِ فجر (صبح صادق) ہے۔” (کتاب الاجماع ، مترجم ص ۲۴)

             خلاصۃ التحقیق:     صحیح احادیث اور اجماع سے دن رات میں مکلّف پر پانچ نمازوں کا فرض ہونا ثابت  ہے اور اسی طرح ان نمازوں کے اوقات اور رکعتوں کی تعداد بھی صحیح احادیث و اجماع سے ثابت ہے ۔والحمد للہ (۲۷ ذوالحجہ ۱۴۲۶؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.