طریقہ نماز سے متعلق مشہور حدیثِ ابو حمید الساعدی، سند کی تحقیق اور شبہات کا ازالہ

 از    August 24, 2014

دس صحابہ کرام ؓ کے مجمع میں سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو حدیث بیان فرمائی تھی، سب سے پہلے سنن ابی داود سے اس کا متن مع ترجمہ پیشِ خدمت ہے۔ بعد میں اس کی تحقیق، راویوں کا دفاع اور رد کرنے والوں کے شبہات و خیانتوں کا جواب ہوگا۔

امام ابوداؤد ؒ فرماتے ہیں کہ:“حدثنا أحمد بن حنبل بحدثنا أبو عاصم الضحاک بن مخلد ح و حدثنا مسدّد بحدثنا یحي۔ وھذا حدیث أحمد۔ قال أخبرنا عبدالحمید یعنی ابن جعفر أخبرني محمد بن عمرو بن عطاء قال سمعت أبا حمید الساعدي فی عشرۃ من أصحاب رسول اللہ ﷺ منھم أبو قتادۃ، قال أبو حمید أنا أعلمکم بصلوۃ رسول اللہ ﷺ ، قالوا: فلم؟ فو اللہ ! ماکنت بأکثرنا لہ تبعۃ ولا أقدمنالہ صحبۃ، قال یلیٰ، قالوا : فاعرض، قال : کان رسول اللہ ﷺ إذا قام إلی الصلوۃ یرفع یدیہ حتی یحاذي بھما منکبیہ، ثم کبر حتی یقرّ کلّ عظم فی موضعہ معتدلًا، ثم یقرأ، ثم یکبر فیرفع یدیہ حتی یحاذی بھما منکبیہ، ثم یرکع و یضع راحتیہ علی رکبتیہ، ثم یعتدل فلا یصب رأسہ ولا یقنع، ثم یرفع رأسہ فیقول : سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، ثم یرفع یدیہ حتی یحاذي بھما منکبیہ معتدلًا، ثم یقول: اَللہُ اَکْبَرُ، ثمّ یھوی إلی الأرض فیجافي یدیہ عن جنبیہ، ثم یرفع رأسہ و یثني رجلہ الیسری فیقعد علیھا، ویفتح أصابع رجلیہ إذا سجد، ثم یسجد ، ثم یقول: اللہ أکبر و یرفع رأسہ و یثني رجلہ الیسری فیقعد علیھا حتی یرجع کل عظم إلی موضعہ، ثم یصنع فی الأخری مثل ذلک، ثم إذا قام من الرکعتین کبر ورفع یدیہ حتی یحاذي بھما منکبیہ کما کبر عندافتتاح الصلوۃ،ثم یصنع ذلک فی بقیۃ صلاتہ حتی إذا کانت السجدۃ التي فیھا التسلیم أخّر رجلہ الیسری وقعد متورکاً علی شقہ الأیسر، قالوا: صدقت، ھکذا کان یصلي ﷺ(سنن أبی داود، کتاب الصلوۃ باب افتتاح الصلوۃ ح ۷۳۰و سندہ صحیح)
        (سیدنا) ابو حمید الساعدی ؓنے دس صحابہ کرامؓ ، جن ،میں (سیدنا) ابوقتادہ ؓبھی تھے، کے مجمع میں فرمایا: میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کو جانتا ہوں، انہوں نے کہا : کیسے؟ اللہ کی قسم ! آپ نے نہ تو ہم سے زیادہ آپ ﷺ کی اتباع کی ہے اور  نہ ہم سے پہلے آپ ﷺ کے صحابی بنے تھے۔ انہوں (سیدنا ابو حمیدؓ) نے کہا: جی ہاں ! صحابیوںؓ نے کہا: تو پیش کرو !، (سیدنا ابوحمید ؓ نے) کہا : رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اُٹھاتے (یعنی رفع یدین کرتے) پھر تکبیر (اللہ اکبر) کہتے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ اعتدال سے ٹھہر جاتی ۔پھرآپ ﷺقرأت کرتے، پھر تکبیر(اللہ اکبر) کہتے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ اعتدال سے ٹھہر جاتی ۔ پھر آپ (ﷺ) قرأت کرتے ، پھر تکبیر کہتے تو  کندھوں تک رفع یدین کرتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھتے۔ پھر (پیٹھ سیدھی کرنے میں) اعتدال کرتے ، نہ تو سر زیادہ جھکاتے اور  نہ اُٹھائے رکھتے (یعنی آپ ﷺ کا سر مبارک اور پیٹھ ایک سیدھ میں برابر ہوتے تھے) پھر سر اُُٹھاتے تو سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ کہتے، پھر کندھوں تک اعتدال سے رفع یدین کرتے، پھر اللہ اکبر کہتے، پھر زمین کی طرف جھکتے ۔ (سجدے میں) اپنے دونوں بازو اپنے پہلوؤں سےدُور رکھتے۔ پھر آپ ﷺسر اُٹھاتے اور بایاں پاؤں دُھرا کرکے (بچھا کر) اس پر بیٹھ جاتے ۔ آپ ﷺ سجدے میں اپنی انگلیاں کھلی رکھتے تھے۔          پھر آپ ﷺ سجدہ کرتے، پھر اللہ اکبر کہتے اور سجدے سے سر اٹھاتے ، آپ ﷺ بایاں پاؤں دھرا کرکے اس پر بیٹھ جاتے حتیٰ کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پہنچ جاتی۔ پھر دوسری رکعت میں (بھی ) اسی  طرح کرتے۔ پھر جب آپﷺ دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور کندھوں تک رفع یدین کرتے ، جیساکہ آپ ﷺ نے شروع نماز میں رفع یدین کیا تھا۔ پھر باقی نماز بھی اسی طرح پڑھتے حتی کہ جب آپﷺ کا (آخری) سجدہ ہوتا جس میں سلام پھیرا جاتا ہے تو آپﷺ تو رک کرتےہوئے ، بایاں پاؤں(دائیں طرف) پیچھے کرتے ہوئے ، بائیں پہلو پر بیٹھ جاتے تھے۔(سارے) صحابہ کرامؓ نے کہا: “صدقت، ھکذا کان یصلي صلی اللہ علیہ وسلم

 آپ نے سچ کہاہے ، آپ ﷺ اسی طرح نماز پڑھتے تھے  (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین)


اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے ۔ اب تفصیلی تحقیق ملاحظہ فرمائیں۔

نور البصر فی توثیق عبدالحمید بن جعفر

مشہور راوی حدیث عبدالحمید بن جعفر بن عبداللہ بن الحکم بن رافع الانصاری سے روایت ہے کہ :
أخبرني محمد بن عمرو بن عطاء قال: سمعت أبا حمید الساعدي فی عشرۃ من أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منھم أبو قتادۃ….” إلخ
مجھے محمد بن عمرو بن عطاء (القرشی العامری المدنی) نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے (سیدنا ) ابوحمید الساعدی ؓ کو (سیدنا) رسول اللہ ﷺ کے دس صحابہ کرام ؓ میں بشمول (سیدنا) ابو قتادہ ؓفرماتے ہوئے سنا …..إلخ

مفہوم:  اس روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے (سنن أبی داود: ۷۳۰وسندہ صحیح، الترمذی : ۳۰۴و قال: “حسن صحیح” ابن خزیمہ:۵۸۷،۵۸۸  ابن حبان ، الإحسان:۱۸۶۴ و صحیحہ البخاري فی جزء رفع الیدین : ۱۰۲، وابن تیمیۃ فی الفتاوی الکبری ۱۰۵/۱و مجموع فتاوی ۴۵۳/۲۲ و ابن القیم فی تھذیب سنن أبی داود ۴۱۶/۲ و الخطابیی فی معالم السنن ۱۹۴/۱)

اس حدیث کو درج ذیل علماء کرام نے صحیح قرار دیا ہے۔
(۱) الترمذی (۲) ابن خزیمہ (۳) ابن حبان (۴) البخاری (۵) ابن تیمیہ (۶) ابن القیم (۷) الخطابی رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین اس حدیث کو راویوں کا مختصر و جامع تعارف درج ذیل ہے ۔

