عورتوں کا مسجد میں جانا جائز ہے

 از    November 10, 2015

تحریر: حافظ ابویحیٰی نورپوری

عورت اسلامی معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے، مسلمان عورت ماں، بہن، اور بیٹی ہر روپ میں گھرانے کا جزولانیفک ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اس کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی رہی ہے، کیونکہ اس کی تعلیم و تربیت گویا آنے والی نسلوں کی اصلاح کا پیش خیمہ ہے اور اس کی جہالت آنے والی کئی پشتوں کا خانہ خراب کرنے کے مترادف ہے۔ اسی لیے ایک مصری شاعر حافظ ابراہیم نے کیا خوب کہا تھا:

الأمّ مدرستہ ان أعددتّھا  أعددتّ شعبا طیّب الأعراق۔

‘‘ ماں ایک درسگاہ ہے اور اس درسگاہ کو اگر آپ نے سنواردیا تو گویا ایک بااصول اور پاکیزہ نسب والی قوم کی تشکیل کردی۔’’

اسلامی معاشرے میں سب سے بڑا تعلیمی مرکز مسجد ہے، لیکن افسوس کہ بعض لوگ علم دین سے دور کر دینے والی شیطانی پالیسی کو  بھانپنے کے بجائے اس کے آلہ کار بن کر عورتوں کو مسجدوں سے روک رہے ہیں، حالانکہ انہی لوگوں کی عورتیں اگر دنیاوی علم حاصل کرنے لیے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جائیں تو ان کا جذبہ غیرت جوش نہیں مارتا، نیز بازاروں اور مارکیٹوں میں غیر محرم دوکانداروں سے شاپنگ کرتی پھریں تو غیرت کا جنازہ نہیں نکلتا، لیکن اگر وہ مسجد میں آئیں تو ان کو فتنے کا خدشہ ہوجاتاہے۔

آئیے عہد نبوی میں مسلمانوں کو عورتوں یعنی بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابیات کے عمل اور وحی الہی بولنے والی زبان سے فیصلہ کرواتے ہیں:

دلیل نمبر۱:

عن أمّ سلمۃ رضی اللہ عنھا قالت: کان یسلّم فینصرف النّسا؍، فیدخلن بیوتھن من قبل أن ینصرف رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم۔

‘‘ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نماز سے سلام پھیرتے تو عورتیں فوراً واپس جا کر (مقتدیوں کی طرف) آپ کے چہرہ مبارک پھیرنے سے پہلے اپنے گھروں میں داخل ہو جاتیں۔’’

(صحیح بخاری: ۸۵۰)

اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد مبارک میں عورتیں مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے جایا کرتی تھیں، ان کے لیے کوئی ممانعت نہ تھی، اب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی اس کی وضاحت ملاحظہ فرمائیں:

دلیل نمبر ۲:

عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت: ان کان رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم لیصلّی الصّبح، فینصرف النّساء متلفّعات بمروطھن، ما یعرفن من الغلس۔

‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، بیان کرتی ہیں کہ اس بات میں کچھ شبہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم صبح کی نماز ادا فرماتے تو عورتیں فوراًچادروں میں لپٹی ہوئی واپس چلی جاتیں، وہ اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں۔

(صحیح بخاری: ۸۶۷، صحیح مسلم: ۶۴۵)

دلیل نمبر ۳:

عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم: خیر صفوف الرّجال أوّلھا و شرّھا آخرھا، و خیر صفوف النّساء آخرھا و شرّھا أوّلھا۔

‘‘ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا، مردوں کی صفوں میں سے بہترین صف سب سے پہلی اور سب سے بری( ثواب میں کم) آخری صف ہے، جبکہ عورتوں کی صفوں میں سب سے بہترین صف آخری اور بری صف (ثواب میں کم) پہلی صف ہے۔’’

(صحیح مسلم: ۴۴۰)

ان احادیث کے بعد تو کوئی شک نہیں رہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں عورتیں نماز کےلیے مسجد میں آتی تھیں۔

پھر اس بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت بھی موجود ہے:

دلیل نمبر۴:

عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ أنّ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ و سلّم قال: لا تمنعوا اماء اللہ مساجد اللہ، ولکن لیخرجن و ھنّ تفلات۔

‘‘ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو، ان کو بھی چاہیے کہ وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں۔’’

(مسند الامام احمد: ۵۲۸/۲، سنن ابی داؤد: ۵۶۵، وسندہٗ حسن)

اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (۱۶۷۹)، امام ابن حبان (۲۲۱۴)، امام ابن الجارود (۳۳۲) اور حافظ نووی (المجموع: ۱۹۹/۴) رحمہم اللہ نے ‘‘ صحیح’’ کہاہے۔

نیز حافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

رواہ أبو داوٗد باسناد الصّحیحن۔

‘‘ اس حدیث کو امام ابو داوٗد رحمہ اللہ نے بخاری و مسلم کی سند کے ساتھ بیان کیاہے۔’’

(خلاصۃ الاحکام: ۹۷۹/۲، ح: ۲۳۵۳)

