طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا: ایک مشہور من گھڑت قصہ

 از    October 25, 2014

سوال:     بعض علماء کرام نے لکھا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو انصار کی معصوم بچیاں درج ذیل اشعار گا رہی تھیں:

                        أشرق البدر علینا                         من ثنیات الوداع
                        وجب الشکر علینا                       ما دعا للہ داع                                                             أیھا المبعوث فینا                        جئت بالأمر المطاع 

ان پہاڑوں سے جو ہیں سوئے جنوب                                چودھویں کا چاند ہے ہم پر چڑھا

          کیسا عمدہ دین اور تعلیم ہے                              شکر واجب ہے ہمیں اللہ کا                                      

                                        ہے اطاعت فرض تیرے حکم کی                       بھیجنے والا ہے تیرا کبریا

دیکھئے رحمت للعالمین (۹۳/۱) اور الرحیق المختوم اردو (ص ۲۴۱،۲۴۰)کیا یہ اشعار پڑھنے والا قصہ صحیح سند سے ثابت ہے ؟                  (حبیب محمد)

الجواب :   یہ واقعہ ان اشعار کے ساتھ “رحمت للعالمین” میں بغیر کسی حوالے کے مذکور ہے ۔ قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری نے اس واقعے کے صحیح ہونے پر کوئی ایک بھی ناقابلِ تردید دلیل ذکر نہیں کی۔ صاحب الرحیق المختوم نے یہ واقعہ “رحمت للعالمین” سے نقل کیاہے۔
یہ واقعہ بغیر سند کے المتہید لابن عبدالبر (۸۴/۱۴) کتاب الثقات لابن حبان (۱۳۱/۱) مجموع فتاوی ابن تیمیہ (۳۷۷/۱۸) اور الضعیفہ للالبانی (۴۸۸) وغیرہ میں مذکور ہے ۔
حافظ ابن حجر العسقلانی لکھتے ہیں :وقد روینا بسند منقطع فی الحلبیات قول النسوۃ لما قدم النبي ﷺ : طلع البدر علینا من ثنیات الوداع، فقیل: کان ذلک عند قدومہ فی الھجرۃ وقیل عند قدومہ من غزوۃ تبوک اور  (السبکی الکبیر کی) الحلبیات (کتاب) میں منقطع سند سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو عورتوں نے “طلع البدر علینا من ثنیات الوداع” پڑھا، کہا جاتا ہے کہ یہ ہجرت کے وقت آپ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کا واقعہ ہے۔ (فتح الباری ج ۸ ص ۱۲۹ تحت ح ۴۴۲۷)
جس منقطع روایت کی طرف حافظ ابن حجر نے اشارہ کیا ہے وہ حافظ بیہقی کی کتاب دلائل النبوۃ (۵۰۷،۵۰۶/۲) میں صحیح سند کے ساتھ ابن عائشہ (راوی ) سے مروی ہے۔
تنبیہ:    الخصائص الکبریٰ للسیوطی (۱۹۰/۱) میں یہ حوالہ “عن عائشۃ” چھپ گیا ہے جو کہ طباعت یا ناسخ کی غلطی ہے۔
بیہقی والی روایت ابن عائشہ سے مراد عبید اللہ بن محمد بن عائشہ ہیں جو ۲۲۸؁ھ میں فوت ہوئے (تاریخ بغداد ۳۱۸/۱۰ ت ۵۴۶۲ وتقریب التہذیب:۴۳۳۴)
غالباً یہی روایت ہے کہ جس کی طرف حافظ ابن حجر نے “بسند منقطع”  کہہ کر اشارہ کیا ہے ۔ اور یہی روایت الریاض النضرہ (۴۸۰/۱ ح ۳۹۳) میں عن ابن             عائشہوأراہ عن أبیہ” کے ساتھ مروی ہے ۔ اور آخر میں لکھا ہوا ہے کہ خرّجہ الحلوانی علی شرط الشیخین اسے الحلوانی نے بخاری و مسلم کی شرط پر روایت کیا ہے ۔
            تنبیہ:    صاحب الریاض النضرہ کا مطلب یہ ہے کہ اسے حلوانی نے بخاری  و مسلم کی شرط پر ابن عائشہ سے روایت کیا ہے ۔ابن عائشہ کے والد محمد بن حفص بن عمر بن موسیٰ مجہول الحال ہیں، ان کی توثیق سوائے ابن حبان کے کسی نے نہیں کی۔ دیکھئے تعجیل المنفعہ (ص ۳۶۳)
نبی کریم ﷺ کی وفات کے بہت عرصہ بعد ابن عائشہ کے والد اور پھر خود بن عائشہ پیدا ہوئے لہذا یہ سند سخت منقطع ہونے کی وجہ سے مردود ہے ۔
حافظ ابن القیم لکھتے ہیں :
وھو وھم ظاھر لأن ثنیات الوداع و إنما ھي من ناحیۃ الشام، لا یراھا و القادم من مکۃ إلی المدینۃ، ولا یمربھا إلا إذا توجۃ إلی الشام
اور یہ (روایت) ظاہر طور پر وہم ہے کیونکہ ثنیات الوداع (مدینے سے) شام کی طرف ہے۔ مکہ سے مدینہ آنے والا انہیں نہیں دیکھتا ۔ ان کے پاس سے صرف وہی گزرتا ہے جو شام جاتا ہے ۔ (زاد المعاد ۵۵۱/۳)
خلاصہ التحقیق:       یہ قصہ ثابت نہیں ہے لہذا مردود ہے ۔
تنبیہ:    موارد الظمآن (ح ۲۰۱۵)کے ایک نسخے میں کسی مجہول کاتب نے ایک حسن روایت کے آخر میں
وقالت: أشرق البدر علینا                          من ثنیات الوداع
وجب الشکر علینا                                    ما دعا للہ داع
کا اضافہ کردیا ہے ۔ لیکن یہ اضافہ اصل صحیح ابن حبان (مثلاً دیکھئے الاحسان : ۴۳۷۱ دوسرا نسخہ: ۴۳۸۶) میں موجود نہیں ہے اور مجہول کاتب کی وجہ سے مردود و موضوع ہے ۔  وما علینا إلا البلاغ (۲۵ ربیع الاول ۱۴۲۸؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.