عبدالحمید بن جعفر رحمہ اللہ =
۱۔         یحیی بن معین نے کہا: ثقۃ (تاریخ عثمان بن سعید الدارمی:۲۶۳، ۶۱۰)
۲۔       احمد بن حنبل نے کہا : ثقۃ لیس بہ باَس (تہذیب الکمال ۱۱/۴۱ و کتاب الجرح و التعدیل ۶/۱۰ و سندہ صحیح)
۳۔       ابن سعد نے کہا: وکان ثقۃ کثیر الحدیث (الطبقات الکبریٰ ج ۱۰ص ۴۰۰و تہذیب الکمال ۱۱/۴۲)
۴۔       ساجی نےکہا:ثقۃ صدوق (تہذیب التہذیب ۶/۱۱۲)
۵۔        یعقوب بن سفیان الفارسی نے کہا: ثقۃ (کتاب المعرفۃ و التاریخ ۲/۴۵۸)
۶۔       ابن شاہین نے اسے کتاب الثقات میں ذکر کیا (ص ۱۵۹، فقرہ : ۹۱۰)
۷۔       علی ابن المدینی نے کہا: وکان عندنا ثقۃ…إلخ (سوالات محمد بن عثمان بن أبی شیبہ: ۱۰۵)
۸۔       ان کے علاوہ مسلم بن الحجاج (صحیح مسلم: ۵۳۳/۲۵….إلخ)
۹۔       ترمذی،   ۱۰۔      ابن خزیمہ  اور         ۱۱۔بخای نے عبدالحمید بن جعفر کی حدیث کو صحیح قرار دے کر اُس کی ثوثیق کی۔
۱۲۔      ذہبی نے کہا: الإمام المحدث الثقۃ۔ (سیر أعلام النبلاء ۲۰/۷، ۲۱)
۱۳۔       ابن نمیر نے اسے ثقہ کہا(تہذیب التہذیب ۱۱۲/۶)
۱۴۔      یحیی بن سعید القطان اسے ثقہ کہتے تھے إلخ(تہذیب التہذیب ۱۱۲/۶)
۱۵۔      ابو حاتم الرازی نے کہا: محلّہ الصدق
۱۶۔      ابن عدی نے کہا: أرجوأنہ لابأس بہ وھو یکتب حدیثہ(تہذیب التہذیب ۱۱۲/۶)
۱۷۔      ابن حبان  نے کہا : أحد الثقات المتقنین إلخ (صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان ، نسخہ محققہ ج ۵ص ۱۸۴ قبل ح ۱۸۶۵)
۱۸۔      ابن القطان الفاسی نے کہا : وعبدالحمید ثقہ إلخ (بیان الوہم والإیھام فی کتاب الاحکام ج ۳ ص ۵۱۴ح ۱۲۸۷)
۱۹۔      عبدالحق الاشبیلی نے عبدالحمید بن جعفر کی اس حدیث کو “صحیح متصل” قرار دیا ہے (بیان الوہم والإیھام ۴۶۳/۲ ح ۴۶۲)
۲۰۔      حاکم نیشاپوری نے اس  حدیث کو صحیح کہا (المستدرک ۵۰۰/۱ ح ۱۸۴۲)
۲۱۔       بوصیری نے اس حدیث کو ھذا اسناد صحیح کہا (زوائد ابن ماجہ : ۱۴۳۴)
۲۲۔      ابن تیمیہ،            ۲۳۔     خطابی     اور       ۲۴۔     ابن القیم نے اس کی بیان کردہ حدیث کو صحیح کہا۔
۲۵۔     بیہقی نے عبدالحمید بن جعفر پر طحاوی کی جرح کو مردود کہا (معرفۃ السنن و الآثار ۵۵۸/۱ تحت ۷۸۶)
۲۶۔      ابن الجارود نے منتقیٰ میں روایت کر کے اس حدیث کو صحیح قرار دیا (المنتقیٰ : ۱۹۲)
۲۷۔     زیلعی حنفی نے کہا: ولکن وثقہ اکثر العلماءِ اور لیکن اکثر علماء نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے (نصب الرایہ ۳۴۴/۱ ، اس کے بعد زیلعی کا “إنہ غلط فی ھذا الحدیث ” لکھنا مردود  ہے)
۲۸۔     الضیاء المقدسی نے اس کی حدیث کو صحیح قرار دیا (دیکھئے المختارۃ ۵۱۶/۱ ح ۳۸۴)
۲۹۔      ابونعیم الاصبہانی
۳۰۔     اور ابو عوانہ الاسفرائنی نے عبدالحمیدبن جعفر کی حدیث کو صحیح قرار دیا۔ (دیکھئے المسند المستخرج علی صحیح مسلم لابی نعیم ۱۳۴/۲ ح ۱۱۷۵، مسند ابی عوانۃ ۳۹۱/۱)
۳۱۔      نسائی نے کہا: لیس بہ بأس (تہذیب التہذیب ۱۱۲/۶)
اس جمِ غفیر کی توثیق کے مقابلے میں  ۱۔سفیان ثوری،     ۲۔ طحاوی،         ۳۔ یحییٰ بن سعید القطان،          ۴۔ نسائی اور
۵۔       ابو حاتم الرازی کی جرح ہے جو جمہور کی تعدیل کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے مردود ہے ۔سفیان ثوری کی جرح کا سبب مسئلہ قدر ہے ، اس کی تردید ذہبی نے مسکت انداز میں کردی ہے (دیکھئے سیر اعلام النبلاء ۲۱/۷)
ثقہ راوی پر قدری وغیرہ کی جرح مردود ہوتی ہے ۔ یحییٰ القطان ، نسائی اور ابو حاتم الرازی  کی جرح اُن کی تعدیل سے معارض ہے۔ طحاوی کی جرح کو بیہقی نے رد کردیا ہے ۔ نسائی کے قول “لیس بہ بأس ” کےلئے دیکھئے تہذیب الکمال (۴۱/۱۱) و سیراعلام النبلاء (۲۱/۷) و تاریخ للذھبی (۴۷۶/۹)
خلاصہ التحقیق:  عبدالحمیدبن جعفر ثقہ و صحیح الحدیث راوی ہیں۔ والحمدللہ
حافظ ابن القیم نے عبدالحمید بن جعفر پر جرح کو مردود قرار دیا ہے  (تہذیب السنن مع عون المعبود ۴۲۱/۲) عبدالحمید مذکور پر طحاوی کی جرح جمہور کی توثیق کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔ ابو حاتم کی جرح باسند صحیح نہیں ملی اور اگر مل بھی جائے تو جمہور کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے مردود ہے (نیز دیکھئے توثیق کرنے والے : ۱۵) صحیح بخاری و صحیح مسلم و سنن اربعہ کے مرکزی راوی محمد بن عمرو بن عطاء القرشی العامری المدنی کا مختصر و جامع تعارف پیشِ خدمت ہے ۔
محمد بن عمرو بن عطاء =
۱۔ ابوزرعہ الرازی نے کہا : ثقہ (الجرح و التعدیل ۲۹/۸ و سندہ صحیح ) ۲۔  ابوحاتم الرازی نے کہا : ثقہ صالح الحدیث (الجرح و التعدیل ۲۹/۸) ۳۔  ابن سعد نے کہا : وکان ثقہ لہ أحادیث (الطبقات الکبریٰ ، القسم المتمم ص ۱۲۳، ۱۲۴) ۴۔ ابن حبان نے اسے کتاب الثقات میں ذکر کیا (۳۶۸/۵)  ۵۔ بخاری   ۶۔ مسلم  ۷۔  الترمذی  ۸۔  ابن خزیمہ  ۹۔ خطابی  ۱۰۔ ابن تیمیہ ۱۱۔ ابن الجارود (المنتقی: ۱۹۲)  ۱۲۔  ابن القیم نے اس کی حدیث کو صحیح قرار دیا ۔     ۱۳۔ ذہبی نے کہا : أحد الثقات (سیر أعلام النبلاء ۲۲۵/۵) ۱۴۔  ابن حجر العسقلانی  نے کہا : ثقۃ …. ووھم من قال : إن القطان  تکلم فیہ، أوإنہ خرج مع محمد بن عبداللہ بن حسن فإن ذاک ھوابن عمرو بن علقمۃ الآتی (تقریب التہذیب : ۶۱۸۷)  ۱۵۔ نسائی نے کہا: ثقۃ (تہذیب الکمال ۱۱۲/۱۷) ۱۶۔ ابوعوانہ الاسفرائنی (مسند ابی عوانہ ۲۶۹/۱) اور   ۱۷۔  ابو نعیم الاصبہانی (المستخرج علی صحیح مسلم ۳۹۶/۱ ح ۷۹۳) نے اس کی حدیث کو صحیح کہا ۔  ۱۸۔ الضیاء المقدسی نے اس کی حدیث کو المختارہ میں روایت کر کے صحیح قرار دیا ہے (المختارہ ۶۳/۱۳ ح ۹۶) ۱۹۔ حاکم نے اس کی حدیث کو ”صحیح علی شرط الشیخین “ کہا (المستدرک ۳۸۱/۱ح  ۱۴۰۶) ۲۰۔  ابو الزناد عبداللہ بن ذکوان المدنی نے کہا : وکان امرئی صدق (تہذیب الکمال ۱۱۲/۱۷) ۲۱۔ ابن القطان الفاسی نے کہا : احد الثقات (نصب الرایۃ ۳۷۱/۲، بیان الوھم والإیھام ۳۶۷/۵ ح ۲۵۴۰) ۲۲۔ ابو محمد (عبدالحق الاشبیلی ) اس کی حدیث کو صحیح کہتے ہیں (بیان الوھم والإیھام ۳۶۸/۵) ۲۳۔  زیلعی حنفی نے ابن القطان کی توثیق نقل کر کے تردید نہیں کی (نصب الرایہ ۳۷۱/۲)  ۲۴۔  محمد بن عمرو بن عطاء کی حدیث سے عینی حنفی نے حجت پکڑی (دیکھئے شرح سنن ابی داود للعینی ج ۵ ص ۱۷۷ح  ۱۲۵۶۰)  ۲۵۔  نووی محمد بن عمرو بن عطاء کی حدیث سے حجت پکڑی اور اسے صحیح اور حسن قرار دیا (دیکھئے خلاصۃ الأحکام ۳۴۴/۱ ح ۱۰۴۱- ۱۰۴۴ و ص ۳۹۴ ح ۱۲۴۵)  ۲۶۔  حسن بن مسعود البغوی  نے اس کی حدیث کو صحیح کہا (شرح السنۃ ۱۵/۱۳ ح ۵۵۷) حافظ ابن القیم نے کہا : “فإنہ من کبار التابعین المشھورین بالصدق و الأمانۃ و الثقۃ” (تہذیب السنن مع عون المعبود ۴۲۱/۲)