اب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایمان افروز واقعہ بھی پڑھتے جائیے:

دلیل نمبر۵:

عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال: قال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم: ائذنواللنّساء باللّیل الی المساجد، فقال لہ ابن لہ، یقال لہ واقد: اذن یتخدن لہ دغلا، قال: فضرب فی صدرہ وقال: أحدّثک عن رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم وتقول: لا۔

‘‘ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتےہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (اگر عورتیں اجازت مانگیں تو) اپنی عورتوں کو رات کے وقت مسجدوں میں جانے کی اجازت دو، ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واقد نامی بیٹے نے کہا، (میں تو اجازت نہیں دوں گا) وہ تو اس کام کو خرابی (کاحیلہ) بنا لیں گی، آپ نے اس کے سینے میں (زوردار تھپیڑا ) مارا اور فرمایا، میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنا رہا ہوں اور تو کہتا ہے کہ (میں ان کو اجازت) نہیں (دوں گا)۔’’

(صحیح مسلم: ۴۴۲)

اس حدیث سےجہاں عورتوں کے مسجد میں جانے کا جواز ثابت ہوتا ہے، وہاں عورتوں کو مسجدوں سے منع  کرنے والوں کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اتباع سنت، عبرت بھی ہے۔

صحیح مسلم کی ایک روایت(۴۴۳/۱۳۵) میں توابن عمر رضی اللہ عنہما کے دوسرے بیٹے سالم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ جب آپ کے بیٹے نے حدیث سن کر بھی عورتوں کو مسجد میں جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ہم ان کو ضرور روکیں گے تو:

قأقبل علیہ عبداللہ، فسبّہ سبّا سیّئا، ما سمعتہ سبّہ مثلہ۔

‘‘ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اتنا سخت برابھلا کہاکہ میں نے اس جیسی سختی آپ میں کبھی نہ سنی تھی۔’’

یہ تھا صحابہ کرام کا جذبہ اتباع، اب بھی اگر کوئی بہانہ کر کے عورتوں کو مسجد میں جانے سے روکے تو خود ہی سوچے کہ کیا روز محشر اس سنت کی مخالفت کرکے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جان نثار صحابہ کو کیا منہ دکھائے گا؟

دلیل نمبر ۶:

عن أبی قتادہ رضی اللہ عنہ عن النّبی صلّی اللہ علیہ وسلم قال: انّی الأقوم فی الصّلاۃ، أرید أن أطوّل فیھا، فأسمع بکاء الصّبی، فأتجوّز فی صلاتی، کراھیۃ أن أشقّ علی أمّہ۔

‘‘ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا، میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں تو اسے لمبا کرنے کا ارادہ ہوتا ہے، پھر بچے کے رونے کی آواز سن کر اپنی نماز مختصر کر دیتاہوں کہیں میں اس کی ماں کو مشقت میں نہ ڈال دوں۔’’

(صحیح بخاری: ۸۶۸)

عورتوں کومسجدوں سے روکنے والے بتائیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں تو عورتیں اپنے اہتمام سے مسجد میں آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بچوں کے رونے کے باوجود، جو کہ ایک قسم کا خلل بھی تھا، مسجد میں آنے سے نہ روکیں تو بعد میں یہ اختیار کس کو حاصل ہو گیا ہے؟

نیز اس حدیث سے معلوم ہوتا ہےکہ عورتوں کے مسجد جانے میں تفصیل کرنا، یعنی جو ان عورتوں کو مطلق طور پر اور بوڑھی عورتوں کو دن میں مسجد جانے سے منع کرنا بالکل بے بنیاد ہے، کیونکہ چھوٹے چھوٹے بچوں والی عورتیں جوان ہی ہوتی ہیں، نہ کہ ‘‘ عجور’’ یعنی بوڑھی، اسی طرح اس حدیث میں کسی نماز کی تخصیص بھی نہیں ہے، بلکہ اس حدیث میں عموم ہے، ثابت ہوا کہ اس طرح باتیں بنانا قرآن و سنت سے خیر خواہی نہیں۔

دلیل نمبر ۷:

عن زینب امرأۃ عبداللہ قالت: قال لنا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم: اذا شھدت احداکنّ المسجد فلاتمسّ طیبا۔

‘‘ سیدہ زینت رضی اللہ عنہا جو کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں، بیان کرتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا، جب تم( عورتوں) میں سے کوئی مسجد میں آئے توخوشبو نہ لگائے۔’’

(صحیح مسلم: ۴۴۳)

ثابت ہوا کہ اگر عورت نے خوشبو نہ لگائی ہو تو اسے مسجد میں داخل ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں۔

دلیل نمبر۸:

عن اُمّ ھشام بنت حارثۃ رضی اللہ عنھا قالت: ما أخذت (قۗ    ڗوَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ) الّا عن لّسان رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم، یقرأھا کلّ جمعۃ علی المنبر اذا خطب النّاس۔

‘‘ سیدہ اُم ہشام بنت حارثہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے سورۂ ق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے (سن کر) ہی تو یاد کی تھی، آپ اسے ہر جمعہ کے دن منبر پر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے تلاوت فرمایا کرتے تھے۔’’

