عصر کے بعد دو رکعتوں کا ثبوت 

 از    July 29, 2015

تحریر: غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری

                نمازِ عصر کے بعد سورج زرد ہونے سے پہلے پہلے نفلی نماز کا جواز ثابت ہے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

انّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھیٰ عن الصلاۃ بعد العصر حتی تغرب الشمس وعن الصلاۃ بعد الصبح حتی تطلع الشمس. 

                “رسول کریم ﷺ نے عصر کے بعد نماز سے منع فرمایا ، یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے اور نمازِ صبح کے بعد حتی، کہ سورج طلوع ہوجائے ۔ ”       (صحیح بخاری : ۵۸۸، صحیح مسلم : ۸۲۵)

                اس حدیث میں اور دوسری احادیث میں وارد ہونے والی نہی (ممانعت ) کو سورج زرد ہونے کے بعد کے وقت پر محمول کریں گے ، اس پر قرینہ یہ ہے کہ :

۱:             سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

                ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھیٰ عن الصلاۃ بعد العصر الا والشمس مرتفعۃ.

                “نبی کریم  ﷺنے نمازِ عصر کے بعد (نفلی ) نماز پڑھنے سے منع فرما دیا، ہاں ! جب سورج بلند ہو ، (تو پڑھ سکتے ہیں)۔”

(مسند الامام احمد : ۸۰/۱ ۔ ۸۱، ۱۲۹، ۱۴۱، سنن ابی داود : ۱۲۷۴، سنن النسائی : ۵۷۴، السنن الکبری للبیہقی : ۵۵۹/۲، وسندہ حسن)

                 امام ابن خزیمہ (۱۲۸۴) ، امام ابن حبان (۱۵۴۷) ، امام ابن الجارود (۲۸۱) ، حافظ الضیاء (۷۶۳۔ ۷۶۶) اور حافظ ابن العراقی (طرح التژیب : ۱۸۷/۲) رحمہم اللہ نے اس کی سند کو “صحیح” کہا ہے ۔

                حافظ منذری نے اس کی سند کو “جید” کہا ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے “حسن” کہا ہے ۔ (فتح الباری : ۱۶۱/۲) نیز “صحیح قوی” قرار دیا ہے ۔ (فتح الباری : ۱۶۳/۲)

                حافظ ابن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

              وھذہ زیادۃ عدل، لایجوز ترکھا   

       “یہ ثقہ کی ایسی زیادت ہے ، جسے چھوڑنا جائز نہیں ہے ۔” (المحلّٰی لا بن حزم : ۳۱/۳)

۲:            سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا  :

            ولا تصلوا عند طلوع الشمس ولا عند غروبھا، فانھا تطلع و تغرب علی قرنی الشیطان، وصلو ابین ذلک ما شئتم. 

                “تم سورج کے طلوع اور غروب کے وقت نماز نہ پڑھو کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع اور غروب ہوتا ہے ، اس کے درمیان جتنی چاہو نماز پڑھو ۔”  

              (مسند ابی یعلیٰ : ۴۶۱۲، وسندہ حسن)

                عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں:

             کنا مع علی رضی اللہ عنہ فی سفر فصلّٰی بنا العصر رکعتین، ثم دخل فسطاطہ و أنا أنظر، فصلّٰی رکعتین.

                “ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، آپؓ نے ہمیں عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں ، پھر اپنے خیمے میں داخل ہوکر دو رکعتیں ادا کیں ، میں یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔ ” 

      (السنن الکبریٰ للبیہقی : ۴۵۹/۲، وسندہ حسن)

راوی حدیث سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خود ا ن دو رکعتیں کو ادا کیا ہے ۔

فائدہ:    سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

    کان رسول اللہ ﷺ یصلی فی اثر کل صلاۃ مکتوبۃ رکعتین الا الفجر و العصر.

                “رسول اللہ ﷺ سوائے فجر اور عصر کے ہر فرض نماز کے بعد رکعتیں ادا فرماتے تھے ۔”

(سنن ابی داود : ۱۲۷۵، الکبری للنسائی : ۴۴۱، مسند الامام احمد : ۱۲۴/۱، صحیح ابن خزیمۃ: ۱۱۹۵، السنن الکبری للبیہقی: ۴۵۹/۲، وغیرہم)

                اس کی سند “ضعیف” ہے ، اس میں ابو اسحاق السبیعی مدلس ہیں ،جو “عن ” سے روایت کررہے ہیں ، اس کی صحت کے مدعی پر سماع کی تصریح لازم ہے ، ابو اسحا ق خود کہتے ہیں:

          سألت أبا جحیفۃ عنھما، قال: ان لم تنفعاک، لم تضراک.