اس جمِ غفیر کے مقابلے میں ابن القطان الفاسی نے محمد بن عمرو پر یحییٰ بن سعید القطان اور سفیان ثوری کی جر ح نقل کی ہے (تہذیب التہذیب ۳۷۴/۹) یہ جرح دو وجہ سے مردود ہے ۔
۱: یہ جمہور کے خلاف ہے۔
۲: اس جرح کا تعلق محمد بن عمرو بن عطاء سے نہیں بلکہ محمد بن عمرو بن علقمۃ اللیثی سے ہے، دیکھئے تہذیب التہذیب (۳۷۴/۹ ، دوسرا نسخہ ۳۳۲/۹)
تنبیہ :  محمد بن عمرو  بن علقمہ اللیثی پر بھی جرح مردودہے، وہ قولِ راجح میں صدوق حسن الحدیث راوی ہیں۔ والحمدللہ
خلاصہ التحقیق :   محمد بن عمرو  بن عطاء  المدنی بالاجماع یا عندالجمہور ثقہ و صحیح الحدیث راوی ہے۔
تنبیہ:  احمد یار نعیمی بریلوی رضاخانی نے کذب و افترا کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
“محمد بن عمرو ایسا جھوٹا راوی ہے کہ اس کی ملاقات ابوحمید ساعدی سے ہر گز نہ ہوئی ، مگر کہتا ہے سمعت  میں نے ان سے سنا، ایسے جھوٹے آدمی کی روایت موضوع یا کم سے کم اول درجہ مدلس ہے”
(جاء الحق حصہ دوم ص ۶۵ چھٹا باب رفع یدین کرنا منع ہے ، دوسری فصل)
محمد بن عمرو بن عطاء المدنی رحمہ اللہ کو کسی محدث نے بھی جھوٹا نہیں کہا لہذا معلوم ہوا کہ احمد یار نعیمی بذاتِ خود بہت بڑا جھوٹا  راوی ہے ۔ یہ احمد یار نعیمی وہی شخص ہے جس نے لکھا ہے کہ:
    “قرآن کریم فرماتا ہے ۔    وَ کَثِیْر مّنْھُمْ عَلیَ الْھُدیٰ۔ و کَثِیْر حَقَّ عَلَیْھِمُ الضَّلَالَۃُ
(جاء الحق حصہ دوم ص ۳۹چوتھا باب ،  امام کے پیچھے مقتدی قرأت نہ کرے، دوسری فصل)
حالانکہ قرآن کریم میں احمد یار کی بیان کردہ آیت موجود نہیں ہے ۔ جو شخص اللہ پر جھوٹ بولتے نہیں شرماتا وہ محمد بن عمرو بن عطاء اور ثقہ راویوں کے خلاف جھوٹ لکھنے سے کب شرماتا ہے ؟
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سن وفات
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوقتادہ ؓ سیدنا علی ؓ کے زمانے میں فوت ہوگئے تھے ۔ ان لوگوں کی تردید کے لئے جمہور محدثین کے اقوال اور دندان شکن دلائل پیشِ خدمت ہیں، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا ابو قتادہ ؓ سیدنا علی ؓ کی وفات کے بہت بعد ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے تھے۔
۱:    امام لیث بن سعد المصری (متوفی ۱۷۵ھ) فرماتے ہیں کہ ابوقتادہ ؓ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے
(کتاب المعرفۃ و التاریخ للامام یعقوب  بن سفیان ج ۳ص ۳۲۲ و سندہ صحیح ، معرفۃ السنن و الآثار للبیہقی ۵۵۸/۱ ح ۷۸۷ و سندہ صحیح)
۲:    سعید بن عفیر (متوفی ۲۲۶؁ھ) نے کہا : ابوقتادہ ؓ ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے ۔
(تاریخ بغداد  ۱۶۱/۱ ت ۱۰و سندہ صحیح)
۳:     محمد بن عبداللہ بن نمیر (متوفی ۳۳۷؁ھ) نے کہا : ابو قتادہ ؓ ؓ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے ۔
(المعجم الکبیر للطبرانی ۲۴۰/۳ح ۳۲۷۵ و سندہ صحیح)
۴:     یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر (متوفی ۲۳۱؁ھ) نے کہا : ابوقتادہ ؓ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے ۔
(المعجم الکبیر للطبرانی ۴۰/۳ ح ۳۲۷۴ وسندہ صحیح)
۵:     ابراہیم بن المنذر (متوفی ۲۳۶؁ھ) نے کہا : ابوقتادہ ؓ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے ۔
(معرفۃ الصحابۃ لأبی نعیم الأصبہانی ۷۴۹/۲ ح ۱۹۹۲ ، والمستدرک للحاکم ۴۸۰/۳)
۶:      یحییٰ بن معین (متوفی  ۲۳۳؁ھ) نے کہا : آپ ؓ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے ۔
(کتاب الکنیٰ للدولابی ۴۹/۱)
۷:     ابوجعفر عمرو بن علی الفلاس نے کہا : آپؓ مدینہ میں ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے ۔
(تاریخ دمشق لابن عساکر ۱۱۵/۷۱)
۸:       ابن البرقی نے کہا : آپ ؓ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے ۔ (تاریخ دمشق ۱۰۷/۷۱)
۹:          ابو احمد الحاکم نے کہا :آپ ؓ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے ۔(تاریخ دمشق ۱۰۷/۷۱)
۱۰:        ترمذیؒ نے کہا :آپ ؓ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے ۔(تہذیب السنن لابن القیم مع عون المعبود ۴۲۲/۲)
۱۱:       ابو عبداللہ بن مندہ الحافظ نے کہا :آپ ؓ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے ۔(ایضاً ۴۲۲/۲ومعرفۃ السنن و الآثار ۵۵۸/۱)
۱۲:       امام بیہقی ؒ نے کہا :اہل تاریخ کا اس پر (امام بیہقی کے زمانے میں) اجماع ہے کہ ابوقتادہؓ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے (معرفۃ السنن والآثار ۵۵۸/۱ قبل ح ۷۸۷)
۱۳:      ذہبی نے کہا : آپؓ ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے (تجرید اسماء الصحابۃ ۱۹۴/۲، الاعلام بوفیات الاعلام ۳۷/۱ ت ۱۳۱)
۱۴:      ابن کثیر نے انہیں ۵۴؁ھ کی وفیات میں ذکر کیا ہے  (البدایہ و النہایہ ۷۰/۸)
۱۵:      ابن حبان نے کہا : آپؓ ۵۴؁ھ میں فوت ہوئےإلخ (الثقات ۷۴/۳)
۱۶:       خلیفہ بن خیاط نے کہا : آپؓ ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے (تاریخ خلیفہ بن خیاط ص ۲۲۳)
۱۷:      امام بخاریؒ نے آپؓ کو ۵۰؁ھ کے بعد ۶۰؁ھ تک وفیات  میں ذکر کیا ہے (التاریخ الصغیر ۱۳۱/۱)
۱۸:      ابن حجر العسقلانی نے کہا : آپؓ ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے (تقریب التہذیب : ۸۳۱۱)
۱۹:       ابن الجوزی نے کہا : آپؓ ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے (المنتظم ۲۶۸/۵)
۲۰:      ابن العماد  الحنبلی نے کہا : آپؓ ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے (شذرات الذھب ۶۰/۱)
۲۱:       عینی حنفی (!) نے  کہا : آپؓ (ایک قول میں) ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے (عمدۃ القاری ۲۹۴/۲ ح ۱۵۳ باب النھي عن الاستنجاء بالیمین)
          اس جم غفیر اور جمہور کے مقابلے میں حبیب اللہ ڈیروی دیوبندی حیاتی نے ہثیم بن عدی (کذاب) سے نقل کیا ہے کہ (سیدنا) ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۳۸؁ھ میں فوت ہوئے (نور الصباح ص ۲۰۷) حنبل بن اسحاق نے کہا: مجھے پتہ چلا ہے کہ آپؓ ۳۸؁ھ میں فوت ہوئے (تاریخ بغداد ۱۶۱/۱) یہ اقوال جمہور کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہے ۔ ہثیم بن عدی (کذاب ) پر جرح کے لئے دیکھئے میزان الاعتدال (۳۲۴/۴ ت ۹۳۱۱) و عام کتب المجروحین۔
امام یحییٰ بن معین نے کہا : “کوفی ، لیس بثقۃ، کذاب” (الجرح و التعدیل ۷۵/۹و سندہ صحیح) کیا خیال ہے اگر ہم بھی ہثیم بن عدی (کذاب) کے مقابلئ میں محمد بن عمر الواقدی (کذاب علی الراجح) کی روایت پیش کردیں تو جو اس نے یحییٰ بن عبداللہ بن ابی قتادہ (وثقہ ابن حبان / الثقات ۵۹۴/۷ ، و صحح لہ الحاکم فی المستدرک  ۳۵۳/۱ح ۱۳۰۵ ووافقہ الذھبی) سے نقل کی ہے کہ سیدنا ابوقتادہ ؓ مدینہ میں ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے تھے۔ (طبقات ابن سعد ۱۵/۶ و سندہ صحیح الی الواقدی )
یاد رہے کہ حنفیوں و بریلویوں اور بعض دیوبندیوں کے نزدیک واقدی کذاب نہیں ہے ۔
ابن ہمام حنفی نے کہا : “وھذا تقوم بہ الحجۃ عندنا إذا وثقنا الواقدي” إلخ (فتح القدیر ج ۱ص ۶۹)
احمد رضا خان بریلوی نے کہا :”امام واقدی ہمارے علماء کے نزدیک ثقہ ہیں” (فتاوی رضویہ نسخہ جدیدہ ج ۵ ص ۵۲۶) نیز دیکھئے منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین (ص۹۱) اور الامن و العلیٰ (ص ۷۷،۷۹)
عبدالحق دیوبندی ، اکوڑہ خٹک والے نے کہا :”کیونکہ واقدی کی روایت اگر چہ حلال و حرام کے مسائل میں حجت نہیں ہے اور حدیث میں وہ ضعیف ہیں مگر تاریخ میں ان کی روایت جمہور تسلیم کرتے ہیں” (حقائق السنن ج ۱ ص ۲۸۶)
نیز دیکھئے آثار السنن (تحت ح ۷) و سیرۃ المصطفیٰ از محمد ادریس کاندھلوی (ج۱ ص ۷۷-۸۰)
ایک روایت کا جائزہ

