طاہر القادری صاحب اور رفع یدین کا مسئلہ

 از    December 3, 2014

تحریر:حافظ زبیر علی زئی
الحمدللہ رب العالمین و الصلوٰۃ والسلام علی رسولہ الأمین، أما بعد:

“پی ایچ ڈی” والے ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب نےالمنھاج السوی من الحدیث النبوی کے نام سے ایک کتاب لکھی ہےجس میں بریلوی مسلک کو ثابت کرنے کی پوری کوشش کی ہے ۔ اس کتاب کے صفحہ ۲۲۳ پر انہوں نے “تکبیر اولیٰ کے علاوہ نماز میں رفع یدین نہ کرنے کا بیان” کا عنوان مقرر کرکے رفع یدین کے خلاف چودہ (۱۴) روایات مع حوالہ پیش کی ہیں۔ (ص ۲۲۳ تا ۲۲۹) اس مضمون میں ان روایات پر تبصرہ و تحقیق پیش خدمت ہے ۔

تنبیہ:    عربی عبارات اور بہت سی تخریجات کو اختصار کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے ، صرف روایت نمبر : ۲۹۵/۱۲ کو مع عربی عبارت نقل کیا گیا ہے ۔

طاہر القادی کی پہلی دلیل ( ۲۴۸/۱): “حضرت عمران بن حصینؓ نے فرمایا: انہوں نے حضرت علیؓ کے ساتھ بصرہ میں نماز پڑھی تو انہوں نے ہمیں وہ نمازیاد کروا دی جو ہم رسول اللہ ﷺ کےساتھ پڑھا کرتے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ آپﷺ جب بھی اٹھتے اور جھکتے تو تکبیر کہا کرتے تھے” (صحیح بخاری: ۲۷۱/۱ ح ۸۵۱….)

تبصرہ:   ہمارے نسخہ میں اس روایت کا نمبر ۷۸۴ ہے۔ اس حدیث میں رفع یدین کرنے یا نہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں بلکہ صرف یہی مسئلہ مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ (سجدوں میں) اٹھتے اور جھکتے وقت تکبیر کہا کرتے تھے ۔ تمام اہلِ حدیث کا اس مسئلے پر عمل ہے والحمدللہ

اس روایت میں پہلے رفع یدین کا بھی کوئی ذکر نہیں ہے ۔ اصول میں یہ مسئلہ مقرر ہے کہ ایک روایت میں ذکر ہو اور دوسری میں ذکر نہ ہو تو عدمِ ذکر نفی ذکر کی دلیل نہیں ہوتا۔

ابن الترکمانی (حنفی) لکھتے ہیں کہ:”ومن لم یذکر الشئ لیس بحجۃ علی من ذکرہ” اور جو شخص ذکر نہ کرے اس کی بات اس پر حجت نہیں ہے جو ذکر کرے (الجوہر النقی ج ۴ص ۳۱۷)

احمد رضاخان بریلوی لکھتے ہیں کہ :”اور آگاہی رکھنے والے، آگاہی نہ رکھنے والوں کی بنسبت فیصلہ کن ہوتے ہیں ۔ واللہ اعلم ” (فتاویٰ رضویہ ج ۵ ص ۲۰۸ مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور)

جس طرح اس روایت کو تکبیر اولیٰ والے رفع یدین کے خلاف پیش کرنا غلط ہے اسی طرح اسے رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کے خلاف پیش کرنا بھی غلط ہے ، نیز دیکھئے تیسری دلیل (۲۵۰/۳) مع تبصرہ۔

دوسری دلیل (۲۴۹/۲) : “حضرت ابوسلمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ انہیں نما ز پڑھایا کرتے تھے، وہ جب بھی جھکتے اور اٹھتے تو تکبیر کہتے۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: تم میں سے میری نماز رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے ” (صحیح بخاری : ۲۷۲/۱ ح ۷۵۲ و صحیح مسلم : ۲۹۳/۱ح ۳۹۲…)

تبصرہ:   یہ روایت صحیح بخاری والے ہمارے نسخہ میں نمبر ۷۸۵ پر ہے ۔ صحیح مسلم کے دارالسلام والے نسخہ میں ا سکا  نمبر ۸۶۷ ہے۔

اس روایت میں بھی رفع یدین کے نہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ (سجدوں میں) جھکتے اور اٹھتے وقت تکبیر کہنے کا ذکر ہے لہذا اس روایت کو بھی رفع یدین کے خلاف پیش کرنا غلط ہے۔

فائدہ:    عطاء(بن ابی رباح) فرماتے ہیں کہ : میں نے ابوہریرہؓ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ آپ (نماز کے لئے ) تکبیر کہتے وقت اور رکوع کرتے وقت (اور رکوع سے اُٹھتے وقت) رفع یدین کرتے تھے (جزء رفع الیدین للبخاری بتحقیقی: ۲۲وسندہ صحیح)

