صف بندی اور “صف دری”!

 از    September 27, 2014

تحریر:محمد زبیر صادق آبادی

نماز میں مقتدیوں کا صف بندی کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہے ۔ سیدنا انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ((أقیموا صفوفکم وتراصّوا)) اپنی صفیں قائم کرو اور مل کر کھڑے ہوجاؤ۔(صحیح البخاری: ج۱ ص ۱۰۰ ح ۷۱۹)

وحید الزماں کیرانوی دیوبندی لکھتے ہیں :”تراصّت الأشیاء: گتھ متحد ہوجانا،جڑ جانا ” (القاموس الوحید ص ۶۳۱)

سیدنا انس ؓ سے مروی دوسری روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:((راصّوا صفوفکم وقاربوا بینھا وحاذوا بالأعناق، فوالذي نفس محمد بیدہ! إني لأری الشیاطین تدخل من خلل الصف کأنھا الحذف)) اپنی صفوں کو ملاؤ اور انھیں قریب رکھو اور گردنوں کو برابر رکھو۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے ۔ میں دیکھتا ہوں شیطانوں کو وہ صف کی خالی جگہوں سے گھس آتے ہیں گویا کہ وہ بھیڑ کے چھوٹے سے بچے ہیں ۔          (سنن النسائی ج ۲ ص ۹۲ ح ۸۱۶ و سندہ صحیح و صححہ ابن خزیمہ : ۵۴۵ا وابن حبان، الاحسان: ۲۱۶۳ دوسرا نسخہ: ۲۱۶۶)

          اس حدیث کے راوی سیدنا انسؓ فرماتے ہیں:وکان أحدنا یلزق منکبہ بمنکب صاحبہ و قدمہ بقدمہ” اور ہم میں سے ہر شخص (صف میں) اپنا کندھا اپنے ساتھی کے کندھے سے اور اپنا قدم اس کے قدم سے ملا لیتا۔ (صحیح البخاری : ۷۲۵)

          اس حدیث کا مذاق اڑاتے ہوئے ماسٹر محمد امین اوکاڑوی حیاتی دیوبندی لکھتے ہیں:          “امام بخاریؒ نے حضرت انسؓ کی ایک روایت نقل کی ہے۔ حضرت انسؓ بھی حضورﷺ کے زمانے میں نابالغ تھے اور پچھلی صفوں میں کھڑے ہوتے تھے ۔ امام بخاریؒ نے اس قول کو مکمل نقل نہیں فرمایا۔ ان کے استاد ابوبکربن ابی شیبہ نے اس کے بعد یہ نقل کیا ہے ولو ذھبت تفعل ذلک لتری أحدھم کأنہ بغل شموس (ص ۳۵۱ ج ۱) اگر تو آج اس طرح ٹخنے ملائے تو دیکھے گا کہ یہ لوگ (صحابہ و تابعین) بد کے ہوئے خچروں کی طرح بھاگیں گے ۔ ظاہر بات ہے بڑی عمر کا عقل مند آدمی نا بالغ کو پسند نہیں کرتا ۔ حضرت انسؓ نے اپنے بچنے میں جو کام کیا بچوں کے ساتھ وہ روایت کیا، لیکن جب وہ بڑے ہوگئے تو صحابہ و تابعین ان کے بچنے کی عادت سے بیزار تھے۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ ٹخنے ملانا نہ سنتِ نبوی ﷺ ہے نہ سنتِ صحابہؓ ، اگر یہ سنت اور مستحب ہوتا تو صحابہ و تابعین کبھی اس سنت سے بیزار نہ ہوتے (امین اوکاڑوی)” (حاشیہ امین اوکاڑوی علی صحیح البخاری ج۱ ص ۳۷۰ الف، مطبوعہ مکتبہ مدینہ لاہور)

تنبیہ:   مطبوعہ نسخے میں دوبار “بچنے” ہی لکھا ہوا ہے  جبکہ صحیح لفظ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اوکاڑوی صاحب نے “بچپنے” لکھا ہے۔

اوکاڑوی صاحب کے اس کلام کا خلاصہ یہ ہے :
۱:        اوکاڑوی کے نزدیک سیدنا انسؓ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں نابالغ بچے تھے۔
۲:        اوکاڑوی کے نزدیک صحابہ و تابعین سیدنا انسؓ بیزار تھے۔
۳:       اوکاڑوی کے نزدیک سیدنا انسؓ نے خچروں سے تشبیہ صحابہ و تابعین کو دی تھی۔
۴:       اوکاڑوی کے نزدیک سیدنا انسؓ پچھلی صفوں میں کھڑے ہوتے تھے۔
۵:       اوکاڑوی کے نزدیک امام بخاریؒ نے سیدنا انسؓ کا قول مکمل نقل نہیں فرمایا۔
۶:        اوکاڑوی کے نزدیک ٹخنے ملانا سنتِ صحابہ نہیں ہے ۔

