ضعیف ، موضوع اور مردود روایات اور ان کا رد (پہلا حصہ)

 از    September 2, 2014

تصنیف : ابو عبدالرحمٰن الفوزی
  ترجمہ: جناب صدیق رضا 
ارشاد باری تعالیٰ ہے :﴿ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۹ بےشک ہم نے اس ذکر کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں (الحجر:۹)
یہ وعدہ الٰہی سنت نبوی ﷺ کو بھی شامل ہے اس لئےکہ سنت قرآن کریم (ذکر) کے لئے بیان و تفسیر ہے ، اور سنت شریعت میں بہت زیادہ قدرو منزلت ہے، پس سنت کے امر کا التزام شریعت کا التزام ہے، اللہ رب العالمین کے اس فرمان کی وجہ سے کہ ﴿مَنۡ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰہَ ۚ جس نے رسول اللہ (ﷺ) کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی(النسآء:۸۰)یقیناً  اہل الرائے(اہل بدعت) اور اپنے مذہب کے لئے متعصب بعض کینہ پرور اور بیمار دل والوں نے ایسی کوششیں کیں جو کسی بھی محترم انسان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف غلط باتیں منسوب کریں، ایسے لوگوں کے لئے سخت وعید ہے کہ:

 نبی کریم ﷺ نے فرمایا:”من کذب علي متعمداً فلیتبوأ مقعدہ من النار  کہ جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھا اس کا ٹھکانا جہنم ہے (بخاری: ۱۰۷)

لیکن اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے بعض اہل علم کو یہ توفیق بخشی کہ وہ شریعت مطہرہ سے اس قسم کے لوگوں کو دسیسہ کاریوں کو دور کردیں۔ جو بعض لوگوں نے رسول اللہ ﷺ پر گھڑ ی ہیں۔
تو ان اہل علم نے صحیح اور ضعیف کو واضح کردیا، اللہ کا یہ وعدہ پورا ہوا اور سنت محفوظ ہوگئی اور سنت کی حفاظت سے قرآنی احکام بھی محفوظ ہوگئے۔ (تلخیص از مقدمۃ الکتاب)

اسی سلسلے میں الشیخ ابو عبدالرحمٰن فوزی بن عبداللہ بن محمد/ البحرین، بلاد العرب نے ایک کتابتبصرۃ أولی الأحلام من قصص فیھا کلامترتیب دی ہے جس میں قصہ گو لوگوں کے من گھڑت واقعات کی حقیقت واضح کی گئی ہے جس کا ترجمہ محترم جناب صدیق رضا صاحب نے کیا ہے اللہ تعالیٰ ان دونوں کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔(آمین)۔ (حافظ ندیم ظہیر)

سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالٰی عنہ اور اجتہاد کا قصہ

پہلا قصہ: سیدنا معاذ بن جبلؓ کا قصہ کہ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن بھیجنے کا ارادہ فرمایا (تو اس وقت ان سے پوچھا):”کیف تقضي إذا عرض لک قضاء؟ قال: أقضي بکتاب اللہ قال: فإن لم تجد في سنۃ رسول اللہ ولا في کتاب اللہ؟ قال:اجتھد رأي ولا آلوا، فضرب رسول اللہ ﷺ صدرہ وقال:الحمدللہ الذي وفق رسول رسول اللہ لما یرضی رسول اللہجب آپ کو کوئی قضیہ پیش آئے گا تو آپ کس طرح فیصلہ کریں گے؟ عرض کیا کہ: میں کتاب اللہ کے ذریعے فیصلہ کروں گا، فرمایا: اگر آپ کتاب اللہ میں (اس قضیہ کا حل) نہ پائیں؟ تو عرض کیا کہ میں اللہ کے رسول ﷺ کی سنت سے فیصلہ کروں گا، فرمایاکہ اگر آپ سنتِ رسول ﷺ میں بھی ( اس کا حل ) نہ پائیں؟ تو عرض کیا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ، اور کوئی کوتاہی نہیں کروں گا، اس پر رسول اللہ ﷺ نے ان کے سینے پر (اپنا بابرکت ہاتھ) مارا اور فرمایا: اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول (ﷺ) کے قاصد کو اس بات کی توفیق مرحمت فرمائی جس پر اللہ کا رسول (ﷺ) راضی ہے ۔(منکر، یعنی یہ روایت ضعیف ہے )