تیسری دلیل (۲۵۰/۳):        “حضرت مطرف بن عبداللہ روایت کرتے ہیں: میں اور حضرات عمران ب حصین نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کے پیچھے نماز پڑھی جب انہوں نے سجدہ کیا تو تکبیر کہی جب سر اُٹھایا تو تکبیر کہی اور جب دو رکعتوں سے اُٹھے تو تکبیر کہی۔ جب نماز مکمل ہوگئی تو حضرات عمرا ن بن حصینؓ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:انہوں نے مجھے محمد مصطفیٰ ﷺ کی نماز یاد کر دی ہے ۔ (یا فرمایا (:انہوں نے مجھے محمد مصطفیٰ ﷺ کی نماز جیسی نماز پڑھائی ہے۔” (صحیح بخاری : ۲۷۲/۱ ح ۷۵۳ و صحیح مسلم : ۲۹۵/۱ ح ۳۹۳….)

تبصرہ:    یہ روایت ہمارے نسخہ میں (صحیح بخاری: ۷۸۶ و صحیح مسلم، ترقیم دارالسلام : ۸۷۳) موجود ہے، اس روایت میں بھی رفع یدین نہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ سجدوں اور  دو رکعتوں سے قیام پر تکبیرات کا مسئلہ ہے لہذا اس روایت کو بھی رفع یدین کے خلاف پیش کرنا مردود  ہے ورنہ پھر اس طرزِ استدلال کی وجہ سے تکبیر تحریمہ والا رفع یدین بھی متروک یا منسوخ ہوجائے گا !

فائدہ:     سیدنا علی بن ابی طالبؓ سے روایت  ہے کہ نبی ﷺ نما ز(پڑھنے) کے لئے کھڑے ہوتے وقت، رکوع کو جاتے وقت، رکوع سے اٹھتے وقت اور دو رکعتیں پڑھ کر اُٹھتے وقت رفع یدین کرتے تھے ۔ (جزء رفع الیدین للبخاری: ۱ وسندہ حسن، واللفظ لہ ، سنن الترمذی : ۳۴۲۳ وقال: “حسن صحیح” صحیح ابن خزیمہ : ۵۸۴، وصحیح ابن حبان بحوالہ عمدۃ القاری للعینی ۲۷۷/۵)

چوتھی دلیل:اس حدیث کے راوی عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہؓ کو فرماتے ہوئے سنا  کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے ۔ پھر رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے پھر  سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے جب کہ رکوع سے اپنی پشت مبارک کو سیدھا کرتے پھر سیدھے کھڑے ہو کر رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہتے ۔ پھر جھکتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر سر اُٹھاتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے پھر  سجدے سے سر اُٹھاتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر ساری نماز میں اسی  طرح کرتے یہاں تک کہ پوری ہوجاتی اور جب دو رکعتوں کے آخر میں بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے۔” (صحیح بخاری: ۲۷۲/۱ ح ۷۵۶ و صحیح مسلم: ۲۹۳/۱ ح ۳۹۲)

تبصرہ:    یہ روایت ہمارے نسخہ میں، صحیح بخاری (۷۸۹) وصحیح مسلم (دارالسلام : ۸۶۸) میں موجود ہے۔ اس روایت میں بھی ترک رفع یدین کا کوئی مسئلہ مذکور نہیں ہے بلکہ سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ اور رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کے ساتھ ساتھ تکبیروں کا بیان ہے لہذا اس حدیث کو بھی رفع یدین کے خلاف پیش کرنا غلط ہے۔ محدثین کرام میں سے کسی قابلِ اعتماد محدث نے ایسی روایات کو رفع یدین کے خلاف پیش نہیں کیا۔ حدیث نمبر ۲کے تبصرہ میں راقم الحروف نے ثابت کردیا ہے کہ سیدنا ابوہریرہؓ رکوع سے پہلے اور  بعد رفع یدین کرتے تھے۔ لہذا راوی کے عمل کے بعد اس روایت سے ترکِ رفع یدین کا مسئلہ کشید کرنا راویِٔ حدیث کی صریح مخالفت کے مترادف ہے ۔

پانچویں دلیل (۲۵۲/۵) :       “ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہؓ ہر نماز میں تکبیر کہتے خواہ وہ فرض ہوتی یا دوسری، ماہِ رمضان میں ہوتی یا اس کے علاوہ جب کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے۔ پھر سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ کہتے۔پھر سجدے کرنے سے پہلے رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ کہتے۔ پھر جب سجدے کے لئے جھکتے تو اللہُ اَکْبَر کہتے۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب (دوسرا) سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے ، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب دوسری رکعت کے قعدہ سے اٹھتے تو تکبیر کہتے اور ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہوجاتے۔ پھر فارغ ہونے پر فرماتے: قسم اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! تم سب میں سے میری نماز رسول اللہ ﷺ کی نماز کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے ۔ حضور اکرمﷺ نے تادم وصال اسی طریقہ پر نماز ادا کی۔ ” (صحیح بخاری : ۲۷۶/۱ ح ۷۷۰….)