بعض الناس نے موسی بن عبداللہ بن یزید کی روایت پیش کی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدنا ابوقتادہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ پڑھایا  تھا…..إلخ

اس روایت کے بارے میں حدیث کے امام بیہقی ؒ نے فرمایا “وھو غلط لإجماع أھل التورایخ….”
یعنی یہ روایت اہل تاریخ کے نزدیک بالاجماع غلط ہے (معرفۃ السنن و الآثار ج ۱ ص ۵۵۸)
حافظ ابن القیم نے کہا :”وقد خطأ الأئمۃ روایۃ موسی ھذہ ومن تابعہ وقالوا: ھي غلط” إلخ
اور اماموں نے موسی (بن عبداللہ بن یزید ) کی اس روایت کو خطا قرار دیا ہے ۔ اور جو لوگ اس روایت کی اتباع کرنے والے ہیں (مثلاً طحاوی حنفی) انہیں بھی غلط قرار دیا ہے ۔ امام کہتے ہیں کہ: یہ روایت غلط ہے (تہذیب السنن ۴۲۳/۲)
جمہور  ائمہ کرام کے مقابلے میں دیوبندیوں  و بریلویوں اور بعض حنفیوں کا اس روایت کو صحیح قرار دینا غلط ہے  دوسرے یہ کہ اس روایت میں موسی مذکور نے سیدنا علی ؓ سے سماع کی تصریح نہیں کی  اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ سیدنا علی ؓ کے زمانے میں زندہ موجود تھے۔

تنبیہ بلیغ: عبداللہ بن محمد بن عبدالعزیز البغویؒ کی کتاب “معجم الصحابۃ” میں لکھا ہے کہ :”عن موسی الأنصاري قال: أتانا علی رحمہ اللہ فصلی علی أبی قتادۃ فکبر سبعۃ” (ج ۲ص ۴۰ح ۴۳۶)

اس کی سند اسماعیل بن ابی خالد: مدلس کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ اسماعیل مذکور کی تدلیس کے لئے دیکھئے طبقات المدلسین (۲/۳۶ ، والراجح انہ من المرتبۃ الثالثۃ) و میزان الاعتدال (۴۶۰/۱) و جامع التحصیل للعلائی (ص۱۰۵) و المدلسین لابی زرعۃ بن العراقی (۳) و المدلسین للسیوطی (ص۳) و المدلسین للحلبی (ص ۱۴) و منظومۃ ابی محمود  المقدسی ۔
بعض لوگ شعبی (تابعی ) کی منقطع روایت پیش کرتے ہیں۔ مجھے یہ روایت باسند نہیں ملی۔ واللہ اعلم
بعض الناس میں “امام حسن بن عثمان” کا قول بغیر کسی سند کے پیش کیا ہے، دیکھئے نور الصباح (ص ۲۰۶)
حسن بن عثمان نام کے دو روایوں کا ذکر لسان المیزان (۲۲۰،۲۱۹/۲) میں ہے  اور یہ دونوں مجروح ہیں۔
ایک عظیم الشان دلیل
امام نافع (تابعی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (سیدنا ) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ام کلثوم بنت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)کا جنازہ پڑھا، لوگوں میں (سیدنا ) ابوسعید اور (سیدنا) ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم موجود تھے۔ إلخ
(سنن النسائی ۷۲،۷۱/۴ ح ۱۹۸۰ و سندہ صحیح ، مصنف عبدالرزاق ۴۶۵/۳ ح ۶۳۳۷ و سندہ صحیح ، منتقی ابن الجارود : ۵۴۵)
عمار بن ابی عمار مولی الحارث بن نوفل سے روایت ہے کہ میں نے ایک عورت (ام کلثوم) اور ان کے بیٹے کا جنازہ پڑھا۔ جنازہ پڑھانے والوں میں (سیدنا ) ابو سعید الخدری (سیدنا ) ابن عباس (سیدنا ) ابوقتادہ اور (سیدنا) ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم موجود تھے۔ إلخ
(سنن النسائی ۷۱/۴ ح ۱۹۷۹ و سندہ صحیح) جس عورت کا جنازہ پڑھاگیا تھا یہ ام کلثومؓ تھیں (سنن ابی داؤد: ۳۱۹۳ و ھو صحیح بالشواھد)
ابن سعد نے ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حالات  میں عمار بن ابی عمار سے نقل کیا کہ میں ان کے جنازے میں حاضر تھا ، ان کا  جنازہ سعید بن العاص ؓ نے پڑھایا، جو اس وقت مسلمانوں کے امیر تھے۔ (طبقات ابن سعد ۴۶۴/۸ ، ۴۶۵ و سندہ صحیح)
عبداللہ البہی کہتے ہیں کہ میں حاضر تھا جب (سیدنا ) عبداللہ بن عمر ؓ نے ام کلثومؓ کا جنازہ پڑھا تھا۔
(طبقات ابن سعد ۴۶۴/۸ و سندہ صحیح)
عمار بن ابی عمار سے ہی روایت ہے کہ میں جنازے میں حاضر تھا اور لوگوں میں (سیدنا) ابو سعید الخدری (سیدنا) عبداللہ بن عباس (سیدنا ) ابوقتادہ اور (سیدنا) ابوہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم ) موجود تھے۔ (التاریخ الصغیر للبخاری ۱۲۹/۱ و سندہ صحیح، عطاء ھو ابن ابی رباح)
سنن النسائی  وغیرہ میں ہے کہ اس وقت (مدینہ میں) لوگوں کے امام (یعنی امیر) سعید بن العاص ؓ تھے (النسائی ۷۱/۴ ح ۱۹۸۰ و سندہ صحیح)
سیدنا سعید بن العاص ؓ ۴۸؁ھ سے ۵۵؁ھ تک اقتدار میں رہے (تہذیب السنن ۴۲۳/۲) آپ سیدنا معاویہ ؓ کے دور میں کئی دفعہ مدینہ کے والی (امیر) بنے (تاریخ الاسلام للذھبی ۲۲۵/۴) سیدنا معاویہ ؓ ۶۰؁ھ میں فوت ہوئے (تقریب التہذیب : ۶۷۵۸)
سیدنا سعید بن العاص ؓ ۶۰؁ھ سے پہلے فوت ہوئے ، ۵۸؁ھ وغیرہ ( دیکھئے تقریب التہذیب ۲۳۳۷)
وکتب التاریخ
یہ بات عقلاً محال ہے کہ ۳۸؁ھ میں فوت ہونے والا شخص ۵۰؁ھ اور  ۶۰؁ھ کے درمیان میں فوت ہونے والے کے جنازے میں شامل ہو، لہذا درج بالا روایت نص قاطع اور دلیل واضح ہے کہ سیدنا ابوقتادہ ؓ ۵۰؁ھ کے بعد (یعنی ۵۴؁ھ) میں فوت ہوئے۔ آپ سیدنا علی ؓ کے زمانے میں فوت نہیں ہوئے۔ یہ ایسی دلیل ہے جس کا کوئی جواب کسی حنفی و دیوبندی و بریلوی کے پاس نہیں ہے۔ والحمدللہ
خلاصہ التحقیق:  سیدنا ابوقتادہ ؓ سے محمد بن عمرو بن عطاء کی روایت منقطع نہیں ہے بلکہ متصل ہے ۔ طحاوی اور ان کے مقلدین کا یہ دعویٰ کہ سیدنا ابوقتاد ہؓ سیدنا علی ؓکے دور میں فوت ہوگئے تھے ، غلط اور باطل ہے ۔ صحیح ومتصل روایات  اس دعویٰ کو غلط اور باطل قرار دے رہی ہیں۔
ایک اور دندان شکن دلیل
(مروی ہے کہ) مہلب بن ابی صفرہ نے ۴۴؁ھ میں قندابیل (ہند) پر حملہ کیا۔ کابل کے قیدیوں میں سے مکحول، نافع مولی ابن عمر، کیسان والدایوب السختیانی اور سالم الافطس تھے۔ (تاریخ خلیفہ بن خیاط ص ۲۰۶ و تاریخ الاسلام للذہبی ج ۴ ص ۱۲ حوادث سنۃ أربع و أربعین)
معلوم ہواکہ امام نافعؒ مدینہ طیبہ میں ۴۴؁ھ یا اس کے بعد لائے گئے۔

