عورت کے لئے سر کے بال کٹوائے کا حکم

 از    August 19, 2017

فتویٰ : دارالافتاءکمیٹی

سوال : ایک عورت نے فریضہ حج سرانجام دیا، تمام مناسک حج ادا کئے مگر عدم واقفیت یا نسیان کی وجہ سے سر کے بال نہیں کاٹ سکی اور اپنے وطن واپس جانے پر اس نے وہ تمام امور سرانجام دئیے جو ایک محرم کے لئے ممنوع ہوتے ہیں، اب اس پر کیا کچھ واجب ہے ؟
جواب : اگر امر واقعہ اسی طرح ہے جس طرح سوال میں مذکور ہے کہ اس نے عدم واقفیت یا نسیان کی بناء پر سر کے بال کانٹے کے علاوہ جملہ مناسک، حج ادا کئے، تو یاد آنے پر اپنے وطن میں رہتے ہوئے اتمام حج کی نیت سے سر کے بال کائنا اس پر واجب ہے۔ اس پر عدم تقصیر کی وجہ سے کوئی فدیہ واجب نہ ہو گا۔ اگر بال کانٹے سے پہلے (اور حرم کی حد میں) اسکے خاوند نے اس سے جماع کر لیا تو اس پر بطور دم ایک بکری ذبح کرنا، گائے کا ساتواں حصہ یا اونٹ کا ساتواں حصہ آئے گا۔ (یعنی وہ قربانیاں جو مساکین مکہ کے لیے کفایت کریں ان میں سے کسی ایک کا ان کیلئے مکہ ہی میں دینا ضروری ہے) ہاں اگر جماع حددود حرم سے باہر کسی جگہ ہوا تو فدیہ کا جانور کسی بھی جگہ کیا جا سکتا ہے اور عام مساکین پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ وبالله التوفيق وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم

 

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.