تبصرہ:    یہ روایت ہمارے نسخۂ صحیح بخاری میں نمبر ۸۰۳ پر  موجود ہے۔

اس حدیث میں بھی سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہُ ،رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ اور تکبیرات کا ذکر ہے لیکن رفع یدین نہ کرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ لہذا ایسی حدیث کو رفع یدین کے خلاف پیش کرنا غلط ہے ۔

حدیث نمبر ۲ کے تبصرہ میں یہ ثابت کردیا گیا ہے کہ سیدنا ابوہریرہؓ رکوع سے پہلے اور  رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے لہذا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کی آخری نماز وہی ہے جو سیدنا ابوہریرہؓ پڑھتے تھے۔ اس طریقۂِ استدلال سے خودبخود ثابت ہوگیا کہ آپﷺ کی آخری نماز رفع یدین والی تھی، آپ سے ترکِ رفع یدین باسند صحیح یا حسن قطعاً ثابت نہیں ہے۔

چھٹی دلیل (۲۵۳/۶):          “حضرت ابوقلابہ سے روایت ہے کہ حضرت مالک بن حویرثؓ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی نماز نہ بتاؤں؟  اور یہ نماز کے معینہ اوقات کے علاوہ کی بات  ہے ۔ سو انہوں نے قیام کیا، پھر رکوع کیا تو تکبیر کہی پھر سر اُٹھایا تو تھوڑی دیر کھڑے رہے۔ پھر سجدہ کیا، پھر تھوڑی دیر سراُٹھائے رکھا پھرسجدہ کیا۔ پھر تھوڑی دیر سر اُٹھائے رکھا۔ انہوں نے ہمارے ان بزرگ حضرت عمرو بن سلمہ کی طرح نماز پڑھی۔ ایوب کا بیان ہے کہ وہ ایک ایسا کام کرتے جو میں نے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ وہ دوسری اور چوتھی رکعات میں بیٹھا کرتے تھے۔ فرمایا: ہم حضور نبی اکرمﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپﷺ کے پاس ٹھہرے رہے۔ آپﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ تو فلاں نما زفلاں وقت میں پڑھنا۔ جب نما زکا وقت ہوجائے تو تم میں سے ایک اذان کہے اور جو بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔” (صحیح بخاری : ۲۸۲/۱ ح ۷۸۵)

تبصرہ:    یہ روایت ہمارے نسخۂِ صحیح بخاری میں نمبر ۸۱۸، ۸۱۹ پر موجود  ہے۔

اس حدیث میں بھی رفع یدین نہ کرنے کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے جبکہ طاہرالقادری صاحب کے استدلال کے سراسر برعکس ابوقلابہ (تابعی) رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (سیدنا) مالک بن الحویرثؓ کو شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع  کے بعد رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا اور فرمایا کہ رسو ل اللہ ﷺ بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
                                        (صحیح البخاری: ۷۳۷ و صحیح مسلم : ۳۹۱ وترقیم دارالسلام : ۸۶۴ واللفظ لہ)

آپ نے دیکھ لیا کہ اس متفق علیہ حدیث سے دو مسئلے ثابت ہیں۔

۱:        رسول اللہ ﷺ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔
۲:        رسول اللہﷺ کی وفات کے بعد ابوقلابہ تابعی کے سامنے سیدنا مالک بن الحویرثؓ رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والا رفع یدین کرتے تھے۔

لہذا جو لوگ ترکِ رفع یدین یا منسوخیتِ رفع یدین کے دعویدار ہیں، ان کا دعویٰ باطل ہے۔

قارئین کرام! آپ نے دیکھ لیا کہ طاہرالقادری صاحب نے نمبر بڑھانے کے لئے چھ غیر متعلقہ ، عدمِ ذکر والی روایات پیش کی ہیں جن کا ترکِ رفع یدین کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

اب ان کی پیش کردہ دوسری روایات پر تبصرہ پیشِ خدمت ہے۔

ساتویں دلیل (۲۵۴/۷) :       “حضرت علقمہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اکرمﷺ کی نماز نہ پڑھاؤں؟ راوی کہتے ہیں ک: پھر انہوں نے نماز پڑھائی اور ایک مرتبہ کے سوا اپنے ہاتھ نہ اُٹھائے “۔ امام نسائی کی بیان کردہ روایت میں ہے :”پھر انہوں نے ہاتھ نہ اُٹھائے” (ابوداؤد: ۲۸۶/۱ ح ۷۴۸، ترمذی: ۲۹۷/۱ح ۲۵۷ ، نسائی : ۱۳۱/۲ ح ۱۰۲۶ ، السنن الکبریٰ للبیہقی : ۲۲۱/۱، ۳۵۱ ح ۶۴۵، ۱۰۹۹، مسند احمد: ۳۸۸/۱ ، ۴۴۱، مصنف ابن ابی شیبہ: ۲۱۳/۱ح ۲۴۴۱)