نافع ؒ کہتے ہیں کہ :”فنظرتُ إلی ابن عباس وأبي ھریرۃ و أبي سعید و أبي قتادۃ فقلت: ماھذا؟ قالوا! ھي السنۃ”  پس میں نے ابن عباس ، ابوہریرہ ، ابوسعید اور ابوقتادہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہم) کی طرف دیکھا ، میں نے پوچھا: یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ سنت ہے ۔ (سنن النسائی ۷۱،۷۲/۴ ح  ۱۹۸۰ وسندہ صحیح)

اس سے بھی یہی ثابت ہوا کہ سیدنا علی بن ابی طالب ؓ کی وفات (۴۰؁ھ) کے بعد، کم از کم ۴۴؁ھ یا اس کے بعد سیدنا ابوقتادہ ؓ زندہ موجود تھے۔ لہذا حنفیوں و بریلویوں و دیوبندیوں کا یہ پروپیگنڈا کہ سیدنا ابوقتادہ ؓ ۴۰؁ھ میں یااس سے پہلے فوت ہوگئے تھے، بے بنیاد ہے۔
ایک اور دلیل
شاہ ولی اللہ الدہلوی کہتے ہیں کہ:”صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بارے میں تمام محدثین متفق ہیں کہ ان میں تمام کی تمام متصل اور مرفوع احادیث یقیناً صحیح ہیں۔ یہ دونوں کتابیں اپنے مصنفین تک بالتواتر پہنچی ہیں۔ جو ان کی عظمت نہ کرے وہ بدعتی ہے جو مسلمانوں کی راہ کے خلاف چلتا ہے ” (حجۃ اللہ البالغہ اردو ج ۱ ص ۲۴۲ مترجم عبدالحق حقانی )
رشید احمد گنگوہی نے کہا :
          “مگر کتاب بخاری اصح الکتب میں جو چودہ روز مذکور ہیں وہ سب سے  راجح ہے” (تالیفات رشیدیہ ص ۳۳۷)
محمد تقی عثمانی نے کہا :
          “جہاں تک صحیحین اور مؤطا کا تعلق ہے ان کے بارے میں اتفاق ہے کہ ان کی تمام احادیث نفس الامر میں بھی صحیح ہیں” (درس ترمذی ج ۱ص ۶۳)
احمد رضاخان بریلوی کے نزدیک صحیحین کا بڑا مقام ہے ، وہ کسی شخص کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
          “کیا قسم کھائے بیٹھے ہو کہ صحیحین کا رد ہی کردوگے !…..صحیحین سے عداوت کہاں تک بڑھے گی”
(فتاوی رضویہ/ جدید ج ۵ ص ۱۸۰)
احمد رضاخان لکھتے ہیں:
          “یہ بھی شرم نہ آئی کہ یہ محمد بن فضیل صحیح بخار ی و صحیح مسلم کے رجال سے ہے ” (فتاوی رضویہ ۱۷۴/۵)
محدثین کرام اور اہلِ حدیث کے نزدیک بھی صحیحین کی مسند متصل مرفوع تمام احادیث صحیح ہیں۔ دیکھئے اختصار علوم الحدیث لابن کثیر (ص ۳۳،۲۳) و علوم الحدیث لابن الصلاح (ص ۴۱،۴۲ دوسرا نسخہ ص ۹۷) اور ثنا اللہ الزاہدی (اہلحدیث) کا رسالہ “أحادیث الصحیحین بین الظن و الیقین” والحمدللہ
صحیح بخاری میں ہے کہ :
عن محمد بن عمرو بن عطاء أنہ کان جالساً فی نفرٍ من أصحاب رسول اللہ ﷺ فذ کرنا صلاۃ النبیﷺ فقال أبوحمید الساعدي…..” محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ (محمد بن عمرو بن عطاء  نے کہا :) پس ہم نے نبی ﷺ کی نماز کا ذکر کیا تو (سیدنا) ابوحمید الساعدی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) نے فرمایا …..(کتاب الاذان باب سنۃ الجلوس فی التشہدح ۸۲۸)
صحیح حدیث سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوا کہ :
۱:        محمد بن عمرو بن عطاء صحابہ کرامؓ کی مجلس میں موجود تھے۔
۲:        اس مجلس میں نبی اکرم ﷺ کی نماز کا ذکر ہوا تھا۔
۳:       سیدنا ابوحمید الساعدی ؓ نے محمد بن عمرو بن عطاء کے سامنے حدیث سنائی تھی۔ رہا یہ مسئلہ کہ اس مجلس میں کون کون سے صحابہ کرام ؓموجود تھے تو ان میں سے سیدنا ابوقتادہ ؓ کا ذکر عبدالحمید بن جعفر (ثقہ) کی عن محمد بن عمرو بن عطاء والی روایت میں موجود ہے۔ والحدیث یفسر بعضہ بعضاً ، والحمدللہ
ایک اور دلیل
محمد بن عمرو بن عطاء کی روایت کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ محمد بن اسحاق (بن یسار ) نے عباس بن سہل بن سعد الساعدی (ثقہ / تقریب التہذیب: ۳۱۷۰) سے نقل کیا ہے کہ :
“کنت بالسوق مع أبي قتادۃ و أبي أسید وأبي حمید کلھم یقول: أنا أعلمکم بصلوۃ رسول اللہ ﷺ فقالوا لأحدھم: صلّ….” إلخ
میں (سیدنا) ابوقتادہ (سیدنا) ابواسید اور (سیدنا) ابوحمید کے ساتھ بازار میں تھا ۔ ان میں سے ہر آدمی یہ کہہ رہا تھا کہ میں تم میں سے سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی نماز کو جانتا ہوں ، تو انہوں نے ایک کو کہا : تو نماز پڑھ….إلخ
(جزء رفع الیدین بتحقیقی: ۶ وصحیح ابن خزیمہ : ۶۸۱ و اتحاف المھرۃ باطراف العشرۃ  ج ۱۴ ص ۸۲ ج ۱۷۴۵۰)
یہ روایت حسن ہے۔ ابن اسحاق نے سماع کی تصریح کردی ہے ۔
محمد بن اسحاق بن یسار کا حدیث میں مقام
محمد بن اسحاق پر محدثین کا اختلاف ہے۔ امام مالک ؒ وغیرہ نے اسے کذاب کہا ہے لیکن جمہور محدثین نے انہیں ثقہ و صدوق، صحیح الحدیث اور حسن الحدیث قرار دیا ہے ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے میری کتاب “نور العینین فی (اثبات)مسئلہ رفع الیدین” (ص۴۲،۴۳ طبع سوم)
زیلعی حنفی نے کہا:”وابن إسحاق الأکثر علی توثیقہ” اور ابن اسحاق کو اکثر نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
(نصب الرایہ ج ۴ ص ۷)
عینی حنفی نے کہا :”إن ابن إسحاق من الثقات الکبار عندالجمھور” بےشک ابن اسحاق جمہور کے نزدیک بڑے ثقات (ثقہ راویوں) میں سے ہے (عمدۃ القاری ۲۷۰/۷)
محمد ادریس کاندھلوی دیوبندی نے کہا :”جمہور علماء نے اس کی توثیق کی ہے ” (سیرت المصطفیٰ ج ۱ ص ۷۶)
نیز دیکھئے تبلیغی نصاب از محمد زکریا کاندھلوی دیوبندی  (ص ۵۹۵) وفضائل ذکر (ص۱۱۷)
احمد رضا خان بریلوی نے کہا :
          “محمد بن اسحاق تابعی ثقۃ امام السیر المغازی” (الأمن والعلی ص ۱۷۰)
احمد رضا خان نے مزید کہا:
          “ہمارے علماء کرام قدست اسرار ہم کے نزدیک بھی راجح محمد بن اسحاق کی توثیق ہی ہے “
(منیر العین فی حکم تقبیل الابھامین ص ۱۴۵ حاشیہ)
تنبیہ :  جمہور کی اس توثیق و تعدیل کے مقابلے میں سرفراز خان صفدر دیوبندی صاحب لکھتے ہیں کہ :
          “محمد بن اسحاق کو گو تاریخ اور مغازی کا امام سمجھا جاتا ہے لیکن محدثین اور ارباب جرح و تعدیل کا تقریباً پچانوے فیصدی گروہ اس بات پر متفق ہے کہ روایتِ حدیث میں اور خاص طور پر سنن اور احکام میں ان کی روایت کسی طرح بھی حجت نہیں ہوسکتی اور اس لحاظ سے انکی روایت کا وجود اور عدم بالکل برابر ہے ” (احسن الکلام ج ۲ ص ۷۰ طبع دوم)