                “میں نے ابوجحیفہ سے ان دو رکعتوں کے بارے میں پوچھا: تو انہوں نے فرمایا :اگر یہ تجھے فائدہ نہیں دیں گی ، تو نقصان بھی نہیں کریں گی۔”              

  (مصنف ابن ابی شیبہ: ۳۵۳/۲، الاوسط لابن المنذر:۳۹۳/۲، وسندہ صحیح)

عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے ، نیز فرماتے :

                ان الزبیر و عبداللہ بن الزبیر کانا یصلیان بعد العصر رکعتین. 

                “زبیر اور عبداللہ بن زبیر بھی دونوں عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ ”       

(الاوسط لابن المنذر : ۳۹۴/۲، مصنف ابن ابی شیبہ : ۳۵۳/۲، وسندہ صحیح)

مصنف ابن ابی شیبہ میں سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ کا ذکرنہیں۔

                طاؤس بن کیسان تابعی کہتے ہیں:

   ورخص فی الرکعتین بعد العصر.

                “سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے عصر کے بعد دورکعتیں پڑھنے کی رخصت دی ہے ۔”   

       (سنن ابی داود : ۱۲۸۴، السنن الکبریٰ للبیہقی: ۴۷۶/۲، وسندہ حسن)

                امام سعید بن جبیر تابعی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

     رأیت عائشۃ تصلی بعد العصر رکعتین وھی قائمۃ، وکانت میمونۃ تصلی أربعا، وھی قاعدۃ. 

                “میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا، وہ عصر کے بعد کھڑے ہو کر دو رکعتیں پڑھتی تھیں اورمیمونہ رضی اللہ عنہا بیٹھ کر چار پڑھتی تھی۔”   

       (الاوسط لابن المنذر: ۳۹۴/۲، وسندہ حسن)

                حماد بن سلمہ نے جمہور کے نزدیک عطاء بن سائب سے اختلاط سے پہلے سنا ہے ۔

                اشعث بن ابی الشعثاء کہتے ہیں:

    خرجت مع أبی و عمرو بن میمون والأسود بن یزید وأبی وائل، فکانوا یصلون بعد العصر رکعتین.

                “میں نے اپنے باپ ابو الشعثاء، عمرو بن میمون، اسود بن یزید اور ابو وائل کے ساتھ (سفر میں) نکلا، وہ سب عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ ”   

     (مصنف ابن ابی شیبہ : ۳۵۲/۲، وسندہ صحیح )

                عبداللہ بن عون کہتے ہیں:

            رأيت أبا بردۃ بن أبی موسی یصلی بعد العصر رکعتین.

                “میں نے ابوبردہ بن ابی  موسیٰ کو عصر کے بعد دورکعتیں پڑھتے دیکھا۔ ”   

         (مصنف ابن ابی شیبہ : ۳۵۲/۲، وسندہ صحیح)

                ابراہیم بن محمد بن منتشر اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ و ہ عصر کے بعد دورکعتیں پڑھتے تھے، ان سے پوچھا گیا تو فرمایا:

         لولم أصلھما الا أنی رأیت مسروقا یصلیھما، لکان ثقۃ، ولکنی سألت عائشۃ فقالت: کان رسول اللہ ﷺ لا یدع رکعتین قبل الفجر ورکعتین بعد العصر. 

    “میں انہیں کیوں نہ پڑھوں، میں نے مسروق کو دیکھا ہے کہ وہ دو رکعتیں پڑھتے تھے، وہ ثقہ تھے ، لیکن میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : نبی کریم ﷺفجر سے پہلے او ر عصر کے بعد دو رکعتیں نہیں چھوڑتے تھے۔”      

         (مصنف ابن ابی شیبہ: ۳۵۲/۲، وسندہ صحیح)

                اگر کوئی یہ کہے کہ آپﷺ کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ ایک کام جب شروع کرتے تو اس میں ہمیشگی اور دوام کو ملحوظ رکھتے تھے، تو یہ دو رکعتیں ظہر کے بعد والی رکعتیں ہیں جو چھوٹ گئی تھیں، اور ان کو آپ ﷺ نے عصر کےبعد ادا کیا ، پھر مسلسل ادا کرتے رہے ، تو ہمارا جواب یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا خود عصر کے بعد کونسی نماز پڑھتی تھیں؟ یہ وہی نماز ہے جس کی نبی کریم ﷺ نے اجازت فرمائی تھی، صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت عصر کے بعد دو رکعتوں کے قائل و فاعل تھے۔