تبصرہ:    ان تمام کتابوں میں یہ روایت “سفیان الثوري عن عاصم بن کلیب عن عبدالرحمٰن بن الأسود عن علقمۃ” کی سند سے مروی ہے ۔ امام سفیان ثوریؒ مشہور مدلس  ہیں۔

ابن الترکمانی (حنفی) نے کہا:”الثوري مدلس” یعنی ثوری مدلس ہیں۔ (الجوہر النقی ج ۸ ص ۲۶۲)

عینی حنفی نے کہا: سفیان مدلسین میں سے ہیں اور مدلس کی عن والی روایت سے حجت نہیں پکڑی جاتی الایہ کہ اس کے سماع کی تصریح دوسری سند سے ثابت ہوجائے (عمدۃ القاری ج ۳ ص ۱۱۲ تحت ۲۱۴) یہی بات قسطلانی نے بھی لکھی ہے (ارشاد الساری ج ۱ص ۲۸۶)

محمد عباس رضوی بریلوی لکھتے ہیں کہ :”یعنی سفیان مدلس ہے اور یہ روایت انہوں نے عاصم بن کلیب سے عن کے ساتھ کی ہے اور اصولِ محدثین کے تحت مدلس کا عنعنہ غیر مقبول ہے جیساکہ آگے انشاء اللہ بیان ہوگا”
                                        (مناظرے ہی مناظرے ص ۲۴۹ مطبوعہ : مکتبہ جمال کرم دربار مارکیٹ لاہور)

احمد رضا خان بریلوی صاحب لکھتے ہیں کہ :”اور عنعنہ مدلس جمہور محدثین کے مذہب مختار ومتعمد میں مردود و نامستند ہے” (فتاویٰ رضویہ ج ۵ ص ۲۴۵طبعہ محققہ)

احمد رضاخان صاحب مزید فرماتے ہیں کہ:”اور عنعنہ مدلس اصول محدثین پر نامقبول ہے”
                                                                      (فتاویٰ رضویہ ج ۵ ص ۲۶۶)

ان حوالوں سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کی پیش کردہ یہ روایت غیر مقبول، نا مقبول اور مردود ہے ۔

آٹھویں دلیل (۲۵۵/۸):        “حسن بن علی، معاویہ ، خالد بن عمرو اور ابوحذیفہ روایت کرتے ہیں کہ سفیان نے اپنی سند کے ساتھ ہم سے حدیث بیان کی (کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے) پہلی دفعہ ہی ہاتھ اُٹھائے اور بعض نے کہا : ایک ہی مرتبہ ہاتھ اُٹھائے ” (ابوداؤد : ۲۸۶/۱ ح ۷۴۹)

تبصرہ:    یہ روایت      بھی سفیان ثوری کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے ، دیکھئے حدیث نمبر ۲۵۴/۷ کا تبصرہ، یاد رہے کہ ابوحذیفہؓ وغیرہ صحابی نہیں بلکہ راویانِ حدیث تھے۔

نویں دلیل (۲۵۶/۹): “حضرت براء بن عازبؓ روایت کرتے ہیں کہ : حضور نبی اکرمﷺ جب نماز شروع کرتے تو اپنےہاتھ دونوں کانوں تک اُٹھاتے  ، اور پھر ایسا نہ کرتے”
(ابوداؤد : ۲۸۷/۱ ح ۷۵۰ و مصنف عبدالرزاق: ۷۰/۲ح ۲۵۳۰ و مصنف ابن ابی شیبہ : ۲۱۳/۱ ح ۲۴۴۰ و سنن الدارقطنی: ۲۹۳/۱ و شرح معانی الآثار للطحاوی: ۲۵۳/۱ ح ۱۱۳۱)

تبصرہ:    اس روایت کا  بنیادی راوی یزید بن ابی زید الکوفی ہے ۔ اس کے بارے میں محدث دارقطنی نے فرمایا:”ضعیف یخطئ کثیراً” وہ ضعیف تھا اور بہت زیادہ غلطیاں کرتا تھا (سوالات البرقانی للدارقطنی : ۵۶۱) بیہقی نے فرمایا:”غیر قوي” وہ قوی نہیں تھا  (السنن الکبریٰ ج ۲ ص ۲۶)

حافظ ابن حجر نے فرمایا: “والجمھور علیٰ تضعیف حدیثہ” اور جمہور اس کی حدیث کو ضعیف کہتے ہیں (ہدي الساری ص ۴۵۹) بو صیری نے کہا:”وضعفہ الجمھور” اور جمہور نے اسے ضعیف قرار دای ہے (زوائد سنن ابن ماجہ : ۲۱۱۶)