(صحیح مسلم: ۸۷۳/۵۲)

اب ذرا غور فرمائیں تو معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں دنیا کی سب سے پاکباز عورتیں اور سب سے پاکباز خاوندوں کی بیویاں کتنی پابندی سے نماز جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد میں حاضر ہوا کرتی تھیں، کائنات کے سب سے باغیرت اور عصمتوں کےمحافظ تواپنی بیویوں کو اجازت دیتے رہے، لیکن آج کےنام نہاد و دین پرست رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت آجانے کے بعد بھی عورتوں کو مسجدوں سے روکنے پر کیوں ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔

دلیل نمبر۹:

عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال: کانت امرأۃ لعمر تشھد صلاۃ الصّبح والعشاء فی الجماعۃ فی المسجد، فقیل لھا: لم تخرجین و قد تعلمین أنّ عمر یکرہ ذلک ویغار؟ قالت: و ما یمنعنہ أن ینھانی؟ قال: یمنعہ قول رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم: لا تمنعوا اماء اللہ مساجد اللہ۔

‘‘ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ایک زوجہ صبح اور عشاء کی نماز مسجد میں جا کر جماعت کے ساتھ ادا کرتی تھیں، ان سے پوچھا گیا، آپ کیوں (مسجد کی طرف) نکلتیں ہیں، حالانکہ آپ جانتی بھی ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کام کو پسند نہیں کرتے اور غیرت کھاتے ہیں؟ وہ کہنے لگیں، ان کوکون سی چیز مانع ہے کہ وہ مجھے منع نہیں کرتے؟ کہا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ تم اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں سے نہ روکو۔’’

(صحیح بخاری: ۸۵۸، صحیح مسلم: ۴۴۳ مختصراً)

قارئین کرام! جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی بھی ناپسند کرنے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی بیوی کو مسجد جانے سے نہیں روکتے تھے تو بعد کے مفتیان یہ جرأت کیونکر کرسکتے ہیں؟

دلیل نمبر ۱۰:

عن أسماء بنت أبی بکر رضی اللہ عنھا قالت: سمت رسول اللہ صلّی علیہ وسلم یقول: من کان منکنّ تؤمن باللہ والیوم الآخر فلا ترفع رأسھا حتی یرفع الرّجال رؤوسھم، کراھیۃ أن یرین من عورات الرّجال۔

‘‘ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ (اے عورتو!) تم میں سے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے، وہ مردوں کے( سجدے سے) سر اٹھانے سے پہلے سر نہ اٹھائے، (ان دونوں صحابہ کرام کے پاس کپڑے بہت تھوڑے تھے اوران کے ازار چھوٹے ہوتے تھے)، آپ نے یہ بات اس لیے فرمائی کہ کہیں( عورتوں کے پہلے سر اٹھانے کی وجہ سے) مردوں کے ستر پر ان کی نظر نہ پڑ جائے۔’’

(صحیح بخاری: ۸۱۴، صحیح مسلم: ۴۴۱)

تِلکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ

یہ پوری دس صحیح احادیث کا مجموعہ ہماری دلیل ہے، ان سب کا تعلق صحیحین سے ہے، جن کی صحت پر امت کا اجماع ہے۔

اس بارے میں چند محدثین کی آراء

۱۔ امیر المومنین فی الحدیث، فقیہ امت، امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ (۲۵۶-۱۹۴ھ) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مذکورہ حدیث پر یوں تبویب فرماتے ہیں:

باب خروج النّساء الی المساجد باللّیل والغلس:

‘‘ عورتوں کے رات اور اندھیرے میں مسجدوں کی طرف نکلنے کا بیان۔’’

اس سے ثابت ہوتا ہےکہ امام بخاری رحمہ اللہ کے نزدیک عورت خواہ جوان ہو یا بوڑھی اور خواہ دن ہو یا رات مطلق طور پر مسجد میں جاسکتی ہے، کیونکہ جب اندھیرے میں جاسکتی ہے تو دن کی روشنی میں جب کہ اندھیرے کی نسبت کہیں زیادہ امن ہوتاہے، کیوں نہیں جاسکتی؟

۲۔ امام الائمہ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (۳۱۱-۲۲۳ھ) ان احادیث پر یوں باب قائم کرتے ہیں:

باب الاذن اللنّساء فی اتیان المساجد۔

‘‘ عورتوں کو مسجدوں میں آنے کی اجازت کا بیان۔’’

(صحیح ابن خزیمہ، کتاب الصلوۃ، باب ۱۶۹)

اور

باب النّھی عن منع النّساء عن الخروج الی المساجد باللّیل

‘‘ رات کے وقت عورتوں کو مسجد جانے سے روکنے کی ممانعت کا بیان۔’’ (باب ۱۷۱)

۳۔ امام ابو محمد عبداللہ بن عبدالرحمن الدارمی رحمہ اللہ (۲۵۵-۱۸۱ھ) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث پریوں باب قائم فرماتے ہیں:

باب النّھی عن منع النّساء عن المساجد، وکیف یخرجن اذا خرجن۔

‘‘ عورتوں کو مسجدوں سے روکنے کی ممانعت کا بیان، نیز (اس بات کی وضاحت کہ) وہ جب نکلیں تو کیسے نکلیں۔’’

ایک مقام پر تو امام موصوف کی تبویب نہایت قابل توجہ ہے:

باب تعجیل العقوبۃ من بالغہ عن النّبی صلی اللہ علیہ وسلّم حدیث فلم یعظمہ ولم یوقّرہ۔

‘‘ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پہنچنے کے بعد اس کو تسلیم نہیں کرتا، اسے جلد از جلد سزا دینی چاہیے۔’’

(مسند الدارمی: ۴۵۶)

اس باب میں انہوں نے صحابہ کرام کے واقعات سے ثابت کیا ہے کہ جب ان کی حدیث بیان کر دینے کے بعد کسی نے ان کے سامنے اس کی مخالفت کی تو انہوں نے اس سے ترک تعلق کر لیا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما والی حدیث بھی اسی باب میں ذکر کرتے ہوئے انہوں نے یہ بتایا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بعد عورتوں کو مسجدوں سے روکنے والا دین کا خیر خواہ نہیں بلکہ الٹا سنت نبوی کا مخالف ہے۔

۴۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ (م ۳۵۴ھ) کی تبویب ملاحظہ ہو:

ذکر الزّجر عن منع النّساء عن اتیان المساجد للصّلاۃ۔

‘‘ نماز کے لیے مسجد میں آنے والی عورتوں سے منع کرنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈانٹ کا بیان۔’’

(صحیح ابن حبان: ۵۷۸/۵، ح:۲۲۰۹)

۵۔ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ (م ۴۵۶ھ) رقمطراز ہیں:

وقد اتّفق أھل الأرض أنّ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم لم یمنع النّساء قطّ الصّلاۃ معہ فی مسجدہ الی أن مات علیہ السّلام ولا الخلفاء الرّاشدون بعدہ، فصحّ أنّہ عمل غیر منسوخ، فاذ لا شکّ فی ھذا، فھو عمل برّ، ولو لا ذالک ما أقرّہ علیہ السّلام، ولا ترکھنّ یتکلّفنہ بلا منفعۃ بل بمضرّۃ، وھذا العسر والأذی، لا النّصیحۃ۔

‘‘ اس بات پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات تک عورتوں کو مسجد میں آنے سے کبھی نہیں روکا، نہ ہی خلفائے راشدین نے آپ کے بعد یہ کام کیا، اس سے ثابت ہوگیا کہ یہ عمل منسوخ نہیں ہوا، جب اس کا غیر منسوخ ہونا یقینی ہے تو یہ نیکی کا کام ہوا، اگر ایسا نہ ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے برقرار نہ رکھتے اور ان عورتوں  کو بے فائدہ بلکہ نقصان دہ تکلیف میں مبتلا نہ چھوڑتے، ایسا کرنا تنگی و تکلیف تو ہوسکتا ہے، خیر خواہی نہیں (حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تو سب سے بڑے خیر خواہ تھے)۔’’

(المحلی لابن حزم: ۸۳۱/۳، مسئلہ: ۳۲۱)

مانعین کے دلائل کا جائزہ

جیسا کہ آپ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ کی زبانی فیصلہ کن بات سن چکے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے عورتوں کو کبھی بھی مسجدوں میں آنے سے روکا نہیں، بات واضح ہے کہ یہ عمل منسوخ نہیں ہوا اور جب ایسا ہے تو روکنا جائز کیسے ہوا؟ آپ خود اندازہ فرمائیں کہ ایک عمل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے بعد میں ہوتا رہا تو اب اس کی منسوخیت یا منع کے دلائل کتنی قوت کے حامل ہوں گے۔

آئیے ان دلائل کا جائزہ لیں:

دلیل نمبر ۱:

عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت: لو أدرلک النّبی صلّی اللہ علیہ وسلم ما أحدث النّساء لمنعھنّ المسجد کما منعت نساء بنی اسرائیل۔

‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا، اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (عورتوں کی اس خرابی کو دیکھ لیتے) جو انہوں نے اب پیدا کر دی ہے تو آپ ان کو مسجد میں آنے سے روک دیتے، جیسا کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو روکا گیا تھا۔’’

(صحیح بخاری: ۸۳۱، صحیح مسلم: ۴۴۵)

تبصرہ:

۱۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصود عورتوں کو تنبیہ کرنا تھا، ان کو روکنا مقصود نہ تھا، کیونکہ اگر سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عورتوں کا مسجد میں جانا جائز نہ سمجھتیں تو ضرور ان کو روکتیں، حالانکہ ان سے ایک مرتبہ بھی ایساکرنا ثابت نہیں، اس کے برعکس آپ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی مسجد میں جاتی رہیں، بلکہ مسجد میں اعتکاف بھی بیٹھتی رہیں۔

لہذا آج عورتوں کو اس حدیث کو دلیل بنا کر مسجدوں سے روکنے والے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی مخالفت کر رہے ہیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھی۔