یہ کہنا کہ محمد بن اسحاق پچانوے فیصدی محدثین جرح کرتے ہیں، صفدر صاحب کا بہت بڑا جھوٹ ہے ۔
بعض لوگوں نے ابن اسحاق کی احکام میں روایات پر جرح کی ہے لیکن جمہور محدثین نے احکام میں بھی انہیں صحیح الحدیث و حسن الحدیث قرار دیا ہے ۔ چند حوالے درج ذیل ہے ۔
۱:        ابن خزیمہ (۱۱/۱ ح ۱۵ ، وغیرہ)
۲:        ابن حبان (الاحسان : ۱۰۷۷ دوسرا نسخہ: ۱۰۸۰، وغیرہ)
۳:       الترمذی (ح ۱۱۵ وقال : ھذا حدیث حسن صحیح إلخ)
۴:       الحاکم (المستدرک ۴۸۶/۱ ح ۱۷۸۶ وقال : ھذا حدیث صحیح الاسناد)
۵:       الذہبی (تلخیص المستدرک ۴۸۶/۱ وقال : صحیح)
محمد بن اسحاق کی بیان کردہ فاتحہ خلف الامام کی حدیث کو درج ذیل اماموں نے صحیح، حسن اور جید قرار دیا ہے ۔
۶:        دارقطنی (۳۱۷/۱ ، ۳۱۸ ح ۱۲۰۰ وقال : ھذا إسناد حسن)
۷:       بیہقی (کتاب القرأت خلف الامام ص ۵۸ ص ۱۱۴ وقال: وھذا إسناد صحیح)
۸:       ابوداؤد (بحوالہ التلخیص الجبیر ۲۳۱/۱ ح ۳۴۴)
۹:        خطابی (معالم السنن ۱۷۷/۱ ح ۲۵۲ وقال: وإسنادہ جید لاطعن فیہ) وغیرہم
          معلوم ہوا کہ جمہور محدثین کے نزدیک محمد بن اسحاق بن یسار کی حدیث احکام میں بھی صحیح یا حسن ہوتی ہے ۔ لہذا جمہور کے مقابلے میں بعض محدثین کے اقوال کی بنیاد پر یہ پروپیگنڈا کرنا کہ احکام میں اس کی روایت حجت نہیں غلط اور مردود ہے ۔
نام نھاد اضطراب کا دعویٰ
بعض الناس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سیدنا ابوحمید الساعدی ؓ کی بیان کردہ یہ حدیث “مضطرب” ہے ۔ ان لوگوں کی بیان کردہ “اضطرابی” اسانید اور ان پر تبصرہ درج ذیل ہے ۔
۱:        محمد بن عمرو بن عطاء عن ابی حمید ؓ (صحیح البخاری : ۸۲۸ و سنن ابی داؤد : ۷۳۰)
۲:        محمد بن عمرو :أخبرني مالک عن عیاش أو عباس بن سھل(السنن الکبری للبیہقی ۱۰۱/۲)
٭       اس کا راوی عیسی بن عبداللہ بن مالک مجہول الحال ہے ، اسے سوائے ابن حبان کے کسی نے ثقہ نہیں کہا، لہذا یہ سند ضعیف ہے ، محمد بن عمرو بن عطاء سے ثابت ہی نہیں ہے ۔ شیخ البانی ؒ نے بھی اس روایت کو “ضعیف” ہی قرار دیا ہے۔ (سنن ابی داؤد ص ۱۱۸ ح ۷۳۳)
تنبیہ:  السنن الکبری للبیہقی میں “أخبرنی مالک” کا لفظ غلط ہے ۔ صحیح “أحد بنی مالک” ہے ۔ دیکھئے السنن الکبری للبیہقی (ج۲ ص ۱۱۸) و صحیح ابن حبان (الاحسان : ۱۸۶۳ دوسرا نسخہ: محققہ ۱۸۱/۵ ح ۱۸۶۶)
۳:       محمد بن عمرو عن عباس بن سہل عن ابی حمید ؓ (البیہقی ۱۱۸/۲)
٭       اس کی سند عیسی بن عبداللہ بن مالک (مجہول الحال) کی وجہ سے ضعیف ہے ۔ یہی ضعیف روایت سنن ابی داؤد (۷۳۳) میں محمد بن عمرو بن عطاء عن عباس أو عیاش بن سہل کی سند سے ہے۔
۴:       محمد بن عمرو بن عطاء عن رجل عن ابی حمیدؓ ۔ إلخ ملخصاً (شرح معانی الآثار للطحاوی ۲۵۹/۱)
٭       اس کی سند ضعیف ہے ۔ اس کا راوی عبداللہ بن صالح کاتب اللیث مختلف فیہ راوی ہے ۔ اگر یحییٰ بن معین ، بخاری ، ابوزرعہ  اور ابو حاتم (وغیرہم) ماہرین اس سے روایت کریں تو روایت صحیح ہوتی ہے ،دوسروں کی روایت  میں توقف کیا جاتا ہے ۔ (دیکھئے ھدی الساری مقدمہ فتح الباری ص ۴۱۴) طحاوی کے دونوں استاد فہد اور یحییٰ بن عثمان اہل الحذق (فنِ حدیث کے ماہرین) میں سےنہیں ہیں لہذا یہ سند ضعیف ہے۔ نیز دیکھئے میزان الاعتدال (۴۴۰/۶ ۔ ۴۴۵) و تقریب التہذیب (۳۳۸۸) والجوہر النقی (۳۰۹/۱)
دوسرے یہ کہ اصولِ حدیث کا ایک طے شدہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر ایک ثقہ راوی اپنے استاد سے تصریحِ سماع (حدثنا، سمعت وغیرہ) کے ساتھ ایک روایت بیان کرے اور یہی روایت اپنے استاد کے درمیان کسی واسطے سے بیان کرے تو دونوں روایتیں محفوظ ہوتی ہیں لیکن اعتبار اسی روایت کا ہوتاہے جس میں اس نے اپنے استاد سے تصریحِ سماع کر رکھی ہوتی ہے ۔ تفصیل کے لئے دیکھئے مقدمہ ابن الصلاح (ص ۲۸۹، ۲۹۰ دوسرا نسخہ ص ۳۹۲،۳۹۱ ، النوع السابع و الثلاثون : معرفۃ المزید فی متصل الاسانید)
مثلاً صحیح بخاری کی ایک روایت “مجاہد عن ابن عباس” کی سند سے ہے۔ (البخاری : ۲۱۶)
جبکہ دوسری روایت میں “عن مجاہد عن طاؤس عن ابن عباس” آیا ہے ۔ (البخاری : ۱۳۶۱)
صحیح بخاری کی یہ دونوں روایتیں صحیح ہیں، انہیں مضطرب قرار دینا غلط ہے۔
تنبیہ:   اگر دوسندیں اس طرح ہوں کہ (۱) محمد بن عمرو بن عطاء عن ابی حمید (۲) محمد بن عمرو عن رجل عن ابی حمید
فرض کریں کہ پہلی سند میں سماع کی تصریح نہیں ہے اور دوسری سند میں رجل مجہول ہے تو بے شک ایسی روایت ضعیف ہوجاتی ہے ۔ لیکن ہماری بیان کردہ روایت میں سماع کی تصریح بھی ہے ۔لہذا وہ “عن رجل” والی سند سے ضعیف نہیں ہوتی بلکہ یہ بشرطِ صحت اس کی تائیدی روایت بن جاتی ہے ۔ تیسرے یہ کہ عطاف بن خالد والی اس سند میں “رجل” سے مراد “عباس بن سہل” ہے جیسا کہ عیسی بن عبداللہ بن مالک (مجہول الحال ) کی ضعیف حدیث میں صراحت ہے ۔ (دیکھئے الاحسان : ۱۸۶۶) حافظ ابن حبان کے نزدیک یہ روایت محمد بن عمرو نے سیدنا ابوحمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی سنی ہے اور عباس بن سہل سے بھی سنی ہے ۔ (الاحسان نسخہ محققہ ۱۸۲/۵)
فیض الباری کے حاشیے پر لکھا ہو اہے کہ “لا بأس بضعف الروایۃ فإنھا تکفي لتعیین أحد المحتملات
یعنی ضعیف حدیث کے ساتھ دو محتمل معنوں میں سے ایک معنی کا تعین کرلینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ یادرہے کہ ابن حبان و ابوداؤد والی اس ضعیف روایت ، جس میں عباس بن سہل کا ذکر موجود ہے ، کو نیموی حنفی نے “اسنادہ صحیح” لکھا ہوا ہے (آثار السنن : ۴۴۹)!!!
خلاصہ التحقیق:    عبدالحمید بن جعفر کی بیان کردہ یہ روایت صحیح و محفوظ ہے اور اس پر اضطراب کی جرح باطل و مردود ہے ۔
امام محمد بن یحیی الذھلی کا اعلان