اسماء الرجال کے مشہور امام یحییٰ بن معینؒ (متوفی ۲۳۳؁ھ) اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ :”یہ روایت صحیح السند نہیں ہے ” (تاریخ ابن معین، روایۃ الدوری ج ۳ ص ۲۶۴ رقم : ۱۲۳۹)

ڈاکٹر صاحب کو اس قسم کی کمزور اور کچی روایت پیش کرنی نہیں چاہئے تھی۔

دسویں دلیل (۲۵۷/۱۰):       “حضرت اسود روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ صرف تکبیرِ تحریمہ کے وقت ہاتھ اُٹھاتے تھے، پھر نماز میں کسی اور جگہ ہاتھ نہ اُٹھاتے اور یہ عمل حضور نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا کرتے۔”
                                                            (أخرجہ الخوارزمی فی جامع المسانید ۳۵۵/۱)

تبصرہ:    طاہر القادری صاحب کی تخریج سے معلوم ہوا کہ اس روایت کو “رواہ أبوحنیفۃ” امام ابوحنیفہؒ نے روایت کیا ہے ، کہنا غلط ہے۔ اسے خوارزمی (متوفی ۶۶۵؁ھ) نے “أبو محمد البخاري عن رجاء بن عبداللہ النھشلي عن شقیق بن إبراھیم عن أبي حنیفۃ…..” کی سند سے روایت کیا ہے (جامع المسانید ج ۱ ص ۳۵۵)

ابو محمد عبداللہ بن محمد بن یعقوب البخاری الحارثی کے بارے میں ابو احمد الحافظ (حاکم کبیر) نے فرمایا :”کان عبداللہ بن محمد بن یعقوب الأسناد ینسج الحدیث” استاد عبداللہ بن محمد یعقوب حدیثیں بناتا تھا۔
                              (کتاب القرأت للبیہقی ص ۱۷۸ رقم : ۳۸۸ دوسرا نسخہ ص ۱۵۵،۱۵۴ و سندہ صحیح)

اس شخص کی توثیق کسی نے نہیں کی ۔ اس پر شدید جرحوں کے لئے دیکھئے میزان الاعتدال (ج۲ ص ۴۹۶) ولسان المیزان (۳۴۹،۳۴۸/۳) والکشف الحثیث عمن رمي  بوضع الحدیث (ص ۲۴۸)

حافظ ذہبی نے اسے دیوان الضعفاء و المتروکین میں ذکر کیا ہے (۱۷۶ رقم: ۲۲۹۷)

رجاء بن عبداللہ النہشلی کے حالات اور شخصیت نامعلوم ہے۔

ثابت ہوا کہ یہ روایت موضوع (من گھڑت) ہے۔ امام  ابوحنیفہؒ سے ثابت ہی نہیں ہے لہذا اسے “رواہ أبوحنیفۃ” کہنا بہت بڑی غلطی ہے۔

گیارہویں غلطی (۲۵۸/۱۱):      “حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں : میں نے حضور اکرمﷺ اور ابوبکرؓ و  عمرؓ کے ساتھ نماز پڑھی، یہ سب حضرات صرف نماز کے شروع میں ہی اپنے ہاتھ بلند کرتے تھے۔”
          (سنن الدارقطنی ۲۹۵/۱ ، مسند ابی یعلیٰ ۴۵۳/۸ ح ۵۰۳۹ ، السنن الکبریٰ للبیہقی ۷۹/۲ ، مجمع الزوائد ۱۰۱/۲)

تبصرہ:    اس روایت کا بنیادی راوی محمد بن جابر جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے ۔ زیلعی حنفی فرماتے ہیں کہ :”ومحمد بن جابر: ضعیف” اور محمد بن جابر ضعیف ہے ۔ (نصب الرایہ ج ۱ ص ۶۱)

جو راوی خو د حنفیوں کے نزدیک بھی ضعیف ہے اس کی روایت ڈاکٹر صاحب کیوں پیش کر رہے ہیں؟

یہ روایت امام دارقطنیؒ الدارقطنی میں روایت کرنے کے بعد فرماتے ہیں:”تفرد بہ محمد بن جابر وکان ضعیفاً” اس کے ساتھ  محمد بن جابر منفرد (اکیلا) ہے اور وہ ضعیف تھا (ج۱ ص ۲۹۵ ح ۱۱۲۰)

مسند ابی یعلیٰ کے محقق حسین سلیم اسد نے لکھا :”إسنادہ ضعیف” اس کی سند ضعیف ہے (۴۵۳/۸) یاد رہے کہ اسی نسخے کا حؤالہ ڈاکٹر صاحب نے دے رکھا ہے ۔

امام بیہقی نے یہ روایت ذکرکرکے امام دارقطنیؒ سے نقل کیا کہ محمد بن جابر ضعیف تھا (السنن الکبریٰ ج ۲ ص ۷۹، ۸۰)

امام بیہقیؒ بذاتِ خود دوسری جگہ محمد بن جابر الیمامی کو ضعیف لکھتے ہیں (السنن الکبریٰ ج ۱ ص ۱۳۴،۱۳۵)