۲۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بقول اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی خرابیاں دیکھ لیتے تو عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے روک دیتے، اگر آپ منع فرما دیتے تو ہم عورتوں کو مسجد سے روکتے، جب آپ نے نہیں روکا، حالانکہ حکیم و خبیر اللہ جو آپ کی زبان نبوت سے دین نکلوا رہا تھا، وہ تو جانتا تھا کہ بعد میں کیا کیا خرابیاں پیدا ہوں گی، اب ہم روکنے والے کون ہوتے ہیں، پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا اس بارے میں موقف آپ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے مذکورہ واقعہ سے جان چکے ہیں۔

۳۔ زنا سے بڑی خرابی (عورت کے حوالے سے) اور کیا ہو سکتی ہے؟ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں زنا کی وجہ سے رجم کی حد بھی قائم کی گئی، لیکن عورتوں کو مسجد میں آنے سے نہ روکا گیا تو آج کس ‘‘ بڑی خرابی’’ کو مدنظر رکھ کر عورتوں کو روکا جاتاہے؟

۴۔ اس قسم کی خرابی تمام عورتوں میں نہیں پائی جاتی، بلکہ کچھ عورتوں میں ہوتی ہے، لہذا ان قلیل عورتوں کی وجہ سے دوسرے تمام نیک عورتوں کو نیکی سے کیونکر روکا جائے؟

۵۔ اگر ان خرابیوں کی وجہ سے عورت کا مسجد میں جانا منع ہو سکتاہے تو بازار میں جانا بالاولٰی حرام ہونا چاہیے، اسی طرح کسی بھی غرض کے لیے گھر سے باہر نکلنا ممنوع ہونا چاہیے، لیکن اس کا کوئی بھی قائل نہیں، آج عورتوں کو بازاروں سے تو منع نہیں کیا جاتا، جبکہ مسجد میں جانے پر پابندی ہے، حالانکہ مسجدیں امن کا مرکز ہوتی ہیں، نیز نمازی لوگ اکثر نیک ہوتے ہیں، اب بتائیں کہ بازاری لوگ خطرے کا باعث ہیں یا وہ نمازی لوگ جن سے اکثر بازاری عورتیں بھی شرما کر پردہ کر لیتی ہیں۔

۶۔ بوڑھی اور جوان عورتوں کی تفریق، نیز دن اور رات کی تخصیص اس روایت سے قطعاً ثابت نہیں ہوتی۔

جو لوگ کہتے ہیں:

و یکرہ لھنّ حضور الجماعت یعنی الشّوابّ منھنّ لما فیہ من خوف الفتنۃ ولا بأس للعجوز أن تخرج فی الفجر والمغرب والعشاء۔

‘‘ جوان عورتوں کے لیے جماعت میں شامل ہونا مکروہ ہے، کیونکہ فتنہ کا ڈر ہے، البتہ بوڑھی عورتوں کے فجر، مغرب اور عشاء میں شامل ہونے میں کوئی حرج نہیں۔’’

(الھدایۃ مع الدرایۃ: ۱۲۸/۱)

وہ اس روایت کو کس منہ سے پیش کرتے ہیں؟

دلیل نمبر۲:

عن أمّ امرأۃ أبی حمید السّادی رضی اللہ عنھا انّھا جاءت الی النّبی صلّی اللہ علیہ وسلّم، فقالت: یارسول اللہ! انّی أحب الصّلاۃ معک، فقال: قد علمت أنّک تحبّین الصّلاۃ معی، وصلاتک فی بیتک خیر من صلاتک فی حجرتک و صلاتک فی حجرتک خیر من صلاتک دارتک دارک وصلاتک خیر من صلاتک فی مسجد قومک و صلاتک فی مسجد قومک خیر من صلاتک فی مسجد قومک خیر من صلاتک فی مسجدی، قال: فأمرت، فبنی لھا مسجد فی أقصی شیء من بیتھا وأظلمہ و کانت تصلّی فیہ حتی لقیت اللہ عزّوجلّ۔

‘‘ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ سیدہ ام حمید بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی، اے اللہ کے رسول! میں آپ کے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہوں، آپ نے فرمایا، میں جانتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہیں، لیکن آپ کی کوٹھڑی میں پڑھی جانے والی نماز صحن میں نماز سے بہتر ہے اور صحن  کے احاطہ میں نماز، قوم کی مسجد میں نماز سے بہتر ہے اور آپکی اپنی قوم کی مسجد میں نماز میری مسجد میں نماز سے بہتر ہے، راوی کہتے ہیں کہ ام حمید رضی اللہ عنہا نے حکم دیا تو ان کے گھر کے اندرونی اور تاریک حصہ میں (ایک جگہ مختص کر کے) مسجد بنا دی گئی، پھر وہ تادم وفات اسی جگہ میں نماز پڑھتی رہیں۔’’

(مسند الامام احمد: ۳۷۱/۶، وسندہٗ صحیح)

اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (۱۶۸۹) اور امام ابن حبان (۲۲۱۷) رحمہما اللہ نے ‘‘ صحیح’’ کہاہے۔

تبصرہ:

اس حدیث پر امام الائمہ ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی تبویب ملاحظہ ہو:

باب اختیار صلاۃ المرأۃ فی حجرتھا علی صلاتھا فی دارھا وصلاتھا فی مسجد قومھا علی صلاتھا فی مسجد النّبی صلّی اللہ علیہ وسلم و ان کانت صلاۃ فی مسجد النّبی صلّی اللہ علیہ وسلم تعدل ألف صلاۃ فی غیرھا من المساجد، والدّلیل علی أنّ قول النّبی صلّی اللہ علیہ وسلم صلاۃ فی مسجدی ھذا أفصل من ألف صلاۃ فیما سواہ من المساجد، أراد بہ صلاۃ الرّجال دون صلاۃ النّساء۔

‘‘ عورت کی گھر میں نماز صحن میں نماز سے بہتر ہے اور اس کی اپنی قوم کی مسجد میں نماز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز سے افضل ہے، اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں ایک نماز دوسری مساجد کی ہزار نمازوں سے افضل ہے، اس سے مراد مرد ہیں، عورتیں نہیں۔’’

(صحیح ابن خزیمۃ: ۱۷۷)

یہی بات تو ہم کہتے ہیں کہ عورت کی نماز گھر میں افضل ہے، لیکن اگر وہ مسجد میں جا کر ادا کرے تو جائز ہے، اس کو مسجد سے روکنا حرام ہے، ہم نے کب اس کا مسجد میں جانا افضل یا ضروری قرار دیا ہے؟

عورت کے مسجد جانے کی ممانعت اور اس ضمن میں بوڑھی اور جوان عورت کے فرق پر ایک صحیح و صریح دلیل مطلوب ہے۔

دلیل نمبر ۳:

عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال: ما صلّت المرأۃ فی مکان خیر لھا من بیتھا الّا أن تکون المسجد الحرام أو مسجد النّبی صلّی اللہ علیہ وسلم الّا امرأۃ تخرج فی منقلیھا یعنی خفّیھا۔

‘‘ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا، عورت کےلیے نماز کی کوئی بھی جگہ اپنے گھرسے بہتر نہیں، ہاں! اگر مسجد حرام یا مسجد بنوی ہو اور عورت موزے پہن کر نکلے( تو بہترہے)۔’’

(المعجم الکبیر للطبرانی: ۲۹۳/۹)

علامہ ہیثمی (مجمع الزوائد: ۳۴/۲) نے اس کے راویوں کے بارے میں رجالہ رجال الصّحیح۔

(اس کے راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں) کہا ہے۔

تبصرہ:

۱۔ حماد بن سلمہ آخری عمر میں ‘‘ اختلاط’’ کا شکار ہو گئے تھے، ان کے شاگرد حجاج بن منہال کا ان سے اختلاط سے  پہلے سماع ہمیں نہیں مل سکا۔

۲۔ اس راویت میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عورت کی گھر میں نماز کو بہتر و افضل قرار دیا ہے، جس کے ہم بھی قائل ہیں، مسجد میں عورتوں کے جانے کی ممانعت پر دلیل مطلوب ہے، مزید وضاحت اگلی روایت کے تحت ملاحظہ فرمائیں۔

دلیل نمبر۴:

عن أبی عمرو الشیبانی قال: رأیت ابن مسعود یطرد النّساء من المسجد یوم الجمعۃ۔

‘‘ ابو عمرو شیبانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ جمعہ کے دن عورتوں کو مسجد سے بھگا رہے تھے۔’’

(المعجم الکبیر للطبرانی: ۲۹۴/۹، وسندہٗ صحیح)

تبصرہ:

۱۔ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت ابن مسعود رضی اللہ عنہ تک نہیں پہنچی، ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مسجد سے روکنے سے منع بھی فرمایا ہو، لیکن اس کے باوجود سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ عورتوں کو بھگاتے ہوں؟ کسی مسلمان کا ایمان ایسا سوچنے کی اجازت نہیں دیتا۔

۲۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عورتوں کو مسجدوں سے روکنے کی ممانعت نقل کی ہے، ان کا فتویٰ یہی ہے کہ عورتوں کو مسجد سے روکنا خلاف سنت ہے، جیسا کہ ہم اپنے دلائل میں ثابت کر چکے ہیں، نیز محدثین و ائمہ احناف کے نزدیک مسلمہ اصول

راوی الحدیث أدری بما فیہ (راویٔ حدیث اپنی روایت کے مفہوم کو دوسروں سے بہتر جانتاہے) کے تحت انہی کی بات راجح ہوگی۔

۳۔ کئی مسائل ایسے ہیں جن کی خبر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تک نہ پہنچی اور وہ جمہور صحابہ کے خلاف عمل کرتے رہے، کیا ان مسائل میں بھی آپ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول و فعل کو حجت مانتے ہیں، صرف ایک مثال پیش خدمت ہے کہ صحیح مسلم (۵۳۴) میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا رکوع میں تطیق کی (دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر رکھا)، بلکہ ساتھ نماز پڑھنے والے دونوں تابعین کے ہاتھوں پر بھی مارا کہ وہ تطبیق کیوں نہیں کر رہے، نیز انہوں نے دو مقتدی پیچھے کھڑے کرنے کی بجائے اپنی دونوں جانب کھڑا کیا۔

