صوفیوں کے امام حسین بن منصور الحلاج کا مختصر تعارف

 از    August 26, 2014

فضیلۃ الشیخ حافظ زبیر علی زئی صاحب !        السلام علیکم ! امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہونگے۔
میں اس خط کے ذریعے سے یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ یہ منصور حلاج کون تھا؟ کس صدی میں گزرا ہے اور کس جرم کی پاداش میں اسے قتل کیا گیا تھا۔ محدثین اور علماء محققین منصور حلاج کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ دلائل سے ثابت کریں ۔
(والسلام فقط انعام الرحمٰن تحصیل و ضلع صوابی گاؤں و ڈاکخانہ زروبی محلّہ بوزرخیل)
الجواب
حسین بن منصور الحلاج کا تعارف
          حسین بن منصور الحلاج ، جسے جاہل لوگ منصور الحلاج کے نام سے یاد کرتے ہیں، کا مختصر و جامع تعارف درج ذیل ہے:
۱:        حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

          “المقتول علی الزندقۃ، ماروی وللہ الحمد شیئاً من العلم، وکانت لہ بدایۃ جیّدۃ و تألّہ و تصوّف، ثم انسلخ من الدین، وتعلم السحر وأراھم المخاریق، أباح العلماء دمہ فقتل سنۃ احدی عشرۃ و ثلاثمائۃ
          اسے زندیق ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے علم کی کوئی چیز روایت نہیں کی۔ اُس کی ابتدائی حالت (بظاہر) اچھی تھی، عبادت گزاری اور تصوف (کا اظہار کرتا تھا) پھر وہ دین (اسلام) سے نکل گیا، جادو سیکھا اور (استدراج کرتے ہوئے) خرق عادت چیزیں لوگوں کو دکھائیں، علماء کرام نے فتویٰ دیا کہ اس کا خون (بہانا) جائز ہے لہذا اسے ۳۱۱؁ھ میں قتل کیا گیا ۔   (میزان الاعتدال ج ۱ص ۵۴۸)

۲:       حافظ ابن حجر العسقلانی فرماتے ہیں کہ :

          “والناس مختلفون فیہ، وأکثرھم علی أنہ زندیق ضال” لوگوں کا اس (حسین بن منصور الحلاج) کے بارے میں اختلاف  ہے، اکثریت کے نزدیک و ہ زندیق گمراہ (تھا) ہے  (لسان المیزان ج ۲ ص ۳۱۴ والنسخۃ المحققۃ ۵۸۲/۲) 

          دورِ متاخرین میں اسماء الرجال کے ان دو جلیل القدر اماموں اور اسماء الرجال کی دو مشہور ترین کتابوں سے جمہور علماء کے نزدیک حلاج مذکور کا زندیق و گمراہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔

۳:       جلیل القدر امام ابو عمر محمد بن العباس بن محمد بن زکریا بن یحییٰ البغدادی (ابن حیویہ) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

لما أخرج حسین الحلاج لیقتل مضیت في جملۃ الناس ، ولم أزل أزاحم حتی رأیتہ، فقال لأصحابہ: لا یھولنم ھذا، فإني عائد إلیکم بعد ثلاثین یوماً، ثم قتل
          جب حسین (بن منصور) حلاج کو قتل کے لئے (جیل سے ) نکالا گیا تو لوگوں کے ساتھ میں بھی (دیکھنے کے لئے) گیا، میں نے لوگوں کے رش کے باوجود اُسے دیکھ لیا، وہ اپنے ساتھیوں سے کہہ رہا تھا:”تم اس سے نہ ڈرنا، میں تیس (۳۰) دنوں بعد تمہارے پاس دوبارہ (زندہ ہوکر) آجاؤں گا“ پھر وہ قتل کر دیا گیا۔ (تاریخ بغداد ج ۸ ص ۱۳۱ ت ۴۲۳۲ و سندہ صحیح، المنتظم لابن الجوزی ۴۰۶/۱۳ وقال :”وھذا الإسناد صحیح لاشک فیہ“ لسان المیزان ۳۱۵/۲ وقال:“وإسناد ھا صحیح”)

اس صحیح سند سے معلوم ہوا کہ حسین بن منصور حلاج جھوٹا شخص تھا۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ :

          “وعند جماھیر المشائخ الصوفیۃ و أھل العلم أن الحلاج لم یکن من المشائخ الصالحین، بل کان زندیقاً          جمہور مشائخِ تصوف اور اہلِ علم (علمائے حق) کے نزدیک حلاج نیک لوگوں میں سے نہیں تھا بلکہ زندیق (بہت بڑا ملحد و گمراہ) تھا (مجموع فتاویٰ ج ۸ ص ۳۱۸)

          “الحمد للہ رب العالمین، الحلاج قتل علی الزندقۃ          اللہ رب العالمین کا شکر ہے ، حلاج کو زندیق ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔ (مجموع فتاوی ۱۰۸/۳۵)

شیخ الاسلام مزید فرماتے ہیں کہ :”وکذلک من لم یجوز قتل مثلہ فھو مارق من دین الاسلاماور اسی طرح جو شخص حلاج کے قتل کو جائز نہیں سمجھتا تو وہ (شخص) دینِ اسلام سے خارج ہے (مجموع فتاویٰ ج۲ ص ۴۸۶)

۴:       حافظ ابن الجوزی نے اس (حسین بن منصور ) کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے “القاطع المحال اللجاج القاطع بمحال الحلاج(المنتظم ۲۰۴/۱۳) 

ابن جوزی فرماتے ہیں :أنہ کان مُمَخْرِقاً” بے شک وہ جھوٹا باطل پرست تھا۔ (ایضاً ۲۰۶/۱۳)

ان شدید جرحوں کے مقابلے میں حلاج مذکور کی تعریف و توثیق ثابت نہیں ہے۔

ظفر احمد عثمانی تھانوی دیوبندی صاحب نے اشرف علی تھانوی دیوبندی صاحب کی زیرِ نگرانی ایک کتاب لکھی ہے “القول المنصور فی ابن منصور، سیر منصور حلاج”یہ کتاب مکتبہ دارالعلوم کراچی نمبر ۱۴ سے شائع شدہ ہے ۔ اس کتاب میں تھانوی صاحب نے موضوع، بے اصل اور مردود روایات جمع کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ (دیوبندیوں کے نزدیک) حسین بن منصور حلاج اچھا آدمی تھا (!)

مثال نمبر ۱۔       تھانوی صاحبؒ لکھتے ہیں کہ:
        “لوگوں کے اسرار بیان کردیتے، ان کے دِلوں کی باتیں بتلا دیتے (یعنی کشف ضمائر بھی حاصل تھا) اسی وجہ سے ان کو حلاج الاسرار کہنے، پھر حلاج لقب پڑگیا”(سیرت منصور حلاج ص ۳۱)

تبصرہ:اس قول کی بنیاد تاریخِ بغداد کی ایک روایت ہے جسے احمد بن الحسین بن منصور نے تستر میں بیان کیا تھا(ج۸ ص ۱۱۳)
احمد بن الحسین بن منصور کے حالات معلوم نہیں ہیں لہذا یہ شخص مجہول ہے ۔

مثال نمبر ۲۔       تھانوی صاحبؒ لکھتے ہیں کہ:

          “حسین بن منصور نے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لئے حدوث کو لازم کردیا ہے ….” (سیرت منصور حلاج ص ۴۷ بحوالہ رسالہ قشیریہ)  

عبدالکریم بن ہوازن القشیری کے الرسالۃ القشیریۃ میں یہ عبارت بحوالہ ابوعبدالرحمٰن (محمد بن الحسین) السلمی النیسابوری لکھی ہوئی ہے

 (وکان صدوقاً، لہ معرفۃ بالحدیث وقد درس شیئاً من فقہ الشافعي، ولہ مذھب مستقیم و طریقۃ جمیلۃ / تاریخ بغداد ۴۱۱/۳)  (ص۱۳ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت لبنان)

ابو عبدالرحمٰن السلمی اگر چہ اپنے عام شہر والوں اور اپنے مریدوں کے نزدیک جلیل القدر تھا مگر اسی شہر کے محدث محمد بن یوسف القطان النیسابوریفرماتے ہیں کہ:
         کان أبو عبدالرحمٰن السلمي غیر ثقۃ…….وکان یضع للصوفیۃ الأحادیث ابوعبدالرحمٰن السلمی غیر ثقہ تھا….. اور صوفیوں کے لئے احادیث گھڑتا تھا (تاریخ بغداد ج۲ ص ۲۴۸ و سندہ صحیح)