حافظ ہیثمی نے یہ حدیث مجمع الزوائد میں ذکر کر کے فرمایا :”رواہ أ بو یعلیٰ وفیہ محمد بن جابر الحنفي الیمامي وقد اختلط علیہ حدیثہ وکان یلقن فیتلقن” اسے ابو یعلیٰ نے روایت کیا اور اس میں محمد بن جابر حنفی (قبیلہ بنو حنیفہ کا ایک فرد) یمامی ہے۔ اس کی حدیث اُس پر گڈمڈ ہوگئی تھی اور وہ تلقین قبول کرلیتا تھا (یعنی پنجابی زبان کا “لائی لگ” تھا) (ج۲ ص ۱۰۱)

پنجابی کا لفظ “لائی لگ” میں نے برادر محترم مولانا محمد حسین ظاہری اوکاڑوی حفظہ اللہ سے سیکھا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ لفظ مقلّد کا صحیح ترجمہ ہے۔

حافظ ہیثمی دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ :”وفیہ محمد بن جابر السحیمي وھو ضعیف” اور اس میں محمد بن جابر السحیمی (الیمامی) ضعیف ہے (مجمع الزوائد ج ۲ ص ۲۸۸باب ماجاء فی القود و القصاص و من لا قود علیہ)

آپ نے دیکھ لیا کہ اس روایت کے راوی کو ذکر کرنے والے محدثین بھی ضعیف ہی کہتے ہیں لیکن پھر بھی ڈاکٹر صاحب ایسی کمزور روایت اپنے استدلال میں پیش کررہے ہیں۔

اس روایت کے بارے میں امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں:”ھذا حدیث منکر” یہ حدیث منکر ہے۔
                                                                      (المسائل، روایۃ عبداللہ بن احمد ۲۴۲/۱ ت ۳۲۷)

بارہویں دلیل (۲۵۹/۱۲):       “عن سالم عن أبیہ قال: رأیت رسول اللہ ﷺ إذا افتح الصلوٰۃ رفع یدیہ حتی یحاذی بھما، وقال بعضھم: حذو منکبیہ ، وإذأ راد أن یرکع وبعدما یرفع رأسہ من الرکوع، لا یرفعھما وقال بعضھم: ولا یرفع بین السجدتین، رواہ أبو عوانۃ“۔
حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اُٹھایا ، اور جب آپ ﷺ رکوع کرنا چاہتے اور رکوع سے سر اُٹھاتے تو ہاتھ نہیں اُٹھاتے تھے اور بعض نے کہا دونوں سجدوں کے درمیان (ہاتھ) اُٹھاتے تھے۔ (ابوعوانہ ۴۲۳/۱ ح ۱۵۷۲)

تبصرہ:    یہ روایت مسند ابی عوانہ کے دو قلمی نسخوں میں درج ذیل الفاظ کے ساتھ موجود ہے ۔ “عن سالم عن أبیہ قال: رأیت رسول اللہ ﷺ إذا افتتح الصلوٰۃ رفع یدیہ حتی یحاذی بھما وقال بعضھم حذو منکبیہ وإذا أراد أن یرکع و بعد ما یرفع رأسہ من الرکوع ولا یرفعھما وقال بعضھم ولا یرفع بین السجدتین والمعنی واحد
ان میں ایک قلمی نسخہ ہمارے استاد محترم پیر جھنڈا شیخ الاسلام ابوالقاسم محبّ اللہ شاہ راشدیؒ کے کتب خانہ سعیدیہ میں موجود ہے اور دوسرا نسخہ (عکس) مدینہ یونیورسٹی میں موجود ہے ، دیکھئے میری کتاب “نور العینین فی اثبات رفع الیدین” (طبع سوم ص ۶۹،۲۶۳) اور انوار خورشید دیوبندی کی کتاب “حدیث اور اہلِ حدیث ” (طبع خامس عشر، جون ۲۰۰۳؁ھ ص ۹۱۲)

طاہر القادری صاحب نے اس حدیث کا ترجمہ غلط کیا ہے جبکہ صحیح ترجمہ درج ذیل ہے:

“سالم اپنے ابا (عبداللہ بن عمرؓ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے رفع یدین کرتے حتیٰ کہ دونوں (ہاتھ) برابر ہوجاتے اور بعض نے کہا : آپ کے کندھوں کے برابر ہوجاتے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے اور رکوع سے سر اُٹھانے کے بعد (رفع یدین کرتے تھے) اور دونوں (ہاتھ ) نہیں اُٹھاتے تھے اور بعض نے کہا: اور سجدوں کے درمیان نہیں اُٹھاتے تھے اور معنی ایک ہے۔”معلوم ہوا کہ “لا یرفعھما” کا تعلق “بین السجدتین” سے ہے “من الرکوع” سے نہیں ہے ۔والمعنی واحد” کے الفاظ بھی صاف صاف اسی کی تائید کررہے ہیں۔ مگر صد افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے دیوبندیوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس روایت کو رفع یدین کے خلاف پیش کردیا ہے حالانکہ یہ حدیث رفع یدین کے اثبات کے ساتھ “سالم عن أبیہ” کی سند سے صحیح بخاری (۷۳۶) و صحیح مسلم (ح ۳۹۰ ترقیم دارالسلام : ۸۶۱) میں موجود ہے۔