اب ان اوکاڑوی اعتراضات کے جوابات علی الترتیب پیشِ خدمت ہیں:

۱:        سیدنا انس بن مالکؓ بذاتِ خود فرماتے ہیں :”قدم النبي ﷺ المدینۃ۔ وأنا ابن عشرومات و أنا ابن عشرین نبی ﷺ مدینہ تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا اور جب آپ ﷺ فوت ہوئے تو میں بیس سال کا تھا (صحیح مسلم، کتاب الاشربۃ باب ۱۷ ح ۲۰۲۹/۱۲۵ و ترقیم دارالسلام : ۲۵۹۰ ، و درسی نسخہ ج ۲ ص ۱۷۴)
          اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ سیدنا انسؓ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں بیس سال کے بالغ نوجوان تھے لہٰذا اورکاڑوی صاحب نے انھیں نابالغ اور بچہ کہہ کر جھوٹ بھی بولا ہے اور ان کا مرتبہ گھٹا کر توہین بھی کی ہے ۔

۲:        اوکاڑوی صاحب نے صحابہ و تابعین کے بیزار ہونے کی کوئی دلیل نہیں  دی، لہٰذا اس تحریر میں ان کا یہ دوسرا جھوٹ ہے۔

تنبیہ:    اوکاڑوی صاحب نے مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالے سے جو روایت پیش کی ہے وہ “حمید بن انس” کی سند سے مروی ہے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج۱ ص ۳۵۱ ح۳۵۲۴)

حمید بن انس” غلط ہے ، صحیح یہ ہے کہ یہ روایت “حمید عن أنس“کی سند سے مروی ہے ، اسے اسماعیلی نے بھی “حمید قال أنس” کی سند سے روایت کیا ہے ، دیکھئے فتح الباری (۲۱۱/۲تحت ح ۷۲۵)

حمید الطّویل طبقہ ثالثہ کے مدلس ہیں۔ (طبقات المدلسین ۳/۷۱)

          عینی حنفی نے بھی ان کی تدلیس کا اقرار کیا ہے (دیکھئے عمدۃ القاری ج ۱ص ۲۸۰ تحت ح ۴۹) حمید مدلس کی یہ روایت عن سے ہے ۔ ان الفاظ والی روایت میں سماع کی تصریح نہیں ہے بلکہ یہ سند ضعیف ہے ۔اوکاڑوی صاحب بذاتِ خود فرماتے ہیں :”اور مدلس جو روایت عن سے کرے، وہ منقطع ہوتی ہے ” (تجلیاتِ صفدر ج ۲ ص ۷۸، مطبوعہ : جمعیۃ اشاعۃ العلوم الحنفیہ فیصل آباد ، طبع اول ۱۹۹۸؁ ء)

امام بخاریؒ نے اگر اس قول کو رد کردیا ہے تو ناراض ہونے کی بات نہیں، یہ قول ثابت ہی نہیں ہے۔ اس ضعیف روایت کے ترجمے میں اوکاڑوی صاحب نے خیانت کرتے ہوئے “أحدھم“کے ترجمے میں اپنی طرف بریکٹیں لگا کر “(صحابہ و تابعین)” کے الفاظ لکھ دیئے ہیں۔ بریکٹوں کے یہ الفاظ بے دلیل، غلط اور صحابہ کرام کی توہین کے مترادف ہیں۔

۳:       اس بات کی اوکاڑوی صاحب نے کوئی دلیل نہیں دی۔ عرض ہے کہ اگر یہ ضعیف و مردود روایت صحیح بھی ہوتی تو “أحدھم” سے مراد صحابہ و ثقہ تابعین قطعاً نہیں ہیں بلکہ وہ مجہول اور نامعلوم “حضرات” ہیں جو سنت  کے خلاف نمازیں پڑھتے تھے۔ جبکہ صحابۂ کرام سے تو یہ ثابت ہے کہ وہ صف میں قدم سے قدم اور کندے سے کندھا ملاتے تھے۔ رضی اللہ عنھم

۴:       اس بات کی بھی اوکاڑوی صاحب نے کوئی دلیل پیش نہیں کی ۔ اس اوکاڑوی دعویٰ کے برعکس یہ ثابت ہے کہ سیدنا انسؓ نے نبی کریم ﷺ کے متصل پیچھے صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی ہے۔ دیکھئے صحیح بخاری (ج۱ ص ۵۵ ح ۳۸۰) و صحیح مسلم (ج۱ ص ۲۳۴ ح ۶۵۸) اور امین اوکاڑوی کے حاشیے والا صحیح بخاری کا نسخہ (ج۱ ص ۲۲۸ ح ۳۷۱)

۵:       جب یہ قول بلحاظِ سند  ضعیف ہے تو امام بخاریؒ کا اسے نقل نہ کرنا بالکل صحیح ہے۔