اب ان دونوں مسئلوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل مبارک ہم تک پہنچ چکا ہے کہ رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر رکھنے ہیں اور تین نمازی ہونے کی صورت میں امام آگے اور دونوں مقتدی پچھلی صف میں کھڑے ہوں گے۔ کیا سیدنا مسعود رضی اللہ عنہ کے یہ دونوں تفردات بھی قابل عمل ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو عورتوں کو مسجدوں سے روکنے کے معاملے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم، خلفائے راشدین اور دیگر جمہور صحابہ کرام کے خلاف سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے عمل کو حجت بنانا انصاف کیسے ہے؟

۳۔ اس روایت میں بوڑھی اور جوان عورت، نیز دن اور رات کا خود ساختہ فرق موجود نہیں ہے۔

دلیل نمبر۵:

عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال: کان الرّجال و النّساء فی بنی اسرائیل یصلّون جمیعا، فکانت المرأۃ اذا کان لھا الخلیل تلبس القالبین، تطول بھما لخلیلھا، فألقی اللہ علیھنّ الحیض، فکان ابن مسعود یقول: أخروھنّ حیث أخرھنٔ اللہ۔

‘‘ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنی اسرائیل کے مرد و عورت اکٹھے نماز پڑھتے تھے، عورت کا جب دوست ہوتا تو وہ لکڑی کا جوتا پہنتی تاکہ لمبی ہو کر اپنے آشنا کو نظر آجائے، اس پر اللہ تعالی نے عورتوں پر حیض ڈال دیا، پھر ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ان کو وہاں سے ہٹادو جہاں سے اللہ ان کو ہٹادیا۔’’

( العمھم الکبیر للطبرانی: ۲۹۵/۹)

تبصرہ:

۱۔ اس روایت کی سند امام عبدالرزاق، امام سفیان ثوری، امام اعمش اور امام ابراہیم نخعی رحمہم اللہ کی ‘‘ تدلیس’’ کی وجہ سے ‘‘ ضعیف’’ ہے۔

صحیح ابن خزیمہ (۱۷۰۰) والی سند بھی امام اعمش کی ‘‘ تدلیس’’ کی وجہ سے ‘‘ ضعیف’’ ہے۔

۲۔ اگر بنی اسرائیل کی عورتوں کو مسجد سے روک دیا گیا تھا تو ہماری شریعت میں عورتوں کو مسجد میں جانے کی اجازت دی گئی ہے، جیسا کہ ہم دلائل صحیحہ و صریحہ سے ثابت کر آئے ہیں۔

۳۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تو اس روایت میں عورتوں کو مطلق طور پر مسجد آنے سے روک رہے ہیں، پھر بوڑھی عورتوں کی تخصیص اور دن رات کا فرق کہا سے آگیا۔

دلیل نمبر ۶:

عن أمّ سلمۃ رضی اللہ عنھا قالت: قال رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم: صلاۃ المرأۃ فی بیتھا خیر من صلاتھا فی حجرتھا و صلاتھا فی حجرتھا فی دارھا و صلاتھا فی دارھا خیر من صلاتھا خارج۔

‘‘ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عورت کی اپنے گھر میں نماز صحن میں نماز سے بہتر ہے، اس کی اپنے صحن میں نماز اپنےاحاطہ میں نماز سے بہتر ہے، اس کی اپنے احاطہ میں نماز باہر نماز سے بہتر ہے۔’’

(المعجم الاوسط للطبرانی: ۴۸/۹)

تبصرہ:

۱۔ اس کی سند ‘‘ ضعیف’’ ہے، زیدبن المہاجرراوی کے حالات نہیں مل سکے، اس کی صحت کے مدعی پر دلیل توثیق لازم ہے۔

۲۔ اس روایت میں عورتوں کو مسجدوں سے روکنا قطعاً ثابت نہیں ہوتا۔

۳۔ بوڑھی اور جوان عورت کا فرق، نیز دن اور رات کی تفریق کہاں ہے؟

دلیل نمبر ۷:

عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ قال: انّ المرأۃ عورۃ و انّھا اذا خرجت من بیتھا استشرفھا الشّیطان، فتقول: ما رآنی أحد الا أعجبتہ، و أقرب ما تکون الی اللہ اذا کانت فی قعر بیتھا۔

‘‘ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عورت پردے کا نام ہے، جب یہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اسے غور سے دیکھتا ہے، وہ کہتی ہے کہ مجھے جو بھی دیکھے گا، اسے پسند آؤں گی، عورت اللہ تعالی کے زیادہ قریب ہوتی ہے جب وہ اپنے گھر کے اندرونی کمرے میں ہو۔’’

(المعجم الکبیر للطبرانی: ۲۹۵/۹، وسندہٗ صحیح)