          اس شدید جرح کے مقابلے میں سلمی مذکور کی تعدیل بطریقہِ محدثین ثابت نہیں ہے ۔ سلمی کے استاد محمد بن محمد بن غالب اور اس کے استاد ابو نصر احمد بن سعید الاسفنجانی کی توثیق میں بھی مطلوب ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس موضوع سند کو تھانوی صاحب نے فخریہ پیش کیا ہے۔

تنبیہ بلیغ: عبدالکریم بن ہوازن نے رسالہ قشیریہ میں حسین الحلاج کو بطورِ ولی ذکر نہیں کیا۔ رسالہ قشیریہ اس کے ترجمہ سے خالی ہے ۔ کسی دوسرے شخص کے حالات میں ذیلی طور پر اگر ایک موضوع روایت میں اُس کا نام آگیا ہے تو اس پر خوشی نہیں منانی چاہئے۔

تنبیہ بلیغ: حسین بن منصور الحلاج اولیاء اللہ میں سے نہیں تھا بلکہ وہ ایک گمراہ وزندیق صوفی تھا جسے جلیل القدر فقہاء اسلام کے متفقہ فتوے کی بنیاد پر چوتھی صدی ہجری کے شروع میں قتل کردیا گیا تھا ، اس کی کرامتوں کے بارے میں سارے قصے موضوع و بے اصل ہیں۔

حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ:ولا أری یتعصب للحلاج إلا من قال بقولہ الذي ذکر أنہ عین الجمع فھذا ھو قول أھل الوحدۃ المطلقۃ و لھذا تری ابن عربي صاحب الفصوص یعظمہ ویقع فی الجنید واللہ الموفق          “میری رائے میں حلاج کی حمایت ان لوگوں کے سوا کوئی نہیں کرتا جو اس کی اس بات کے قائل ہیں جس کو وہ عین جمع کہتے ہیں اور یہی اہل وحدت مطلقہ کا قول ہے اس لئے تم ابن عربی صاحب فصوص کو دیکھو گے کہ وہ حلاج کی تو تعظیم کرتے ہیں اور جنید کی تحقیر کرتے ہیں” (لسان المیزان ج ۲ ص ۳۱۵، وسیرت منصور حلاج ص ۴۵ حاشیہ)

اہلِ وحدت مطلقہ سے مراد وہ صوفی حضرات ہیں جو وحدت الوجود اور حلولیت کا عقیدہ رکھتے ہیں۔تعالی اللہ عما یقولون علواً کبیراً
اس قول کا رد ظفر احمد تھانوی صاحبؒ نے رسالہ قشیریہ کی موضوع روایت سے کرنے کی کوشش کی ہے ۔ یہ رد تحقیقی میدان میں بذاتِ خود مردود ہے۔ تھانوی صاحب نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ”ابن منصور اور جنید کا عقیدہ توحید ایک ہی تھا“ (ص۴۶) مگر انہوں نے اس دعویٰ پر کوئی صحیح دلیل پیش نہیں کی۔ علمی میدان میں عبدالوہاب الشعرانی، خرافی صوفی بدعتی کے بے سند حوالوں سے کام نہیں چلتا بلکہ صحیح و ثابت سندوں کی ضرورت ہوتی ہے۔رسول اللہ ﷺ کی احادیث ہوں یا سلف صالحین کے آثار و اسماء الرجال کے حوالے، سب کے لئے صحیح و حسن لذاتہ اسانید کی ضرورت ہے۔

 شیخ الاسلام عبداللہ بن المبارک المروزیؒ (متوفی ۱۸۱؁ھ) فرماتے ہیں کہ:

          “الإسناد من الدین، ولولا الإسناد لقال من شاء ماشاء سند دین میں سے ہے، اگر سند نہ ہوتی تو جو شخص جو چاہتا کہہ دیتا (مقدمہ صحیح مسلم ترقیم دارالسلام: ۳۲ و سندہ صحیح)

وما علینا إلاالبلاغ                      (۱۴ شوال ۱۴۲۶؁ھ)

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.