محدث ابوعوانہ الاسفرائنی والی روایت میں ان کے تین استادوں کے نام مذکور ہیں۔
عبداللہ بن ایوب المخرمی، سعدان بن نصر اور شعیب بن عمرو (دیکھئے ج ۲ ص ۹۰)

سعدان بن نصر کی روایت السنن الکبریٰ للبیہقی میں “ولا یرفع بین السجدتین” اور آپ سجدوں کے درمیان رفع یدین نہیں کرتے تھے (۶۹/۲) کے الفاظ سے موجود ہے۔ جبکہ “سالم عن أبیہ” والی یہی روایت صحیح مسلم میں “ولا یرفعھما بین السجدتین” اور آپ دونوں ہاتھ سجدوں کے درمیان نہیں اُٹھاتے تھے (ج ۳۹۰ وترقیم دارالسلام : ۸۶۱) کے الفاظ سے موجود ہے۔ ابوعوانہؒ نے راویوں کے درمیان الفاظ کے اس اختلاف “ولا یرفعھما” اور “ولا یرفع” کو جمع کرکے “والمعنیٰ واحد” کہہ کر یہ ثابت کردیا ہے کہ رفع یدین نہ کرنے کا تعلق سجدوں کے درمیان سے ہے ، رکوع کے بعد سے نہیں ہے۔

معلوم ہوا کہ “ولا یرفعھما“کو رکوع  سے پہلے اور بعد والے رفع یدین سے ملا دینا غلط ہے ۔ تفصیلی بحث کے لئے میری کتاب “نور العینین” دیکھیں (ص ۶۸تا ۷۱)

تیرھویں دلیل (۲۶۰/۱۳):      “حضرت اسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطابؓ کو نماز ادا کرتے دیکھا ہے ۔ آپؓ تکبیرِ تحریمہ کہتے وقت دونوں ہاتھ اُٹھاتے ، پھر (بقیہ نماز میں ہاتھ) نہیں اُٹھاتے تھے۔ ” (شرح معانی الآثار للطحاوی : ۲۹۴/۱ح ۱۳۲۹)

تبصرہ:    ڈاکٹر صاحب کے پاس مرفوع حدیثیں ختم ہوگئیں۔ اب انہوں نے آثار پیش کرنے شروع کردیئے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کے اس پیش کردہ اثر کے ایک راوی ابراہیم بن یزید النخعیؒ ہیں جو کہ مدلس تھے۔
(دیکھئے معرفۃ علوم الحدیث للحاکم ص ۱۰۸، أسماء من عرف بالتدلیس للسیوطی : ۱، کتاب المدلسین لابی زرعۃ ابن العراقی : ۲ ، التبیین لأسماء المدلسین لسبط ابن العجمی: ۲)

یہ روایت عن سے ہے لہذا ضعیف ہے ۔ دیکھئے ساتویں دلیل (۲۵۴/۷) پر تبصرہ۔

اس کے برعکس سیدنا عمرؓ سے شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والا رفع یدین ثابت ہے ۔ دیکھئے شر ح سنن الترمذی لابن سیدالناس (قلمی ج ۲ ص ۲۱۷) و نور العینین (ص ۱۸۸) اس کی سند حسن ہے۔

سیدنا عمر ؓ کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے رکوع  سے پہلے اور بعد والا رفع یدین ثابت ہے (دیکھئے صحیح بخاری : ۷۳۹) بلکہ آپ جس شخص کو دیکھتے کہ رکوع سے پہلے اور بعد  والا رفع یدین نہیں کرتا تو اسے کنکریوں سے مارتے تھے (جزء رفع الیدین للبخاری بتحقیقی: ۱۵ و سندہ صحیح)

لہذا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ان کے والد سیدنا عمرؓ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔

ان کے علاوہ درج ذیل صحابہ کرام سے بھی رفع یدین ثابت ہے :

۱۔        مالک بن الحویرثؓ(صحیح بخاری : ۳۷۳ و صحیح مسلم : ۸۶۴/۳۹۱)
۲۔       ابوموسیٰ الاشعریؓ (مسائل الامام احمد، روایۃ صالح بن أحمد بن حنبل، قلمی ص ۱۷۴ و سندہ صحیح)
۳۔       عبداللہ بن الزبیرؓ(السنن الکبریٰ للبیہقی ۷۳/۲ و سندہ صحیح)
۴۔       ابوبکر صدیقؓ (السنن الکبریٰ للبیہقی ۷۳/۲ و سندہ صحیح)
۵۔       ابوہریرہؓ (جزء رفع الیدین للبخاری : ۲۲وسندہ صحیح ، نیز دیکھئے ۳۴۹/۲ کا تبصرہ)
۶۔       عبداللہ بن عباسؓ (مصنف ابن ابی شیبہ ۲۳۵/۱)
۷۔       انس بن مالکؓ (جزء رفع الیدین للبخاری : ۲۰ و سندہ صحیح)
۸۔       جابر بن عبداللہ الانصاریؓ (مسند السراج ص ۶۳،۶۲ ح ۹۲ و سندہ حسن)