۶:        سیدنا انسؓ اور سیدنا نعمان بن بشیرؓ ، دونوں صحابیوں سے یہ ثابت ہے کہ صحابۂ کرام قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملاتے تھے۔ دیکھئے صحیح بخاری (ج ۱ ص ۱۰۰) و صحیح ابن حبان (موارد الظمآن : ۳۹۶)          صحابۂ کرام سے اس کے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں ہے ۔ والحمدللہ

اسماعیلی (و ابن ابی شیبہ) والی ضعیف روایت سے استدلال کرتے ہوئے انوار خورشید دیوبندی نے لکھا ہے:          “حضرت انس اور حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے اس اندازِ بیان سے کہ ہم میں سے ہر شخص ایسا کرتا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ صف بندی کا یہ انداز دورِ رسالت میں تھا بعدمیں نہیں رہا……” (حدیث اور اہلِ حدیث ص ۵۱۵)

          عرض ہے کہ جو طریقہ دورِ رسالت میں جاری و ساری تھا اور “ہر شخص ایسا کرتا تھا” اس کی واضح دلیل ہے تو یہ طریقہ ضعیف روایت کی وجہ سے کیوں کر متروک ہوگیا؟

انوار خورشید دیوبندی نے اس بحث کے اختتام پر لکھا ہے کہ “نیز غیر مقلدین کو چاہئے کہ گردن سے گردن بھی ملایا کریں کیونکہ حضرت انسؓ کی حدیث میں اس کا بھی تذکرہ ہے …..” (حدیث اور اہلِ حدیث ص ۵۱۹)

عرض ہے کہ صف بندی میں گردن سے گردن ملانے والی کوئی حدیث روئے زمین پر موجود نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ “غیر مقلدین” سے ان کی کیا مراد ہے۔ اشرف علی تھانوی دیوبندی صاحب فرماتے ہیں:

          “کیونکہ امام اعظم ابوحنیفہؒ کا غیر مقلد ہونا یقینی ہے ” (مجالس حکیم الامت ص ۳۴۵)

تھانوی صاحب کے اس قول سے معلوم ہوا کہ ابوحنیفہؒ غیر مقلد تھے۔ اگر انوار خورشید  صاحب امام ابوحنیفہؒ کو مخاطب بنائے بیٹھے ہیں تو عرض ہے کہ ہم امام ابوحنیفہؒ کی گستاخی برداشت نہیں کریں گے۔ اگر وہ “غیر مقلدین” سے مراد اہلِ حدیث لیتے ہیں تو عرض ہے کہ ہمارا صفاتی نام اہلِ حدیث ہے ، غیر مقلدین ہمارا صفاتی نام نہیں ہے ۔ والحمدللہ

          محمد پالن حقانی گجراتی دیوبندی لکھتا ہے :”بڑی شرم کی بات ہے کہ ہمارے زمانے میں بعض لوگ فساد، بغض، عناد اور فرقہ پرستی کے جھگڑوں میں مبتلا ہوگئے ہیں، اپنی پیٹ بھرائی کے لئے دوسروں کو لہابی، وہابی، بدعتی ، گمراہ، کافر ، غیرمقلد وغیرہ وغیرہ کہتے پھرتے ہیں۔ ایسے لوگ نفس پرست ہوتے ہیں۔  ان کو مذہب کا اور مسلمانوں کی بربادی کا کچھ بھی خیال نہیں ہوتا ۔ ” (شریعت یا جہالت ص ۱۰۸ مطبوعہ: مکتبہ خلیل، الوہاب مارکیٹ ۳۸۔ اردو بازار لاہور)

یہ کتاب محمد زکریا تبلیغی صاحب اور ابو الحسن ندوی صاحب کی تصدیق شدہ ہے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ زکریا صاحب ، ندوی صاحب اور پالن حقانی صاحب کے نزدیک انوار خورشید صاحب نفس پرست ہیں۔ انھیں مذہب اسلام اور مسلمانوں کی بربادی کا کچھ بھی خیال نہیں ہے ۔

تنبیہ بلیغ: بعض لوگ صفوں میں چار انچ  یا کم و زیادہ جگہ چھوڑ کر کھڑے ہوتے ہیں۔ اس کا کوئی ثبوت قرآن و حدیث و اجماع و آثار میں نہیں ہے ۔ یہ صف بندی نہیں بلکہ “صف دری” یعنی صفیں چیرنا ہے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص صف چیرے اللہ اے کاٹ دے۔ (دیکھئے سنن ابی داؤد: ۶۶۶ و سندہ حسن ، و صححہ ابن خزیمۃ: ۱۵۴۹ والحاکم علی شرط مسلم ۲۱۳/۱ ووافقہ الذہبی) وما علینا إلا البلاغ

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.