تخریج:   اس روایت کو ابوداؤد نے اپنی سنن (ج۳ ص ۳۰۳ ح ۳۵۹۲،۳۵۹۳) ترمذی نے اپنی سنن (ج۳ ص ۶۰۷ ح ۱۳۲۷،۱۳۲۸) احمد نے مسند (ج۵ ص ۲۳۰ ح ۳۲۰۰۷) اور بیہقی نے سنن الکبریٰ (ج۱۰ص ۱۱۴) اور المدخل (ص ۲۰۸ تا ۲۰۹ ح ۲۵۶) ابوداؤد الطیالسی نے مسند (ص ۷۶ ح ۵۵۹) دارمی نے سنن (ج۱ ص ۱۱۶ ح ۲۵۰۹) ابن ابی شیبۃ نے المصنف (ج۷ ص ۲۳۹ ح ۲۰۲۹۷۸) اور جوزقانی نے الاباطیل (ج۱ ص ۱۰۵، ۱۰۶ ح ۱۰۱) اور عبد بن حمید نے المنتخب (ص ۷۶ ح ۱۲۴) اور ابن الجوزی نے العلل المتناہیۃ (ج۲ ص۷۵۸ ح ۱۲۶۴)، خطیب بغدادی نے الفقیہ و المتفقہ (ج۱ ص ۱۵۵، ۱۸۸، ۱۸۹) ، العقیلی نے ”الضعفاء الکبیر“ (ج۱ ص ۲۱۵ ح ۲۶۲) طبرانی نے ”المعجم الکبیر“ (ج۲۰ ص ۱۷۰ ح ۳۶۲) اور المزی نے ”تہذیب الکمال“ (ج۱ ص ۱۲۱۷ المخطوط) اور ابن عبدالبر نے ”جامع بیان العلم“ (ص ۳۵۹، ۳۶۰) اور (محمد بن خلف) وکیع نے ”أخبار القضاۃ“ (ج۱ ص ۹۷،۹۸) او ابن سعد نے ”الطبقات الکبریٰ“ (ج۲ ، ص ۳۴۷،۳۴۸) میں متعدد (بہت سے ) طریق سے بیان کیا کہ”عن شعبۃ قال: أخبري أبوعون الثقفي قال: سمعت الحارث بن عمرو یحدث عن أصحاب معاذ من أھل حمص عن معاذ بن جبلؓ أن رسول اللہ ﷺ لما بعثہ إلی الیمن قال لہ، فذکرہ
میں (الفوزی الاثری ) نے کہا: اور یہ سند ضعیف ہے اس کی دو علتیں ہیں:
اول:الحارث بن عمرو مجہول ہے۔
دوم:اصحاب معاذ یعنی معاذؓکے ساتھیوں کی جہالت (ان کا مجہول ہونا)۔
دیکھئے ابن حجر کی التہذیب (ج۲ ص ۱۳۲) اور انہی کی تقریب التہذیب (ص ۱۴۷ رقم : ۱۰۳۹)
امام بخاریؒ نے التاریخ الکبیر (ج۲ ص ۲۷۷) میں فرمایا کہ: الحارث بن عمرو بن أخی المغیرہ بن شعبۃ الثقفی نے اصحاب معاذ سے اور انہوں نے معاذؓسے (اور ) روایت کیا ان سے ابوعون نے، تو یہ صحیح نہیں اور معروف نہیں یہ روایت مگر اس مرسل سند سے : إلخ۔

امام ترمذیؒ نے فرمایا: اس حدیث کو ہم جانتے مگر اس سند سے اور  میرے نزدیک اس کی اسناد متصل نہیں: إلخ۔

امام جوزقانی نے فرمایا: یہ حدیث باطل ہے ۔

امام ابن الجوزی نے فرمایا: یہ حدیث صحیح نہیں اگر چہ تمام (!) فقہاء اس روایت کو اپنی کتب میں بیان کرتے ہیں اور ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں اور قسم ہے مجھے کہ اگر چہ اس کے معنی درست ہے، (لیکن) بات یہ ہے کہ اس کا ثبوت معروف نہیں۔ اس لئے کہ الحارث بن عمرو مجہول ہے اور معاذؓ کے اصحاب (ساتھی) اہل حمص میں تو وہ پہچانے نہیں جاتے (معروف نہیں ہیں مجہول ہیں) اور نہ ہی اس کا طریق (معروف ہے) پس اس حدیث کے ثبوت کی کوئی وجہ نہیں۔

          امام ذہبیؒ فرماتے ہیں: ابو عون محمد بن عبیداللہ الثفقی نے اس روایت کو الحارث بن عمرو الثقفی…..سے بیان کرنے میں تفرد کیا اور ابوعون کے علاوہ الحارث سے کسی نے روایت نہیں کیا اور الحارث…مجہول ہے ۔ إلخ (میزان الاعتدال ج ۱ص ۴۳۹)