سیدنا ابوحمید الساعدی ؓ کی مجلسِ صحابہ میں بیان کردہ حدیث “فلیح بن سلیمان: حدثنی العباس بن سھل الساعدی” کی سند سے بھی مروی ہے ۔ (سنن ابنِ ماجہ : ۸۶۳ و سندہ حسن، فلیح بن سلیمان من رجال الصحیحین و وثقۃ الجمھور)
اس حدیث میں شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد تینوں مقامات پر رفع یدین کا اثبات ہے۔
اس حدیث کے  بارے میں امام بخاریؒ اور بے شمار محدثین کے استاد امام محمد بن یحییٰ (الذھلی، متوفی ۲۵۸؁ھ) فرماتے ہیں کہ :”من سمع ھذا الحدیث، ثم لم یرفع یدیہ۔ یعنی إذا رکع و إذا رفع رأسہ من الرکوع۔فصلاتہ ناقصۃ
          جو شخص یہ حدیث سن لے پھر بھی رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین نہ کرے تو اس کی نماز  ناقص (یعنی باطل) ہے ۔ (صحیح ابن خزیمہ ج ۱ ص ۲۹۸ ح ۵۸۹ و سندہ صحیح)
          یاد رہے کہ امام ذھلی کا یہ قول کسی حدیث یا آثارِ سلف صالحین کے خلاف نہیں ہے ۔
چند اھم نکات و فوائد
۱:        امام ابوحاتم الرازی نے ”محمد بن عمرو بن عطاء عن ابی حمید الساعدی“ کی حدیث کو “والحدیث أصلہ صحیح” کہہ کر “فصار الحدیث مرسلًا” یعنی مرسل قرار دیا ہے۔ (علوم الحدیث ۶۳/۱ ح ۴۶۱ ، النسخۃ المحققۃ ۴۲۴/۱ ح ۴۶۱)
۲:        عبدالحمید بن جعفر کے بارے میں ابوحاتم الرازی کہتے ہیں: محلّہ الصدق (الجرح و التعدیل  ۱۰/۶ ، علل الحدیث ۳۸۲/۱ ح ۱۱۴۰ ، نسخہ محققہ ۵۰/۲) اس پر ابوحاتم کی جرح “لایحتج بہ” (میزان الاعتدال ۵۳۹/۲ ت ۴۷۶۷) باسند صحیح نہیں ملی، لہذا یہ جرح امام ابوحاتم سے ثابت ہی نہیں ہے ۔
۳:       سیدنا ابو اسید مالک بن ربیعہ ؓ کی تاریخِ وفات میں سخت اختلاف  ہے ، بعض کہتے ہیں کہ ۳۰؁ھ بعض کہتے ہیں : ۶۰؁ھ یا ۷۰؁ھ یا ۸۰؁ھ یا ۴۰؁ھ دیکھئے تقریب التہذیب (۶۴۳۶) ولإصابۃ (ص ۱۱۵۵،۱۱۵۶)
لہذا بعض الناس کا بالجزم آپ کی وفات ۳۰؁ھ قرار دینا  غلط ہے ۔
طبقہ اربعہ کے راوی ابوالزبیر محمد بن مسلم بن تدرس المکی نے کہا :”سمعت ابا اسید الساعدی و ابن عباس ” إلخ (المعجم الکبیر للطبرانی ۲۶۸/۱۹ ، ۲۶۹ ح ۵۹۵ و سندہ حسن ، وقال الہیثمی فی مجمع الزوائد ۱۱۴/۴ : وإسنادہ حسن)
جب طبقہ اربعہ والے تابعی کا سماع سیدنا ابو اسید ؓ سے صحیح ثابت ہے تو طبقہ ثالثہ والے تابعی کا کیوں ناممکن ہے؟ اس سے بھی “العلامۃ الحافظ الصادق” علی بن محمد المدائنی کے اس قول کی تائید ہوتی ہے کہ سیدنا ابواسید ؓ ۶۰؁ھ میں فوت ہوئے، حافظ ذہبی ؒ کا اس قول کو “وھذا بعید ” کہنا (سیر اعلام النبلاء ۵۳۸/۲) بذاتِ خود بعید اور محلِ نظر ہے ۔
۴:       سیدنا محمد بن مسلمہؓ کی تاریخِ وفات میں بھی اختلاف ہے۔بعض نے ۴۳؁ھ اور بعض نے ۴۶؁ھ اور ۴۷؁ھ کہا ہے دیکھئے تہذیب الکمال (۲۴۰/۱۷) آپ کی صحیح تاریخ وفات نامعلوم ہے۔
یہ کہنا کہ سیدنا محمد بن مسلمہ ؓ ۴۰؁ھ میں فوت ہوگئے تھے ،د عویٰ بلا دلیل ہے۔
اسی طرح بعض الناس کا یہ کہنا کہ “سیدنا محمد بن مسلمہ ؓ ۴۰؁ھ سے پہلے روپوش ہوگئے تھے تھے” غلط ہے۔
۵:       امام لیث بن سعد، امام سعید بن عفیر، امام یحییٰ بن معین اور امام ترمذی وغیرہم نے کہا ہے کہ سیدنا ابوقتادہؓ ۵۴؁ھ میں فوت ہوئے۔ ان ائمہ  کی تردید کرتے ہوئے ایک گستاخ شخص لکھتا ہے کہ :”یہ سب مشرک و کارِ شیطان کرنے والے تھے !”
اس کا یہی جواب ہے کہ “لعنۃ اللہ علی الظالمین” امتِ مسلمہ کے جلیل القدر ثقہ اماموں کو “مشرک” اور “کارِشیطان کرنے والے” کہنے والا شخص گستاخ او رگمراہ ہے۔
۶:        بعض اوقات ایسا ہوتا ہےکہ راوی ایک روایت بیان کرتا ہے ، اس کے بعض شاگرد اسے مکمل مطول اور بعض شاگرد مختصر و ملخص بیان کرتے ہیں۔ مثلاً صحیح بخاری میں مسئي الصلوۃ کی حدیث میں آیا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :
إذا قمت إلی الصلوۃ فکبر” إلخ جب تو نماز کے لئے کھڑا ہوتو تکبیر کہہ…..إلخ
(کتاب الاذان ، باب وجوب القرأۃ للإمام و المأموم ۔۔ح۷۵۷)
اس میں قبلہ رُخ ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے حالانکہ قبلہ رخ ہونا نماز کا رکن اور فرض ہے۔ وضو کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے۔
اس حدیث کی دوسری سند میں آیا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:
إذا قمت إلی الصلوۃ فأسبغ الوضوء ثم استقبل القبلۃ فکبر” إلخ
جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو پورا وضو کر، پھر قبلہ رخ ہوجا ، پس تکبیر کہہ۔ إلخ
(صحیح البخاری، کتاب الاستئذان،باب من رد فقال:علیک السلام ح ۶۲۵۱)
اب اگر کوئی منکرِحدیث یہ شور مچانا شروع کردے کہ پہلی حدیث میں استقبالِ قبلہ اور وضو کا ذکر نہیں ہے ۔ “اور معرضِ بیان میں عدمِ ذکر کتمان ہے جو یہود کا شیوہ ہے “!
تو اس گمراہ و بےوقوف کا شور باطل ومردود ہے۔ اسے سمجھایا جائے گا کہ ایک صحیح روایت میں ذکر ہو اور دوسری صحیح میں ذکر نہ تو عدمِ ذکر نفی ذکر کی دلیل نہیں ہوتا۔ احادیث کی تمام سندیں اور متون جمع کرکے مشترکہ مفہوم پر عمل کرنا چاہئے۔
انور شاہ کشمیری دیوبندی کہتے ہیں کہ:
اعلم أن الحدیث لم یجمع إلا قطعۃ فتکون قطعۃ عند واحد وقطعۃ أخری عند واحد فلیجمع طرقہ و لیعمل بالقدر المشترک ولا یجعل کل قطعۃ منہ حدیثاً مستقلاً
مفہوم :”اور جان لو کہ احادیث کو ٹکڑوں کی صورت میں جمع کیا گیا ہے ۔ پس ایک ٹکڑا ایک راوی کے پاس ہوتا ہے اور دوسرا دوسرے کے پاس، لہذا چاہئے کہ احادیث کی تمام سندیں (اور متون) جمع کرکے حاصلِ مجموعہ پر عمل کیا جائے اور ہر ٹکڑے کو مستقل حدیث نہ بنایا جائے ” (فیض الباری ج ۳ ص ۴۵۵)
احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں کہ :
“صدہا مثالیں اس کی پائے گا کہ ایک ہی حدیث کو رُواۃ بالمعنی کس کس متنوع طور سے روایت کرتے ہیں ، کوئی پوری  ، کوئی ایک ٹکڑا ، کوئی دوسرا ٹکڑا، کوئی کس طرح ، کوئی کس طرح۔ جمع طرق سے پوری بات کا پتہ چلتا ہے”
(فتاوی رضویہ نسخہ جدیدہ ج ۵ ص ۳۰۱)