                جو لوگ نمازِ عصر کے بعد دو  رکعتوں کی ادائیگی سے روکتے ہیں، وہ خود کئی نمازیں نمازِ عصر کے بعد ادا کرنے کے قائل ہیں ،مثلاً:

۱:             ظہر کی چھوٹی ہوئی سنتیں۔            ۲:            جس نے نمازِ عصر اکیلے ادا کی ، بعد میں جماعت پانے کی صورت میں اس کے جماعت کے ساتھ شامل ہونے کے جواز کے قائل ہیں، تو ظاہر ہے جماعت کے ساتھ پڑھی گئی نماز عصر کے بعد چار رکعتیں نفلی نماز شمار ہوئی ۔

۳:            بارش کی نماز۔            ۴: سورج گرہن کی نماز۔             ۵: نمازِ جنازہ وغیرہ …….

                اگر کوئی یہ کہے کہ نمازِ عصر کے بعد نماز پڑھنے پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مارتے تھے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں:

           لا تحروا بصلاتکم طلوع الشمس ولا غروبھا. 

                “تم اپنی نمازوں کے ساتھ طلوع و غروبِ آفتاب کا وقت تلاش نہ کرو ۔”

           (موطا امام مالک : ۱۷۳/۱، وسندہ صحیح)

اس سے ثابت ہوا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا مارنا مطلق طور پر عصر کے بعد نماز پر نہ تھا، بلکہ ممنوع وقت یعنی غروبِ آفتاب کے وقت نماز پڑھنے پر تھا۔

اگر کوئی یہ کہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہ یہ فرماتی ہیں:

      وھم عمر، انما نھیٰ رسول اللہ  ﷺأن یتحری طلوع الشمس و غروبھا.

                “عمر رضی اللہ عنہ کو وہم ہواہے ، رسولِ کریم ﷺ نے تو طلوع و غروبِ آفتاب کے خاص وقت میں نماز سے منع فرمایا تھا۔ “

(صحیح مسلم : ۸۳۳)

                تو جواب یہ ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  کو صرف عمر رضی اللہ عنہ کا مطلق مارنا معلوم ہواتھا، اس کا اصل سبب معلوم نہ ہوا تھا، اسی لیے آپ نے اس کام کو عمر رضی اللہ عنہ کا وہم قرار دیا ، جب اصل حقیقت معلوم ہوئی تو خود سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا  نے ہمارا بیان کردہ مطلب لے کر عمر رضی اللہ عنہ کے اس اقدام کو مستحسن قرار دیا ۔

                چنانچہ شریح بن ہانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

                “میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، رسول اللہ ﷺ کیسے نماز پڑھتے تھے ؟ آپﷺ نے فرمایا ، آپ ظہر کی نماز پڑھتے، پھر  اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے، پھر عصر کی نماز پڑھتے، اس کے بعد بھی دو رکعتیں پڑھتے ۔ میں نے سوال کیا، عمر رضی اللہ عنہ تو ان دو رکعتوں پر مارتے تھے اور ان سے منع کرتے تھے ، اس پر آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، خود عمر رضی اللہ عنہ ان دو رکعتوں کو پڑھتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ بھی یہ دو رکعتیں پڑھتے تھے، لیکن تیری دیندار قوم کے لوگ ناسمجھ تھے ، وہ ظہر کے بعد عصر تک نماز پڑھتے رہتے ، پھر عصر کے بعد مغرب تک نوافل پڑھتے رہتے ، اس وجہ سے عمر رضی اللہ عنہ ان کو مارا کرتے اور یہ آپ نے اچھا کیا ۔”   

(مسند السراج : ۱۵۳۰، وسندہ صحیح)

                امام بن المنذر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

          فدلت الأخبار الثابتۃ عن النبی ﷺ علی أن النھی إنما وقع فی ذلک علی وقت طلوع الشمس ووقت غروبھا، فمما دل علی ذلک حدیث علی بن أبی طالب، وابن عمر، وعائشہ رضی اللہ عنھا وھی أحادیث ثابتۃ بأسانید جیاد، لا مطعن لأحد من أھل العلم فیھا.

                “نبی کریم ﷺ سے ثابت احادیث سے واضح ہوگیا ہےکہ نمازِ عصر کے بعد نماز کی ممانعت کا تعلق صرف خاص طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت سے ہے ، ان احادیث میں سے سیدنا علی ،سیدنا ابن عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم کی احادیث ہیں ، ان کی سندیں عمدہ ہیں ،کسی اہل علم کو ان میں کوئی اعتراض نہیں ۔ ”      

       (الاوسط لا بن المنذر : ۳۸۸/۲)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.