مشہور تابعی سعید بن جبیرؒ فرماتے ہیں کہ : صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین) شروع نماز، رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اُٹھانے کے بعد رفع یدین کرتے تھے (السنن الکبریٰ للبیہقی ج ۲ص ۷۵ وسندہ صحیح)

منکرینِ رفع یدین، آثار کے معاملے میں بھی بالکل تہی دامن ہیں۔

چودہویں اور آخری دلیل (۲۶۱/۱۴):        “عاصم بن کلیب اپنے والد کلیب سے روایت کرتے ہیں: حضرت علیؓ صرف تکبیرِ تحریمہ میں ہی ہاتھوں کو اُٹھاتے تھے پھر دورانِ نماز نہیں اُٹھاتے تھے ” (ابن ابی شیبہ ۲۱۳/۱ح ۲۴۴۴)

تبصرہ:    یہ بھی مرفوع حدیث نہیں بلکہ ایک غیر ثابت شدہ اثر ہے اور ڈاکٹر صاحب کی اس کتاب میں آخری دلیل ہے ۔
                                                                      (دیکھئے المنھاج السوی من الحدیث النبوی ص ۲۲۹)

اس اثر کو کسی قابلِ اعتماد محدث نے صحیح نہیں کہا جب کہ امام احمد نے اس پر جرح کی ہے (دیکھئے المسائل ، راویۃ عبداللہ بن احمد ۲۴۳/۱ ت ۳۲۹)

امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ :”فلم یثبت عند أحد منھم علم فی ترک رفع الأیدي عن النبیﷺ ولا عن أحد من أصحاب النبي ﷺ أنہ لم یرفع یدیہ” ان (علماء) میں سے کسی ایک کے پاس بھی ترکِ رفع یدین کا علم نہ تو نبیﷺ سے (ثابت ) ہے اور نہ نبیﷺ کے کسی صحابی سے کہ اس نے رفع یدین نہیں کیا۔                                      (جزء رفع الیدین : ۴۰) 

معلوم ہوا کہ امام بخاریؒ کے نزدیک یہ روایت ثابت نہیں ہے ۔ ابن الملقن (متوفی ۸۰۴؁ھ) فرماتےہیں کہ:فأثر علی رضی اللہ عنہ ضعیف لا یصح عنہ  و ممن ضعفہ البخاري” پس علیؓ (سے منسوب) والا اثر ضعیف ہے ۔ آپ سے صحیح ثابت نہیں ہے ، اسے ضعیف کہنے والوں میں امام بخاریؒ بھی ہیں (البدر المنیرج ۳ ص ۴۹۹) اس کے برعکس سیدنا علیؓ سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ رکوع سے پہلے اور بعد رفع یدین کرتے تھے۔ دیکھئے تیسری دلیل (۲۵۰/۳) کا تبصرہم اس روایت کو امام احمد بن حنبلؒ نے “صحیح” قرار دیا ہے ۔ (علل الخلال بحوالہ البدر المنیر ۴۶۶/۳)

آپ نے دیکھ لیا کہ رفع یدین کے خلاف طاہر القادری صاحب نے تین قسم کی روایات پیش کی ہیں:
۱۔        غیرمتعلق روایات               ۲۔       ضعیف روایات                 ۳۔ ضعیف آثار

جبکہ صحیح احادیث و آثار سے رفع یدین (قبل الرکوع و بعدہ) کا کرنا ہی ثابت ہے ۔ غالباً اسی وجہ سے شاہ ولی اللہ الدہلوی فرماتے ہیں کہ :”والذی یرفع أحب إلي ممن لا یرفع” إلخ اور جو شخص رفع یدین کرتا ہے وہ مجھے اس شخص سے زیادہ محبوب ہے جو رفع یدین نہیں کرتا (حجہ اللہ البالغہ ج ۲ ص ۱۰، اذکار الصلوٰۃ وہیآتھا المندوب إلیھا)

یہ قول بطورِ الزام پیش کیا گیا ہے ۔ قارئین کرام سے درخواست ہے کہ اگر وہ مزید تحقیق کرنا چاہتے ہیں تو جزء رفع الیدین للبخاری، نور العینین فی اثبات رفع الیدین اور البدر المنیر لابن الملقن کی طرف رجوع کریں۔  وما علینا إلا البلاغ (۸ محرم ۱۴۲۷؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.