سیدہ فاطمہ ؓ اور غسلِ وفات

 از    November 7, 2014

سوال:‘‘ ایک تبلیغی دیوبندی خطیب سے اکثر یہ واقعہ سننے میں آیا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جب بیمار ہوئیں تو حضرت علی ؓ کہیں کام کے لئے گئے ہوئے تھے تو حضرت فاطمہ ؓ نے اپنی خادمہ کو فرمایا کہ میرے لئے غسل کا پانی اور کپڑے رکھو انہوں نے پانی رکھا اور حضرت فاطمہ ؓ نے غسل فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ میرے فلاں کپڑے نکالو، انہوں نے کالے کپڑے پہنے، کہا میری چارپائی کمرے کے بیچ میں کر دو، بیچ کمرے کے کر دی، لیٹ کر قبلے کی طرف منہ کر کے کہا: اب میں مر رہی ہوں علی ؓ کو کہہ دینا میرا غسل ہو گیا ہے میرا کندھا بھی ننگا نہیں ہونا چاہیئے جب حضرت علی آئے تو پیغام ملا تو کہا اسی پر عمل ہو گا تو اُسی طرح دفنا دیا گیا۔’’[محمد عثمان پنڈ دادن خان قمر]
الجواب: یہ ضعیف و منکر روایت ہے۔ اسے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ‘‘ محمد بن إسحاق عن عبید اللہ بن علی بن أبی رافع عن أبیہ عن أم سلمی’’ کی سند سے روایت کیا ہے۔(مسند احمد ۶؍۴۶۱، ۴۶۲ ح ۲۷۶۱۵، اُسُد الغابۃ ج ۵ص ۵۹۰، معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم ۶؍۳۵۰۷ ح ۷۹۴۴) یہ سند ضعیف و منکر ہے۔ محمد بن اسحاق بن یسار مدلس ہیں اور روایت عن سے ہے۔ عبید اللہ بن علی بن ابی رافع : لین الحدیث(ضعیف ) ہے ۔ (التقریب:۴۳۲۲) علی بن ابی رافع کی توثیق مجھے معلوم نہیں ہے۔
یہی روایت ابن سعد (الطبقات۸؍۲۷) عمر بن شبہ (تاریخ المدینہ ۱؍۱۰۸ ، ۱۰۹) ابن شاہین(۶۳۲) اور ابن الجوزی (العلل المتناہیہ: ۴۱۹ ، الموضوعات ۳؍۲۷۷)نے ‘‘محمد بن إسحاق عن عبید اللہ (عبد اللہ) [علی]بن علی (فلان) بن أبی رافع عن أبیہ عن أمہ سلمیٰ’’ کی سند سے روایت کی ہے۔
اس سند میں بھی محمد بن اسحاق مدلس اور ابن علی بن ابی رافع ضعیف ہے۔ ابن الجوزی نے کہا:‘‘ ھذا حدیث لا یصح’’
یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔

ذہبی نے کہا: ‘‘ھذا منکر’’ یہ منکر (روایت ) ہے۔ (سیر اعلام النبلاء۲؍۱۲۹، نیز دیکھئے مجمع الزوائد ۹؍۲۱۱)
مصنف عبدالرزاق (۳؍ ۴۱۱ح ۶۱۲۶دوسرا نسخہ: ۶۱۵۲) الآ حادو المثانی لابن ابی عاصم(۵؍۳۵۶ح ۲۹۴۰) المعجم الکبیر للطبرانی (۲۲؍۳۹۹ح۹۹۶) اور حلیۃ الاولیاء لابی نعیم الاصبہانی (۲؍۴۳)میں اس قصے کی تائید والا قصہ عبداللہ بن محمد بن عقیل سے مروی ہے۔ یہ قصہ دو وجہ سے ضعیف ہے۔
۱:عبداللہ بن محمد بن عقیل (قولِ راجح میں ) جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔
۲:عبداللہ بن محمد بن عقیل نے سیدہ فاطمہ ؓ کا زمانہ نہیں پایا لہٰذا یہ سند منقطع ہے۔
دیکھئے مجمع الزوائد للہیثمی(۹؍۲۱۱) و نصب الرایہ (۲؍۲۵۱وقال: ‘‘بسند ضعیف و منقطع ’’ )
تنبیہ: مصنف عبدالرزاق اور الآحاد و المثانی میں عبدالرزاق کا استاد محمد بن راشد لکھا ہوا ہے جبکہ باقی کتابوں میں معمر (بن راشد) ہے۔ نصب الرایہ (۲؍۲۵۱) میں بھی معمر ہی ہے۔محمد بن راشد المکحولی اور معمر بن راشد دونوں عبدالرزاق کے استاد اور ابن عقیل کے شاگرد ہیں۔

                      حافظ ابن کثیر نے کہا: ‘‘ وما روی من أنھا اغتسلت قبل وفاتھا و أوصت أن لا تغسل بعد ذلک فضعیف لا یعول علیہ، واللہ أعلم’’ اور جو روایت کیا گیا ہے کہ انہوں (سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا) نے اپنی وفات سے پہلے غسل کیا اور یہ وصیت کی کہ اس کے بعد انہیں غسل نہ دیا جائے تویہ ضعیف ہے ، اسپر اعتماد نہیں کیا جاتا۔ واللہ اعلم (البدایہ و النہایہ ۶؍۳۳۸)

خلاصۃ التحقیق: یہ روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف و منکر ہے لہٰذا مردود ہے۔ اس کے مقابلے میں محمد بن موسیٰ (بن ابی عبداللہ الفطری ابو عبداللہ المدنی ) نے کہا: فاطمہ ؓ کو علی ؓ نے غسل دیا تھا۔(طبقات ابن سعد ۸؍۲۸و تاریخ المدینہ ۱؍۱۰۹)
اس روایت کی سند محمد موسیٰ (صدوق) تک صحیح ہے لیکن منقطع ہونے کی وجہ سے یہ بھی ضعیف ہے۔ اس قسم کی ایک ضعیف روایت اسماء بنت عمیس ؓ سے بھی مروی ہے۔ دیکھئے المستدرک للحاکم (۳؍۱۲۳ ، ۱۲۴ ح ۴۷۶۹) حلیۃ الاولیاء(۲؍۴۳) السنن الکبریٰ للبیہقی (۳؍۳۹۷) تاریخ المدینہ (۱؍۱۰۹) اور التلخیص الحبیر(۲؍۱۴۳ح ۹۰۷ وقال : و اسنادہ حسن)

بعض علماء کا سیدہ اسماء بنت عمیس ؓ والی روایت کو حسن قرار دینا محلِ نظر ہے۔ [۲۷ ربیع الثانی ۱۴۲۷ھ]

نئے مضامین بذریعہ ای میل حاصل کیجیے

ٹویٹر پر فالو کیجیے

تمام مضامین

About Tohed.com

Tohed.com is an Urdu Islamic Website, aiming to preach true Islamic Information based on Qur'an and Sunnah. Here you can find out hundreds of urdu articles by reputed scholars. It's a completely non-commercial project with an objective to propagate Information about Islam in native language for the sub-continent readers.