تبصرہ:

۱۔ اس روایت میں عورت کو مسجد سے روکنے کا کوئی ثبوت نہیں، بلکہ نماز تک کا ذکر نہیں ہے۔

۲۔ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ عورت کو مسجد سے روکنے سے ممانعت والی حدیث سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تک نہیں پہنیچی، پھر ان کی یہ بات دلیل کسیے بن سکتی ہے۔

۳۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بھی تو عورتیں مسجد میں آتی تھیں، اس روایت کے مطابق ان پر کیا حکم لگائیں گے؟

دلیل نمبر ۸:

عن سلیمان بن أبی حثمۃ عن أمّۃ قالت: رأیت النّساء القواعد یصلّین مع رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم۔

‘‘ سلیمان بن ابی حثمہ اپنی والدہ سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ میں نے بوڑھی عورتوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے دیکھا۔’’

(المعجم الکبیر للطبرانی: (۳۱۷/۲۴)

تبصرہ:

۱۔ اس کی سند سخت ‘‘ ضعیف’’ ہے، ابن ابی لیلیٰ اور عبدالکریم بن ابی المخارق دونوں ‘‘ ضعیف’’ ہیں۔

۲۔ اس روایت میں عورتوں کو مسجد سے روکنے کا اشارہ تک نہیں، نیز رات کی تخصیص کہاں ہے؟ ظاہر ہے کہ دن کے اجالے میں ہی دیکھا جا سکتاتھا۔

دلیل نمبر ۹:

عن أبی عمرو الشّیبانی قال: حلف عبد اللہ، فبالغ فی الیمین: مامن مصلّی لا مرأۃ خیر من بیتھا الّا فی حجّ أو عمرۃ، الّا امرأۃ قد ینست من البعولۃ ، فھی فی منقلیھا۔

‘‘ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بہت مبالغہ سے قسم اٹھا کر فرمایا، عورت کے لیے گھر سے بہتر کوئی جائے نماز نہیں، ہاں! اگر عورت حج یا عمرہ میں ہو یا عورت بوڑھی ہو کر نکاح سے مایوس ہو چکی ہو اور اس نے موزے پہن رکھے ہوں’’۔

(العمجم الکبیر للطبرانی:۲۹۴/۹)

تبصرہ:

۱۔ اس روایت سے بھی عورتوں کو مسجد سے روکنے کا جواز ثابت نہیں ہوتا۔

۲۔ اس کی سند میں محمد بن النضر کے حالات نہیں مل سکے، مسند علی بن الجعد (۲۲۹۰) میں اس کی متابعت شریک بن عبداللہ القاضی نے کی ہے، لیکن یہ روایت شریک کی ‘‘ تدلیس’’ کی وجہ سے ‘‘ ضعیف’’ ہے۔ نیز اس کی صحت کا دعویٰ اس وقت تک قابل التفات نہیں ہو سکتا جب تک سعید بن مسروق کا ابوعمرو الشیبانی سے سماع ثابت نہ ہو جائے۔

دلیل نمبر ۱۰:

عن أمّ حکیم أبی حکیم انّھا قالت: أدرکت القواعد و ھنّ یصلّین مع رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم۔

‘‘ سیدہ ام حکیم بنت ابی حکیم رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے بوڑھی عورتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے دیکھا۔’’

(المعجم الکبیرللطبرانی: ۱۳۰/۲۵)

تبصرہ:

۱۔ اس روایت کی سند بھی ابن ابی لیلیٰ اور عبدالکریم بن ابی المخارق کی وجہ سے ‘‘ ضعیف’’ ہے۔

۲۔ ان ‘‘ ضعیف’’ روایات سے بھی رات کی تخصیص نہیں ہو سکی۔

دلیل نمبر ۱۱:

عن أمّ سلیم رضی اللہ عنھا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم أنّہ قال: خیر مساجد النّساء قعربیوتھنّ۔

‘‘ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عورتوں کے لیے نماز کی بہترین جگہ ان کے گھروں کے اندرونی کمرے ہیں۔’’

(مسند الامام احمد:۲۹۷/۶)

تبصرہ:

۱۔ اس کی سند سخت ‘‘ ضعیف’’ ہے، کیونکہ رشدین بن سعد جمہور کے نزدیک سخت ‘‘ ضعیف’’ اور سائب مولیٰ ام سلمہ مجہول الحال ہے۔

دوسری سند اس سے بھی بدتر ہے کیونکہ:

ا۔ اس میں ابن لہیعہ ‘‘ ضعیف ومختلط’’ ہے۔

۲۔ حسن کا ان سے اختلاط سے پہلے سننا ثابت نہیں۔

۳۔ سائب مذکوہ ‘‘ مجہول الحال’’ ہے۔

الحاصل:

ثابت ہوا کہ عورتوں کو مسجد جانے سے روکنا درست نہیں اور اس پر کوئی شرعی دلیل دلالت نہیں کرتی۔ اب عورتوں کو مسجدوں سے روکنے والے ہی بتائیں کہ ان کا عمل حدیث کی موافقت ہے یا مخالفت؟؟؟

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.