لہذا جو لوگ شور مچاتے ہیں کہ صحیح بخاری میں سیدنا ابوحمید الساعدی ؓوالی حدیث میں رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین نہیں ہے، ان کا شور غلط اور مردود ہے ۔

ایک اھم نکتہ
صحیح سند سے ثابت ہے کہ سیدنا ابوہریرہؓ شروع نماز ، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔ (جزء رفع الیدین للبخاری : ۲۲ و سندہ صحیح)
اور یہ بھی صحیح ثابت ہے کہ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ شروع نماز ، رکوع سے پہلے ، رکوع کے بعد اور  دو رکعتوں سے اٹھ کر رفع یدین کرتے تھے ۔
(صحیح ابن خزیمہ ج ۱ص ۳۴۴، ۳۴۵ ح ۶۹۴، ۶۹۵ وسندہ صحیح ، وقال الحافظ ابن حجر فی کتابہ موافقۃ الخبر الخبر ۴۰۹،۴۱۰/۱ “ھذا حدیث صحیح”)
ابن جریح نے سماع کی تصریح کردی ہے اور یحییٰ بن ایوب الغافقی پر جرح مردود ہے، وہ جمہور کے نزدیک ثقہ وصدوق راوی ہیں  اور عثمان بن الحکم نے ان کی متابعت کردی ہے ۔ اس روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ “ولا یفعلہ حین یرفع رأسہ من السجود” یعنی آپﷺ سجدے سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین نہیں کرتے تھے۔
صحیح بخاری میں سیدنا ابوہریرہؓ کی نماز کا مفصل ذکر موجود ہے مگر اس میں شروع نماز ، رکوع سے پہلے ، رکوع کے بعد اور رکعتیں (دو رکعتوں) کے بعد کسی رفع یدین کا ذکر موجود نہیں ہے ۔ اس حدیث کے آخر میں لکھا ہوا ہے کہ سیدنا ابوہریرہؓ اپنی نمازکے بارے میں فرماتے :
إن کانت ھذہ لصلاتہ حتی فارق الدنیا” آپﷺ کی یہی نماز تھی حتی کہ آپﷺ دنیا سے چلے گئے۔
(صحیح بخاری مع فتح الباری ج ۲ ص ۲۹۰ ح ۸۰۳)
اس روایت سے معلوم ہواکہ سیدنا ابوہریرہؓ وہی نماز پڑھتے تھے جوکہ نبی اکرمﷺ کی آخری نما ز تھی۔ اب چونکہ آپﷺ کی وفات کے بعد سیدنا ابوہریرہؓ سے موقوفاً و مرفوعاً دونوں طرح شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین ثابت ہے لہذا اس سے خودبخود ثابت ہوگیا کہ آپﷺ وفات تک رفع یدین کرتے تھے۔ جس شخص کو اس سے اختلاف ہے تو اسے چاہئے کہ وہ سیدنا ابوہریرہؓ سے باسند صحیح یا حسن ترکِ رفع یدین کا ثبوت پیش کرے۔ اس استدلال کے بعد “التحقیق الراسخ فی أن أحادیث رفع الیدین لیس لھانا سخ” پڑھنے کا اتفاق ہوا تو بڑی خوشی ہوئی کہ ہمارے استادوں کے استاد (شیخ الشیوخ) حافظ محمد گوندلویؒ نے بھی یہی استدلال کرکے آپﷺ کی وفات تک رفع یدین ثابت کیا ہے ۔ دیکھئے التحقیق الراسخ (ص ۹۰،۹۱ نویں حدیث) والحمدللہ
اگر کوئی شخص یہ کہے کہ سیدنا ابوہریرہؓ سےسجدوں میں بھی رفع یدین ثابت ہے ۔
(بحوالہ سنن ابن ماجہ ص ۶۲ ح ۸۶۰ ومسند احمد ۱۳۲/۲ ح ۶۱۶۳)
تو عرض ہے کہ یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے۔
(۱)       اسماعیل بن عیاش کی غیر شامیین و حجازیین سے روایت ضعیف ہوتی ہے ۔ دیکھئے سنن الترمذی (باب ماجاء فی الجنب والحائض ح ۱۳۱) وتہذیب الکمال (۲۱۴/۲ ۔ ۲۱۷)
(۲)      اسماعیل بن عیاش مدلس ہیں۔ (طبقات المدلسین ۳/۶۸ ، المرتبۃ الثالثہ) اور یہ روایت عن سے ہے ۔

اس ضعیف سند سے استدلال مردود ہے ۔ شیخ البانیؒ کو بڑا وہم ہوا ہے ، انہوں نے بغیر کسی دلیل کے اسے “صحیح” قرار دیا ہے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

۷:       بعض الناس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس حدیث کے متن میں اضطراب ہے ۔ وجہِ اضطراب یہ ہے کہ طحاوی (۱۲۷/۱) و سنن ابی داؤد (ج۱ ص ۱۰۶ ح ۷۳۰) میں تورک کا ذکر ہے لیکن سنن ابی داؤد (ج۱ ص ۱۰۷ ح ۷۳۳) میں تورک کی نفی (ولم یتورک) ہے۔
عرض ہے کہ ولم یتورک والی روایت (سنن ابی داؤد: ۷۳۳) بلحاظِ سند ضعیف ہے جیسا کہ اس مضمون میں گزر چکا ہے ۔ اس کا راوی عیسی بن عبداللہ بن مالک مجہول الحال ہے۔ اسے حافظ ابن حبان کے علاوہ کسی فقہ نے بھی ثقہ نہیں کہا۔ مجہول الحال روای کی روایت سے اضطراب ثابت کرنا ان لوگوں کا کام ہے جو دن رات سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ بعض روایات میں “قالوا جمیعاً صدقت” اور بعض روایات میں ان الفاظ کا نہ ہونا اضطراب کی دلیل نہیں ہے جیسا کہ اسی مضمون میں مفصل و مدلل ثابت کردیا گیا ہے ۔
خلاصہ البحث  و التحقیق:    اس مضمون کی ساری تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ عبدالحمید بن جعفر (ثقہ) کی محمد بن عمرو بن عطاء المدنی (ثقہ) سے سیدنا ابوحمید الساعدی المدنیؓ کی بیان کردہ حدیث بالکل صحیح ہے جس میں آیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ شروع نماز، رکوع سے پہلے  اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے….إلخ

یہ روایت بالکل بے غبار ہے اس میں کسی قسم کا اضطراب نہیں ۔جمہور محدثین نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ صحابہ کرامؓ کی جماعت کااس حدیث کی تصدیق کرنا، اس کی واضح دلیل ہے کہ نبی کریم حضرت محمدِ مصطفیٰ ﷺ وفات تک رفع یدین کرتے تھے۔ وما علینا إلا البلاغ۔                 (۲۹ ربیع الثانی ۱۴۲۶؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.