ابن حجر کہتے ہیں کہ ابن حزم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح نہیں، اسلئے کہ الحارث مجہول ہے اور اس کے شیوخ (اساتذہ) پہچانے نہیں  جاتے اور بعض لوگوں نے اس حدیث کے تواتر کا دعویٰ کیا، اور یہ غلط ہے (جھوٹ ہے) بلکہ یہ تواتر کی ضد ہے۔اس لئے کہ حارث سے اس روایت کو ابوعون کے علاوہ کسی نے بیان نہیں کیا تو کس طرح یہ روایت “متواتر” ٹھہری؟

اور عبدالحق(اشبیلی) نے فرمایا: یہ روایت کسی صحیح طریق (ذریعہ) سے نہ مسند ہوئی ہے نہ پائی جاتی ہے اور ابن طاہر نے اس حدیث پر کلام پر مشتمل اپنی منفرد تصنیف میں فرمایا: جان لو! کہ میں نے اس حدیث کو چھوٹی بڑی مسانید میں تلاش کیا، اور حدیث کے علم جاننے والوں میں سے جن سے میری ملاقات ہوئی ان سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا، پس میں نے اس روایت کو نہیں پایا سوائے دو سندوں کے۔ ان میں سے ایک سند شعبۃ اور دوسری سند ”عن محمد بن جابر أشعت بن أبی اشعثاء عن رجل من ثقیف عن معاذ“ اور یہ دونوں سندیں صحیح نہیں ہیں۔ إلخ

علامہ البانیؒ نے الضعیفۃ (ج۲ ص ۲۷۳) میں فرمایا…….
……اس اسناد میں تین علتیں ہیں:
اول: ارسال ۔
دوم:الحارث بن عمرو (جو کہ ) مجہول ہے ۔
سوم:اصحاب معاذؓ کی جہالت یعنی ان لوگوں کا مجہول ہونا۔

امام مزی نے تحفۃ الاشراف (ج۸ ص ۴۲۱) میں اس روایت کو ذکر  کیا: اور خطیب بغدادی نے اپنی کتاب الفقیہ و المتفقہ (ج۱ ص ۱۸۹) میں فرمایا:وقد قیل أن عبادۃ بن نسي رواہ عن عبدالرحمن بن غنم عن معاذ وقال ھذا إسناد متصل ورجالہ معروفون بالثقۃ: إلخ
یعنی کہا گیا کہ عبادۃ بن نسی نے اس حدیث کو روایت کیا عبدالرحمٰن بن غنم سے ، انہوں نے معاذ سے اور فرمایااس کی سند متصل ہے اور اس کے راوی ثقہ ہونے میں معروف ہیں۔

لیکن حافظ (ابن حجر) نے الامالی میں ۱۷۰ کے بعد کی مجلس میں فرمایا: ہاں یہ اسی طرح ہے، بلکہ عبدالرحمٰن بن غنم کو تو صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے اور جو راوی ان سے روایت کر رہا ہے وہ بھی ثقہ ہے لیکن اس سے روایت کرنے والا راوی ثقہ نہیں ہے، ابن ماجہ نے اس کو روایت کیا ہے اپنی سنن (ج۱ ص ۲۱ح) میں اور جوزقانی نے الاباطیل (ج۱ ص ۱۰۹،۱۰۸) میں اس حدیث کے بعض حصہ کو یحییٰ بن سعید کی سند کے ساتھ اور اس مبہم (مجہول شخص) کا نام محمد بن حسان بتلایا اور وہ “مصلوب” کے نام سے معروف ہے۔ امام احمد، الفلاس ، امام نسائی ، امام ابوحاتم اور دیگر محدثین سے اسے کذاب قرار دیا۔ پس ا س کی حدیث نہ تو استشہاداً صحیح ہے نہ ہی متابعۃً۔ یعنی شواہد و متابعت میں بھی اس کی حدیث پیش کرنا صحیح نہیں۔ إلخ (الامالی :ص ۲۱۴ ق)

(ابن حجر نے تہذیب التہذیب ج ۹ ص ۹۵ رقم  الترجمۃ ۶۰۵۵ میں ابو داؤد کا قول نقل کیا۔ ھو مجھول و حدیثہ ضعیف، اور خود بھی تقریب میں اسے مجہول قرار دیا۔ رقم الترجمۃ: ۵۸۲۸۔ مترجم) دیکھئے حاشیۃ العلل المتناھیۃ (ج۲ ص ۷۵۹)

امام بوصیری نے فرمایا: یہ سند ضعیف ہے ، محمد بن سعید المصلوب حدیث گھڑنے کے الزام سے متہم ہے۔

——جاری ہے

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.